بھارت کے ارسطو اور پاکستان کے سیانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دہائیاں پہلے بھارت کو اپنی اقتصادی پوزیشن کو سنبھالنے کے لیے 50 ارب روپے کی ضرورت پڑی۔ کابینہ کے اجلاس میں بہت سارے ارسطو جمع کیے گئے ان سے رائے لی گئی اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے 50 ارب روپے کہاں سے حاصل کیے جائیں۔ ارسطو اپنے رائے دینا شروع ہوئے ایک نے کہا مختصر مدت کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا جائے، دوسرے نے کہا قومی املاک کو بیچ کر رقم حاصل کی جائے، تیسرے نے کہا کیوں نا کسی برادر ملک سے چند ماہ کے لیے ادھار پکڑ لیا جائے ایسے میں چوتھا ارسطو اپنا مشورہ جھاڑتے ہوئے کہاتا ہے کسی بڑے صنعت کار سے رقم ادھار لے لیتے ہیں اسے چند سالوں میں واپس کر دیں گے۔

تجاویز کا سلسلہ جاری تھا اتنے میں بھارت کے وزیر خزانہ بی چند مبرم کھڑا ہوا اور وزیر اعظم سے بولنے کی اجازت لی اور کابینہ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔ ”اگر میں تمہیں اس سے کہیں زیادہ رقم حاصل کرنے کا طریقہ بتاؤں جو نہ بعد میں واپس کرنی پڑے اور نا ہی اس پر سود دینا پڑے سب حیران پریشان ہیں اتنی رقم ہمیں کون دے گا جس پر نا وہ سود لے گا اور نا ہی واپسی کا تقاضا کرے گا۔ سب نے بے صبری سے کہا :“ ہاں ہاں بتائیے۔ ”

چندمبرم نے کہا اس وقت بھارت میں 5 کھرب روپے کالے دھن کی صورت میں موجود ہیں، جسے نا تو وہ لوگ استعمال کر سکتے ہیں جن کے قبضے میں ہیں اور نا ہی بھارتی حکومت انہیں استعمال کر سکتی ہے، اگر ہم کوئی ایسی سکیم نکالیں جس سے یہ 5 کھرب روپے جائز شکل اختیار کرجائیں اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو سرکار کو ٹیکس کی مد میں 4 کروڑ سے لے کر 7 کروڑ تک رقم مل جائے گی دوسرا ایک کھرب 63 ارب 3 کروڑ 33 لاکھ روپے تجوریوں، خفیہ اکاونٹس اور بھوریوں سے نکل کر سرکولیشن میں آجائیں گے۔

اتنے میں ان میں سے ایک ارسطو اٹھا اور چند برم کو ٹوک کر بولا : لیکن منسٹر آپ اتنے یقین سے ریکوری کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟ چند مبرم نے کہا میرا خیال ہے اگر ہم آج سے پورے بھارت میں اعلان کر دیں جس کے پاس جتنا کالا دھن ہے وہ اس میں سے 30 فی صد سرکاری خزانے میں جمع کروائے اور 70 فی صد اپنے پاس رکھے وہ بھی خوش اور سرکار بھی خوش۔ اتنے میں دوسرا ارسطو کھڑا ہو کر کہتا ہے ہم اس سکیم سے کتنی رقم اکٹھی کر سکیں گے، چند مبرم نے کہا سرکاری خزانے میں 70 ارب روپے اکٹھے ہو جائیں گے۔

تیسرا ارسطو بولا ابھی تو آپ کہے رہے تھے 5 کھرب روپے زیر زمین ہیں، لیکن آپ برآمد صرف پونے کھرب کر رہے ہیں؟ چند مبرم نے کہا اس سکیم سے صرف اتنا ہی پیسا اکٹھا کیا جا سکتا ہے کیونکہ بھارت کے اندر 2 کھرب روپے پڑے ہیں باقی کے 3 کھرب ملک سے باہر خفیہ اکاونٹس میں پڑے ہوئے ہیں۔ انہیں حاصل کرنے کے لیے کسی دوسرے وقت میں کوئی دوسری سیکم بنائیں گے۔ اتنے میں وزیراعظم نے چند مبرم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا مسٹر چند مبرم اس کا کیا ثبوت ہے کہ ہم سیکم کا اعلان کریں اور لوگ کالا دھن لے کر وزارت خزانہ کے حضور پیش ہو جائیں۔ چند مبرم نے کہا لوگوں کو 31 دسمبر 97 ء تک کا وقت دیا جائے جو لوگ اس سیکم سے فائدہ اٹھا لیں ٹھیک ورنہ یکم جنوری سے 98 ء سے جس سے بھی کالا دھن برآمد ہوا اسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا جائے گا اور قید کی سزا سنا دی جائے گی۔

کابینہ کا اجلاس ختم ہوتے ہی بھارت میں وی ڈی آئی ایس (والنٹیری ڈس کلوژر آف انکم سکیم ) کا اعلان کر دیا گیا، رشوت خوروں، منشیات فروشوں، ڈکیٹوں اور چوروں کو 31 دسمبر تک کا وقت دے دیا گیا۔ پھر کیا ہوا چوروں، ڈکیٹوں، رشوت خوروں اور منشیات فروشوں نے کئی کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑے ہو کر رقم جمع کرائی، یہاں تک کہ 3 جنوری 1998 ء کے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری خزانے میں تقریبا 70 ارب روپے جمع ہو گے۔ دوسری طرف ایک کھرب 63 ارب 3 کروڑ 33 لاکھ روپے بوریوں سے نکل کر قومی معاشی دائرے میں داخل ہو گے اب اس رقم سے کاروبار ہو گا، بے روزگاری ختم ہو گی، روپیہ ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھ اور تیسرے ہاتھ میں جائے گا اس سے بھارت کی معاشی ترقی کی رفتار تیز ہو گی۔

یہ سارا قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا۔ جب بھارت اپنے ملک میں بے روزگاری، معاشی ترقی کے لیے لوگوں سے پیسے اکٹھے کر رہا تھا تو اس وقت ہمارے ملک پاکستان کے ارسطو ملکی مفاد کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہے تھے۔ جب ایک 22 واں گریڈ کا افسر اسلام آباد کے قومی بچت کے ایک مرکز میں داخل ہوا، منیجر نے صاحب کاکھڑے ہو کر استقبال کیا۔ صاحب کے لیے چائے منگوائی گی، آپریٹر کو ”میں مصروف ہوں“ کوئی فون نہ ملایا جائے ”کا حکم جاری کیا گیا اے سی تیز کر کے بڑے ادب سے پوچھا گیا:“ سر جی میرے لائق کوئی خدمت ”22 گریڈ نے تحکمانہ انداز میں کہا میرے پاس کچھ نیشنل ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ ہیں انہیں چینج کرنا چاہتا ہوں۔

22 گریڈ کے افسر نے بریف کیس کھولا اور 60 ہزار کے سرٹیفکیٹس نکال کر منیجر کے حوالے کر دیے۔ منیجر نے گھنٹی بجائی چپڑاسی بھجوا کر کیشیئر بلوایا او سرٹیفکیٹس اس کے حوالے کرکے رقم لانے کا حکم دے دیا، چائے آئی، گپ شپ ہوئی، لطیفے سنائے گے، خوشامد کی گئی، اتنے میں کیشیئر رقم لے کر آگیا، 22 گریڈ کے افسر نے نوٹ گنے تو ناگواری سے ناک سکیٹر کر بولا: ”منیجر یہ تو کم ہیں“ منیجر نے چونک کر کیشیئر کی طرف دیکھا، کیشیئر نے نہایت ادب کے ساتھ افسر کو مخاطب کر کے عرض کیا: ”جناب اس میں سے ٹیکس کٹ گیا“ افسر نے مٹر کر گھور کر دیکھا تو منیجر شرمندہ سا ہو کر بولا: ”سر این ڈی اس سی پرویلتھ ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ “ 22 گریڈ کے افسر نے رقم میز پر رکھی کھردرے لہجے میں بولا: ”منیجر آپ میرے سرٹیفکیٹس واپس منگوادیں، میں انہیں چند روز بعد چینج کراؤں گا۔ “ منیجر نے فوراً سرٹیفکٹس منگوا کر افسر کے حوالے کر دیے۔

چند دن بعد 22 گریڈ کا افسر دوبارہ مرکز میں داخل ہوا، سیدھا منیجر کے کمرے میں گیا اور اس کی میز پر سفید کاغذ پھینک کر دھاڑا: ”آفیسر اب تم میری ایک پائی نہیں کاٹ سکتے۔ “ منیجر نے گڑ بڑا کر کاغذ اٹھایا اور پڑھنا شروع کر دیا، سفید کاغذ کے ایک کونے پر سنٹرل بورڈ آف ریونیو چھپا تھا دوسرے کونے پر باریک حروف میں آرڈر نمبر 30 / 92 لکھا تھا، اس کے نیچے ملک بھر کے نیشنل سیونگ سنٹرز کو چیئرمین کی طرف سے واضح طور پر حکم جاری کیا گیا تھا وہ تمام سرٹیفکیٹ جن پر زکوۃ کاٹی جا سکتی ہے انہیں ویلتھ ٹیکس سے متشنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔

منیجر نے کیشیئر سے رقم منگوائی اور 22 گریڈ کے افسر کے حوالے کی اور گیٹ تک رخصت کرنے آیا۔ ادھر کمپیوٹر پر بیٹھے کلرک نے کی بورڈ کے چند حروف اور کچھ ہندسے دبائے اور پرنٹر سے ایک شیٹ نکال کر پریشان حال منیجر کو پیش کر دی۔ منیجر نے چونک کر کلرک کو دیکھا اور پھر تھکے تھکے لہجے میں پوچھا ”“ یہ کیا ہے؟ ”وہ بولا:“ سر اس شخص نے اپنے چند سو روپے بچانے کے لیے صرف 50 سیکنڈ میں قومی خزانے کو 83 لاکھ 22 ہزار 13 روپے کا نقصان پہنچایا، جو اگلے برس تک اتنے ارب بن جائے گا۔

”آج بھی ملک میں یہ لوگوں اپنے مفاد کے لیے قانون کو بدل دیتے ہیں وزراء ٹیکس سے بچنے کے لیے آئے دن ایسا قانون لانے میں لگے رہتے ہیں جس سے یہ ملک کو لوٹیں عیاشیاں کریں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نا ہو کیا؟ ان لوگوں کی نظر میں ملکی مفاد کوئی معنی نہیں رکھتا جو اپنے چند سو روپوں کے لیے ملکی مفاد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ انہی لوگوں کی مفاد پرستی کی وجہ سے آج ملک میں بے روزگاری، چوری دکیٹی، غربت افلاس اور مہنگائی کا طوفان برپا ہے خدارا اس ملک پر اور اس کی غریب عوام پر مزید ٹیکسز کا بوجھ نہ ڈالیں اپنے مفاد کے لیے ملکی مفاد کو داؤ پر نا لگائیں۔

منیجر نے افسردہ لہجے میں جواب دیا: ”ہاں ان لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •