تھر پارکر میں بارش اور آسمانی بجلی سے تباہی کے قیامت خیز مناظر
سندھ کا صحرائی علاقہ تھرپارکر جو کہ پچھلے کئی برسوں سے قدرتی آفات سے دوچار رہتا آیا ہے۔ جہاں قحط سالی سے لے کر ٹڈی دل کے حملوں تک، قدرتی آفات نے مقامی باشندوں کا جینا اجیرن کر رکھا ہے۔ حال ہی میں اس علاقے میں آنے والے بارش کے سسٹم نے تباہی مچا دی ہے۔ دو دن جاری رہنے والی بارش کے دوران کسانوں کی ذخیرہ شدہ فصلوں کو پانی بہاکر لے گیا ہے، جس سے ان کا بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ جبکہ سوکھے گھاس کا ذخیرہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جس سے مویشی مالکان بہت پریشان ہیں، کیونکہ آیندہ دنوں میں جانوروں کی خوراک کی قلت پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ مذکورہ بارش نے اسی تباہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بات آسمانی بجلی کے اس بے قابو غصے پر جا پہنچی، جس نے تیس گھنٹوں سے کم عرصے میں، پچیس سے زائد انسانی جانوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا۔
اس علاقہ کے مختلف دیہات اور قصبوں میں آسمانی بجلی گرنے کے الگ الگ واقعات میں پچیس سے زائد افراد اجل کا شکار بنے، متعدد افراد آسمانی بجلی کے اثرات سے زخمی ہوئے۔ گائے بکریاں اونٹ اور دیگر مویشی بھی سیکڑوں کی تعداد میں، آسمانی بجلی کی زد میں آ کر حیاتی کی بازی ہار گئے۔ درختوں پر گھونسلے بنا کر اپنی دنیا آباد رکھنے کی جستجو میں مگن دسیوں ہزار معصوم پرندے بھی آسمانی بجلی کا شکار بن گئے ہیں۔ لاتعداد سبز درختوں کو آسمانی بجلی نے اجاڑ دیا۔
ایک اندازے کے مطابق اس سال اس صحرائی علاقے میں اوسطن بیس ایکڑ اسکوائر رقبہ پر ایک آسمانی بجلی گری ہے۔ جوکہ ایک خطرناک حقیقت کی جانب اشارہ ہے۔
گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس گیسز کے مسائل نے جس طرح دنیا کے قدرتی ماحول اور موسم کو تیزی سے تبدیل کیا ہے، اس کے اثرات کا نتیجہ ہی ہے، جس کے باعث اس سال آسمانی بجلی نے اس قدر خطرناک تیور دکھائے ہیں اور مون سون سیزن گزر جانے کے باوجود بارشیں اس شدت سے جاری ہیں، حالانکہ ان مہینوں میں عام طور پر اس علاقے میں بارش نہیں ہوتی۔ کسان اپنے پکے ہوئے فصلوں کی کٹائی کرکے، ان کی مارکیٹنگ کا بندوبست کرتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے ازالے کے لئے حکومت کے متعلقہ افراد اور اداروں کو متحرک ہونا چاہیے۔ نہ فقط متاثرین کی مالی معاونت ہونا ضروری ہے بلکہ آیندہ آسمانی بجلی سے بچاؤ کی تدابیر سے دیہاتوں میں آگہی مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہے، تاکہ جانی اور مالی نقصان کم سے کم ہو۔


