جناب وزیر اعظم! یہ گڑھا آپ نے بہت محنت سے کھودا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف کے علاج اور مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے حوالے سے عمران خان کو اس وقت جس مشکل کا سامنا ہے، وہ انہوں نے گزشتہ چند برس کی غیر ذمہ دارانہ اور نعروں پر مبنی سیاست کی وجہ سے خود ہی اپنے لئے پیدا کی ہے۔  نعرے لگاتے ہوئے شاید انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کبھی ملک کے وزیر اعظم بن جائیں گے اور یہ سارا سیاسی ملبہ جو وہ دوسروں پر ڈال رہے ہیں، خود ان کے سر پر آگرے گا۔

حکومت ابھی تک نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا اقدام نہیں کرسکی ہے۔  گو کہ کابینہ میں اکثریت کی ’مخالفت‘ کے باوجود وزیر اعظم کی ’انسان دوستی‘ کی وجہ سے اصولی طور پر یہ طے کیا گیا ہے کہ حکومت کو اس بارے میں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن نواز شریف احتساب بیورو اور عدالتوں کو اس بات کی ضمانت فراہم کریں کہ وہ علاج کے بعد واپس آجائیں گے۔  اس مؤقف کو گزشتہ چند روز کے دوران وزیر اعظم کے ’این آر او نہیں دوں گا‘ کا ڈھول بجانے کے طرز عمل کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اس ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی شخص کو این آر او دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔  یہ اختیار ملک کی عدالتوں یا انتہائی صورت میں صدر مملکت کے پاس ہے کہ وہ کسی مقدمہ میں سزا پانے والے مجرم کی سزا معطل یا معاف کرسکتے ہیں۔  لیکن وزیر اعظم نے اس اختیار کا اتنا ڈھنڈورا پیٹا کہ نواز شریف کی انتہائی تشویشناک طبی صورت حال اور حکومتی نمائیندوں کے ان دعوؤں کے باوجود کہ حکومت نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے میں رکاوٹ نہیں بنے گی، اب یہ اعلان ان کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔

آاین آر او ’دینے کے الزام سے بچنے کے لئے وزارت داخلہ کے ذریعے پہلے یہ معاملہ نیب کو بھجوایا گیا اور جب نیب نے اس‘ این آر او ’کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا تو حکومت کو کابینہ کی ایک سب کمیٹی میں اس معاملہ پر غور کرنا پڑا جس نے وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں اس کے قانونی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کیا اور بالآخر کابینہ کو‘ اصولی ’طور پر نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا اعلان کرتے ہوئے نواز شریف سے ضمانت طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب حکومتی ترجمان یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ ضمانت حکومت کو نہیں بلکہ ملک کے عدالتی نظام یا نیب کو دی جائے کیوں کہ حکومت بیچاری تو اس میں فریق ہی نہیں ہے۔

عمران خان یا ان کی حکومت اسے عدالتی معاملہ یا کرپشن کا مقدمہ بنانے کی جتنی بھی کوشش کرے، نواز شریف کی ملک سے روانگی کا معاملہ عمران خان کی ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ کی نعروں پر مبنی سیاست کا عملی نتیجہ ہے۔  وہ اسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے لیکن یہ مشکل ان کی غیر ضروری بیان بازی، سیاسی فائیدے کے لئے مخالفین پر الزام تراشی، کرپشن کے الزامات کو سیاسی نعرہ بنا کر سیاسی دشمنوں کی کردار کشی اور ملک کے احتساب نظام کو خالصتاً سیاسی انتقام کا انتظام بنانے کی کوششوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

  نواز شریف خواہ کسی قسم کی ضمانت دے کر ملک سے باہر جائیں، اگر وہ واپس نہیں آنا چاہیں گے تو پاکستانی حکومت اپنے تمام تر اختیار و قدرت کے باوجود انہیں واپس نہیں لاسکے گی۔ عمران خان خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ صورت حال ان کے اختیار سے باہر ہونے کے باوجود ان کی سیاست کے لئے موت کا پیغام ثابت ہوسکتی ہے۔  نعروں کی بنیاد پر استوار سیاست حقائق اور سچ کی تیز روشنی کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

ہو سکتا ہے کہ یہ سطور شائع ہونے تک نواز شریف ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوجائیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بالآخر اپنے بھائی شہباز شریف کی محبت اور بھاگ دوڑ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، پاکستان میں ہی رہنے اور یہیں پر علاج کروانے کا حتمی فیصلہ کرلیں۔  پہلے بھی خبروں کے مطابق انہیں ان کی والدہ اور بیٹی کے دباؤ کی وجہ سے باہر جانے کا مشورہ قبول کرنا پڑا تھا۔ جو خبریں سامنے لائی گئی تھیں اور اگر وہ سچ ہیں تو ان کا مؤقف تو یہی رہا ہے کہ اگر موت لکھی ہے تو وہ لندن میں بھی آسکتی ہے اور اگر پنجاب سے بھی ایک تابوت نکلے گا تو وہ اسے اپنی خوش نصیبی سمجھیں گے۔

 یہ بڑا دعویٰ ہے۔  نہیں کہا جا سکتا کہ نواز شریف شدید بیماری اور مجبوری میں بھی یہ دعویٰ کرچکے ہیں یا اسے زیب داستان اور نواز شریف کی سیاسی بت گری کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔  اگر نواز شریف نے واقعی ملک میں رہ کر ’ووٹ کوعزت دو‘ کے منشور کے لئے لڑنے اور قربان ہونے کا ارادہ کیا ہے اور وہ واقعی موت و زندگی کو انسانی اختیار سے ماورا سمجھتے ہیں تو ذلت کا جو نیا بوجھ اب حکومت ان کے سر پر رکھنا چاہتی ہے، انہیں اس سے فوری انکار کردینا چاہیے۔  نواز شریف کا علاج کروانا حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔  نواز شریف کو بھی اسے اسی تناظر میں سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

نواز شریف ملک سے باہر جاپائیں یا نہ جا سکیں، دونوں صورتوں میں عمران خان نے سیاسی بیانیہ کے ذریعے جو کانٹے سیاسی مخالفین کے لئے بوئے تھے اب وہ اپنی باقی ماندہ سیاسی زندگی انہیں پلکوں سے چنتے رہیں گے۔  وہ نہ نواز شریف کے ملک سے باہر جانے کا جواز پیش کرسکیں گے اور نہ ہی ان کی ملک سے روانگی کو روکنے کی دلیل سامنے لاسکتے ہیں۔  چند روز پہلے وزیر داخلہ و وزیر خارجہ سے لے کر حکومت کے چھوٹے بڑے ترجمان نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا راستہ نکالنے اور حکومت کے سر سے ایک ’بوجھ‘ اتارنے کی باتیں کرتے رہے تھے۔  اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے سوشل میڈیا جاں بازو نے اس نام نہاد آاین آر او ’کو ایک ایسی ڈیل کے نام سے موسوم کرنے کی کوشش کی جس کے تحت نواز شریف تین چار ارب سے لے کر پچیس تیس ارب ڈالر حکومت پاکستان کو ادا کرکے‘ رہائی ’پانے میں کامیاب ہورہے تھے۔

ان دعوؤں کی مضحکہ خیزی ایک طرف تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے حامی اپنے طور پر اسے شہباز شریف کی کاری گری اور حکومت کی بجائے حکومت سازوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کے ہنر کا نام دینے پر اصرار کررہے تھے۔  ان دو دعوؤں کے بیچ ایک طرف عمران خان کی رہی سہی ساکھ داؤ پر لگی تو دوسری طرف نواز شریف کا علاج غیر ضروری طور پر تاخیر کا شکار ہؤا۔ جو طبی معلومات سامنے آئی ہیں، ان سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ جن بیماریوں کا سامنا کررہے ہیں، ان میں ان کے لئے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔  یہ بات بھی اب ثابت شدہ ہے کہ جیل یا نیب کی حراست سے علاج کے لئے ہسپتال لانے میں اگر اتنی تاخیر نہ کی جاتی تو شاید اس وقت نواز شریف کو انتہائی مشکل طبی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

