فوج اور حکومت آمنے سامنے


لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ ملک حالت جنگ میں ہے۔ بھارت کے جارحانہ اور اشتعال انگیز رویہ کی وجہ سے جنگ کا خطرہ ابھی تک ٹلا نہیں ہے۔ ہفتہ عشرہ پہلے بھارت نے آزاد کشمیر میں سرجیکل آپریشن کرنے کا جو دعویٰ کیا گیا تھا، اسے پاک فوج نے مسترد کر دیا ہے لیکن اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ اگر اپنے کھوکھلے دعوؤں کو سچ ثابت کرنے کےلئے بھارتی فوج نے پاکستان کی سرحد میں واقعی اس قسم کا کوئی حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کا جواب سخت اور دندان شکن ہو گا۔ ایسی کسی صورتحال میں مکمل جنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے عسکری اور غیر عسکری حلقوں میں ان عناصر کی کمی نہیں ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی تصادم کی صورت میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہو گا۔ پاک فوج دشمن کو شدید نقصان پہنچانے کے علاوہ کشمیر میں مزید علاقے پر قبضہ بھی کر سکتی ہے۔ اس قسم کی سوچ اور رویہ جنگ کی صورتحال میں زیادہ پریشانی کا سبب ہے۔ ایک غلطی کسی بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ غلطی کسی بھی طرف سے کہیں پر بھی سرزد ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں ملک میں یکجہتی اور مکمل قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اس وقت پاکستان کا کوئی ایک قائد نہیں ہے جو دشمن کے ساتھ تنازعہ کی صورت میں قوم کی قیادت اور رہنمائی کرسکے اور ملک کو مشکل صورتحال سے باہر نکال سکے۔ پاک فوج کے کور کمانڈرز کے اجلاس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز نے ان شبہات کو مزید تقویت دی ہے۔

بھارت نریندر مودی کی قیادت میں متحد ہے۔ سیاستدان بعض پہلوؤں پر اختلافات کا اظہار ضرور کرتے ہیں لیکن وہ وزیراعظم کی اتھارٹی اور پاکستان مخالف حکمت عملی کو چیلنج نہیں کرتے۔ اسی لئے نہ تو مقبوضہ کشمیر میں تین ماہ سے جاری عوامی تحریک کے بارے میں سوالات کئے جاتے ہیں اور نہ سرجیکل اسٹرائیک کے جھوٹے دعوؤں کو پوری طرح مسترد کر کے نریندر مودی حکومت کی انتہا پسندانہ ، جنگجویانہ اور خطرناک پالیسیوں کے بارے میں طاقتور آوازیں سامنے آئی ہیں۔ بھارت میں میڈیا اور انتہا پسند گروہوں نے مل کر پاکستان دشمنی پر مبنی نفرت کا بدترین ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔ اب معاملہ صرف نعروں اور دھمکیوں تک محدود نہیں ہے۔ پہلے بھارت سے پاکستانی اداکاروں کو نکالا گیا۔ پھر فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے موجودہ حالات میں پاکستانی فنکاروں کے بالی ووڈ میں کام کرنے پر پابندی لگا دی۔ اب بھارت کے سینماؤں کی تنظیم نے ان فلموں کی نمائش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں پاکستانی اداکاروں ، فنکاروں یا ٹیکنیشنز نے کام کیا ہو گا۔ اس مزاج اور رویہ کے خلاف معقولیت کی اکا دکا آوازوں کے علاوہ مکمل سناٹا ہے۔ یوں لگتا ہے بھارت میں جمہوری نہیں بلکہ مطلق العنان فرد واحد کی حکومت ہے۔ پاکستان سے متعلقہ معاملات میں دو رائے سامنے نہیں آتیں۔

بھارت میں فوج نے کبھی سیاسی بیان بازی کا حوصلہ نہیں کیا ہے۔ وہ مکمل طور سے منتخب سیاسی حکومت کی قیادت میں ان پالیسیوں کے مطابق احکام مانتی ہے جو سیاستدان انہیں جاری کرتے ہیں۔ یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ بھارت کے فوجی کمانڈروں نے پاکستان کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن اس کا سرکاری طور پر اظہار سامنے نہیں آتا۔ حتیٰ کہ بھارتی حکومت نے جب عوام کو پاکستان پر اپنی بالا دستی کا یقین دلانے کےلئے سرجیکل اسٹرائیک کا پروپیگنڈا کرنے کا فیصلہ کیا تو فوج نے نہایت تابعداری سے اسے تسلیم کیا۔ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے پریس کانفرنس منعقد کرکے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کا اعلان کیا اور صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیئے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔ اس وقت سے اس جھوٹ کی کئی پرتیں اتر چکی ہیں۔ آج پاک فوج کی کور کمانڈرز کانفرنس نے بھی ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔

بدنصیبی سے بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں یہ صورتحال نہیں ہے۔ یہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اتھارٹی کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد پر دھاوا بولنے اور دارالحکومت کو بند کرنے کا دعویٰ کر رہی ہیں، یا وزیراعظم کو نااہل ، بدعنوان اور دشمن کا دوست تک قرار دینے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ملک کی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ملک میں جمہوریت کو مضحکہ خیز اور بادشاہت قرار دے کر عوام سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ مستقبل میں اپنے ووٹ کا حق بہتر لوگوں کو منتخب کرنے کےلئے استعمال کریں گے۔ اور آج کور کمانڈرز نے ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر کو قومی سلامتی کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے 5 پیروں پر مشتمل پریس ریلیز کے آخری پیرے میں اس بارے میں اظہار خیال کیا گیا ہے۔ لیکن قومی میڈیا میں اسے اہم ترین خبر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس دو سطری تشویش میں اخبار یا صحافی کو الزام دینے کی بجائے جھوٹی اور من گھڑت خبر فراہم کرنے پر پریشانی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ پاک فوج ملک کے منتخب وزیراعظم کے خلاف علی الاعلان عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔ کیونکہ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اہم سکیورٹی اجلاس کے بارے میں معلومات ایک اخبار کو فراہم کی گئی ہیں۔ یہ بیان اگر ملک کی جمہوری حکومت کےلئے براہ راست خطرہ نہ بھی ہو تو بھی اس بات کا اظہار ضرور ہے کہ ملک کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ وزیراعظم کو اس بات پر کنٹرول نہیں ہے کہ وہ اپنی زیر صدارت اجلاس کی باتوں کو خفیہ رکھ سکیں۔ اور اب فوج بند کمرے میں تشویش کا اظہار کرنے کے بعد کھلے عام اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔

بحرانی حالات اور عالمی اور ملکی سطح پر نت نئی مشکلات کی صورتحال میں ملک کے اہم ترین ادارے کی طرف سے بداعتمادی کے اس اعلان سے پاکستان کی شہرت اور مفادات کا متاثر ہونا لازم ہے۔ اس بات کا فیصلہ تو وقت ہی کر سکے گا کہ ایک خبر کی اشاعت ۔۔۔۔۔ جس کے بارے میں حکومت اور فوج من گھڑت اور جھوٹی کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں لیکن اخبار بدستور اپنی رپورٹ پر قائم ہے ۔۔۔۔۔ سے قومی مفاد اور سلامتی کو زیادہ نقصان پہنچا ہے یا اس بارے میں فوج اور سیاسی حکومت کے کھلم کھلا تصادم اور اختلاف رائے سے ملک کے مفادات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ وزارت داخلہ نے آج ڈان کے صحافی سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل ECL سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلہ کا اعلان آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے بعد ہوا ہے۔ اگرچہ ان کا باہم تعلق تو ثابت نہیں ہو سکتا لیکن اس سے یہ بات البتہ واضح ہو چکی ہے کہ معاملہ صحافی کی غیر ذمہ داری یا غلط رپورٹنگ کا نہیں ہے۔ اصل وجہ نزاع یہ امر ہے کہ کن لوگوں نے یہ خبر ڈان تک پہنچائی تھی۔

3 اکتوبر کو وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف ، وزیراعلیٰ شہباز شریف، وزیر داخلہ ، سیکرٹری خارجہ کے علاوہ گنے چنے سول حکام اور سیاسی رہنما موجود تھے۔ جبکہ فوج کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اپنے ساتھیوں کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ شرکا کے بارے میں وزیر داخلہ سے لے کر وزیراعظم تک سب کو خبر ہے۔ ڈان نے اپنی اسٹوری اور معلومات کا دفاع کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس معاملہ میں ملوث بہت سے لوگوں کو ان اعلیٰ حکام اور شرکا کے بارے میں پتہ ہے جن سے اخبار کے نمائندوں نے معلومات حاصل کرنے کےلئے رابطہ کیا تھا۔ اخبار یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ اس نے یہ رپورٹ ایک سے زیادہ ذرائع سے تصدیق کے بعد شائع کی تھی۔

یہ حالات ایک ایسی افسوسناک تصویر سامنے لائے ہیں جس میں ایک طرف فوج سیاسی حکومت سے اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی ہے تو دوسری طرف وزیراعظم کو یہ پریشانی بھی لاحق ہوگی کہ ان کی اپنی صفوں میں ایسے کون سے ’’تخریب کار‘‘ ہیں جو ان کی مرضی کے بغیر خفیہ حساس ملاقاتوں میں کی گئی باتوں کو صحافیوں تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک کمزور حکومت اور ایسے وزیراعظم کا پتہ دیتی ہے جو اپنے قریب ترین ساتھیوں پر بھی مکمل اعتماد نہیں کرسکتا۔ ایسی صورت میں وہ اپنی حکومت اور ملک کو درپیش گوناں گوں مسائل کا سامنا کیوںکر کرسکتا ہے۔ حکومت کی ناقص کارکردگی کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ فوج کا اعتراض سامنے آنے کے بعد یکے بعد دیگرے خبر کی تردید کرتے ہوئے اخبار اور صحافی پر اس کا بوجھ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ کل وزیر داخلہ نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں یہی موقف اختیار کیا تھا کہ اخبار کا رپورٹر خبر کی تصدیق حاصل نہیں کر سکا تھا، اس لئے اسے شائع کرنا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ تھا۔ لیکن اب یہ تاثر بدل چکا ہے۔

فوج کے اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک خبر تو جھوٹ اور من گھڑت ہے لیکن یہ افسانہ حکومت کے بعض ذرائع نے اخبار تک پہنچایا تھا، جس نے اسے شائع کر دیا۔ اخبار یہ بھی بتا رہا ہے کہ اس خبر کی تصدیق مختلف ذرائع سے کی گئی تھی، اس لئے یہ بات بھی طے ہے کہ اس ’’کہانی‘‘ کو بنانے ، سنوارنے اور بتانے والے ایک سے زیادہ لوگ ہیں۔ فوج ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے کیوںکہ انہوں نے ہی قومی سلامتی کے اجلاس کی حساس معلومات عام کی ہیں جن پر فوجی قیادت چیں بچیں ہے۔ سیاسی حکومت کو یہ مشکل درپیش ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل اجلاس میں شریک ایسے کون سے دو لوگ تلاش کرے جن کی ’’قربانی‘‘ دے کر فوج کا غصہ کم کیا جا سکے۔ حکومت نے کوشش تو یہ کی تھی کہ اخبار پر الزام عائد کرکے معاملہ رفع دفع کر دیا جائے گا۔ فوج کی پریس ریلیز نے ان کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ حکومت کا موقف تو یہ رہا ہے کہ یہ خبر اخبار کے دفتر میں گھڑی گئی تھی تاہم اس کے ساتھ خبر ’’لیک‘‘ کرنے والوں کا بھی ذکر ہوتا رہا تھا۔ اس طرح خود اس موقف کو مسترد بھی کیا جاتا رہا ہے کہ خبر اخبار کی من گھڑت تھی۔

اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کچھ بات کی ہو اور پھر اسے مرچ مصالحہ لگا کر شائع کروا دیا گیا تاکہ طاقتور اور بااختیار حکومت کا تاثر قائم ہو سکے۔ البتہ اس امکان کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی گئی کہ اگر فوج نے اس پر اعتراض کیا تو کیا جواب دیا جائے گا۔ یا اخبار اور صحافی کو کمزور فریق سمجھ کر یہ تصور کر لیا گیا تھا کہ سارا ملبہ ان پر ڈال دیا جائے گا۔ یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی۔ اب ایک کمزور سیاسی حکومت بپھری ہوئی فوجی قیادت کے ردعمل کا سامنا کر رہی ہے اور بدستور یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ اس گڑھے سے کیسے نکلے جو اس نے خود اپنے لئے کھودا تھا۔

اس المناک سانحہ میں چند افسوسناک باتیں کھل کر سانے آئی ہیں جو ملک میں جمہوریت کے مستقبل اور انتہا پسندی کے خاتمہ کےلئے جاری جنگ میں کامیابی کے حوالے سے اچھی خبر نہیں ہے۔ اگرچہ فوج نے آج بھی دعویٰ کیا ہے کہ فوج ضرب عضب کی تکمیل اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کےلئے بھرپور کوششیں کرتی رہے گی۔ لیکن یہ سوال تشنہ جواب ہی رہے گا کہ منتخب حکومت اور فوج کے درمیان اختلاف کی موجودہ صورتحال میں یہ مقصد کیسے حاصل ہوگا۔ آخر میں وہ نکات جو اس قصے کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں اور جن پر سب پاکستانیوں کو تشویش ہونی چاہئے:

1) کیا ملک میں جمہوریت محفوظ ہے۔ یا فوج معاون اپوزیشن اور موافق عدلیہ کے تعاون سے ایک بار پھر ملک پر آمریت مسلط کر سکتی ہے۔

2) بھارت کے ساتھ تصادم کی صورت میں قوم فوج کے سربراہ کو قائد تصور کرے یا وزیراعظم ہی اس کی رہنمائی کرے گا۔

3) ڈان کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے جھوٹ اور من گھڑت کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ اس میں کون کون سی بات جھوٹ تھی۔

4) کیا یہ جھوٹ تھا کہ اجلاس میں لشکر طیبہ ، جیش محمد ، حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کی بات کی گئی تھی یا یہ بات سول حکام اور سیاستدانوں کی بجائے فوج کے نمائندوں نے اٹھائی تھی۔

5) کیا اس بات پر اتفاق رائے موجود ہے کہ ان تینوں گروہوں سے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔

6) کیا ان گروہوں کے خلاف کارروائی فوج اور حکومت دونوں کا مقصد ہے یا اس سوال پر اختلاف موجود ہے۔

7) یہ اختلاف فوج کی طرف سے ہے یا حکومت جیش محمد ، لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے میں حیل و حجت کرتی ہے۔

8) کیا ایک خاص اجلاس کی کارروائی کی خبر ’’لیک‘‘ کرنے کے تنازعہ سے قطع نظر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں جلد ہی لشکر طیبہ ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے گا۔

یہ محض سوال ہیں۔ ان کے جواب ہی اہم قومی مسائل کے حل کی طرف نشاندہی کر سکیں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “فوج اور حکومت آمنے سامنے

  • 16/10/2016 at 3:16 شام
    Permalink

    WHAT KIND OF DEMOCRACY WE HAVE HAD FOR THE LAST 70 YEARS THAT PERMITS THE RULERS AND THE RICH TO LOOTING BILLIONS AND TRILLIONS AND NONE IS ACCOUNTABLE AND MADE RESPECTFULLY THE MNA,THE MPA, THE SENATOR OR THE MINISTER HAVING MORE POWERS TO LOOTING THE POOR.IN A SYSTEM EITHER IT IS KUFAR OR THE DEMOCRACY PEOPLE ARE LEAST CONCERNED ABOUT BUT NEED JUSTICE AND ACCOUNTABILITY OF FRAUDULENT AND THE LOOTERS THAT NEVER HAVE BEEN EXERCISED SINCE THE DAY,1947.SO HOW YOU CAN ENDANGER THE DEMOCRACY IF NEED THE PROCESS OF ACCOUNTABILITY AGAINST THE LOOTERS,WRIT OFFERS OF LOANS OF BILLIONS,LOAN GARBING OF BILLIONS AND TRILLIONS AND AGAIN AND AGAIN CALLING THE ACCOUNTABILITY DEMAND DERAILING OF THE DEVELOPMENT PROCESS IN THE COUNTRY.WHO BRAND IT THE SAME ARE MORE SMART AND DOING IT TRICKILY TO CAMOUFLAGING THE NATION AND THE POOR WHO ARE ADVISED TO PAY THEIR ALL BILLS AND DUES IN A QUEUE ON TIME AND NEVER LATE OTHERWISE THEIR FACILITIES WILL BE CUT OFF.THE MOST RUBBISH NEWS IS THE TARIFF OF THE GAS RAISED UP TO 36% THAT HAS BEEN REFUSED BY THE PM BUT WILL BE IMPLEMENTED BY ANOTHER TRICK LATER ON.WHO CHAMPION THE DEMOCRACY SHOULD HAVE READ ONE OR MORE CHAPTERS OF THE DEMOCRACY WHAT BLOODY IT IS AND HOW IT IS EXERCISED AND WHOM IT CALL FOR THE ACCOUNTABILITY IF THEY FAIL IN DELIVERING THE JUSTICE TO THE PEOPLE.THE SAID ISSUE OF THE LEAKING THE NEWS WAS PLANNED TO HARASS THE NATION.WE THE PAKISTANI PEOPLE ARE CONFIRMED THAT PAKISTAN IS OUR HOME WHERE WE ARE LIVING WITH RESPECT AND HAVE THE RIGHT TO ASK AND NEGOTIATE OR SUMMON THE RULERS FOR THEIR NEGLIGENCE OR THE MISTAKES BUT IT DOES NOT MEAN TO HAVE THE DOOR OPEN FOR THE ENEMY.

Comments are closed.