شادی: سماجی ادارہ اور ڈرامے

دو سال پہلے فیملی فرینڈز میں ایک بائیس سالہ بچی کی شادی ہوئی۔ والدین کی اکلوتی اولاد ہے۔ متمول گھرانا ہے۔ شادی کے ایک مہینے بعد ہی شوہر اور ساس نے ذہنی و جسمانی تشدد شروع کر دیا کہ والدین سے پیسے لے کر شوہر کر کاروبار کروا دو۔ کون سا تشدد تھا جو بچی…

Read more

پاکستان کا قومی شناخت کا بحران

بہ حیثیت مجموعی جب شناخت کی بات کی جائے تو ہم کو خطے کے تاریخی پس منظر کا ضرور جائزہ لینا ہو گا۔ پاکستان بر عظیم میں واقع ہے جو لسانی، قومی، اور مذہبی طور پر کئی قبائل و چھوٹی بڑی اقوام میں منقسم ہے اور صدیوں سے آج تک یہی صورتحال قائم ہے۔ بر…

Read more

گریجویٹ آیائیں اور سلمنگ سینٹر

چند ماہ پہلے ایک سیلون سے منسلک سلمنگ سینٹر میں، مینجمنٹ کی ملازمت شروع کی۔ باقاعدگی سے ایکسرسائز سیکھنا، سکھانا اور خود بھی کرنا مقصد تھا۔ سیلون اور سلمنگ سینٹر کی مالک فیملی فرینڈ بھی ہیں، سو ساتھ ساتھ سینٹر مینیج کرنے میں ان کی مدد بھی ہو جاتی ہے۔ جب باقاعدگی سے وہاں جانا…

Read more

شہر آشوب کا جادو گھر کتابی تبصره

 ”کچھ بے ترتیب کہانیاں“ ارشد رضوی کی شہر آشوب کی بے ترتیب کہانیاں ہیں، اور ان کہانیوں میں بپھرا ہوا سمندر ہے، مجذوب و مرطوب ہوائیں ہیں، وسیع و عریض شہر کے طویل اور تھکا دینے والے راستے ہیں، جا بجا بکھری ہوئی تار کول کی سڑکیں ہیں جن کو اعلی شان گاڑیاں اور بوسیدہ…

Read more

میں گل لالہ ہوں، آن لائن ہوں، لیکن دستیاب نہیں ہوں

سپر مارکیٹ میں ”سیل“ کیا شروع ہوئی، گویا عوامی اجتماع ہو گیا، حامد صاحب منیجر تھے، عملے کو چوکس اور مستعد رکھنے کے لئے خود سپر مارکیٹ میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہے تھے اور گاہکوں کو، مطمئن کر رہے تھے، ایک خوبصورت و صبیح چہرہ خاتون پر حامد صاحب کی نظریں ٹک گیئں، ایسا لگا کہیں دیکھا ہوا ہے وہ سوچنے لگے کہاں دیکھا ہوا ہے، خاتون کے ساتھ دو چھوٹے بچے تھے، ایک بچہ گود میں تھا، ایک ادھر ادھر بھاگ رہا تھا، جس کو خاتون آؤازیں دے کر بلاتی، حامد صاحب غیر ارادی طور پر خاتون کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، اچانک بچے کو دیکھ کر یاد آیا کہ بچے کی ویڈیوز اور تصاویر ”فیس بک“ پر دیکھی ہیں، فورا سیل فون نکال کر فیس بک لاگ ان کی تو سامنے ہی ”گل لالہ“ کا اسٹیٹس جگمگایا، ”شاپنگ ود کڈز ان سپر مارکیٹ“

Read more

جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ حقوق دانش

بچپن میں اکثر یہ جملہ لکھا ہوا نظر آتا تھا کہ "جملہ حقوق محفوظ ہیں" تو سوچ ابھرتی تھی کہ ایسا کیوں لکھا ہوتا ہے، اس جملے کے متعلق مکمل تفصیلات ایک دل چسپ واقعے کی بدولت علم میں آئیں۔ جب ہمارے بھائی کے دوست نے اپنی ٹریول کمپنی کا بہت دلچسپ نام اردو زبان…

Read more

شبن کی دلہن اور ڈیپ فریزر

شبن میاں اور ان کا خاندان شکر گڑھ میں رہتے تھے، شبن میاں کا قد چھوٹا رہ گیا تھا، اسکول کے ساتھی اور محلے کے لونڈے مذاق اڑاتے، لیکن شبن میاں نے کبھی برا نہ مانا، بہت ذہین، ہنس مکھ اور ملنسار تھے، خوشحال گھرانہ تھا، اچھا کھاتے پیتے تھے، کباب اور گولہ گنڈا کھانے کے بہت شوقین تھے، پڑھائی میں اچھے تھے، ممبئی چلے گئے، چارٹرڈ اکاونٹنٹ بن کر آئے، ان دنوں انڈیا میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ کی بہت مانگ تھی۔ حیدر آباد دکن میں بہت اچھی نوکری ملی۔

Read more

آئنہ نما: دھرتی سے جڑے افسانے

ظفر عمران کا افسانوی مجموعہ ’’آئنہ نما‘‘ موصول ہوا۔ سیل فون ایک طرف رکھا، اور مکمل پڑھ کر ہی سانس لی۔ کہانیاں کیا ہیں، ہمارے اردگرد بکھرے ہوئے کردار ہیں، جن کی معصوم خواہشات ہیں لیکن احساسات اور رویے پیچیدہ ہیں، جو عین انسانی نفسیات ہے۔ ظفر عمران جیسا ادیب ہی ان کو بیان کر سکتا ہے۔

Read more

اسلامی قلعے میں محفوظ عورتیں یا محصور عورتیں

سمیرا ایک بیس سالہ لڑکی ہے، ہمارے پڑوس میں گھریلو کام سر انجام دینے پچھلے پانچ سال سے روز آتی ہے اور ماہانہ تنخواہ پاتی ہے، کچھ عرصے سے میں بھی ہفتے میں ایک دن سمیرا کو کپڑے دھونے کے لئے بلاتی ہوں، اور اس کی اجرت سمیرا کو دیتی ہوں، باقی گھر کے کام خود ہی کرتی ہوں۔

سمیرا نے کچھ دنوں سے برقع پہننا شروع کر دیا ہے، وجہ پوچھی تو بتایا، کہ راستے میں آتے جاتے کسی نے نازیبا حرکات کیں اور آوازے کسے ہیں، پیچھا کیا ہے، پوچھا، کیا برقع پہننے سے یہ حرکات بند ہو جائیں گی؟
تو سمیرا نے کہا نہیں لیکن مجھے کوئی پہچانے گا نہیں۔ میری بد نامی تو نہیں ہو گی نا باجی۔

Read more

ایک سوپچیس روپے

خرم نے خوبصورت سے گھر کے دروازہ کے باہر نقشین ستون پر لگی اطلاعی گھنٹی بجائی، انٹر کام پر عورت نے پوچھا کہ کون ہے، خرم نے کہا اخبار کا بل دے دیجئے آنٹی، کتنا ہے عورت نے پوچھا، ایک سو پچیس روپے، اچھا کل آنا، آنٹی آج ہی دے دیجئے، لیکن عورت انٹر کام بند کرچکی تھی، خرم نے تازہ اخبار گھر کے ستون پر رکھا اور مایوسی سے مڑ کر بائیک پر بیٹھا اور دوسرے گھروں کی طرف چل پڑا، جہاں سے کم وبیش یہی جواب ملنے تھے، دو گھروں کے علاوہ کوئی بھی وقت پر بل نہیں دیتا تھا، سالوں سے یہی ہو رہا تھا، اتنے اچھے گھر بنائے ہوئے ہیں، شاندار گاڑیاں بھی ہیں، لیکن اخبار اور دیگر بل دیتے ہوئے لوگوں کی جان جاتی ہے، خرم کڑھتے ہوئے سوچ رہا تھا، خرم دور طالب علمی سے ہی گھروں میں اخبار دینے کا کام کرتا تھا،

Read more