پاکستانی سیاستدانوں کی چند مشہور بدکلامیاں!

یوں تو پاکستانی سیاست اور معاشرے میں اپنے سیاسی اور سماجی حریفوں کے لئے ناشائستہ اور غیر مہذب الفاظ کا انتخاب کوئی نئی بات نہیں، تاہم عوامی معاملات میں بعض اوقات مشہور شخصیات کی زبانی گستاخیاں ان کو مہنگی پڑ جاتی ہیں۔ اگرچہ پاکستانی سیاست میں الفاظ اور بیانات کی روشنی میں، انتخابی محاسبے کی…

Read more

شخصی مفادات میں چھپا اجتمائی مفادات کا سوال!

سابق وزیر اعظم میان محمد نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت تو مل گئی اور وہ بذریعہ ایئر ایمبولنس، بیرون ملک روانہ بھی ہوگئے مگر اپنے پیچھے وہ سوالات چھوڑ کر چلے گئے ہیں، جن کے جوابات کی تلاش میں، رائج ملکی قوانین کے دوہرے معیارات کی باتیں چل نکلی…

Read more

عمران خان اور مظہر السلام کی کہانی کے ٹائٹل میں مماثلت

عمران خان نے جیسے ہی حکومت سنبھالی، انہیں اس بے لغام بیورو کریسی سے کام لینا تھا، جس بیورو کریسی کے مفادات عمران خان کے بیانیے سے یکسر متضاد تھے۔ عمران خان نے کرپشن فری اور پرانصاف پاکستان کا نعرہ تو لگایا تھا مگر شاید اسے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ پٹھواری سے لے…

Read more

تھر پارکر میں بارش اور آسمانی بجلی سے تباہی کے قیامت خیز مناظر

سندھ کا صحرائی علاقہ تھرپارکر جو کہ پچھلے کئی برسوں سے قدرتی آفات سے دوچار رہتا آیا ہے۔ جہاں قحط سالی سے لے کر ٹڈی دل کے حملوں تک، قدرتی آفات نے مقامی باشندوں کا جینا اجیرن کر رکھا ہے۔ حال ہی میں اس علاقے میں آنے والے بارش کے سسٹم نے تباہی مچا دی…

Read more

”مہنگائی بم“ کے پوشیدہ ٹکڑے

بلا شبہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مہنگائی بڑھی ہے۔ آئی ایم ایف کے شرائط کہیں، سابقہ حکمرانوں کے سیاہ اعمال بتائیں یا پھر موجودہ حکومت کی نا اہلی کی باتیں کی جائیں، بہرحال مہنگائی بہت زیادہ بڑھی ہے۔ مہنگائی بڑھنے کی ایک وجہ تاجروں اور میڈیا کا مجرم کردار بھی ہے۔ جیسے…

Read more

کیا دانشوری کے لیے تنقید لازمی ہے؟!

عمران خان نے اسلامو فوبیا پر بات کی، وہ بھی اس انداز بیان سے جوکہ مدبرانہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان تو کیا دنیا کے کسی حکمران نے بھی اسلام کے متعلق مغربی غلط فھمیوں اور دنیا کے دوہرے معیارات پر اتنے بڑے فورم پر اس طرح بات نہیں کی۔ عمران خان نے مغرب کو…

Read more

قتل سے منسوب گاؤں اور اپنے دور کی مہنگی شادی!

اٹھارویں صدی کے آخری دہائیوں کی بات ہے۔ موجودہ راجستھان اور گجرات کے چند علاقوں کو لٹیروں اور ڈاکوؤں نے اپنا مسکن بنا لیا تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ نواحی علاقوں میں واردات نہیں کیا کرتے تھے، بلکہ دور کسی علاقے سے اپنا ہدف منتخب کیا کرتے تھے۔ اس زمانی میں…

Read more

کاپی سے کرپشن تک سندھ میں تعلیم کا حشر!

یوں تو ایک عرصے سے سندھ میں تعلیم کی صورتحال بدتر چلی آ رہی ہے، مگر پچھلے چند برسوں سے سول سوسائٹی اور میڈیا کے اثر انگیز کردار کے باعث سندھ حکومت کی متعلقہ وزارت بھی متحرک ہونے لگی۔ بند اسکولوں کی عمارتوں سے وڈیروں کے قبضے ختم کرانے کی کوششیں کی گئیں۔ غیر حاضری کے عادی اساتذہ کے خلاف بھی مہم چلائی گئی۔ مئجسٹریٹ کو بھی اسکول وزٹ کے پاور دیے گئے اور بجٹ بڑھانے کے ساتھ ساتھ، تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے کئی منصوبے بنائے گئے، مگر تاحال نتیجہ وہی ہے، جو برسوں سے نظر آتا رہا ہے۔

Read more

ایک قدیم دیہاتی کی عالمی مفکرین سے حیرت انگیز مماثلت

تقریباً چار صدیاں قبل صحرائے تھر میں ایک ایسا دیہاتی شخص موجود تھا، جو یوں تو مویشی چراتا تھا مگر اسے جانوروں اور جنگلات سے عشق تھا۔ پالتو جانوروں کے رویوں اور رہن سہن کو وہ عام لوگوں کی نسبت مختلف نظر اور سائنٹیفک انداز سے دیکھا کرتا تھا۔ ہمارے ہاں آج بھی جانوروں کی…

Read more

کیا سندھ میں ہر عوامی مسئلے کا حل احتجاج سے ہی مشروط ہے؟

اگرچہ آئین پاکستان میں عوامی حقوق اور حکومتی فرائض کے حدود کا تعین واضح طور پر موجود ہے۔ ہر ادارہ اور ہر فرد ان حدود میں رہ کر اپنا اپنا کام کرنے کے لیے پابند بھی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں حکومتی نظام سے معاشرتی رویوں تک کہیں بھی کوئی توازن اور انصاف نظر نہیں آتا۔ چنانچہ معاملات میرٹ کے بجائے دیگر ترجیحات کے محتاج بنتے جا رہے ہیں۔پچھلے کئی برس سے سندھ حکومت کی انتظامی مشینری جس طرح اپنے فرائض میں فاش غفلتوں کی مرتکب ہوتی ہوئی نظر آئی ہے۔ اس طرز عمل نے حکومتی اداروں سے عوامی اعتماد کو تیزی سے متزلزل کیا ہے۔ چنانچہ عوامی سطح پر یہ رجحان تیزی سے پروان چڑھہ رہا ہے کہ حکومت اپنا فرض سمجھ کر کوئی مسئلہ حل نہیں کرے گی، بلکہ احتجاج کے ذریعے ہی حکومت کو مسائل کے حل کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔

Read more