معیشت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ملنے والے ایوارڈز کی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mazharپاکستان کے پانچ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے آزاد اشاعتی ادارے ”ایمرجنگ مارکیٹس“ میں سپانسرڈ سپلیمنٹ شائع کروا کے اسحاق ڈار اور احسن اقبال کو معیشت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ایوادڑ سے نوازا جانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

وزارت منصوبہ بندی نے نہ صرف ”ایمرجنگ مارکیٹس“ کو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی اشاعت قرار دیا تھا بلکہ اسے بین الاقوامی ادارہ قرار دیا تھا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایمرجنگ مارکیٹس کا نہ تو آئی ایم ایف سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ کوئی کثیر الاشاعت بین الاقوامی ادارہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمرجنگ مارکیٹس یورو منی ٹریڈنگ لمیٹڈ کا ذیلی برطانوی ادارہ ہے جس کی سالانہ اشاعت 60 ہزار سے زائد نہیں۔

اسحاق ڈار کی تمام تر معاشی ترقی قرضوں کے بل بوتے پر قائم ہے اور وہ زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ ترقی کے لئے موٹر ویز کے بعد اہم ملکی اداروں کو ایک ایک کر کے گروی رکھ رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر میں بہتری کے دعوے بھی چند ایک منصوبوں اور شہروں تک محدود ہیں۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی صورتحال کسی بھی لحاظ سے قابل ستائش نہیں کہی جا سکتی۔

گزشتہ دنوں خانیوال کے نواحی علاقوں میں جانا ہوا تو یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ شہر سے نواحی علاقوں کی طرف جانے والی ساری سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں سے خانیوال سے چوک جمال اور ملحقہ علاقوں میں جانے والی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر کوئی کام نہیں ہوا جبکہ ”پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے“ اور خادم پنجاب دیہی روڑز پروگرام کے تحت 2017 تک صوبے بھر کی دیہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 150 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کر چکی ہے۔

آئی ایم ایف نے نہ صرف مستقبل میں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے بلکہ رواں سال بھی اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل نہ کرنے کی پیشگوئی کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قرضوں کے بل بوتے پر مصنوعی ترقی کی بجائے دیرپا اور پائیدار معاشی ترقی کے لئے سنجیدہ کوششیں کرے۔ غربت کی چکی میں پسنے والے کروڑوں لوگوں کی حالت زار بہتر بنائے بغیر دیرپا اور پائیدار معاشی ترقی کا حصول ممکن نہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان خوراک کی شدید کمی سے متاثرہ بدترین ممالک کی فہرست میں 11 ویں نمبر پر ہے جبکہ اس ضمن میں بنگلہ دیش اور بھارت کی حالت ہم سے کافی بہتر ہے۔ پاکستان کے چار کروڑ سے زائد لوگ شدید بھوک کا شکار ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •