کتاب آئنہ نما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصنف ظفر عمران

تبصرہ شاہانہ جاوید

ظفر عمران کے افسانوں کا مجموعہ ”آئنہ نما“ ہے، مکمل آئینہ نہیں کیونکہ آئینہ میں بھرپور عکس نظر آتا ہے جب کہ یہاں جھلک دکھا کر معاشرے کے تلخ، تند، ہوشربا واقعات کو بیان کیا گیا ہے باقی کام قاری کا ہے وہ کہانی کو کس طرح محسوس کرتا ہے۔ اردو زبان کو سنوارنے کا کام بخوبی لیا گیا ہے تاکہ پڑھنے والا زیر زبر پیش کی غلطی سے بھی ان کی تحریر کا غلط مطلب نہ نکال لے۔ یہ میری نظر میں ان کی اچھی کوشش ہے، اعراب سے لفظ کا صحیح تلفظ بھی سیکھنے کو مل رہا ہے انھیں جو سیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کا مطالعہ وسیع ہے اور آپ نے محترم شکیل عادل زادہ کی صحبت میں وقت گزارا ہے تو الفاظ کی صحت میں کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔

پہلی کہانی ”گھنٹی والی ڈاچی اور فریب کار بانسری“، صبح کے اخبار میں پچھلے صفحے اور شام کے اخبار میں شہ سرخی میں چھپنے والی خبر پر مشتمل ہے جسے افسانے کے رنگ میں ڈھال کر پڑھنے والوں کو اکسایا گیا ہے کہ تحریر کو پڑھیں جبکہ یہ ننگا سچ معاشرہ میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے اور مصنف بھی اس کیوں کا جواب ڈھونڈنا چاہتا ہے۔ اس افسانے کو پڑھ کر قاری کی دلچسپی بڑھتی ہے اور وہ پوری کتاب پڑھ ڈالتا ہے جبکہ ہر افسانہ دوسرے افسانے سے مختلف ہے۔

اگلا افسانہ ”کوئی معنی نہی محبت کے“ ایک ایسی محبت کی کہانی ہے جو تکمیل تک نہ پہنچی لیکن امید کا دامن پکڑے ہی رہی ہے ایک تحفے کی صورت۔ اس میں ایک جملہ زبردست ہے ”چھت کی نعمت کیا ہے، یہ ایک خانہ بدوش ہی جان سکتا ہے۔ “ گزیدہ ”میں ہم سب شامل ہیں جو فیس بک کے گزیدہ ہیں، کہیں شوہر، کہیں بیٹا، کہیں بیوی مصروفیت کا بہانہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ فیس بک کے اپنے جھمیلے ہیں، منٹو کے افسانوں پر بحث، کہیں کوئی یاددہانی کروا رہا ہے کہ اس کی پوسٹ پر نظر کرم کرکے کمنٹ کردو۔ اپنی پوسٹ کا دفاع کرنا، کمنٹس کا جواب دینا، انباکس بے وقوف لڑکے، لڑکیوں کو سنبھالنا، کوئی سیچویشن سمجھتا ہی نہیں۔ فیس بک گھنٹوں کھا جاتی ہے اور ساتھ رہنے والوں کے لیے لمحے بھی مشکل سے نکلتے ہیں یہی بتانے کی کوشش کی ہے مصنف نے۔

” اس نے سوچا“ یہ افسانہ ایسا ہے جس میں جذبات، احساسات اور پھر وہ مرد جو نشہ کرکے بھی باہوش تھا اور اپنے بزدلانہ فیصلے کو مختلف توجیہات دے کر سلا رہا تھا کیونکہ ”ایک وہی اندھوں مین کانا تھا مگر راجا بننے کی ہمت نہ ہوئی“۔

” وہ ایک پاکیزہ سی گنہ گار لڑکی“ یہ افسانہ خاصا طویل ہے، اتنی تفصیل کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن لوگ پڑھنا چاہتے ہیں اور لکھنے والا ان کے مزاج سے بخوبی واقف ہے۔ ظفر کے مجموعے کو قاری کے ہاتھوں تک پہنچانے اور مشہور کرنے کے لیے یہ ایک افسانہ ہی کافی ہے۔ کلائمکس چونکا دینے والا ہے جو عنوان سے مماثلت رکھتا ہے۔ ”کرشن چندر سے بڑا ادیب نہیں“ بہت زبردست افسانہ ہے۔ آج کے بکاؤ ادب کے دور کی مکمل عکاسی ہے۔

ایسی حقیقت بیان کی ہے جو ہر لکھنے والا باآسانی سمجھ گیا ہوگا۔ پبلشرز بھی کس طرح عام سے لکھنے والے کو جھاڑ پر چڑھا دیتے ہیں۔ فلیپ میں لکھے الفاظ کس طرح بڑے ادیبوں کا کچا چٹھا کھول دیتے ہیں جو ہر آنے والی دوسری کتاب پر اس طرح تعریفوں کے پل باندھنے میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ یہ الفاظ ہیں کہ نشتر ”یہ تو میں نے پبلشر کے کہنے پر لکھا تھا ایسے بہت سے فلیپ میں قیمتاً لکھ کر دیتا ہوں“۔

” جھیل بنَجوسہ کی تتلیاں“ گھریلو زندگی کی عکاسی کرتا افسانہ، کمال کی منظر کشی اور جملے بازی، ہلکی پھلکی کہانی کا انداز، ویسے سچ لکھا ہے ”دوستوں کے ساتھ ہر جگہ بہار لگتی ہے“۔ بہروپیے کب کے فسانہ ہوئے اب آپ ہیں یا ہم، مختصر افسانہ لیکن گہری بات جو سمجھ جائے تو یہ کہانی بہت ہے اس کے لیے۔ ”ایک کال گرل کی کہانی“ ڈرامے کے انداز میں لکھی گئی تحریر، اس میں ایک جملہ دل کو چھو گیا ”کہانی کا اختتام بدل کر لکھنے والا ایسا آئینہ دکھاتا ہے جس کا اثر دیرپا ہوتا ہے“۔

” فرقہ امید پرستوں کا“ افسانہ کم حقیقت زیادہ ہے۔ دہشت گردی کے یہ سرکنڈے ہر شہر میں اپنی جڑیں مضبوط بناچکے ہیں۔ ان سرکنڈوں کی فصل دانستہ لگائی گئی تھی اب اد کا نتیجہ تو بھگتا ہے جانے کب تک ایک بہترین افسانہ۔ ”اپسرا“ اگلے افسانے کا عنوان ہے۔ اپسرا کا تو کام ہی لبھانا ہوتا ہے لیکن افسانے کی اپسرا اپنی تسکین کی خاطر سب کچھ کر گزر رہی ہے، ایک مشہور زمانہ شاعرہ کی جھلک ہے اس کہانی میں اور اس کے کردار کا تجزیہ بھی ہے۔

”ایک حسینہ تھی ایک گدھا تھا اور رومان“ ایک سادا سی کہانی ہے جس میں رومانس کرنے والا گدھے کی طرح ہر بات مانتا چلا جاتا ہے۔ ہر عاشق ایسا ہی ہوتا ہے ان سے ذرا سی بات منوانے میں دو گھنٹے لگ جاتے ہیں ذومعنی بات لکھی ہے۔ آخری سے دوسری کہانی ”کارآمد“ حسبِ معمول جیسے ترقی پسند ادبی تنظیموں کے ہفتہ وار اجلاس ہوتے ہیں اس کی ہی عکاسی ہے یہ جملہ خاصے کی چیز ہے ”تخلیق وہ بڑی ہے جو کارآمد ہو“ اور مصنف نے اسے نہایت کارآمد پایا ہے اختتام پہ مسکراہٹ بے ساختہ لبوں پر تیر گئی۔

” من کا پاپی اور عشق ممنوع“ وہ افسانہ ہے جو افسانے کی تمام جزئیات سے سجا ہوا ہے۔ جذبات، احساسات اور گریز کا اظہار کرتا افسانہ۔ دوبارہ پڑھ کر بھی لطف دے گیا۔

ظفر عمران کے ڈرامے تو خاصے مشہور ہوئے ہیں امید ہے افسانوں کا پہلا مجموعہ بھی پزیرائی حاصل کرے گا۔ اس مجموعے کی خاص بات اس کی ضخامت ہے یقیناً افسانوں کا یہ مجموعہ اردو ادب میں ایک نئے افسانہ نگار کے اضافے کا اعلان کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •