سفر مدینہ



لوگ مختلف سفر نامے لکھتے ہیں شہروں اور ملکوں کی روداد وہاں کے قصے اور گزرے دنوں کی کہانیاں۔
گزشتہ دنوں اللہ کے فضل اور عطا سے عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔
مکہ مدینہ ایک خالق دوجہاں کا شہر دوسرا اس کے محبوب کا۔ جہاں جانے کی خواہش شاید ہی کوئی محروم ہو جو نہ رکھتا ہو۔
سفر کا آغاز کراچی ائیر پورٹ سے ہوا اس سفر کے دوران ہی میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ واپس جا کر پیش آ نے والے واقعات اور ان جذبات و احساسات کو تحریر کروں گی۔
ائیرپورٹ پر مجھے یہ بات بہت عجیب لگی کہ ہم معذور افراد کو special peoples کہتے تو ہیں لیکن ایسا عملی طور پر نہیں کرتے وہی روایتی طریقہ کار جو نارمل افراد کے لیے وہی ان کے کے لئے بھی۔ چاہے وہ سیکیورٹی چیکنگ ہو یا بورڈنگ۔
کیا ایسے جدید طریقہ کار کو رائج نہیں کیا جاسکتا جن کے ذریعے ان معذور افراد کا سفر نسبتاً آ سان اور آ رام دہ بنایا۔ جا سکے۔ ہر جگہ ہمیں انتظار کروایا جاتا ہے کہ نہیں پہلے یہ بعد میں آ پ خاص طور پر جہاز میں چڑھتے اترتے ہوئے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ان کے لئے جہاز میں مخصوص نشستیں ہوں، وہ پہلے جہاز میں سوار ہوں، پہلے اتر جائیں تاکہ دوسرے مراحل سے بھی جلدی گزر کر اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
خیر اب ذکر کرتے ہیں مدینہ کا میرے نبی کا شہر۔ جس کا نام لیتے ہی ایک خاص احساس رگ و پے میں دوڑ جاتا ہے جو ناقابلِ بیان ہے ائیرپورٹ لائونج میں سامان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے مجھے یقین نہیں ہورہا تھا کہ میں اس سرزمین میں داخل ہو چکی یوں جہاں آ نے کی لوگ تمنا کرتے ہیں جو سراسر رحمت و برکت ہے۔
ہوٹل پہنچتے پہنچتے رات ہو چکی تھی سفر کی تھکان اس قدر تھی کہ خواہش کے باوجود اس رات مسجد نبوی کی حاضری نہ ہو سکی۔ آ نکھوں سے نیند دور تھی اور کل کا انتظار تھا۔
مسجد نبوی کی مین عمارت میں مرد و خواتین کے پورشن الگ ہیں احاطے اور صحن میں ایسی کوئی قید نہیں۔ ہمارا ہوٹل مردوں کی مسجد کی طرف تھا احاطے میں داخل ہوتے ہی میرا جی چاہ رہا تھا کہ کوئی مجھے وہئیل چئیر سے کھڑا کردے اس جگہ کی ٹھنڈک میں محسوس کروں۔ تھوڑا آ گے جا کر سبز گنبد خضریٰ نظروں کے سامنے تھا لبوں پر بے اختیار درود آ گیا اور آ نکھوں میں آ نسو۔وہ گنبد نہ سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا نہ ہی اس میں ہیرے جڑے ہوئے تعمیراتی کمال میں بھی سادگی لئے ہوئے تھا لیکن ایک خاص کشش ایک نور محسوس ہوتا ہے لوگ وہاں بیٹھے کوئی اسکا دیدار کر رہا
کوئی تسبیحات میں مصروف کجھ اس کو پس منظر میں لئے تصاویر بنانے میں مگن۔ مغرب کی پہلی اذان ہوتے ہی ہم تیزی سے اس طرف چلے جہاں عورتیں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتی ہیں تیز تیز چلتے مرد و خواتین شام کا پھیلتا دھندلکا اور ستونوں پر لگے پنکھوں سے آ تی معطر ہوا کے درمیان گزرتے عجیب کیفیت تھی۔جی چاہ رہا یہیں رک جائوں کوئی نہ ہو بس یہ فضائیں ہوں۔
یہاں ہر نماز کے بعد نمازِ جنازہ پڑھائی جاتی ہے جو عورتیں بھی ادا کرتی پاکستان میں عموماً یہ تصور نہیں رش کی وجہ سے مغرب کی نماز صحن میں ادا کی تھی لہٰذا اب عمارت میں داخل ہونا تھا روضہ رسول پر حاضری کا وقت فجر سے ظہر اور عشاء کے بعد سے ظہر تک تھا۔ ریاض الجنہ جانے والوں میں وہئیل چئیرز کے لئے الگ جگہ مخصوص تھی انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور وہ دروازہ کھول دیا گیا جس کا راستہ روضہ رسول کو جاتا تھا اس جگہ پہنچ کر سب سے پہلے میں نے حبیبِ خدا کی خدمت میں اپنا اور سب کا سلام پیش کیا نوافل ادا کیے آ نکھوں میں نمی لئے وہاں سے واپسی ہوئی ایک خواب حقیقت میں بدل چکا تھا۔جمعہ کو نماز کے بعد مکہ روانگی تھی۔
مدینے سے بوجھل دل سے رخصت اور خانہ خدا کی حاضری کا سفر ان شا اللہ اگلی تحریر میں۔

Facebook Comments HS