نملوس کا گناہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نملوس آبنوس کا کندہ تھا، اس پر ستارہ زحل کا اثر تھا۔ حلیمہ چاند کا ٹکڑہ تھی اور جیسے زہرہ کی زائدہ تھی۔

نملوس کے ہونٹ موٹے اور خشک تھے۔ حلیمہ کے ہونٹ ایک ذرا دبیز تھے۔ ان میں شفق کی لالی تھی اور رخسار پر اگتے سورج کا غازہ تھا۔ نملوس کے دانت بے ہنگم تھے، بال چھوٹے اور کھڑے کھڑے سے اور سر کٹورے کی طرح گول تھا۔ ایسا لگتا بال سر پر نہیں اگے کٹورے پر رکھ کر جمائے گئے ہیں۔ حلیمہ کے بال کمر تک آتے تھے۔ ان میں کالی گھٹاوں کا گزر تھا۔ دانت سفید اور ہم سطح تھے جیسے شبنم کی بوندیں سیپ سے ہو کر دانتوں کی جگہ آراستہ ہو گئی تھیں۔ نملوس کی آنکھیں چھوٹی تھیں اور پلکیں بھاری تھیں۔ اس کی آنکھیں کھلی بھی رہتیں تو بند بند سی لگتی تھیں۔ حلیمہ کی آنکھیں شگفتہ تھیں۔ ان میں دھوپ کا بہت سا اجالا تھا اور حکم اللہ حیران تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حکم اللہ حیران تھا کہ اس کا کالا بھجنگ بیٹا کس کوہ قاف سے گزرا کہ حسن بے نظیر سے پہلو گیر ہوا۔

زحل اپنی رنگت میں سیاہ ضرورہے لیکن اس کا مثبت پہلو بھی ہے۔ زحل صابر بھی ہے شاکر بھی ہے یہ انسان کو درویش صفت بناتا ہے۔ نملوس جب پیدہ ہوا تھا تو برج کواکب میں زحل اور قمر کا اتصال تھا اور ان پر مشتری کی سیدھی نظر تھی۔ مشتری کا تعلّق مذہب سے ہے اور قمر دل و دماغ ہے۔ نملوس کے دل میں قرب الٰہی کی تڑپ تھی۔ اس کا دل شاکر تھا اور زبان زاکر تھی۔ وہ قران پڑھتا تو رقّت طاری ہوتی تھی۔ نماز کے بعد چارو قل پڑھتا اور جمع کی پہلی ساعت میں مسجد جاتا ا ور بزرگان دین کا قول دہراتاکہ جو پہلی ساعت میں مسجد گیا اس نے گویا ایک اونٹ کی قربا نی دی۔

نملوس اپنے لیے بس ایک ہی دعا مانگتا تھا۔

 ” یا خدا! جب تک مجھے زندہ رکھنا ہے مسکین کی حالت میں زندہ رکھنا۔ جب موت دے تو مسکین مارنا اور حشر کے دن مساکین کے ساتھ میرا حشر کرنا! “

جاننا چاہیے کہ ہر آدمی کے لیے ایک شیطان ہے۔

قلب انسانی بہ منزلہ ایک قلعہ کے ہے اور شیطان دشمن ہے کہ اس کے اندر گھس کر اُس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ بعض اولیا سے منقول ہے کہ انہوں نے ابلیس سے پوچھا کہ آدمی کے دل پر تو کس وقت غالب ہوتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ غضب اور خواہش نفسانی کے وقت اس کو دبا لیتا ہوں۔ میں آنکھ میں رہتا ہوں اور جہاں جہاں خون پھرتا ہے وہاں وہاں میرا گزر ہے اور حرص و حسد میرے راستے ہیں جن پر چل کر میں ملعون اور شیطان ا لرجیم ہوا اور کبھی پیٹ بھر کھانا مت کھا یؤ! خواہ مال حلال طیّب ہی کیوں نہ ہو کہ پیٹ بھرنے سے شہوت کا زور ہوتا ہے اور شہوت میرا ہتھیار ہے۔

حکم اللہ راہو کا روپ تھا۔ رنگت سانو لی تھی چہرہ لمبوترا تھا اور دانت نو کیلے تھے۔ نماز سے رغبت کم تھی۔ وہ اکثر جمع کی بھی نماز نہیں پڑھتا تھا۔ پیٹ بھر کھانا کھاتا تھا۔ ریشمی لباس پہنتا تھا۔ اس کی ایک چھوٹی سی پارچون کی دکان تھی۔ اس نے نملوس کو کاروبار میں لگانا چاہا لیکن وہ جب مال تجارت سے بھی زکاۃ الگ کرنے لگا تو حکم اللہ نے چڑ کر اُسے دکان سے الگ کر دیا تھا۔ نملوس مدرسہ شمس ا لہدیٰ میں مدرس ہو گیا تھا اور ذکر الٰہی میں مشغول رہتا تھا۔ حکم اللہ کی بیوی فوت کر چکی تھی۔ تب سے اس کی بے راہ روی بڑھ گئی تھی۔ وہ دیر رات گھر لوٹتا۔ اکثر اس کے منھ سے شراب کی بو آتی تھی۔

معلوم ہونا چاہیے کہ احتساب تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں کہ باپ کو نصیحت کرے تو جب باپ غصّہ کرے تو خاموش ہو جائے۔ لیکن باپ کو سخت بات کہنا مناسب نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ اس کی شراب پھینک دے اور ریشمی لباس پھاڑ دے۔ نملوس دبے لفظوں میں حکم اللہ سے مخاطب ہوتا۔ ”ریشمی پہناوا مرد کے لیے ممنوع ہے۔ حق تعالیٰ کو سفید لباس پسند ہے۔ “ حکم اللہ اسے نفرت سے گھورتا تو وہ خاموش ہو جاتا۔

جاننا چاہیے کہ دلوں میں باطن کے اسرار پوشیدہ رہتے ہیں۔ علمائے دین کہتے ہیں کہ دل کا حال بھرے برتن کی طرح ہے کہ جب چھلکاوگے تو وہی نکلے گا جو اس میں بھرا ہے۔ راگ دلوں کے حق میں سچّی کسوٹی ہے۔ عشق سماع سے بڑھتا ہے۔ جو اللہ کے عاشق ہیں اور اس کے دیدار کے مشتاق ہیں کہ جس چیز پر نظر ڈالی اس میں نور پاک کا تبسّم دیکھا اور جو آواز سنی اس کو اسی کے باب میں جانا تو ایسے لوگوں کے حق میں راگ ان کے شوق کو ابھارتا ہے اور عشق و محبت کو پختہ کرتا ہے۔

نملوس ہر سال بلند شاہ کے عرس میں ان کے آستانے پر جاتا تھا اور سمع میں شریک ہوتا تھا۔ اس کے دل پر سمع چقماق کا کام کرتا۔ اس پر وجد طاری ہوتا ا ور وہ میدان رونق میں دڑا چلا جاتا۔ مکاشفات اور لطائف ظاہر ہوتے لیکن اعضائے ظاہری میں کوئی حرکت نہیں ہوتی تھی۔ ضبط سے کام لیتا اور گردن نیچے کو ڈال لیتا جیسے گہری سوچ میں ڈوبا ہو۔

امسال بھی وہ عرس میں شامل ہوا تھا اور وہاں کے پیش امام نے اسے وجد کی کیفیت میں دیکھا۔ نملوس میں اسے ایک مومن نظر آیا۔ اس نے نملوس کاحسب نسب دریافت کیا اور اسے گھر کھانے پر بلایا۔ نملوس ہمیشہ کھانا نمک سے شروع کرتا تھا اور نمک پر ختم کرتا تھا اور آخیر میں کہتا تھا ”الحمدللہ“۔ اس دوران وہ انبیا کے قصّے بھی سناتا۔ پیش امام کے ساتھ وہ دستر خوان پر بیٹھا تو اس نے حسب معمول پہلے نمک چکھا۔ کھانے کے دوران حدیث سنائی۔

 ” حضورکا ارشاد ہے کہ چند لوگ قیامت میں ایسے آئیں گے جن کے اعمال تھایہ کے پہاڑوں کے مانند ہوں گے۔ ان سب کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا یہ لوگ نماز پڑھنے والے ہوں گے؟ حضور نے فرمایا :ہاں نماز پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے اوررات کو بیدار رہتے تھے لیکن دنیا کے مال و متاع پر فریفتہ تھے۔ “

کھانا ختم کر کے نملوس نے پھر نمک چکھا اور بولا۔ ”الحمدللہ۔ “

پیش امام کی زبان سے برجستہ نکلا۔ ”جزاک اللہ! میاں تمہاری ماں نے تمہیں بسم اللہ پڑھ کر جنا ہے۔ “

پیش امام نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو نملوس کی جھولی میں ڈال دے گا۔ حلیمہ اکلوتی اولاد تھی اور جیسی صورت تھی ویسی سیرت بھی تھی۔ حلیمہ کے حسن کے بہت چرچے تھے۔ ہر کوئی اس کا طلب گار تھا لیکن حلیمہ اتنی متّقی اور پرہیز گار تھی کہ پیش امام اُسے کسی ناہنجار کے سپرد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ حلیمہ کے لیے اسے کسی مومن کی تلاش تھی اور یہ مومن اسے نملوس میں نظر آیا۔ اس نے اپنے ا رادے ظاہر کیے تو نملوس نے دبی زبان میں امام شافعی کا قول دہرایا کہ نکاح سے پہلے لڑکی دیکھ لینا واجب ہے۔ اس نے حلیمہ کو دیکھا اور خدا کا شکر بجا لا یا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3