میاں اور بیوی: ایک گاڑی، دو پہیئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی معاشرے کی بنیاد شوہر اور بیوی ہیں۔ دنیا میں پہلا قائم ہونے والا رشتہ اور خاندانوں کے پائیدار ملاپ کی ضمانت بھی یہی رشتہ ہے۔ عموماً یہی رشتہ سب سے زیادہ کمزور اور بے بس ہوتا ہے۔ کیونکہ آج تک اکژیت یہ ہی سمجھ نہیں سکی کہ اس رشتے کی بنیاد کیا ہے، عزت، بھروسا، محبت، وفاشعاری یا اخلاص؟ ویسے اگر تمام اجزاء کو ہم وزن کرکے ازدواجی زندگی کی دیگ میں پکایا جائے تو نتیجہ خاطر خواہ برآمد ہوسکتا ہے اور یہ گاڑی زندگی کے سفر پر سبک خرامی سے دوڑتی رہے گی۔

کہتے ہیں میاں بیوی گاڑی کے دو پہیئے ہیں جو زندگی کی گاڑی کو مل کر چلاتے ہیں۔ ازدواجی زندگی کا جب سفر شروع ہوتا ہے تب ابتداء بھی ان ہی دونوں سے ہوتی ہے۔ پھر بچے زندگی میں آکر رونق بخشتے ہیں۔ مرد اور عورت کو مکمل کرتے ہیں اور بڑے ہوکر الگ شاہراہ پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے مطلوبہ اسٹاپ آنے پر مسافر گاڑی سے اتر کر آگے کے سفر پر اپنے طور سے چلتا چلا جاتا ہے۔ ایک ایک کر کے سارے مسافر اترتے جاتے ہیں اور آخر میں بس وہ ہی دو افراد رہ جاتے ہیں جو اس سفر کی ابتداء کرتے ہیں۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی ایک بیچ راستے میں چھوڑ کے چلا جاتا ہے تب زندگی کی گاڑی کو گھیسٹنا واقعی ایک مشکل کن امر بن جاتا ہے۔ پھر کبھی کوئی تنہا ہی اس سفر میں نکل پڑتا ہے۔ کبھی کوئی اپنی اولاد کو لے کر اور کبھی کوئی دوسرا ہمسفر چن لیتا ہے۔ آگے کے سفر کو سہل بنانے کے لئے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ زندگی بغیر کسی کے شراکت کے بھی بہت اچھی گزرسکتی ہے لیکن اس بات سے بہت کم لوگ ہی انکار کرتے ہیں کہ زندگی کے لئے کسی ہمسفر کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

اور اکژیت فطرتی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی زندگی میں شریک سفر کو شامل کرلیتے ہیں۔ گو کے اسلام نے ہر لڑکا و لڑکی اور مرد و عورت کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا اختیار دیا ہے مگر ہمارے معاشرے اور ہمارے خاندانی نظام میں اختیار والدین کے سپرد ہیں۔ بے شک والدین اپنی اولاد کے لئے بہترین فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اندازاً اسی ( 80 ) فیصد والدین کے فیصلے صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن کبھی اولاد اپنی پسند کو ترجیح دے تو اسے ہمارے معشرے میں بہت مایوب سمجھا جاتا ہے۔

اور اگر غلطی سے یہ شادی ناکام ہوجائے تو اسے بڑوں کے فیصلوں کے خلاف جانے کی سزا قرار دیا جاتا ہے اور ساری زندگی کے طعنے اس کامقدر بن جاتے ہیں۔ حالانکہ شادی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی اولاد کا مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

عموماً لڑکیوں کی شادی کے لئے (خاص طور پر آج کل) ہم نے یا ہمارے بزرگوں نے جو پیمانہ مقرر کر رکھا ہے اس میں اول نمبر پر لڑکے کا کاروبار، اس کا گھر اور اس کا اسٹیٹس دیکھا جاتا ہے۔ اگر پسند کی شادی ہو تو ظاہری خوبصورتی کو فوقیت دی جاتی ہے اور خوب سیرتی یہاں بھی نظرانداز کردی جاتی ہے۔ جبکہ کچھ عرصہ پہلے تک شرافت اور دینداری ہی بنیادی معیار ہوا کرتا تھا لیکن اب تو سب ہی مادہ پرستی میں لگ گئے ہیں۔ اگر کہیں دینداری دیکھی بھی جاتی ہے تو وہ بھی صرف دنیا دکھاوے کی۔

ضروری نہیں کہ اگر کوئی صوم و صلاوۃ کا پابند ہے تووہ دین کی اصل روح کو بھی سمجھتا ہے بلکہ اکثریت تو دین اسلام کی اصل روح سے نابلد ہے۔ تصویر کا دوسرا پہلو دیکھا جائے تو لڑکے بھی دولتمند، فیشن زدہ اور خوبصورت چہروں کو پسند کرتے ہیں۔ خوب سیرتی یہاں بھی بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ بہت مختصر تعداد میں ایک طبقہ اب بھی ایسا ہے جو خاندانی شرافت اور خوب سیرتی کو اولین ترجیح دیتا ہے لیکن کیا یہ دونوں چیزیں خوشگوار اور کامیاب ازدواجی زندگی کی ضامن ہیں؟

پرانے وقتوں میں لوگ جب سادگی اور خاندانی وقار کو دیکھتے ہوئے رشتہ ازدواج استوارکرتے تھے۔ تب بھی یہ رشتہ (بعض جگہ) یک طرفہ ہی نبھایا جاتا رہا ہے۔ عورت کی خاموشی اور برداشت اس رشتہ کو پایہء تکمیل تک پہنچا لیتی تھی اور مرد صرف حاکم اور جابر کا کردار ادا کرتا تھا۔ بلا شبہ مرد ایک درجہ عورت سے افضل ہے۔ مگر صرف اس لئے کہ وہ جسمانی لحاظ سے طاقتور ہے۔ اور ذریعہء معاش اس کی ذمہ داری ہے اور وہ نگران ہے عورت کا لیکن اس ایک درجہ کو مرد نے اپنے اوپر اتنا حاوی کر لیا ہے کہ وہ عورت کی زندگی کا خدا بن جاتا ہے۔

اس کے ہر سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ بھول جاتا ہے کہ نگران بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ سلوک کے لئے اللہ تعالٰی کے آگے جوابدہ ہے۔ اور یہی سوچ و رواج آج تک چلا آرہا ہے۔ جن لوگوں میں دین اسلام کا شعور اور وسعت قلبی ہے وہ اُس دور میں بھی اور آج کے دور میں بھی عورت کے معاملے میں اللہ تعالٰی سے ڈرتے ہیں۔ اپنی زوجہ کو صرف بیوی نہیں بلکہ ایک دوست، ہمدرد اور غمگسار کا درجہ دیتے ہیں۔ اور آپس کے اختلافات اور مزاجوں کے فرق کو خوش اسلوبی سے اپنا کر رشتے کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہیں۔ ایک مشہور روسی ادیب لیو ٹالسٹائی کا قول ہے :

”What counts in making a happy marriage is not so much how compatible you are but how you deal with incompatibility“

ہر مرد و عورت کا مزاج، سوچ، ذہنی سطح اور صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ جب دو لوگ رشتہ ءازدواج میں منسلک ہوتے ہیں تو ان میں بہت ساری قدریں مختلف اور جدا ہوتی ہیں۔ کبھی زیادہ عمروں کا فرق اس رشتے کی پائیداری میں مشکلات کا سبب بنتا ہے تو کبھی مالی حیثیت کا فرق تو کبھی حسب نسب، ذات برادری کا فرق اور بنیادی طور پر مزاجوں کا فرق تو موجود ہوتا ہی ہے۔ مگر ایک بہترین اور مثالی جوڑا وہ ہی ہوتا ہے جو خلوص دل سے ایک دوسرے کو عزت اور پیار دیتے ہیں۔

مرد اپنی انا اور بڑائی کا جھنڈا نہیں لہراتا نہ ہی اپنے مرد ہونے کے زعم میں مبتلا رہتا ہے اور نہ ہی یہ سوچ ہوتی ہے کہ اولاد کی تربیت صرف ماں کی ذمہ داری ہے۔ دوسری طرف عورت بھی مرد کو صرف پیسے کمانے کی مشین اور خواہشات کو پورا کرنے کا آلہ نہیں سمجھتی۔ اور نہ ہی گھر کے کام کرنے میں عار محسوس کرتی ہے۔ بلکہ ایک دوسرے کو اپنا سچا رفیق بنا لیتے ہیں۔

وفا اور برداشت صرف عورت میں نہیں اگر مرد میں بھی یہ دونوں ہنر اور صفات ہوں اور عورت بھی صابر و شاکر ہو تو ازدواجی زندگی نہ صرف دنیاوی اعتبار سے کامیاب اور خوش و خرم ہوتی ہے بلکہ ابدی زندگی میں بھی یہ ایک دوسرے کے خوبصورتی بھرے ساتھ کی ضامن ہوتی ہے۔ اور اس زندگی کے ہمسفر ابدی زندگی کے ہمدم بن جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •