شبن کی دلہن اور ڈیپ فریزر

شبن میاں اور ان کا خاندان شکر گڑھ میں رہتے تھے، شبن میاں کا قد چھوٹا رہ گیا تھا، اسکول کے ساتھی اور محلے کے لونڈے مذاق اڑاتے، لیکن شبن میاں نے کبھی برا نہ مانا، بہت ذہین، ہنس مکھ اور ملنسار تھے، خوشحال گھرانہ تھا، اچھا کھاتے پیتے تھے، کباب اور گولہ گنڈا کھانے کے بہت شوقین تھے، پڑھائی میں اچھے تھے، ممبئی چلے گئے، چارٹرڈ اکاونٹنٹ بن کر آئے، ان دنوں انڈیا میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ کی بہت مانگ تھی۔ حیدر آباد دکن میں بہت اچھی نوکری ملی۔

Read more

آئنہ نما: دھرتی سے جڑے افسانے

ظفر عمران کا افسانوی مجموعہ ’’آئنہ نما‘‘ موصول ہوا۔ سیل فون ایک طرف رکھا، اور مکمل پڑھ کر ہی سانس لی۔ کہانیاں کیا ہیں، ہمارے اردگرد بکھرے ہوئے کردار ہیں، جن کی معصوم خواہشات ہیں لیکن احساسات اور رویے پیچیدہ ہیں، جو عین انسانی نفسیات ہے۔ ظفر عمران جیسا ادیب ہی ان کو بیان کر سکتا ہے۔

Read more

اسلامی قلعے میں محفوظ عورتیں یا محصور عورتیں

سمیرا ایک بیس سالہ لڑکی ہے، ہمارے پڑوس میں گھریلو کام سر انجام دینے پچھلے پانچ سال سے روز آتی ہے اور ماہانہ تنخواہ پاتی ہے، کچھ عرصے سے میں بھی ہفتے میں ایک دن سمیرا کو کپڑے دھونے کے لئے بلاتی ہوں، اور اس کی اجرت سمیرا کو دیتی ہوں، باقی گھر کے کام خود ہی کرتی ہوں۔

سمیرا نے کچھ دنوں سے برقع پہننا شروع کر دیا ہے، وجہ پوچھی تو بتایا، کہ راستے میں آتے جاتے کسی نے نازیبا حرکات کیں اور آوازے کسے ہیں، پیچھا کیا ہے، پوچھا، کیا برقع پہننے سے یہ حرکات بند ہو جائیں گی؟
تو سمیرا نے کہا نہیں لیکن مجھے کوئی پہچانے گا نہیں۔ میری بد نامی تو نہیں ہو گی نا باجی۔

Read more

ایک سوپچیس روپے

خرم نے خوبصورت سے گھر کے دروازہ کے باہر نقشین ستون پر لگی اطلاعی گھنٹی بجائی، انٹر کام پر عورت نے پوچھا کہ کون ہے، خرم نے کہا اخبار کا بل دے دیجئے آنٹی، کتنا ہے عورت نے پوچھا، ایک سو پچیس روپے، اچھا کل آنا، آنٹی آج ہی دے دیجئے، لیکن عورت انٹر کام بند کرچکی تھی، خرم نے تازہ اخبار گھر کے ستون پر رکھا اور مایوسی سے مڑ کر بائیک پر بیٹھا اور دوسرے گھروں کی طرف چل پڑا، جہاں سے کم وبیش یہی جواب ملنے تھے، دو گھروں کے علاوہ کوئی بھی وقت پر بل نہیں دیتا تھا، سالوں سے یہی ہو رہا تھا، اتنے اچھے گھر بنائے ہوئے ہیں، شاندار گاڑیاں بھی ہیں، لیکن اخبار اور دیگر بل دیتے ہوئے لوگوں کی جان جاتی ہے، خرم کڑھتے ہوئے سوچ رہا تھا، خرم دور طالب علمی سے ہی گھروں میں اخبار دینے کا کام کرتا تھا،

Read more

تسطیر، سب نیلا ہے۔کتاب پر تبصره

سہ ماہی تسطیر کا شمارہ موصول ہوا۔ خوبصورت سرورق کی مصورہ عینہ عارف راجہ کا تعارف، حمدیہ و نعتیہ اشعار کے بعد ”سب نیلا ہے“ نصیر احمد ناصر کی ادارتی تحریر نے بچپن کی نیلی چڑیا۔ نیلی پری۔ نیلے بال پوائنٹ کی یاد دلا دی، ہم کزنز نے ایک ننھی سی بلیو برڈ پکڑی تھی،…

Read more

پاکستان کی قومی زبان اور علمی ادارے

بچپن سے پی ٹی وی پر دیکھتے آ رہے ہیں کہ کسی بھی قومی دن کے موقع پر قومی ٹی وی پر چاروں صوبوں کی ثقافت۔ زبان۔ لباس۔ خاص خاص رسوم و رواج اور روایتی پکوانوں کا تعارف و تذکرہ ہوتا اور یہ سب کچھ پاکستان کی قومی زبان اردو میں بہت ہی نفاست و…

Read more

عورت مارچ میں کون عورتیں تھیں؟

سائیں شاہ لطیف فرماتے ہیں ”عورت محبت ہے“۔ خسرو فرماتے ہیں۔ ”عورت عاشق ہے“ جب ہی ان کے کلام میں عشق کا اظہار عورت کی زبانی ہے۔لیکن بر صغیر کی عورت کا استحصال خسرو کا کلام جھوم جھوم کر پڑھنے والوں اور سننے والوں نے صدیوں مذہب کے نام پر کیا، مغرب میں بھی یہی رواج تھا لیکن طویل جد و جہد کے بعد کم از کم وہاں کے کچھ اچھے مہذب مردوں نے قوانین سخت بنا ڈالے اس طرح سماج سدھار لیا گیا۔جب کہ مشرق میں مرد ابھی تک کنفیوز ہے کہ کیا کرے۔ مرد عورت کی آزادی کے نام سے بدکتا ہے، نہ جانے عورت کی آزادی سے وہ کیا سمجھتا ہے۔ شاید یہ کہ عورت مرد کے ساتھ سونا چھوڑ دے گی یا ہر مرد کے ساتھ سونا شروع ہو جائے گی، پچھلے دو دن سے محدود سوچ اور اس کا اظہاریہ یہی ظاہر کررہا ہے کہ سماج کا مرد یہی سمجھتا ہے، جب کہ عورت صرف یہ چاہتی ہے کہ وہ گھر سے پڑھنے یا نوکری کرنے کے لئے نکلے تو راستے میں کوئی اسے چھونے کی کوشش نہ کرے، اس کے ساتھ بے ہودہ گوئی نہ کرے۔

Read more

حامد صاحب کی پرانی محبت

صبح صبح حامد صاحب کی آواز چڑیوں کی آپسی جنگ سے کھلی۔ نہ جانے یہ فتنیاں اتنا شور کیوں مچاتی ہیں۔ انہوں نے کڑھتے ہوئے سوچا بس آج ہی یہ درخت کٹوا دوں گا، نہ درخت ہو گا نہ ہی ان کے گھونسلے انہوں نے روز کی طرح سوچا اور وقت دیکھنے کے لئے پاس رکھا موبائل اٹھایا لیکن بجائے وقت دیکھنے کے انہوں نے واٹساپ پیغامات دیکھنے شروع کر دیے۔ ایک سو پچاس پیغام

Read more

سوشل میڈیا کے ٹھگ

پہلے زمانے میں ٹھگ ہوتے تھے۔ جو شہروں کے بازاروں اور راستوں میں جانے والے قافلوں کے افراد کا اسباب دھوکہ دہی سے لوٹ لیتے تھے۔ وہ بہت چرب زبان اور ہاتھ کی صفائی دکھانے کے ماہر ہوتے تھے اور عوام الناس کو بہ آسانی بے وقوف بنا کر اپنی راہ لیتے تھے۔

ٹھگ اب بھی موجود ہیں لیکن اب وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اس کی تازہ مثال سوشل میڈیا پر پچھلے پندرہ دن سے نظر آ رہی ہے۔

Read more

منٹو، فحش نگار اور چغد

منٹو فحش نگار ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں شاید ان کو معلوم نہیں ہے کہ عام آدمی اردو ادب میں پہلا نام ہی منٹو کا لیتا ہے۔

جو لوگ کتب بینی نہیں بھی کرتے وہ بھی منٹو اور عصمت چغتائی کا نام جانتے ہیں اور ان کی کتب ایسے گھروں میں دیکھی ہیں جہاں اور کوئی کتاب نہیں ہوتی لیکن منٹو اور عصمت چغتائی کی کتاب موجود ہوتی ہے اپنے ذاتی تلذذ کے لئے اور یہی وہ لوگ ہیں جو منٹو کے چند افسانے پڑھ کر منٹو کو فحش نگار قرار دیتے ہیں۔ منٹو ایک ادیب تھے جن کے قلم سے نکلے نشتر رہتی دنیا تک ایسے لوگوں کے دماغوں میں چبھتے رہیں گے جن کی سوچ جنس اور مذہب سے باہر نہیں نکلتی۔

Read more