حکومت اب نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کا بوجھ عدالتوں اور نیب پر ڈال رہی ہے۔  البتہ اسے اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ جو معاملہ حکومت کے اختیار میں ہی نہیں تھا، اس کے بارے میں محض ہفتہ عشرہ قبل اس کے وزیر اور مشیر کیوں بلند بانگ دعوے کررہے تھے؟ اگر الزامات کی تحقیقات نیب اور ان پر غور کرکے فیصلے عدالتوں کو صادر کرنے ہیں تو تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان روز اوّل سے اس سارے معاملے کا سہرا اپنے سر باندھنے کی سعی لاحاصل میں کیوں مصروف تھے۔  یا پھر وہ یہ تسلیم کریں کہ اس وقت ملک میں احتساب، عدل اور حکومت دراصل ایک ہی انتظام کے مختلف نام ہیں جنہیں سیاسی ضرورتوں کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔

سابق وزیر اعظم کو ملک میں خصوصی سیاسی حیثیت حاصل ہے۔  وہ عوام کے ایک بڑے طبقے کے مقبول لیڈر ہیں۔  عمران خان کی سیاسی میراث، نواز شریف کی سیاسی مقبولیت سے انکار اور اسے گرانے کی خواہش پر استوار ہے۔  اس تناظر میں جب وہ نواز شریف کے لئے انسانی ہمدردی کی بات کرتے ہیں یا ن کی صحت کے لئے دعا گو ہوتے ہیں تو اس میں ان کی خود اپنے لئے سیاسی سرخروئی کا پہلو تلاش کرنے کی خواہش موجود ہوتی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ جب معاملہ این آر او کی ذمہ داری قبول کرنے تک پہنچا تو عمران خان کی انسانی ہمدردی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رفو چکر ہوگئی اور وہ کابینہ کے بعد اب نیب اور عدالتوں کی آڑ میں گوشہ عافیت تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

حالانکہ انصاف اور سب کے لئے مدینہ ریاست کی مساوات نافذ کرنے کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم کو تو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ کیا ان کی مدینہ ریاست کے سب بیمار شہریوں یا قیدیوں کو بیرون ملک علاج کی وہی سہولت حاصل ہوتی ہے جو اس وقت نواز شریف کو دینا ضروری سمجھا جارہا ہے؟ اگر اس کا مثبت جواب ممکن نہیں ہے تو عمران خان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ نواز شریف اس ملک کے بڑے سیاسی رہنما ہیں اور ان کی علالت موجودہ حکومت کی منتقم مزاجی اور تساہل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور وہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا بھی حوصلہ نہیں کرتی کیوں کہ اس کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

عمران خان کی مشکل یہ ہے کہ یہ قیمت انہیں نواز شریف کے ملک سے باہر جانے یا نہ جانے دونوں صورتوں میں ادا کرنا ہوگی۔ اس ذمہ داری سے بچنے کا واحد طریقہ انصاف کا بول بالا یعنی عدالتی نظام اور احتساب کے عمل کو شفاف اور غیر سیاسی بنانا ہے۔  تحریک انصاف یہ بھاری پتھر اٹھانے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ اس کے نتیجے میں پرفریب خوابوں سے سجایا محل دھڑام سے نیچے آگرے گا۔ افسوس کا مقام مگر یہ ہے کہ یہ محل زمین بوس ہورہا ہے۔  کیوں کہ خوابوں کی باتوں اور نعروں کی دھوم دھام کا سچائیوں سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا اور ان کی طبعی عمر بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ کوئی لیڈر اپنی تقریر میں جوش اور دعوؤں میں وزن پیدا کرلے۔  پھر منہ لپیٹ کر یو ٹرن کے نام پر اپنے نئے رویہ کی وضاحت دیتا پھرے۔

تکبر، غیر سیاسی نعروں اور ناقص حکمت عملی کا ایک پہلو اسلام آباد کے ایچ نائن میں مولانا فضل الرحمان کے چیلنج اور آزادی مارچ کے لئے جمع ہونے والے ناراض شہریوں کی صورت میں سامنے موجود ہے۔  عمران خان اس سچائی کا سامنا کرنے سے بھی گریز کررہے ہیں۔  لیکن جمع خاطر رکھیں اقتدار کے باقی برسوں میں یہ بھوت ان کا پیچھا کرتا رہے گا۔ یہ وہ گڑھے ہیں جو عمران خان نے بڑی محنت سے مخالفین کے لئے کھودے تھے، اب وہ خود ان کی جانب لڑھک رہے ہیں تو کوئی ان کا ہاتھ نہیں تھامے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1348 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali