سندھ میں ووٹ کی سائنس کا سادہ فارمولا اور زرداری ماڈل کا تجربہ!

یوں تو پاکستان بھر کی پارلیمانی سیاست میں، نظریاتی وابستگی، پارٹی منشور، عوامی ایشوز، حکومتی کارکردگی اور سیاسی نمائندوں کے کردار کی کوئی خاص اہمیت نہیں مگر سندھ میں یہ رجحان نسبتا زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید معاشرتی رجحانات کے باعث، جاگیرداری اور سرداری نظام میں اگرچہ روایتی دم خم موجود نہیں رہا، تاہم ان کے باقیات تاحال موجود ہیں، جو کہ کسی نہ کسی طریقے سے ووٹروں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ یوں بھی

Read more

وہ جو پرندوں سے پیار کی پاداش میں درندوں سے مارا گیا

اسے معصوم پرندوں سے پیار تھا۔ وہ انہیں سرسبز میدانوں میں گھومتے اور کھلی فضاوں میں اڑتا دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ تو جنگل کے قابل رحم جانداروں کا محافظ اور ماحولیات کا خود ساختہ سفیر تھا۔ اسے کیا پتہ تھا کہ وہ اپنے ان دوستوں کو بچاتے بچاتے، خود بھی مارا جائے گا۔ اسے کیا پتا تھا کہ معصومیت کے دشمن درندے، صرف جانوروں کے درمیان جنگل میں نہیں رہتے مگر وہ بظاہر مہذب بستیوں میں انسانوں کے ساتھ بھی

Read more

ویرانی میں انوکھا کتب خانہ!

ڈھلتے سورج کی دھوپ میں چمکتی، یہ ایک زرد شام تھی۔ خزاں رسیدہ درختوں سے سرگوشیاں کرتی ہوائیں، سردیوں کی آمد کا اعلان کر رہی تھیں۔ صحرائی کسان کھیتوں میں فصلوں کی کٹائی میں مصروف تھے اور ہم وہ انوکھا کتب خانہ وزٹ کرنے جا رہے تھے، جس کا افتتاح چند دن پہلے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے معاون خاص ارباب لطف اللہ اور ایم این اے مہیش ملانی نے کیا تھا۔ یوں تو برصغیر میں کسی سرکاری

Read more

سندھ حکومت کے غیر منطقی اقدامات اور بیانات

نیت کتنی بھی صاف کیوں نہ ہو مگر کوئی بھی فیصلہ اور کوئی بھی قدم تب تک سودمند ثابت نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کے پیچھے انسانی عقل اور منطقی جواز موجود نہ ہو۔ معروضی حالات اور حقائق سے متضاد بیانات اور فیصلوں سے ایک طرف جگ ہنسائی ہوتی ہے تو دوسری جانب ان کے مضر اثرات ملک اور معاشرے کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کچھ ایسے ہی فیصلے، اقدامات اور بیانات میڈیا کی زینت بنے ہیں، جن

Read more

عالمی وبا کے ایام میں دیسی وبا اور مذہب کا آفاقی پیغام

کرونا وبا کے ان آزمائشی ایام میں، ہم نٕے بحیثیت قوم جو قومی مزاج اور قومی رویا روا رکھا ہے۔ اس طرز عمل نے، ہمارے تمام تر دعوے اور خوش فہمیوں کو زمین دوز کردیا ہے۔ قہوے سے کرونا کے علاج سے لے کر عطائی ڈاکٹروں کی جانب سے، کرونا علاج کی تجاویز تک، ہم اپنے آپ کو مضحکہ خیز قوم ظاہر کر رہے ہیں۔ کرونا کی آڑ میں، ہم اپنی دیرینہ دشمنیاں نبھانے لگے ہیں۔ اپنی آراء دوسروں پر

Read more

کرونا پر بات کریں تو کیسے؟

میں نے اپنی چوبیس سالہ قلمی زندگی میں، کبھی اپنے آپ کو اتنا سیلف سنسرشپ کا شکار نہیں پایا، جتنا آج کل سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ اپلوڈ کرتے ہوئے محسوس کرتا ہوں۔ چاروں اطراف غصے اور انا سے سرشار ہجوم جو کہ ذاتی پسند اور آراء کو دوسروں پر مسلط کرنے کی خاطر گالیاں، فتوے اور پتھر بازی تک سب کچھ تیار رکھے ہوئے ہے۔ اگر میں قہوے اور جڑی بوٹیوں سے کرونا کے کامیاب علاج کے مضحکہ خیز

Read more

پاکستانی سیاستدانوں کی چند مشہور بدکلامیاں!

یوں تو پاکستانی سیاست اور معاشرے میں اپنے سیاسی اور سماجی حریفوں کے لئے ناشائستہ اور غیر مہذب الفاظ کا انتخاب کوئی نئی بات نہیں، تاہم عوامی معاملات میں بعض اوقات مشہور شخصیات کی زبانی گستاخیاں ان کو مہنگی پڑ جاتی ہیں۔ اگرچہ پاکستانی سیاست میں الفاظ اور بیانات کی روشنی میں، انتخابی محاسبے کی روایات بہت پختہ نہیں ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کی اثر انگیزی نے بہت سے بد زبان سیاستدانوں کو محطاط رہنے پر مجبور

Read more

شخصی مفادات میں چھپا اجتمائی مفادات کا سوال!

سابق وزیر اعظم میان محمد نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت تو مل گئی اور وہ بذریعہ ایئر ایمبولنس، بیرون ملک روانہ بھی ہوگئے مگر اپنے پیچھے وہ سوالات چھوڑ کر چلے گئے ہیں، جن کے جوابات کی تلاش میں، رائج ملکی قوانین کے دوہرے معیارات کی باتیں چل نکلی ہیں، مزید براں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت مقید دیگر علیل قدیوں کے لئے بھی اس قسم کی رعایت کے مطالبات ہو

Read more

عمران خان اور مظہر السلام کی کہانی کے ٹائٹل میں مماثلت

عمران خان نے جیسے ہی حکومت سنبھالی، انہیں اس بے لغام بیورو کریسی سے کام لینا تھا، جس بیورو کریسی کے مفادات عمران خان کے بیانیے سے یکسر متضاد تھے۔ عمران خان نے کرپشن فری اور پرانصاف پاکستان کا نعرہ تو لگایا تھا مگر شاید اسے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ پٹھواری سے لے کر سیکریٹری تک، سرکاری ملازمین نے کرپشن کو ایک کاروبار اور ایک کلچر بنا رکھا ہے۔ وہ اتنی جلدی کرپشن سے کیسے دستبردار ہو سکتے

Read more

تھر پارکر میں بارش اور آسمانی بجلی سے تباہی کے قیامت خیز مناظر

سندھ کا صحرائی علاقہ تھرپارکر جو کہ پچھلے کئی برسوں سے قدرتی آفات سے دوچار رہتا آیا ہے۔ جہاں قحط سالی سے لے کر ٹڈی دل کے حملوں تک، قدرتی آفات نے مقامی باشندوں کا جینا اجیرن کر رکھا ہے۔ حال ہی میں اس علاقے میں آنے والے بارش کے سسٹم نے تباہی مچا دی ہے۔ دو دن جاری رہنے والی بارش کے دوران کسانوں کی ذخیرہ شدہ فصلوں کو پانی بہاکر لے گیا ہے، جس سے ان کا بھاری مالی

Read more

”مہنگائی بم“ کے پوشیدہ ٹکڑے

بلا شبہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مہنگائی بڑھی ہے۔ آئی ایم ایف کے شرائط کہیں، سابقہ حکمرانوں کے سیاہ اعمال بتائیں یا پھر موجودہ حکومت کی نا اہلی کی باتیں کی جائیں، بہرحال مہنگائی بہت زیادہ بڑھی ہے۔ مہنگائی بڑھنے کی ایک وجہ تاجروں اور میڈیا کا مجرم کردار بھی ہے۔ جیسے ہی میڈیا پر مہنگائی کی خبریں چلتی ہیں تو اسی میڈیائی اسٹریم کا فائدہ اٹھا کر چور کمپنیاں، موقع پرست تاجر اور رہزن مڈل مین

Read more

کیا دانشوری کے لیے تنقید لازمی ہے؟!

عمران خان نے اسلامو فوبیا پر بات کی، وہ بھی اس انداز بیان سے جوکہ مدبرانہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان تو کیا دنیا کے کسی حکمران نے بھی اسلام کے متعلق مغربی غلط فھمیوں اور دنیا کے دوہرے معیارات پر اتنے بڑے فورم پر اس طرح بات نہیں کی۔ عمران خان نے مغرب کو یاد دلایا کہ آپ نے جانوروں کے حقوق کے لیے تنظیمیں بنا رکھی ہیں مگر میانمار اور کشمیر میں انسانی حقوق پر آپ خاموش کیوں

Read more

قتل سے منسوب گاؤں اور اپنے دور کی مہنگی شادی!

اٹھارویں صدی کے آخری دہائیوں کی بات ہے۔ موجودہ راجستھان اور گجرات کے چند علاقوں کو لٹیروں اور ڈاکوؤں نے اپنا مسکن بنا لیا تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ نواحی علاقوں میں واردات نہیں کیا کرتے تھے، بلکہ دور کسی علاقے سے اپنا ہدف منتخب کیا کرتے تھے۔ اس زمانی میں وہاں کیش رقم اور قیمتی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کا کلچر نہیں تھا۔ مذکورہ علاقوں اور اطراف میں کسی کی امیری اور مالداری کا پیمانہ

Read more

کاپی سے کرپشن تک سندھ میں تعلیم کا حشر!

یوں تو ایک عرصے سے سندھ میں تعلیم کی صورتحال بدتر چلی آ رہی ہے، مگر پچھلے چند برسوں سے سول سوسائٹی اور میڈیا کے اثر انگیز کردار کے باعث سندھ حکومت کی متعلقہ وزارت بھی متحرک ہونے لگی۔ بند اسکولوں کی عمارتوں سے وڈیروں کے قبضے ختم کرانے کی کوششیں کی گئیں۔ غیر حاضری کے عادی اساتذہ کے خلاف بھی مہم چلائی گئی۔ مئجسٹریٹ کو بھی اسکول وزٹ کے پاور دیے گئے اور بجٹ بڑھانے کے ساتھ ساتھ، تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے کئی منصوبے بنائے گئے، مگر تاحال نتیجہ وہی ہے، جو برسوں سے نظر آتا رہا ہے۔

Read more

ایک قدیم دیہاتی کی عالمی مفکرین سے حیرت انگیز مماثلت

تقریباً چار صدیاں قبل صحرائے تھر میں ایک ایسا دیہاتی شخص موجود تھا، جو یوں تو مویشی چراتا تھا مگر اسے جانوروں اور جنگلات سے عشق تھا۔ پالتو جانوروں کے رویوں اور رہن سہن کو وہ عام لوگوں کی نسبت مختلف نظر اور سائنٹیفک انداز سے دیکھا کرتا تھا۔ ہمارے ہاں آج بھی جانوروں کی زندگی کو تحقیقی انداز سے دیکھنا پاگلوں کا مشغلہ سمجھا جاتا ہے، مگر سارو سنگھار نامی ایک دیہاتی نے اپنی زندگی جانورون کے ساتھ بتا

Read more

کیا سندھ میں ہر عوامی مسئلے کا حل احتجاج سے ہی مشروط ہے؟

اگرچہ آئین پاکستان میں عوامی حقوق اور حکومتی فرائض کے حدود کا تعین واضح طور پر موجود ہے۔ ہر ادارہ اور ہر فرد ان حدود میں رہ کر اپنا اپنا کام کرنے کے لیے پابند بھی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں حکومتی نظام سے معاشرتی رویوں تک کہیں بھی کوئی توازن اور انصاف نظر نہیں آتا۔ چنانچہ معاملات میرٹ کے بجائے دیگر ترجیحات کے محتاج بنتے جا رہے ہیں۔پچھلے کئی برس سے سندھ حکومت کی انتظامی مشینری جس طرح اپنے فرائض میں فاش غفلتوں کی مرتکب ہوتی ہوئی نظر آئی ہے۔ اس طرز عمل نے حکومتی اداروں سے عوامی اعتماد کو تیزی سے متزلزل کیا ہے۔ چنانچہ عوامی سطح پر یہ رجحان تیزی سے پروان چڑھہ رہا ہے کہ حکومت اپنا فرض سمجھ کر کوئی مسئلہ حل نہیں کرے گی، بلکہ احتجاج کے ذریعے ہی حکومت کو مسائل کے حل کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔

Read more

سندھ میں اقتدار سے باہر ذاتی ووٹ بینک بچانے کے خواہاں سیاستدان!

 یوں تو پاکستان بھر میں عوام کی اکثریت کو ووٹ کاسٹ کرنے سے قبل یہ سوال ضرور متاثر کرتا ہے کہ ہمارا منتخب امیدوار/ پسندیدہ پارٹی آئندہ اقتداری سیٹ اپ میں پہنچنے کے کتنے امکانات رکھتے ہیں مگر یہ سوال سندھ میں اپنی شدت کئی گنا بڑھا لیتا ہے۔ کیونکہ سندھ میں عام آدمی کی زندگی کے مسائل اور اقتداری سیاست کے اثرات آپس میں اتنے جڑے ہوئے ہیں کہ ایک عام ووٹر کے لیے اصولی بنیادوں پر ضمیر کا

Read more

دہشت گردی اور انسانیت کے نئے زاویے!

اگرچہ دنیا کے لیے دہشت گردی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں، مگر سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد دنیا کے سامنے دہشتگردی اور انسانیت کے کچھ نئے زاویے ضرور نمودار ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کو عام طور پر مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا رہا ہے، مگر سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد اس خیال کو مزید تقویت ملی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا دہشتگردی مذہب، نسل یا قومیت وغیرہ کے سائے میں، کہیں بھی اور کبھی بھی رونما ہوسکتی ہے۔ سفید فام دہشت گردی کے تذکرے پہلے بھی ہوتے تھے مگر دنیا نے اس کی بھیانک شکل کرائسٹ چرچ میں دیکھی۔

Read more

سیاست میں جھوٹ کو کیش کروانے کے ایسے ویسے تماشے!

یوں تو عام طور پر سیاست میں سچ کا سکا ذرا کم ہی چلتا ہے۔ تقاریر سے بیانات تک کئی سیاستدان تھوڑا تھوڑا جھوٹ کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ سیاست کو تمام اخلاقی اور انسانی اقدار سے بھی الگ رکھا جائے یا پھر سیاستدانوں کو بول چال کے معاملات میں کوئی خاص استثنا حاصل ہے۔ جو چیز اخلاقی طور پر غلط ہو گی، وہ سیاست میں درست نہیں ہو سکتی۔ مگر پچھلے چند

Read more

صحرا میں سونا، خوابوں سے حقیقت تک!

سونے کی تلاش انسانی فطرت کے لیے ہمیشہ متجسس مشغلہ رہا ہے۔ یہ قیمتی دھات کبھی ملکیت پسند آنکھوں میں دلربا خواب بن کر چمکتی رہی ہے، تو کبھی لوگوں کے لبوں سے دلچسپ موضوع بن کر اچھلتی رہی ہے۔ ایسے ہی لبوں نے کئی عشرے قبل یہ بات پھیلائی تھی کہ صحرائے تھر کے جنوب مشرق میں واقع کارونجھر کے پھاڑوں میں پارس پتھر موجود ہے، جو لوہے کو سونا بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پہاڑوں میں ایسی نایاب جڑی بوٹیاں بھی موجود ہیں، جو لاعلاج بیماریوں میں شفا بخش ہونے کے ساتھ ساتھ سونا بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

Read more

ٹرینڈ میکر پارٹی اور سندھ میں نئے کلچر کی افزائش

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں کسی پارٹی کے کارکنان نے اگر دی ہیں، تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عوامی طاقت کے مظاہروں سے لے کر مزاحمتی سیاست کے طریقوں تک پیپلز پارٹی ایک ٹرینڈ میکر پارٹی رہی ہے۔ اس میں بھی کوئی مبالغہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ مضبوط وفاق کی علامتوں اور سیاست کے روشن خیال حوالوں سے بھی عبارت ہے! مگر پ پ پ نے، بی بی کی شہادت کے بعد جس طرح بالائی ایوانوں سے عوامی دفاتر تک کرپشن کلچر کی ترویج روا رکھی ہے، اس نے سندھ کا ترقیاتی سفر بیحد سست کرنے کے ساتھہ ساتھہ، عوامی سطح پے جائز نائز، صحیح غلط اور اہل نا اہل کے درمیان تمیز کو بھی دھندلا کر دیا ہے۔

Read more

جسٹس مرکنڈے کا یوٹرن اور چند سوالات

ہمارے ہاں مفادات کے کاروبار میں یوٹرن تو لگتے رہتے ہیں، مگر علمی اور عقلی بنیادوں پے، سابقہ موقف سے دستبردار ہونا، اپنی غلطی تسلیم کرنا، یا پھر اپنے خیالات میں، حالات سے حاصل شدہ مشاھدات پے مبنی ترامیم کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ عقلی بنیادوں پے یوٹرن لینا خالص سائنسی عمل ہے۔ سائنس کی دنیا میں بہت سے سائنسدان اپنے پرانے خیالات اور مفروضوں کو مسلسل مسترد کرتے رہتے ہیں۔ آج کے کئی تسلیم شدہ نظریات طویل

Read more