رف رف رفتن

سچا تخلیق کار وہ ہوتا ہے جو تحسین و تعریف سے مبرا ہوتا ہے، جو اپنی تخلیق سے محبت کرتا ہے، اور فن پارے کی تخلیقی جہتوں و عصری تقاضوں کو مکمل کرتا ہے۔ چاہے وہ فن پارہ کسی بھی صورت میں ہو۔ افسانوی مجموعہ ”رف رف رفتن“ کا مطالعہ مکمل ہوا، جس کے مصنف ” راشد جاوید احمد“ ہیں راشد صاحب سنجیدہ نقاد اور تخلیق کار ہیں۔ ان معدودے چند افراد میں شامل ہیں جو علمی و ادبی سرگرمیوں میں

Read more

نانیوں دادیوں کے تیرہ بچے اور بڑے حکیم صاحب

سوشل میڈیا کے ذریعے مشوروں اور ٹوٹکوں کا بھی ایک بیش بہا دریا بہتا رہتا ہے۔ اور ہمارے یہاں چونکہ عوام الناس ڈاکٹرز کے پاس جانے میں کافی مشکل محسوس کرتے ہیں یا شاید ڈرتے ہیں کہ کہ ڈاکٹر سوئی نہ لگا دے۔ اس لیے کوئی بیمار فرد خود سے بھی ڈاکٹر کے پاس جانا چاہے تو اس کو اپنے مشوروں سے ضرور نوازتے ہیں سو فیصد کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو ڈاکٹر سے بہت دور رکھا جائے۔ حتیٰ

Read more

امرتا پریتم کی دھنو اور ریپ

امرتا کی کردار دھنو ایک متمول گھرانے کی لڑکی، جو ایک لڑکے کی محبت میں گھر سے چلی آئی، لیکن لڑکے نے اسے دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا چاہا تو اس نے عقل مندی سے اس سے خلاصی حاصل کر لی اور بہادرانہ انداز میں اکیلے زندگی گزارنے لگی۔ جس گاؤں میں دھنو نے زندگی گزاری، مرتے وقت اپنا مکان اور تھوڑی سی زمین گاؤں میں موجود لڑکیوں کے اسکول کے نام کر دی، دھنو کے آخری الفاظ تھے ”لڑکیاں

Read more

تعویذ سے انکار کرنے والی کہانی

کہانی کی درد ناک چیخوں سے اس کی نیند ٹوٹ گئی، وہ سونا چاہتی تھی لیکن کہانیاں اسے سونے نہیں دیتی تھیں۔ کبھی کہانیوں کے قہقہے اسے جگاتے تھے کبھی چیخیں۔ کبھی آہ و بکا اور کبھی ان کی لایعنی باتیں۔ اور وہ جاگتی رہتی۔ نہ جانے کب سے وہ پوری نیند نہ سو سکی تھی۔ اس وقت بھی کہانی کی دردناک چیخیں پرسکون فضا میں بلند تر ہوتی جا رہی تھیں، اس نے خوابگاہ کا دروازہ کھولا اور چیخوں

Read more

” فیضی“ (افسانہ)

سات سالہ فیضی نے ندیدوں کی طرح دودھ سے لبالب بھرے برتن کی طرف دیکھا، جو ابھی اس کا باپ کمرے میں رکھ کر گیا تھا، فیضی نے کنکھیوں سے ماں کی طرف دیکھا جو باپ کے لئے روٹی پکا رہی تھی۔ فیضی کے دیکھتے ہی ماں کو محسوس ہو گیا، وہ فوراً بولی وے فیضی خبردار دودھ کی طرف دیکھا بھی، منشی تیرے باپ کو مارے گا، فیضی ڈھیلا سا ہو کر بیٹھ گیا، اور سوچنے لگا، صبح سویرے

Read more

ایک بری ماں کی کتھا

ماما آپ بابا سے بات کر لیں۔ میں نے بات کر لی ہے، آپ فون بند کرو اور آ جاؤ میرے پاس، سونا نہیں ہے آپ نے۔ اس نے گڈ نائٹ کہہ کر فون بند کر دیا، اور ہمیشہ کی طرح قریب آ کر ماں کے رخساروں پر پے در پے بوسے دیے اور لپٹ گیا۔ اس نے آہستگی سے اسے خود سے دور کیا، اور تکیے پر اس کا سر رکھ کر اس کے گھنے سیاہ ریشمی بالوں والا

Read more

محبت کا جذبہ اور مرضی

گزشتہ دنوں میں کچھ ایسے واقعات و خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ حیرانی، پریشانی اور بیک وقت خوشی کے بھی جذبات تھے۔ وائس آف امریکہ کی خبر کے مطابق شہر حیدرآباد سے ایک ٹین ایج بچی کراچی آئی، پھر دبئی پہنچی اور وہاں سے نیپال، جہاں وہ انٹرنیٹ گیم لڈو پر ملنے والے اپنے دوست سے ملی اور پھر وہ دونوں پڑوسی ملک انڈیا کے ایک شہر پہنچے اور شادی کر کے رہنے لگے۔ لڑکے کے والدین کو شاید

Read more

نکاح، ہیٹر اور گیزر

نکاح ایک معاہدہ ہے، ہمارے سماج میں نکاح کو مقدس بھی مانا جاتا ہے اور دینی فریضہ بھی۔ النکاح من السنتی۔ نکاح سنت ہے۔ یعنی فرض نہیں ہے لیکن بہر حال انسان کی فطری خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مہذب طور و سماجی ذمہ داری ہے جو دو انسان مکمل رضامندی کے ساتھ سب کے سامنے یا چند قریبی رشتے دار و دوستوں کے سامنے قبول کرتے ہیں۔ مشہور شخصیات کے نکاح و شادی کی خبریں ذرائع ابلاغ کے

Read more

آستین (افسانچہ)۔

حکیموں نامی شخص کے گاؤں میں خشک سالی کے باعث قحط پڑ گیا۔ حکومتی و فلاحی تنظیموں کی امداد آتی رہتی لیکن پوری نہ پڑتی۔ حکیموں کے باپ نے کہا، شہر جا کر کوئی نوکری کر لے، یہاں تو اب یہی حالات رہیں گے، جب تک بارش نہ ہو، آخر گاؤں کے دوسرے لڑکے بھی تو شہر جا کر نوکریاں کرتے ہیں۔ حکیموں شہر نہیں جانا چاہتا تھا، گاؤں میں اس کی عم زاد اور منگیتر سموں تھی، اس کی

Read more

کنکھجورے والی دلہن اور امیر جان

نیر مسعود نے اپنے افسانے ”بائی کے ماتم دار“ میں ایک دلہن کا قصہ لکھا ہے جو رخصت ہو کر ڈولی میں سوار ہو گئی، لیکن جب بارات مع ڈولی سسرال پہنچی تو دلہن مر چکی تھی، آہ و بکا کے درمیان دیکھا گیا، کہ دلہن کی پنڈلی پر ایک عدد پرانا کنکھجورا چمٹا ہوا ہے، پرانا کنکھجورے نے اپنے آنکڑے نما زہریلے پنجے دلہن کی پنڈلی میں گاڑ دیے تھے مظلوم دلہن بار حیا سے چیخ تو دور کی

Read more

آزادی کے بطن سے جنم لینے والے المیے اور ہم گناہ گار

رواں برس وطن عزیز پچھتر برس کا سفید بالوں والا بزرگ بن گیا ہے، جیسے جیسے وطن عزیز کی عمر بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے وہ کمزور تر اور ضعیفی کی لاعلاج بیماریوں میں بھی مبتلا ہو گیا ہے۔ سب سے جان لیوا مرض دوسرے انسانوں کو گناہ گار ثابت کرنا ہے، قدرتی آفات کو انسانوں کے گناہوں کی سزا قرار دینا طاقتور طبقے کی طرف داری کی ایک مثال ہے، کیا معصوم بے زبان جانور بھی خدا نہ خواستہ

Read more

اندھیر – سچی کہانی پر مبنی افسانہ

چائے لے آؤ بھئی، شام ختم ہو رہی ہے، ثاقب کی آواز آئی، زور سے بولنے کے نتیجے میں کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ میں نے گلاس میں پانی بھرا اور کچن سے نکل کر لاؤنج میں پہنچ گئی، اور ناراضی سے کہا، کیا ضرورت تھی زور سے آواز دینے کی، میں گھر کے کچن میں ہی تھی، باہر تو نہ تھی۔ ثاقب پانی پی کر کچھ دیر ہانپتے رہے، سانس بحال کرنے کے بعد گویا ہوئے۔ ایسے ہی تم

Read more

مختصر افسانہ: کھوج

ہوٹل کا شاندار بال روم ہلکے رنگ کی روشنی سے جھلملا رہا تھا، دھیمے سروں میں گونجتی موسیقی کی مدھر جھنکار پر بال روم میں موجود جوڑے محو رقص تھے، حقیقت یہ تھی کہ گلوکار کی بھاری و خوابیدہ آواز رقصاں جوڑوں کے جذبات جگا رہی تھی۔ ” آئی ایم یور مین“ گلوکار کی آواز گونجی تو نادر نے گنگناتے ہوئے آرزو کی آنکھوں میں جھانکا، وہ کھل کر ہنسی، اور دھیرے سے اس کے گلے لگ گئی۔ کیا میں

Read more

مٹھی بھر کہانیاں از جاوید صدیقی

آج کل کے بچے ناس پیٹے تو جانتے ہی نہیں کہ زندگی کا سکھ جہاں ڈھونڈ رہے ہیں وہاں نہیں ملتا، وہ تو دلوں میں ملتا ہے۔ سوال یہ تھا کہ کون سی دیوار توڑوں، دھرم کی، مریادا کی، اپنے اندر چلتے یدھ کی، یا اس آشا کی دیوار جس کے پار ایک نئی دنیا ہے۔ میں نے اپنا ٹرانسفر یہاں سے بہت دور ایک ایسے گاؤں کے اسکول میں کرایا ہے جہاں ایک بھی آدمی پڑھا لکھا نہیں ہے،

Read more

تیسری خواتین کانفرنس۔ احوال

ہر برس ماہ مارچ کی ابتدا ہوتے ہی ” عالمی یوم خواتین“ کی صدا سنائی دیتی ہے۔ عالمی یوم خواتین کی ایک پوری تاریخ ہے جس پر فدویہ سمیت دوسری بہت سی خواتین لکھ چکی ہیں۔ پاکستان میں پچھلے پانچ برس سے یہ صدا ایک گونج کی صورت نمایاں ہوئی ہے۔ ماہ مارچ ”عورت مارچ“ کے حوالے سے مقبول ہو گیا ہے۔ آرٹس کونسل کراچی میں یوم خواتین کے حوالے سے رواں برس بھی تیسری وومن کانفرنس کا انعقاد کیا

Read more

حامد صاحب کی پرانی محبت

صبح صبح حامد صاحب کی آواز چڑیوں کی آپسی جنگ سے کھلی۔ نہ جانے یہ فتنیاں اتنا شور کیوں مچاتی ہیں۔ انہوں نے کڑھتے ہوئے سوچا بس آج ہی یہ درخت کٹوا دوں گا، نہ درخت ہو گا نہ ہی ان کے گھونسلے انہوں نے روز کی طرح سوچا اور وقت دیکھنے کے لئے پاس رکھا موبائل اٹھایا لیکن بجائے وقت دیکھنے کے انہوں نے واٹساپ پیغامات دیکھنے شروع کر دیے۔ ایک سو پچاس پیغام

Read more

عورتوں کو دو منٹ میں مار پیٹ کر یا سیکس کر کے ٹھیک کرنے کے دعویدار

گزشتہ دنوں بی بی سی اردو اور ڈوئچے ویلے اردو پر کچھ ایسی ویڈیوز اور رپورٹس شیئر کی گئیں جن میں خواتین کے حوالے سے خانگی، نفسیاتی و ازدواجی مسائل پر گفتگو تھی۔ خبر رساں اداروں کا کام ہے خبر دینا اور اس امر کو مزید وسیع کیا جائے، تو تعلیمی، سائنسی، سماجی، سیاسی و اقتصادی سب ہی سلسلے اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ تین چار رپورٹس ایسی تھیں جن میں خواتین کے نفسیاتی مسائل پر بات کی گئی

Read more

عورت کا پردہ بکارت اور مرد کی بے ضمیری

مملکت خدادا میں چار دہائیوں سے زائد عرصے سے خواتین کے کئی ماہنامے و رسائل شائع ہوتے آ رہے ہیں۔ میٹرک کرتے ہی یہ رسائل پڑھنا شروع کر دیے تھے اور آج تک پڑھ رہی ہوں۔ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ایک ماہنامے میں ”نفسیاتی ازدواجی الجھنیں“ نامی ایک سلسلہ شائع ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر سے خواتین اپنے گھریلو مسائل خط لکھ کر بتاتی ہیں اور ان مسائل کا حل چاہتی ہیں۔ ہر دو تین ماہ کے بعد ان

Read more

عورتیں بلیک میل کیوں کرتی ہیں

اسی پروفیشنل ویب سائٹ پر چند ماہ پہلے ملک کے ایک چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والے پینسٹھ سالہ بزرگ نے اپنے ہی شہر کی ایک بائیس برس کی لڑکی کو انباکس میسجز بھیجنے شروع کیے ، شروع میں لڑکی نے نظر انداز کیا، لیکن جب لڑکی ملازمت کی تلاش میں ناکام ہو گئی، تو اس نے وقت گزاری کے لئے بزرگوار سے باتیں کرنا شروع کر دیں، بزرگوار چونکہ ایک سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ تھے، ان کے پاس باتیں بنانے کے لئے بہت وقت تھا، سو خوشی خوشی فون پر بھی باتیں بنائی گئیں، بزرگوار نے ایزی لوڈ بھی خوب کروایا، اور ساتھ ہی ساتھ مخصوص شواہد پن بھی جاری رکھا،

Read more

شمع، عروسہ ،نہالہ، چشمہ اور نیک پروین

آٹھویں جماعت میں اے آر خاتون یعنی امت الرحمن خاتون، اور رضیہ خاتون کے تخلیق کردہ ان موٹے موٹے ناولز کو پڑھ ڈالا تھا، ان ناولز کے منفرد عنوان ناولز کی ہیروئینز پر رکھے گئے تھے، اس دور میں یہ رواج تھا، اور خاندان کے نئے پیدا ہونے والے بچوں کے نام ان ناولز کے ہیرو اور ہیروئنز پر رکھے جاتے تھے، منصور، فرخ، عروسہ، نہالہ نام اسی دور کی یادگاریں ہیں، زبیدہ خاتون اور اے آر خاتون کے یہ

Read more

اب آپ برا کیوں مان رہے ہیں

باجی! آپ صرف عورتوں کے لئے لکھتی ہیں، مردوں کے لئے بھی لکھیے، مرد پر بھی ظلم ہوتے ہیں، ایک مظلوم بھائی کی درخواست۔ جی بالکل ہوتے ہیں لیکن مرد پر ظلم کرنے والے مرد ہی ہیں۔ لیکن عورتوں کا المیہ یہ ہے کہ موقع پاتے ہی عورتیں بھی عورتوں پر ظلم کرتی ہیں اور مرد جو مختلف رشتوں میں عورت کے قریب ہوتے ہیں، وہ کبھی پیار بھری دھونس اور کبھی جبر سے اپنی بات منواتے ہیں۔ ایک عمر

Read more

ہم کس کو خط لکھیں؟

خطے کی تاریخ میں ایک خط کے بہت چرچے ہیں سنا اور پڑھا ہے کہ ہمارے خطے میں ایک ظالم و جابر بادشاہ ہوتا تھا، اس کے سپاہیوں نے سمندری بندرگاہ پر بطور تجارت آنے والے ایک پانی کے جہاز پر قبضہ کر لیا، جہاز پر خواتین بھی تھیں، ایک خاتون نے دور دراز کے ایک نیک اور رحم دل بادشاہ کو خط لکھا کہ ہم کو ظالموں نے قید کر لیا ہے، دہائی ہے کہ ہم کو اس اندھیرے

Read more

خراب خیال آپ کا اور قصور ہمارا

رمضان المبارک سے چار دن قبل ایک خاتون کا انباکس میسج آیا، لگا تار میسجز کے بعد میں نے میسج دیکھے تو خاتون بہت خلوص سے اپنی صاحبزادی کی شادی میں شرکت کی دعوت دے رہی تھیں، تعلق اسلام آباد کے قریب کسی نواحی علاقے سے تھا، تھوڑی سی دیر بات کر کے مجھے یاد آ گیا کہ ہم پہلے بات کر چکے ہیں، تھوڑا اسکرول کیا اور کنورسیشن دیکھا، تو سب کچھ یاد آ گیا، تقریباً ڈیڑھ سال پہلے

Read more

زہرا تنویر کا افسانوی مجموعہ: من کی آواز

زہرا تنویر سوشل میڈیا کی پہلی لڑکی ہے جس کو سیل فون کا نمبر دیا تھا، لیکن ہم دونوں نے کبھی پہروں گفتگو نہ کی، نہ ہی کبھی چغلیاں یا غیبت کی، ہم من کی کہانیاں کہتے رہے، رشید جہاں، عصمت چغتائی، خالدہ حسین، رخسانہ احمد۔ خدیجہ مستور، کیتھرین مینسفیلڈ، جین آسٹن کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے، سلویا اور فہمیدہ کی جرأت مندانہ اظہاریے پر مبنی نظموں، اور پروین شاکر کی نرم مزاجی کو موضوع بناتے ہوئے ہم حالیہ دور کی نرم مزاج اور تند مزاج ادیباؤں اور شاعرات کو پڑھتے رہے، میرا مزاج کبھی یکساں نہیں رہتا، لیکن پھر بھی زہرا میرے من کی آواز سن لیتی ہے، اور اس پر دلچسپ تبصرہ بھی کر دیتی ہے، اور میں اس کی مختصر گفتگو اور کہانی کے ذریعے اس کے من میں الجھتی، سلجھتی، روپہلی، نمکین و رنگین آواز سن لیتی ہوں۔

Read more

شاہ سالار کا فہم فحاشی اور جہادی ٹک ٹاک

شاہ سالار نے فرمایا ہے فحاشی بہت بڑھ گئی ہے اس کو روکنا ہو گا۔ ہمارے ملک کا معاملہ ہے واقعی اس بڑھتی ہوئی فحاشی کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے ، جیسے کہ شاہ سالار کہتے ہیں کہ وہ روزانہ جہاد پر جاتے ہیں، تو ہم عامیوں کو بھی چاہیے کہ ہم سب بھی فحاشی روکنے کے جہاد پر نکلا کریں۔ اس کے لئے سب سے پہلے اپنے اپنے سیل فون سے ٹک ٹاک ایپ اور

Read more

بیٹیاں ہیں یا وٹے

گھر میں صفائی کے لئے ایک لڑکی آئی ہے۔ قد لمبا اور ہاتھ پاؤں مضبوط ہیں لیکن منہ میں چیونگم اور چہرے کے لاابالی پن سے چھلکتا ہے کہ کم عمر ہے اور بات چیت کرنے سے پتہ چل گیا کہ صرف چودہ سال کی ہے اور ایک مہینہ پہلے شادی ہو چکی ہے۔ جبکہ چند دن پہلے ماں ایک اور بچی کو دنیا میں لا چکی ہے۔ اب وہ چار بہنیں ہیں اور بھائی صرف ایک ہے۔ نو دس سال کا۔

کیا کام کرتا ہے تمہارا میاں؟
دیہاڑی کرتا ہے جو کبھی ملتی ہے کبھی نہیں ملتی۔
پھر شادی کی جلدی کیا تھی تمہارے ماں باپ کو؟
وہ جی میں وٹے میں گئی ہوں۔ اس کی بہن کی شادی میرے ماموں سے ہوئی ہے۔

Read more

کیا آپ بھیڑیے سے ملنے کی آزادی چاہتی ہیں؟

کیا آپ بھیڑیے سے ملنے کی آزادی چاہتی ہیں؟
ماہ مارچ کا آغاز ہوتے ہی یہ سطر مختلف پیرائے میں لکھی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کچھ اپنے تئیں ذہین و فطین لوگ اس کو لطیفے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

” بھیڑ نے آزادی مانگی۔ بھیڑیے سب سے زیادہ خوش ہوئے“

Read more

میں پیاری بھی تو نہیں ہوں ناں

سکھر میں کوئنز روڈ پر واقع ہمارے صاف ستھرے چھوٹے سے گھر سے نکل کر گاڑی بہت سارا فاصلہ طے کر کے ایک ایسے گھر کے سامنے رک گئی، جس کا دروازہ گہرے نارنجی رنگ میں تازہ رنگا گیا تھا، اور سفید اکڑے ہوئے کپڑے پہنے ایک آدمی دروازے سے باہر کھڑا ہمارا منتظر تھا، ابو گاڑی روک کر اترے اور اس آدمی سے بغل گیر ہو گئے، میں اور میرا بھائی بھی ابو کے ساتھ اتر کر کھڑے ہو گئے، اور ادھر ادھر کا جائزہ لینے لگے، فضاء میں روغن، مٹی اور گوبر کی بو تھی، آدمی نے امی کو اردو میں مخاطب کیا، بھابھی آئیے تشریف لائیے، ہم سب نارنجی دروازہ پار کر کے ٹھنڈی اور نیم تاریک اوطاق میں داخل ہو گئے، اوطاق کا ایک دروازہ گھر کے اندرونی حصے میں کھلتا تھا، امی نے وہ دروازہ پار کیا اور زور سے آواز دی، جنت۔

Read more

لوم ( Loom)

میں فیکٹری کے گودام سے عجلت میں باہر آیا اور تیز قدموں سے پارکنگ ایریا میں پہنچ گیا، جہاں صرف ایک میری کار ہی پارک تھی، کیونکہ میں فیکٹری سے نکلنے والے آخری چند افراد میں سے تھا۔ رات کا ایک بج چکا تھا اور مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی، سو گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے تیزی سے سڑک پر لے آیا، موڑ مڑتے ہی مجھے فیکٹری کا ورکر راشد نظر آیا، وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا جا رہا

Read more

جرات اظہار (افسانہ)

رمیز اور اس کے دادا معمول کے مطابق صبح کی ورزش کے لئے گھر سے نکلے، نزدیکی باغ میں تھوڑی دیر دوڑنے کے بعد دادا نے پارک کی ایک بینچ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ میں تھک گیا ہوں۔ رمیز نے ہوں کہا اور دوڑتا رہا، چند چکر لگانے کے بعد وہ دادا کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اور پوچھا دادا آپ ٹھیک تو ہیں۔ دادا نے مسکراتے ہوئے کہا، میں بالکل ٹھیک ہوں برخودار، بس تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے

Read more

مذہب، سیکس اور عورت

سیکس ایجوکیشن میں سب سے بنیادی بات ہی جنسی جرائم سے بچاؤ ہوتی ہے۔ اس لیے گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ سکھانے کے ساتھ ساتھ اگلے مرحلے میں شادی یا دوستی کی صورت میں بھی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنی جنسی و تولیدی صحت کا خیال کیسے رکھنا ہے۔ یہ معلومات کم از کم جان کو خطرے میں ڈالنے سے بہتر ہے۔

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی کتاب: کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

ڈاکٹر طاہرہ منفرد انداز بیاں کی مالکہ ہیں، وہ دور رس نگاہ رکھتی ہیں اور ذہانت کے ساتھ خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر بات کرتی ہیں اور یہی ان کی خوبی ہے جو مجھے متاثر کرتی ہے۔ بلوغت کے مسائل ہوں یا زچگی کی پیچیدگیاں، یا فرسودہ نظریات و رسوم رواج کی بھول بھلیاں، ڈاکٹر طاہرہ ہر موضوع پر بے خوفی اور جرأت سے قلم اٹھاتی ہیں۔

Read more

سیمیں درانی کا افسانوی مجموعہ: آنول نال

سیمیں کے ہاں موضوعات کا تنوع نظر آتا ہے۔ انہوں نے سائنس فکشن پر بھی قلم اٹھایا ہے۔ ان کے افسانے ”پیمپر“ اور ”یو مے کس دا برائیڈ“ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ایک ذہین ادیبہ مستقبل میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، آنے والے دور میں سائنسی ترقی کس طرح انسان کی فطرت اور اس کی ذہنی، جسمانی و جنسی صلاحیت کو کس حد تک متاثر کرے گی اور انسانی شعور کی سطح اور خالص انسانی اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے قابل ہو سکے گی یا نہیں۔

Read more

وبا کے دنوں میں کو بہ کو پھیلتی اردو کی خوشبو

دنیا بھر میں پھیلا بے دید و بے برگ وبائی جرثومہ کثیر الخلیاتی مخلوق انسان کو بے بس کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، شناخت کے نشے میں چور انسان بذریعہ ماسک صورت پوشیدہ کیے پھرتا ہے، اپنے پیاروں سے مصافحے اور معانقے سے محروم ہو چکا ہے۔ وبا نے دنیا کے بہت سے جگمگاتے ستارے چھین لئے، سال بھر ملک بھر سے نمایاں افراد کی اموات کی اطلاعات نے دل و ذہن بوجھل کیے رکھے، کراچی کی ہر دلعزیز شخصیات

Read more

صغری اور آرزو کو کس نے ورغلایا۔

صغری ہمارے سلمنگ سینٹر و سیلون کی ورکر ہے۔ وہ صبح سب سے پہلے آتی ہے، پورے سینٹر کی صفائی کرتی ہے۔ سارا دن ہم ورکرز اور کسٹمر خواتین اسے پانی پلانے اور سیلون سے منسلک چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے کہتے رہتے ہیں اور بائیس سالہ سانولی دبلی پتلی صغری بہت ذمہ داری کے ساتھ ہمارے کام کرتی رہتی ہے۔

Read more

ماموں کی قومی خدمات

تئیس مارچ انیس سو چالیس کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی پچیس اپریل کو غیر منقسم خطے کے بلند شہر میں ہمارے ماموں کی پیدائش ہوئی۔ خطے کے ہر بچے کے طرح ماموں کلمہ اور اشلوک ساتھ پڑھتے ہوئے پیدا ہوئے، دائی نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک مسلمان گھرانے میں قدم رنجہ فرمایا ہے تو ماموں نے کلمہ پڑھتے ہوئے سجدہ شکر ادا کیا اور اپنی والدہ کی خدمت میں سلام پیش کیا۔

نانی اتنا سعادت مند بیٹا پا کر خوشی سے نہال ہو گئیں اور دائی کو سونے کی آدھا درجن چوڑیاں عطا کیں، نانا گورے کی فوج میں ملازم تھے، انہوں نے خوشی میں انگریزی بندوق سے گولیاں داغیں، جن کی آواز سے بلند شہر گونج اٹھا۔ نانا نے ماموں کو بلند بخت کا اسم گرامی عطا کیا جو ماموں نے کورنش بجا کر قبول کیا۔

Read more

مقدس بیوہ

شدید گرمی اور حبس بھرے دن کی سہ پہر اچانک تیز ہوا چلنی شروع ہو گئی اور بادل چھا گئے۔

ہوا کے پہلے جھکڑ کے ساتھ ہی بجلی بند ہو گئی، میرے چھوٹے سے آفس کے کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا اور کمپیوٹر آف ہو گئے، میں نے سلائیڈ ہٹا کر باہر جھانکا اور صورتحال کا اندازہ کرتے ہی اپنے ماتحتوں کو کہا، چلو بھئی بند کرو سب کچھ، اگر بارش ہو گئی تو ہم یہیں پھنس جائیں، جی سر بس نکلتے ہیں۔ ایک بولا، وہ تینوں باری باری چلے گئے، میرا اپنا، ایک ذاتی سافٹ وئیر ہاؤس ہے، تین افراد میرے ماتحت ہیں، بلکہ ماتحت نہیں میری دوست اور کولیگز ہیں، میں ایک کم گو فطرت کا حامل فرد ہوں، مجھے زیادہ شور شرابا اور بکھیڑے پسند نہیں ہیں، نہ ہی زیادہ دولت کمانے کا شوق ہے، میرے خیال میں زندگی لطف اٹھانے کے لئے ہے، اس لیے نہیں کہ اس کو زیادہ دولت کمانے کے جنون میں، کسی عہدے کے حصول کے لئے یا انسانوں کے لئے برباد کیا جائے، سو میں اپنی محدود زندگی میں خوش و مطمئن ہوں۔

Read more

کیا ہماری عقل زیر حراست ہے

سوشل میڈیا بہت متنوع واسطہ ہے، عوامی پلیٹ فارم ہونے کے باعث روزانہ ہی عوام کا ایک نیا نقطہ نظر سامنے آتا ہے، جو کبھی دلچسپ ہوتا ہے کبھی حیران کن، کبھی احمقانہ اور کبھی کبھی غضب ناک بھی۔

کسی خاص سماجی و سیاسی واقعے پر پاکستان میں مقیم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا رد عمل مختلف ہوتا ہے، کبھی کبھی یہ ردعمل تصادم کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے اور کبھی فکاہیہ۔

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک مقیم ہے، خدا نخواستہ نہ ہی میں بیرون ملک پاکستانیوں کی حب الوطنی پر کوئی شک رکھتی ہوں نہ ہی جذبہ ایمانی کے متعلق کوئی شبہ ہے، میرے خاندان کے بزرگوں کو دوسرے ملک کی شہریت ان کی قابلیت کی بدولت ملی ہوئی ہے، بزرگوں کے طفیل ہم کو بھی یہ سہولت نصیب ہے۔ لیکن میں چند دن گزار کر واپس اپنے دیس آجاتی ہوں، کیونکہ مجھے اپنے ملک میں رہنا پسند ہے، مجھے شناخت کا نشہ ہے اور ہماری شناخت ہمارا وطن ہے۔

Read more

گواہ

عکاشہ آفس میں مصروف تھی، سیل فون کی مسلسل بجنے والی مدھر دھن پر اس نے چونک کر سیل فون اٹھا یا، جگمگاتے نمبر پر نگاہ پڑتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ کی روشنی پھیل گئی۔ ادائے دلربائی سے اس نے ہیلو کہا، اور چند لمحے گفتگو کے بعد فون بند کر کے دوبارہ سے کام میں مصروف ہو گئی۔ آفس ٹائم ختم ہوتے ہی اس نے اپنی میز کی درازوں کو قفل لگایا اور اپنے کیبن کو بھی

Read more

کتے والا بشر

گھنے درختوں اور پھولوں سے بھرے پارک میں معمول کی دوڑ لگاتے ہوئے بشر کی نگاہ ایک چھوٹے سے کتے پر پڑی جو زخمی حالت میں تھا۔ گرین ووڈز نامی اس پارک میں بشر کو اکثر زخمی پرندے یا کتے بلیاں نظر آ جاتے تھے، جن کو کبھی پارک میں موجود بچے یا نو عمر لڑکے لڑکیاں اٹھا کر لے جاتے تھے۔ کچھ پالتو بن جاتے تھے، اور کچھ کو واپس چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ابھی تک کتے کو اٹھایا نہیں گیا تھا، یقیناً یہ ذمہ داری میری ہے، بشر نے سوچا اور احتیاط سے کتے کو اٹھایا، قریبی کلینک سے اس کی مرہم پٹی کروائی اور اس کو اپنے اپارٹمنٹ میں لے آیا۔ واشنگٹن کے مضافات میں واقع چھوٹے سے قصبے میں گزشتہ پانچ سال سے بشر کی رہائش تھی۔

گرین ٹاؤن نامی قصبے میں ہر نمایاں مقام کا نام گرین سے شروع ہوتا تھا۔ ٹاؤن کا سب سے بڑا پارک بلکہ جنگل بھی گرین ووڈز کہلاتا تھا، جہاں جنگلی جانور بھی تھے، لیکن قصبے کے لوگوں کو قطعاً پرواہ نہ تھی، وہ بندوقیں لے کر جنگل میں آزادانہ گھومتے۔ سرکاری طور پر ممنوع ہونے کے باوجود چوری چھپے شکار بھی کر لیتے اور اسلحہ بھی استعمال کرتے لیکن کم ہی افراد ایسا کرتے، زیادہ تر شہری امن پسند تھے۔ بشر ایشیائی ملک کا باشندہ تھا، اس کے ملک میں عقیدے کی بنیاد پر آئے روز فسادات ہوتے، کبھی گائے کے گوشت کھانے کے شک کی بنیاد پر۔ کبھی اونچی ذات ہونے کے زعم میں نچلی ذات کو لوگوں کو اذیت دی جاتی، عقیدے کو زندہ رکھنے کے لئے انسانوں کو ڈنڈوں، لاٹھیوں اور گولیوں سے مار دیا جاتا، عورتوں کو اٹھا لیا جاتا۔ بچے جنگلوں میں بھاگ جاتے یا حملہ آور ان کو اپنا غلام بنا لیتے یا پھر ریل گاڑی میں بٹھا کر ملک کے بڑے شہر میں فروخت کر آتے۔

Read more

ت سے ترکی۔ ش سے شیم لیس

شیم لیس ایک امریکن ٹی وی کامیڈی ڈرامہ ہے جس میں ایک چھ بچوں کے باپ کو شرابی اور خاندانی زندگی سے لاپروا فرد دکھایا گیا ہے، بچوں کی ماں بھی ایک ایسی عورت ہے جو گھریلو زندگی اور اپنے بچوں کی ذمہ داری کے بجائے اپنی دنیا میں مگن رہتی ہے، اکثر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

ڈرامہ سن دو ہزار گیارہ سے آن اسکرین ہے، آخری سیزن بوجوہ وبائی صورتحال شوٹ نہیں ہو سکا ہے، ڈرامے کے تین سیزن دیکھے ہوئے ہیں مزید بھی دیکھوں گی، ڈرامے میں شرابی باپ اور بے پرواہ ماں کی ذمہ داریاں ان کی نوجوان بیٹی اٹھا رہی ہے اپنے پانچ بہن بھائیوں کو مشکلات کے ساتھ پال رہی ہے، امریکن فیملی ڈراموں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بڑی خوبی کے ساتھ انسانی نفسیاتی و خانگی برتاؤ دکھاتے ہیں جب ان کے معاشرے میں فیملی نظام ٹوٹنے لگتا ہے تو ستر کی دہائی میں وہ بولڈ اینڈ بیوٹی فل جیسا ڈرامہ بنا کر خاندان کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔

Read more

کوٹ مراد کا جناور اور پنڈی کے توتے

شعور کے ننھے منے بیج کو علم کے سمندر سے پانی میسر رہے تو بیج نمو پا کر درخت بن جاتا ہے اور شعور کی منازل طے کرتے ذہن میں سوالات و فکر کا ایسا شور بپا ہوتا ہے کہ انسان پہچان نہیں پاتا کہ کون سی آواز کس کی ہے لیکن علم کی آبیاری ہو تو انسان سب سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے۔ بقول ہمارے ایک عم زاد کے ضمیر وہ درندہ ہے جو سب سے پہلے صاحب ضمیر کو نوچتا کھسوٹتا ہے پھر دوسروں کو اپنے سوالات اور فکر سے جھنجھوڑتا ہے۔

Read more

لڑکی آؤ میری سگی دوست بن جاؤ

سوشل میڈیا ایک ایسے سماجی آئینے کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے معاشرے کے سارے اچھے برے مثبت، منفی پہلوؤں کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔ سماج میں قانون دولت مند کے گھر کا باوردی ملازم ہے، انصاف چوکیدار ہے، روایات کی ٹھیکے دار وہ اشرافیہ ہے جو عوام کو خوب بے وقوف بناتی ہے۔

سماجی ادارہ شادی، جس کے بارے ہماری خوش فہمی یہ ہے کہ یہ بہت مضبوط ادارہ ہے اور دشمن ہمارے اسی ادارے کو توڑنے کے درپے ہے، کیا واقعی ایسا ہے؟ پچھلے ساڑھے تین سال سے سوشل میڈیا اور فیس بک کے مختلف گروپس کی چوپال میں بیٹھے مرد و زن سے بات چیت کے دوران جو پڑھا، سمجھا دیکھا اور سیکھا وہ یہ ہے کہ اکثریت سیکنڈ آپشن کی تلاش میں سرگرداں ہے، کوئی مل جائے جس سے وہ دل کی بات کہہ سکے، لائف پارٹنر کی موجودگی میں افئیرز رکھنے کی خواہش، آخر کیوں؟ گویا ہمارے یہاں شادی کی کمٹمنٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

Read more

گمشدہ مامتا

محسوس ہوتا تھا کہ خوش گمانی کے پرندے میرے اردگرد پرواز کرتے ہیں کہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وطن سے شدت پسندی، لاقانونیت کا خاتمہ قریب ہے، دیس کی مقید حدود میں علم کے تارے جگمگ نظر آتے، جب بھی کسی کالج یا یونیورسٹی کے سامنے سے گزرتی ہوں یا سوشل میڈیا پر عقل مند اور قابل نوجوانوں کا بہت اچھے انداز سے لکھا گیا کوئی مضمون پڑھتی ہوں، خوشی محسوس کرتی ہوں۔ لڑکیاں بھی سوچ رہی ہیں پڑھ رہی ہیں دور دراز کے علاقوں میں بھی تعلیم اور معاش کے لئے فعال ہیں۔ سوشل میڈیا پر سنجیدہ ہیں۔ ایک خوش کن اور روشن احساس،

Read more

بے راہرو شوہر، وفا شعار بیوی اور نوادرات کی محبت

ثامرہ نے غسل کے بعد لامبے بالوں کو نرم کاٹن کے کپڑے میں لپیٹا اور تولیے میں بدن کی نمی جذب کرنے لگی۔ اس کی خادمہ ہلکی سی دستک دے کر ڈریسنگ روم میں داخل ہوگئی اور بولی، ڈیزائنر نے ایک اسٹائلسٹ کو ڈریس کے ساتھ بھیج دیا ہے۔ ثامرہ نے خود کو تولیے میں لپیٹ لیا اور کہا تم جاؤ میں آ رہی ہوں وارڈروب قیمتی ملبوسات و زیر جاموں سے بھری ہوئی تھی اس نے زہر خند مسکراہٹ

Read more

فسٹ وومن کانفرنس۔ احوال

یوم خواتین کے حوالے سے آرٹس کونسل کراچی میں مورخہ چھ اور سات مارچ کو ”فسٹ وومن کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ بعد نمازجمعہ سہہ پہر چار بجے شروع ہونے والی پہلی خواتین کانفرنس کے لئے آرٹس کونسل کراچی کے سربراہ احمد شاہ، ڈاکٹرہما میر، کاشف گرامی، اور دیگر منتظمین نے ہمیشہ کی طرح بہت محنت اور جانفشانی سے انصرام و اہتمام کیا، کانفرنس میں خصوصی شرکت کے لئے ہمارے مشفق باس ( کمپنی کے سی ای او) عارف با

Read more

نغمانہ شیخ کا افسانوی مجموعہ: دھوپ میں جلتے خواب

نغمانہ صاحبہ حقوق نسواں کی عملی تصویر ہیں۔  نغمانہ شیخ کو پڑھنے سے پہلے کلام کرتے ہوئے دیکھا، وہ تقریبات کی نظامت خوبصورتی سے انجام دیتی ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق میں مکمل تعارف ہوا، دل نشین انداز میں افسانے اور نظمیں سناتی ہیں، رواں اور سادہ انداز بیاں، لبوں پر تبسم، چمکتی آنکھیں، اور برجستہ جملے بازی، میں ان کی قربت میں سکون محسوس کرتی ہوں، شرارتی جملے بازی یا اختلافی مباحث پر ساتھ دینے کے لئے کوئی موجود ہے، یہ

Read more

نو ستارہ خفیہ تنظیم اور تسخیر کرنے والوں کا نامہ اعمال

سیمیوئل امریکہ کے گرین وڈ نامی ایک چھوٹے سے ٹاون میں رہتا تھا، اس کے والدین نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں جرمنی سے امریکہ ہجرت کی تھی اور انتہائی کسمپرسی میں زندگی بسر کرتے رہے تھے، سیمیوئل کے تعلیمی اخراجات بہت مشکل سے ادا کیے جاتے، سیمیوئل ذہین تھا، ہائی اسکول میں اس کو اسکالرشپ مل گیا، سیمیوئل نے بہت محنت کی اور ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گیا، یونیورسٹی میں

Read more

حیض اور سماجی حساسیت

حیض قدرتی و فطری امر ہے، جو خواتین کے ساتھ منسلک ہے، حیض کے بارے میں ایشیا میں مختلف توہمات وابستہ تھے اور ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے پورے ایشیا خاص کر بھارت اور پاکستان میں خواتین کو ان توہمات سے نجات دلانے کے لئے باقاعدہ مہمات چلائی گیئں جن میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی۔ خواتین کو حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا اور خود کو صحت مند رکھنا سکھایا گیا، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ڈاکٹرز ٹیمز کے ذریعے

Read more

کمزور سہیل کی باکرہ دلہن

ایک کلو بادام بھی تول دو، میں نے دکاندار سے کہا اور فہرست دیکھنے لگا کہ کچھ رہ تو نہیں گیا، چھوہارے، ناریل، خشک خوبانی، بتاشے اور میٹھی سپاریاں، سب کچھ تھیلیوں میں رکھ دیا گیا تھا، اپنا پسندیدہ میوہ بادام پیک کروانے کے بعد میں نے دکاندار سے کہا، آپ لوگوں کا تول درست نہیں ہے، کیسی بات کرتے ہیں بھائی، اتنے سالوں سے ہم سے سودا لے رہے ہیں، شادیوں پر بھی بری کا میوہ ہماری دکان سے گیا، اب آخری شادی پر ایسی باتیں تو نہ کریں، پچھلے دنوں میرا دوست بیرون ملک سے آیا اور میرے لئے بادام لایا، پیکٹ کھول کر اسی مرتبان میں ڈالا جس میں سالہا سال سے تم سے بادام خرید کر رکھتا ہوں، کبھی پورا نہیں بھرا، لیکن بیرون ملک سے لائے باداموں سے پورا مرتبان بھر گیا، میں نے اسے بتایا۔

Read more

لڈو کی ٹوپی

فیصل کے کھانسنے سے میری آنکھ کھل گئی، ذہن سو رہا تھا لیکن پریشانی سے آنکھیں پوری کھول کر فیصل سے پوچھنے لگی کہ کیا ہوا آپ کو لیکن فیصل کھانسے گئے، بہ مشکل سن ہوتے ہاتھ پاوں حرکت میں لائی اور فیصل کو سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس تھمایا، فیصل کو پانی پی کر ہی سکون آیا، خواہ مخواہ خشک ہوا چل پڑی، موسم خشک ہونے کی وجہ سے گلا بھی خشک ہو گیا تو کھانسی آ گئی،

Read more

شادی: سماجی ادارہ اور ڈرامے

دو سال پہلے فیملی فرینڈز میں ایک بائیس سالہ بچی کی شادی ہوئی۔ والدین کی اکلوتی اولاد ہے۔ متمول گھرانا ہے۔ شادی کے ایک مہینے بعد ہی شوہر اور ساس نے ذہنی و جسمانی تشدد شروع کر دیا کہ والدین سے پیسے لے کر شوہر کر کاروبار کروا دو۔ کون سا تشدد تھا جو بچی پر نہیں کیا۔ والدین نے اکلوتی بچی کی حالت دیکھی تو طلاق لے کر معاملات نمٹائے۔ بجائے اس کے کہ شوہر حق مہر کی ادائیگی

Read more

پاکستان کا قومی شناخت کا بحران

بہ حیثیت مجموعی جب شناخت کی بات کی جائے تو ہم کو خطے کے تاریخی پس منظر کا ضرور جائزہ لینا ہو گا۔ پاکستان بر عظیم میں واقع ہے جو لسانی، قومی، اور مذہبی طور پر کئی قبائل و چھوٹی بڑی اقوام میں منقسم ہے اور صدیوں سے آج تک یہی صورتحال قائم ہے۔ بر عظیم میں مختلف مذاہب کے پیروکار صدیوں سے بسے چلے آ رہے ہیں۔ قدیم ترین مذاہب میں دھرم مت جو اب ہندو مت کہلاتا ہے،

Read more

گریجویٹ آیائیں اور سلمنگ سینٹر

چند ماہ پہلے ایک سیلون سے منسلک سلمنگ سینٹر میں، مینجمنٹ کی ملازمت شروع کی۔ باقاعدگی سے ایکسرسائز سیکھنا، سکھانا اور خود بھی کرنا مقصد تھا۔ سیلون اور سلمنگ سینٹر کی مالک فیملی فرینڈ بھی ہیں، سو ساتھ ساتھ سینٹر مینیج کرنے میں ان کی مدد بھی ہو جاتی ہے۔ جب باقاعدگی سے وہاں جانا شروع کیا، تو خواتین کی طرف سے ایک ہی طرح کے کچھ سوال بار بار پوچھے جاتے، جیسا کہ ”آپ یہ ملازمت کیوں کر رہی

Read more

شہر آشوب کا جادو گھر کتابی تبصره

 ”کچھ بے ترتیب کہانیاں“ ارشد رضوی کی شہر آشوب کی بے ترتیب کہانیاں ہیں، اور ان کہانیوں میں بپھرا ہوا سمندر ہے، مجذوب و مرطوب ہوائیں ہیں، وسیع و عریض شہر کے طویل اور تھکا دینے والے راستے ہیں، جا بجا بکھری ہوئی تار کول کی سڑکیں ہیں جن کو اعلی شان گاڑیاں اور بوسیدہ بسیں سارا دن روندتی ہیں، روشن اور طویل دن ہیں۔ نم ناک راتیں ہیں۔ کچے گھر بھی ہیں، مسمار ہوتے قدیم مکان ہیں، عالی شان

Read more

میں گل لالہ ہوں، آن لائن ہوں، لیکن دستیاب نہیں ہوں

سپر مارکیٹ میں ”سیل“ کیا شروع ہوئی، گویا عوامی اجتماع ہو گیا، حامد صاحب منیجر تھے، عملے کو چوکس اور مستعد رکھنے کے لئے خود سپر مارکیٹ میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہے تھے اور گاہکوں کو، مطمئن کر رہے تھے، ایک خوبصورت و صبیح چہرہ خاتون پر حامد صاحب کی نظریں ٹک گیئں، ایسا لگا کہیں دیکھا ہوا ہے وہ سوچنے لگے کہاں دیکھا ہوا ہے، خاتون کے ساتھ دو چھوٹے بچے تھے، ایک بچہ گود میں تھا، ایک ادھر ادھر بھاگ رہا تھا، جس کو خاتون آؤازیں دے کر بلاتی، حامد صاحب غیر ارادی طور پر خاتون کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، اچانک بچے کو دیکھ کر یاد آیا کہ بچے کی ویڈیوز اور تصاویر ”فیس بک“ پر دیکھی ہیں، فورا سیل فون نکال کر فیس بک لاگ ان کی تو سامنے ہی ”گل لالہ“ کا اسٹیٹس جگمگایا، ”شاپنگ ود کڈز ان سپر مارکیٹ“

Read more

جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ حقوق دانش

بچپن میں اکثر یہ جملہ لکھا ہوا نظر آتا تھا کہ "جملہ حقوق محفوظ ہیں” تو سوچ ابھرتی تھی کہ ایسا کیوں لکھا ہوتا ہے، اس جملے کے متعلق مکمل تفصیلات ایک دل چسپ واقعے کی بدولت علم میں آئیں۔ جب ہمارے بھائی کے دوست نے اپنی ٹریول کمپنی کا بہت دلچسپ نام اردو زبان میں رکھا، نام اتنا آسان اور عام فہم ہے کہ ناخونداہ افراد بھی بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں، ان کے نام رکھنے کا مقصد بھی

Read more

شبن کی دلہن اور ڈیپ فریزر

شبن میاں اور ان کا خاندان شکر گڑھ میں رہتے تھے، شبن میاں کا قد چھوٹا رہ گیا تھا، اسکول کے ساتھی اور محلے کے لونڈے مذاق اڑاتے، لیکن شبن میاں نے کبھی برا نہ مانا، بہت ذہین، ہنس مکھ اور ملنسار تھے، خوشحال گھرانہ تھا، اچھا کھاتے پیتے تھے، کباب اور گولہ گنڈا کھانے کے بہت شوقین تھے، پڑھائی میں اچھے تھے، ممبئی چلے گئے، چارٹرڈ اکاونٹنٹ بن کر آئے، ان دنوں انڈیا میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ کی بہت مانگ تھی۔ حیدر آباد دکن میں بہت اچھی نوکری ملی۔

Read more

آئنہ نما: دھرتی سے جڑے افسانے

ظفر عمران کا افسانوی مجموعہ ’’آئنہ نما‘‘ موصول ہوا۔ سیل فون ایک طرف رکھا، اور مکمل پڑھ کر ہی سانس لی۔ کہانیاں کیا ہیں، ہمارے اردگرد بکھرے ہوئے کردار ہیں، جن کی معصوم خواہشات ہیں لیکن احساسات اور رویے پیچیدہ ہیں، جو عین انسانی نفسیات ہے۔ ظفر عمران جیسا ادیب ہی ان کو بیان کر سکتا ہے۔

Read more

اسلامی قلعے میں محفوظ عورتیں یا محصور عورتیں

سمیرا ایک بیس سالہ لڑکی ہے، ہمارے پڑوس میں گھریلو کام سر انجام دینے پچھلے پانچ سال سے روز آتی ہے اور ماہانہ تنخواہ پاتی ہے، کچھ عرصے سے میں بھی ہفتے میں ایک دن سمیرا کو کپڑے دھونے کے لئے بلاتی ہوں، اور اس کی اجرت سمیرا کو دیتی ہوں، باقی گھر کے کام خود ہی کرتی ہوں۔

سمیرا نے کچھ دنوں سے برقع پہننا شروع کر دیا ہے، وجہ پوچھی تو بتایا، کہ راستے میں آتے جاتے کسی نے نازیبا حرکات کیں اور آوازے کسے ہیں، پیچھا کیا ہے، پوچھا، کیا برقع پہننے سے یہ حرکات بند ہو جائیں گی؟
تو سمیرا نے کہا نہیں لیکن مجھے کوئی پہچانے گا نہیں۔ میری بد نامی تو نہیں ہو گی نا باجی۔

Read more

ایک سوپچیس روپے

خرم نے خوبصورت سے گھر کے دروازہ کے باہر نقشین ستون پر لگی اطلاعی گھنٹی بجائی، انٹر کام پر عورت نے پوچھا کہ کون ہے، خرم نے کہا اخبار کا بل دے دیجئے آنٹی، کتنا ہے عورت نے پوچھا، ایک سو پچیس روپے، اچھا کل آنا، آنٹی آج ہی دے دیجئے، لیکن عورت انٹر کام بند کرچکی تھی، خرم نے تازہ اخبار گھر کے ستون پر رکھا اور مایوسی سے مڑ کر بائیک پر بیٹھا اور دوسرے گھروں کی طرف چل پڑا، جہاں سے کم وبیش یہی جواب ملنے تھے، دو گھروں کے علاوہ کوئی بھی وقت پر بل نہیں دیتا تھا، سالوں سے یہی ہو رہا تھا، اتنے اچھے گھر بنائے ہوئے ہیں، شاندار گاڑیاں بھی ہیں، لیکن اخبار اور دیگر بل دیتے ہوئے لوگوں کی جان جاتی ہے، خرم کڑھتے ہوئے سوچ رہا تھا، خرم دور طالب علمی سے ہی گھروں میں اخبار دینے کا کام کرتا تھا،

Read more

تسطیر، سب نیلا ہے۔کتاب پر تبصره

سہ ماہی تسطیر کا شمارہ موصول ہوا۔ خوبصورت سرورق کی مصورہ عینہ عارف راجہ کا تعارف، حمدیہ و نعتیہ اشعار کے بعد ”سب نیلا ہے“ نصیر احمد ناصر کی ادارتی تحریر نے بچپن کی نیلی چڑیا۔ نیلی پری۔ نیلے بال پوائنٹ کی یاد دلا دی، ہم کزنز نے ایک ننھی سی بلیو برڈ پکڑی تھی، جو ہمارے دادا کے گھر کے لان میں چہچہاتی تھی، اور جب ہم نے بہت جتن سے اس کو پکڑا تو وہ خوف سے خاموش

Read more

پاکستان کی قومی زبان اور علمی ادارے

بچپن سے پی ٹی وی پر دیکھتے آ رہے ہیں کہ کسی بھی قومی دن کے موقع پر قومی ٹی وی پر چاروں صوبوں کی ثقافت۔ زبان۔ لباس۔ خاص خاص رسوم و رواج اور روایتی پکوانوں کا تعارف و تذکرہ ہوتا اور یہ سب کچھ پاکستان کی قومی زبان اردو میں بہت ہی نفاست و فصاحت و بلاغت سے بیان کیا جاتا کہ ٹی وی کے ناظرین اور ریڈیو کے سامعین جھوم اٹھتے۔ یہ حقیقت ہے کہ زبان کسی بھی

Read more

عورت مارچ میں کون عورتیں تھیں؟

سائیں شاہ لطیف فرماتے ہیں ”عورت محبت ہے“۔ خسرو فرماتے ہیں۔ ”عورت عاشق ہے“ جب ہی ان کے کلام میں عشق کا اظہار عورت کی زبانی ہے۔لیکن بر صغیر کی عورت کا استحصال خسرو کا کلام جھوم جھوم کر پڑھنے والوں اور سننے والوں نے صدیوں مذہب کے نام پر کیا، مغرب میں بھی یہی رواج تھا لیکن طویل جد و جہد کے بعد کم از کم وہاں کے کچھ اچھے مہذب مردوں نے قوانین سخت بنا ڈالے اس طرح سماج سدھار لیا گیا۔جب کہ مشرق میں مرد ابھی تک کنفیوز ہے کہ کیا کرے۔ مرد عورت کی آزادی کے نام سے بدکتا ہے، نہ جانے عورت کی آزادی سے وہ کیا سمجھتا ہے۔ شاید یہ کہ عورت مرد کے ساتھ سونا چھوڑ دے گی یا ہر مرد کے ساتھ سونا شروع ہو جائے گی، پچھلے دو دن سے محدود سوچ اور اس کا اظہاریہ یہی ظاہر کررہا ہے کہ سماج کا مرد یہی سمجھتا ہے، جب کہ عورت صرف یہ چاہتی ہے کہ وہ گھر سے پڑھنے یا نوکری کرنے کے لئے نکلے تو راستے میں کوئی اسے چھونے کی کوشش نہ کرے، اس کے ساتھ بے ہودہ گوئی نہ کرے۔

Read more

سوشل میڈیا کے ٹھگ

پہلے زمانے میں ٹھگ ہوتے تھے۔ جو شہروں کے بازاروں اور راستوں میں جانے والے قافلوں کے افراد کا اسباب دھوکہ دہی سے لوٹ لیتے تھے۔ وہ بہت چرب زبان اور ہاتھ کی صفائی دکھانے کے ماہر ہوتے تھے اور عوام الناس کو بہ آسانی بے وقوف بنا کر اپنی راہ لیتے تھے۔

ٹھگ اب بھی موجود ہیں لیکن اب وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اس کی تازہ مثال سوشل میڈیا پر پچھلے پندرہ دن سے نظر آ رہی ہے۔

Read more

منٹو، فحش نگار اور چغد

منٹو فحش نگار ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں شاید ان کو معلوم نہیں ہے کہ عام آدمی اردو ادب میں پہلا نام ہی منٹو کا لیتا ہے۔

جو لوگ کتب بینی نہیں بھی کرتے وہ بھی منٹو اور عصمت چغتائی کا نام جانتے ہیں اور ان کی کتب ایسے گھروں میں دیکھی ہیں جہاں اور کوئی کتاب نہیں ہوتی لیکن منٹو اور عصمت چغتائی کی کتاب موجود ہوتی ہے اپنے ذاتی تلذذ کے لئے اور یہی وہ لوگ ہیں جو منٹو کے چند افسانے پڑھ کر منٹو کو فحش نگار قرار دیتے ہیں۔ منٹو ایک ادیب تھے جن کے قلم سے نکلے نشتر رہتی دنیا تک ایسے لوگوں کے دماغوں میں چبھتے رہیں گے جن کی سوچ جنس اور مذہب سے باہر نہیں نکلتی۔

Read more