پاکستان کا قومی شناخت کا بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہ حیثیت مجموعی جب شناخت کی بات کی جائے تو ہم کو خطے کے تاریخی پس منظر کا ضرور جائزہ لینا ہو گا۔ پاکستان بر عظیم میں واقع ہے جو لسانی، قومی، اور مذہبی طور پر کئی قبائل و چھوٹی بڑی اقوام میں منقسم ہے اور صدیوں سے آج تک یہی صورتحال قائم ہے۔ بر عظیم میں مختلف مذاہب کے پیروکار صدیوں سے بسے چلے آ رہے ہیں۔ قدیم ترین مذاہب میں دھرم مت جو اب ہندو مت کہلاتا ہے، کے علاوہ بدھ ازم۔ زرتشت ازم، سکھ ازم، جیوڈزم، سانا ازم، کائستھ، اسلام، احمدیت شامل ہیں۔ خطہ برعظیم مختلف عقائد کے مجموعے کے ساتھ ساتھ عملی عبادات کا سب سے بڑا گڑھ ہے، ہر عقیدے کے ماننے والے مختلف طریقوں سے اپنے عقائد پر عمل پیرا ہیں اور بعض اس معاملے میں اتنے کٹر ہیں کہ اپنی شناخت مذہب کے حوالے سے ہی ظاہر کرتے ہیں۔

بر عظیم اپنی ساحلی پٹی کی بدولت مختلف قومیتوں کے تاجروں کی سر زمین بھی رہی ہے۔ بحری جہازوں کے ذریعے آنے والے ایرانی، سراندیپی۔ عربی۔ پرتگالی۔ ولندیزی۔ چینی۔ برمی تاجر اپنی تجارتی اشیاء کے ساتھ اپنی زبانیں اور ثقافت بھی ساتھ لاتے تھے۔ اس تجارت پر آخری ٹھپہ انگریز نے لگایا اور خطے پر قابض ہو گئے۔

بر عظیم کو مختلف اقوام کے جنگجوؤں کے مشق ستم کا سامنا بھی رہا ہے، عرب سے محمد بن قاسم کی آمد کے بعد یہ جنگی سلسلہ افغان بادشاہوں نے شروع کر دیا، جنگ سے قطع نظر اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ برعظیم کے باشندوں کو علم کی روشنی اور رہن سہن کے طریقوں کو بیرونی دنیا سے آنے والے تاجروں اور جنگجوؤں نے ہی روشناس کروایا۔ افغانی دور حکومت میں سڑکیں بنیں یعنی زمینی ذرائع آمد و رفت تشکیل دیے گئے۔ دور مغلیہ میں زبان و ادب، مطبخ اور اس کے پکوان و آداب۔ ، طب کے میدان کے کرشمے۔ خوبصورت عبادت گاہوں، محلات و عمارات، باغات کی تعمیر ہوئی۔

دریاوں کے پانی کو قابل استعمال بنانے کے لئے نہری نظام تشکیل دیا گیا، گرمی سے بچاؤ کے لئے باولیاں بنائی گیئں۔ صحرا تک میں کنویں کھدوائے گئے۔ صدیوں پرانی عمارتیں اور باولیاں ابھی بھی اپنی خوبصورتی کے ساتھ قائم و دائم ہیں۔ مغل بادشاہوں کی فوج میں پوری دنیا سے فن حرب کے ماہر و فوجی جوان شامل ہوتے تھے، اسی لئے خطہ مختلف اقوام کی آماج گاہ بن گیا۔ مذاہب کے بعد لسانیت یعنی زبان کے حوالے سے بھی بر عظیم میں شناخت کی جاتی ہے۔

برٹش راج میں بر عظیم کی لسانیات پر تحقیق کرنے والے سول سروس کے افسر سر جارج ابراہام گریئرسن کی طویل تحقیق کے مطابق بر صغیر میں 188 زبانیں رائج تھیں تاہم بولیوں کی گنتی نہیں کی جاسکی تھی۔ گریئرسن کے بیان کیے ہوئے نقشوں اور اُن کی سرحدوں کو سیاسی گروپس ریاستی شناخت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مزید برآں سر گریئرسن نے بر صغیر میں لسانیات کے حوالے سے حکومتی منصوبے پر تحقیق مکمل کی۔

19 حصوں پر محیط 11 جلدوں پر مشتمل یہ لسانی جائزہ 231 زبانوں اور 544 بولیوں (Dialects) کے مطالعے کو سموئے ہوئے ہے جس میں 364 ہندوستانی زبانوں اور بولیوں کا تفصیلی سروے ہے۔ 1921 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 188 زبانیں رائج تھیں البتہ بولیوں کی گنتی نہیں کی جاسکی تھی۔

زبان اور اس کے لہجے کے ذریعے کسی مخصوص قوم کے فرد کو شناخت کرنا بھی بر صغیر کے عوام کا خاصہ ہے۔ ہر علاقے کی زبان، تلفظ اور لہجہ مختلف ہوتا ہے۔ تامل کے کئی لہجے، راجھستانی بولیاں اور ان کے لہجے، پنجابی کے متعدد ڈالیٹس اور تلفظ۔ کہیں خالص فارسی اور کہیں فارسی درگئی اور پشتو کا ملاپ۔ سنہرے بنگال کی بھاشا بنگالی۔ مراٹھی۔ گجراتی، کاٹھیا واری۔ براہوی۔ بلوچی، وادی مہران کی ساحلی پٹی کی سب سے قدیم زبان سندھی جس کا رسم الخط قدیم عبرانی سے ملتا ہے۔

مغل دربار میں گفتگو کے لئے اردو رائج تھی، سرکاری کاغدات و خط و کتابت کی زبان فارسی تھی، برٹش دور حکومت میں اردو خوب پھلی پھولی۔ اردو کی ترقی و ترویج کے لئے فورٹ ولیم کالج نے نمایاں کردار ادا کیا۔

سر گر ئیرسن کے مطابق اردو کے صرفی نحوی قواعد نے شمالی ہند کی عام بولیوں سے خوشہ چینی کی ہے۔ اس لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ وہ کسی ایک مخصوص اور معین زبان سے ترقی پاکر بنی ہے۔ سر گر ئیرسن نے اپنے تحقیقی مقالے میں

گنگا جمنا بالائی دو آبے کی سرزمین کو اردو کی جائے پیدائش بتایا ہے۔

جب بر عظیم کی تقسیم عمل میں آئی تو پاکستان میں شامل ہونے والے علاقے جو صدیوں سے اپنی شناخت رکھتے تھے، اپنی انفرادی شناخت کے ساتھ ہی پاکستان میں شامل ہوئے، پانچ بنیادی صوبے تشکیل دیے گئے۔ بنگلہ دیش سندھ۔ پنجاب۔ بلوچستان اور سرحد جو اب خیبر پختون خواہ کہلاتا ہے، اس کے علاوہ سطح مرتفع پھوٹو ہار۔ فاٹا کے علاقہ جات، مکران کی ساحلی پٹی، گلگت بلتستان اور کشمیر کا کچھ حصہ بھی پاکستان میں شامل ہوئے۔ ہر علاقے کی انفرادی شناخت اس کی زبانوں۔ ثقافت، رسوم و رواج، روایات۔ لباس، کھانوں اور مشروبات کے ذائقے، انسانوں کی شکل و صورت، اور ان کے اطوار کے حوالے سے ہے۔

گویا پاکستان ایک گلدستہ ہے جو مختلف علاقوں کے پھولوں، پودوں اور پھلوں سے مزین ہے۔

بلوچستان کی تہذیب و روایات، پہاڑوں میں دامن بسی وادیاں، پہاڑی سلسلے، ساحلی علاقے گوادر، پسنی، سمیانی اور شہر ژوب، کوئٹہ، سبی، قلات، چاغی کی اٹل شناختی اہمیت ہے۔

سندھ کی قدیم ثقافت، دریائے سندھ کے کنارے بسی وادی پزاروں سال پرانی ہے، سکھر، جیکب آباد، لاڑکانہ، نواب شاہ، میر پور خاص، دادو اور مکلی کے علاقے اپنی سادگی کے ساتھ شناخت رکھتے ہیں

خیبر پختون خواہ کے صدیوں پرانے رواج، شہر پشاور کی صدیوں پرانی شناختی حیثیت۔ روایات و رسوم ہیں۔

شہر اولیاء ملتان، جہاں صوفیوں نے قدم رنجہ فرمایا اور خطہ پنجاب کو نئی جہت سے نوازا۔

خطے کا سب سے قدیم شہر لاہور جو سکھ راج اور مغلیہ دور میں تعمیر شدہ عمارات اور دروازوں کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے۔ شہر لاہور اور اس کے شہری انفرادی شناخت رکھتے ہیں۔

لائل پور جسے اب فیصل آباد کہا جاتا ہے، برٹش دور حکومت سے ہی صنعتی ترقی کے حوالے سے اپنی شناخت رکھتا ہے اور بہت بڑا صنعتی شہر ہے۔

گوجرانوالہ کی گھریلو صنعتیں بہت زرِ مبادلہ کما رہی ہیں۔

سیالکوٹ فٹ بالوں اور سرجیکل انسٹرومنٹس کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔

ایبٹ آباد اور مانسہرہ بھی اپنی قدیم تاریخی شناخت کے حامل ہیں۔

راول پنڈی کی قدیم بولیاں، قدیم بازار، خصوصی کلچر۔ اور کھانے بھی شناختی مقام رکھتے ہیں۔

کلر کہار کی اپنی جداگانہ شناخت ہے۔

پھوٹو ہار علاقے کے طور طریقے و رواج منفرد حیثیت و شناخت رکھتے ہیں۔

پاکستان کا ہر شہر اور علاقہ اپنا کلچرل و کاروباری حب رکھتا ہے، اور ایک دوسرے سے مختلف شناخت کا حامل ہے۔

ہجرت کے مراحل کے بعد جو ملک وجود میں آیا، اس کو اسلام کے نام پر حاصل کرنے کے دعوے کیے گئے، مذہبی کتاب کے حوالے سے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اس لیے مسلمان ہونے کے ناتے عوام کے دل آپس میں گھلے ملے رہے لیکن بنیادی شناخت بدستور قائم رہی۔ گو کہ شناخت قائم رکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے اور کچھ لوگ شناخت کا فخر بھی رکھتے ہیں۔ مسائل اس، وقت پیدا ہوتے ہیں جب شناخت کے حوالے سے لسانی یا گروہی تعصب کو فروغ دیا جائے۔

بد قسمتی سے پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد زبان شناخت کا باعث بن گئی، اکثریتی آبادی والے صوبے بنگلہ دیش کی زبان بنگلہ کو قومی زبان بنانے کے لئے کہا۔ لیکن اس وقت موجود کابینہ نے ”اردو“ کو رابطے اور سرکاری زبان قرار دیا، اس پر بے چینی پھیل گئی۔ لیکن اس بے چینی پر حکمت سے قابو پا لیا گیا، اردو غیر منقسم بر صغیر میں آسان فہم اور رابطے کی زبان تھی، یہی معاملہ کثیر جہتی زبانوں کے حامل ملک میں بھی درپیش تھا، اس لیے کابینہ کے فیصلے کے مطابق ملک کے طول و عرض میں اردو رائج ہو گئی، ساحل مکران سے لے کر درہ خیبر تک عوام نے اردو کو کھلے دل سے تسلیم بھی کیا۔ بر صغیر کے غالب اور میر پاکستانیوں کے دل و دماغ، درسی کتب کے نصاب اور سرکاری کتب خانوں میں داخل ہو گئے اور اردو پروان چڑھنے لگی، پاکستان کی شناخت بن گئی، بیرون ملک پاکستانیوں کی پہچان بن گئی۔

یہاں یہ زمینی حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ کسی بھی ریا ست یا ملک کا بیانیہ اشرافیہ ہی تشکیل دیتی ہے اور اس پر عمل بھی کرواتی ہے۔

ہجرت کے بعد ملک میں آنے والے اپنی شناخت اپنی زبان ساتھ لائے، اکثریت پڑھے لکھے افراد پر مشتمل تھی، اپنی اس اضافی قابلیت و، استعداد کے بل بوتے پر ملک کے طول و عرض میں سرکاری عہدوں پر فائز ہو گئے، اسکے

علا وہ بنگلہ دیش اور ریاست بہار کے پڑھے لکھے افراد بھی اعلی سرکاری عہدوں پر کام کرنے لگے۔ اردو بولنے والے زیادہ تر افراد سندھ میں آباد ہوئے، حیدر آباد اور دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ وہ چھوٹی سی ساحلی بستی جو کلانچی کہلاتی تھی اور اس کی اہمیت بس اتنی تھی کہ غیر منقسم خطے میں وہ ممبئی کے ساتھ بندرگاہ کے طور پر جانی جاتی تھی، پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد وہ ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کی بدولت شہر میں تبدیل ہو گئی۔

نام کراچی ہو گیا۔ سمندر کنارے عالی شان ہوٹلز، کلب، ہٹس، ڈھابے اور ریستوان بن گئے۔ سمندر کنارے تعمیر ہوئے انگریز سرکار کے دور کے سرکاری دفاتر آباد ہو گئے۔

مہاجرین کی بدولت شہر میں ہندوستان کے مختلف شہروں کی تہذیب و ثقافت کے رنگ بکھر گئے، شناخت کا مسئلہ اتنا حاوی ہوا کہ نئی بسائی جانے والی کالونیوں کے نام ہندوستان میں چھوڑ آنے والے علاقوں اور شہروں کے نام پر رکھے جانے لگے۔

شہر میں مغلیہ طرز کے پکوان بنانے کے لئے ریستوان کھل گئے، درزی بیٹھ گئے جو اہل زبان افراد کے لباس تیار کرتے تھے، کیونکہ آنے والے اپنی ثقافت و تہذیب ساتھ لے کر آئے تھے، غیر منقسم خطے میں بھی مغربی تہذیب اہل زبان کو متاثر نہ کر سکی تھی، اور ہجرت کے بعد بھی یہ ممکن نہ ہوا، وسیع طول و عرض پر پھیلتا شہر اہل زبان کی زبان، رسوم و رواج اور ثقافت میں ڈھل گیا۔ اہل زبان کے لباس پورے ملک میں بطور فیشن پہنے جانے لگے۔

اہل زبان کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کے خاندانوں نے بھی نئے ملک میں ہجرت کی، یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان ہونے کے ناتے مذہبی بنیاد پر ہجرت کر نے پر مجبور کر دیے گئے، کاٹھیاواری، گجراتی، میمن برادری نے شہر میں بازار اور عمارات بنانا شروع کر دیں، بہت خلوص اور محنت کے ساتھ نئے ملک کو سنوارنے، اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے سب نے اپنا حصہ ڈالنا شروع کیا، پڑھے لکھے اہل زبان اور ممین برادری میں شہر میں اسکولز و کالجز کی بنیاد رکھی، خواتین کی تعلیم پر زور دیا گیا، لڑکیوں کے لئے علاحدہ درس گاہوں کی بنیاد رکھی گئی، لڑکوں کے لئے مدارس بھی بنائے گئے۔ ساتھ ہی ساتھ شہر میں ان گنت فلاحی مراکز، گھریلو صنعتوں کے چھوٹے چھوٹے سنٹر اور ادارے قائم ہوئے۔

جب تک زبان شناخت کا مسئلہ نہیں بنی نئے ملک میں سکون اور امن و امان قائم رہا، لیکن جب بنگلہ دیش میں لسانی بنیاد پر بے چینی پھیلی تو دشمن نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستان بننے کے تئیس سال بعد ہی بنگلہ دیش الگ ہو گیا۔ لسانی بنیاد پر ہونے والی اس خونی تقسیم نے تاریخ کے اوراق پر خونچکاں داستان رقم کی۔

بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد ریاست پاکستان نے نئے سرے سے عوام میں محب الوطنی کی لہر بیدار کرنے کے لئے کام شروع کر دیا، ہونا یہ چاہیے تھا کہ علاقائی بنیاد پر شناخت کی حوصلہ شکنی کی جاتی، لیکن اس خوف سے کہ ہر صوبہ بنگلہ دیش کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی خود مختاری نہ مانگنے لگے، ریاست نے علاقائی، ثقافتی و لسانی شناخت کے ساتھ ہر صوبے کا تعارف کروانا، شروع کر دیا، سرکاری ٹی وی پر ہر قومی دن یا خاص موقعے پر پا کستان کے چار صوبے۔ چار زبانیں۔ چار لباس، چار اقسام کے رواج، چار اقسام کے روایتی کھانوں کی تفصیلات دہرانی شروع کر دیں۔

ملک کی مختلف سیا سی جماعتیں پہلے ہی علاقائی بنیادوں پر کام کر رہی تھیں، مسلم لیگ کئی دھڑوں میں تقسیم ہوچکی تھی، ہر گروہ کا اپنا الگ رہنما تھا۔ نئی بننے والی سیا سی جماعتیں لسانی بنیادوں پر کارکن سازی کو ترجیح دینے لگیں۔ مفاد پرست سیاسی ورکرز نے سادہ لوح عوام کے ذہنوں میں لسانیت کا بیج بونا، شروع کر دیا۔

ملک کے سب سے بڑے اور ساحلی شہر میں لسانی طور ایک سیاسی جماعت وجود میں آ گئی۔ ریاست کے لئے واضح اشارہ تھا کہ وہ ملک کی آبادی کے ایک تہائی حصے کو نظر انداز کر رہی ہے اس لیے ایسا ہونا ناگزیر ہے، شناخت کے جس مسئلے سے ملک کے دو ٹکڑے ہوئے تھے، وہی مسئلہ اس، وقت سامنے آ کھڑا ہوا، گو کہ حالات و واقعات سن اکتہر والے نہیں تھے، لیکن پھر بھی حکومت نے طاقت کے ذریعے ملک کے سب سے بڑے شہر جو کہ پاکستان کا معاشی حب ہے، ریاستی آپریشن شروع کر دیا، جس نے پورے ملک کی توجہ حاصل کر لی۔ لسانی شناختی نظریہ عوام کے سر چڑھ کر اپنی اپنی زبانیں بولنے لگا،

ریاست چاہتی تو مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کر سکتی تھی لیکن ایسا نہ کیا گیا، اور جبر کے ذریعے شہر کی سیا سی قوت کو کچلنے کے لئے مختلف حربے استعمال کیے گئے جو ظالمانہ اور غیر منصفانہ تھے۔

پاکستان میں شناخت کے بڑا بحران اس، وقت بھی پیدا ہوا۔ جب پڑوسی ملک افغاستان پر روس نے حملہ کر دیا، دوران جنگ

پڑوسی ملک افغاستان سے افغانی باشندے ہجرت کر کے آنا، شروع ہوئے، پاکستانی ریا ست اور عوام نے مسلمان اور پڑوسی ہونے کے ناتے افغانی باشندوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا، اور ان کے دکھ کا مداوا کیا، لیکن عام زخم خوردہ اور دکھی انسانوں کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ افراد اور اسمگلرز بھی پاکستان میں داخل ہو گئے، نتیجے میں کراچی اور ملک کے سرحدی حصوں میں سنگین جرائم، منشیات کا کاروبار اور اسلحے کی آزادانہ خرید و فروخت ہونے لگی۔

امریکہ میں نائن الیون کے حادثے اور پھر ملک کے شمالی علاقوں میں طالبان کا ظہور ایک بار پھر پاکستان میں شناخت کے مسائل لئے داخل ہوا، پاکستانی پشتون قبائل اور افغانی پشتون قبائل کے درمیان چپقلش پیدا ہو گئی، صوبہ بلوچستان سے منسلک افغانی سرحدی علاقے اور بالائی علاقوں میں سوات۔ کالام مالاکنڈ کے علاقے خاص طور پر لپیٹ میں آئے، شدت پسند طالبان نے پاکستان کے شمالی علاقوں میں تباہی مچا دی، طالبان نے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں سنی مسلک، شعیہ مسلک میں مسلکی منافرت کو فروغ دیا۔

طالبان کے حملوں کے دوران ستر ہزار شہری اور سینکڑوں فوجی جوان شہید ہوئے۔ ملک کے بالائی حصوں سے لوگ ہجرت کر کے شہروں میں آ گئے اور قبائلی شناخت کے ساتھ ساتھ اپنی پاکستانی شناخت برقرار رکھنے کے لئے بھی ملک کے شناختی ادارے نادرا کے دفاتر کے چکر کاٹنے لگے، یہ حقیقی قومی شناختی بحران کا سلسلہ تھا جو کراچی میں بسے اردو بولنے والے افراد سے شروع ہو کر وزیرستان کے علاقوں تک پہنچ گیا۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ مذہبی، مسلکی، علاقائی و لسانی شناخت کے ساتھ دنیا میں قدم رکھتا ہے، جب اٹھارہ سال کی عمر ہوتی ہے تو پھر شناختی کارڈ بنانے کے لئے قومیت کے خانے میں ”پاکستانی“ لکھا جاتا ہے۔

سیاسی جماعتیں بھی شناختی اقربا پروری کو فروغ دیتی ہیں۔ اس کے لئے ڈومیسائل اور ب فارم بنائے اور مختلف مواقع پر طلب کیے جاتے ہیں۔ شناخت کے مسئلے کے ساتھ دل چسپ صورتحال اس وقت نظر آتی ہے جب ہندوستان کے ساتھ کرکٹ میچ ہو، اس، وقت پوری قوم صرف اور صرف پاکستانی ہو کر دعائیں مانگتی ہے، اور متحد نظر آتی ہے۔ شناختی سلسلے میں یہ تجربہ بھی ہوا کہ مختلف قومیتوں میں منقسم قوم مصیبت و معیصت کے وقت ایک ہو جاتی ہے، سن دو ہزار پانچ میں پاکستان میں آنے والے خوفناک زلزلے نے قوم کو متحد کیا۔

ماضی میں ہندوستان کے ساتھ ہونے والی دو جنگیں، ان کے بعد سیاچن اور کارگل کے معرکے ہوئے، لاتعداد جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں جو آزاد کشمیر سے ملحقہ سرحدی پٹی ایل او سی پر جاری رہتی ہیں قوم کو متحد کر دیتی ہیں۔ اور بہ ظاہر اکائیوں میں بٹی قوم دشمن کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ اگر ہم بہ نظر غائر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شناخت انسان کی زندگی کا فطری مرحلہ ہے۔

ایک انسان اپنی پیدائش کے بعد والدین کے علاوہ مختلف خاندانی رشتوں کے ساتھ بندھا ہوتا ہے، اور ان رشتوں کے حوالے سے مختلف ناموں سے پہچانا جاتا ہے اگر فرد اپنی شناخت کے حوالے سے حساس ہے اور اپنی مذہبی، علاقائی، قبا ئلی اور لسانی شناخت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو یہ عین فطری امر ہے۔

شناختی بحران کے حوالے سے کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ خدا نے مختلف انسان اور قبائل بنائے ہیں اس لیے ہر خاندان کی، ہر قوم کی شناخت ضروری ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن تمام الہامی کتب انسانیت اور رحم کا درس دیتی ہیں۔ قرآن مجید کی آیت کے مطابق ”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے“ لیکن انسان اس آیت کے بر عکس عمل کرتے ہیں۔ اور ان انسانوں میں بہ حیثیت قوم ہم بھی شامل ہیں جو صرف مصیبت یا کرکٹ میچ کے دوران متحد ہوتے ہیں۔

دور جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے ہر باشعور فرد کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بہ حیثیت پاکستانی فخر کریں، کہ پاکستانی ہونا ایک مسلمہ اور اٹل حقیقت ہے، اور ہم کو ایک مضبوط پاکستانی قوم بھی بن کر رہنا ہے اور دنیا کو بھی یہی پیغام ارسال کرنا ہے کہ ہم متحد اور زندہ قوم ہیں۔

اس ضمن میں ریاست کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، کہ مختلف قومیتوں کے افراد کو کس طرح ایک ساتھ لے کے چلنا ہے کہ کسی بھی قوم کے وسائل کی حق تلفی نہ ہو اور نہ ہی کسی ایک قومیت کے افراد دوسری اقوام پر برتری جتائیں یا شناختی بل بوتے پر وسائل پر قابض ہوں، ملکی فیصلے برابری اور مساوات کی بنیاد پر کیے جائیں تا کہ پاکستان کے پاکستانی بہ حیثیت ایک قوم ایک ساتھ ترقی کی منازل طے کریں۔

(نوٹ! مضمون کی تیاری میں وکی پیڈ یا۔ مختلف اخبارات۔ اور سر حافظ صفوان صاحب کے لسانیات و تاریخ پر مبنی مضامین سے مدد لی گئی ہے جو مکالمہ ویب سائٹ پر موجودہیں )

Latest posts by مطربہ شیخ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •