عمان کی ایک اداس سہ پہر۔ شہر خالی، کوچہ ویران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ چند پچھلی تحریروں میں اشارہ دیا گیا، دوستوں کو علم ہوگا کہ اس خادم کا رُخ بین الاقوامی اجتماعات میں شرکت کی غرض سے اکثر بیروت کی جانب رہتا ہے کہ ہمارے مستقر دمشق سے کوئی تین ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر، ایک سرسبز پہاڑوں کے سلسلے سے گزرتے راستے کے ایک سرے پر، بحرِ متوسط کے کنارے آباد ہے۔ گزشتہ ماہ بھر سے البتہ، اہلِ لبنان کی ایک معتدبہ تعداد، جن میں اکثریت نوجوان طبقے کی ہے، احتجاجی مظاہروں کی غرض سے سڑکوں پر ہے۔

مطالبات ان کے بظاہر درست مگر مبہم ہیں مثلا بدعنوانی، بے روزگاری اور بد انتظامی کا خاتمہ۔ نہ تو ان مظاہرین کی کوئی معلومہ تنظیم ہے نہ کوئی رہنما، چنانچہ حکومتی اہل کار چہ کنم میں ہیں کہ بات چیت کی جائے تو کس سے۔ یہ امر قابلِ تعریف ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں خون ریز خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ شکست و ریخت کی طویل تاریخ موجود ہے، یہ مظاہرے اب تک مکمل طور پر پُر امن ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق لبنان میں آباد ہر فرقے اور گروہ کے لوگوں، بزرگوں، عورتوں، بچوں اور جوانوں کی بڑی تعداد ان میں شامل ہے۔ یہ خادم ادھوری معلومات اور پیشہ ورانہ تحدیدات کے سبب ان مظاہروں کا گہرا تجزیہ کرنے سے قاصر ہے۔

ہماری زندگی پر ان حالات کا اثر یہ پڑا ہے کہ ہماری حفاظت پر مامور ادارے کے اہل کار ہمیں لبنان جانے کی اجازت دینے میں متامل ہوتے ہیں۔ لبنان اور سوریہ کو ملانے والی دونوں سڑکیں اکثر بند ہوجاتی ہیں اور بیروت اور اس کے راستے میں پڑنے والے قصبے ہڑتالوں کے سبب معطل ہوجاتے ہیں۔ اسی سبب علاقائی اجلاس منعقد کرنے کے لیے دوسرے پڑوسی اردن کا دارالحکومت عمان منتخب کیا جاتا ہے۔ دمشق سے اردن کا فاصلہ بھی تقریبا تین ساڑھے تین گھنٹے کا ہے، البتہ بنجر میدانوں سے گزرتا ہے۔

اکثر جگہ اس خادم کو وطنِ عزیز کے علاقوں لورالائی اور قلعہ سیف اللہ کی پتھریلی وادیاں یاد آ جاتی ہیں، اگرچہ اہلِ سوریہ و اردن نے جا بجا زیتون کے باغات لگا کر اس خاکستری منظر میں سبزے کے پیوند جڑنے کی سعی کر رکھی ہے۔ ہمارے ادارے نے کل بروز جمعہ کسی اہم مسئلے پر غور و مشاورت کے لیے عمان میں اجلاس بلا رکھا تھا جس میں سوریہ کی نمائندگی اس خادم کے ذمے تھی۔ اگرچہ فاصلہ عمان اور بیروت کا یک ساں ہے لیکن عمان کا راستہ سوریہ کے ”درعا“ نامی صوبے سے گزرتا ہے، جہاں امن و امان کی صورتِ حال اب تک حکومت کے مکمل قابو میں نہیں ہے چنانچہ لبنانی سرحد کے برعکس، دروازے کھلنے کے اوقات مقرر ہیں اور ہمارے لیے حکم یہ ہے کہ اردنی سرحد کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے پار کر لیا جائے۔ ان ممالک میں موسمِ سرما و گرما میں گھڑیاں ایک گھنٹا آگے پیچھے کرنے کا رواج ہے چنانچہ ان دنوں تنگی اوقات کا مسئلہ ہمارے لیے مزید گمبھیر ہو جاتا ہے۔

سو صبح ساڑھے چھے بجے روانہ ہوکر، سرحد کی بھیڑ بھاڑ سے نمٹتے یہ خادم بہ مشکل اجلاس کے وقت پر عمان پہنچ پایا۔ گفت و شنید تو کوئی دو بجے سہ پہر اختتام پر پہنچ گئی مگر اس دوران واپسی کے لیے وقت نہ بچ پایا چنانچہ شب باشی عمان میں ہی قرار پائی۔ عمان کا شہر اونچی نیچی پہاڑیوں پر، سات آٹھ دائروں کی شکل میں آباد ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں قدرتی درجہ حرارت میں قابلِ ذکر فرق پایا جاتا ہے۔

چنانچہ اس خادم کو پہلے تجربہ ہو چکا ہے کہ کھانا ایسی جگہ کھایا جہاں لوگ جیکٹ پہنے بند دروازوں میں گرم کمروں میں بیٹھے تھے اور کافی ایسی جگہ پر پی جہاں پنکھے چل رہے تھے۔ اس مرتبہ قیام دفتر کے قریب ”زہران“ نامی محلے میں تھا جہاں درجہ حرارت ذرا سرد تھا۔ کچھ سردی اور کچھ جمعے کی چھٹی کے سبب گلیاں کوچے سُونے پڑے تھے۔ یہ مرفہ الحال طبقے کا محلہ ہے۔ گلیاں سایہ دار درختوں سے مزین ہیں، جن پر خزاں کے اثرات مرتب ہونا شروع ہو چکے تھے۔ اجلاس کا موضوع ذرا بوجھل تھا سو فرحتِ طبع کی غرض سے یہ خادم مٹر گشتی پر نکل گیا اور شارع محمد علی جناح اور شارع زہران کے بیچ واقع علاقے کی سیر کا قصد کیا۔

اس خادم کا عمان آنا جانا سن دوہزار دس سے ہے، جس میں گزشتہ دو برس سے مزید تواتر آ گیا ہے۔ پہلے دورے میں اندازہ ہوگیا تھا کہ شہر میں تعمیر کا ایک ضابطہ مروج ہے، جس میں عمارات کی بیرونی دیواروں پر ہلکے مٹیالے رنگ کے پتھر کی ٹائلیں لگانے کا التزام کیا جاتا ہے۔ اس خادم کو تو یہ معیار بندی بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اس بار یہ دیکھ کر ذرا سا ملال ہوا کہ نام نہاد جدت کے شوق میں، اس ضابطے کی خلاف ورزی عام ہو چکی ہے اور بیچ بیچ میں شیشے اور لوہے لاٹ کی بدنما عمارتوں کے چہرے بھی ابھرنے لگے ہیں۔

چلتے چلتے ایک مے کدے کے سامنے سے گزر ہوا جس کا نام ”ہینگ اوور“ اس کی پیشانی پر نمایاں تھا۔ اگرچہ اندر جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا مگر یہ دیکھ کر طبیعت ذرا متوحش ہوئی کہ اس کا دروازہ، ہماری اردو فارسی شاعری میں روایت کردہ نشانی کے برعکس مقفل پایا۔ نجانے کیوں؟ ممکن ہے پیرِ مغاں صاحب، علامہ اقبال کے سمجھائے گئے کلیے کے بر عکس مردِ خلیق نہ رہے ہوں۔ چند قدم آگے جا کر ”ویراں شود آں شہر کہ میخانہ نہ دارد“ کا خدشہ رفع ہوا جب ایک مے فروشی کی دکان دکھائی دی جو اپنے گاہکوں کو صاف اور بہ آواز بلند کچھ کہنے کی دعوت دے رہی تھی۔

آگے ایک طعام خانہ نظر آیا جس کا نام ”جبری“ تھا۔ پتا نہیں کہ یہ نام وہاں ملنے والی خوراک کو خریدنے کے بعد گاہکوں پر طاری ہونے والی کیفیت ”زر می خورم“ کے حوالے سے رکھا گیا، یا کوئی اور وجہ رہی ہو، البتہ اسے خاصا آباد پایا اور جبر کی کوئی کیفیت نظر نہ آئی۔ اس دوران مطلع پہلے سے زیادہ ابر آلود ہو گیا اور بجلی کڑکنے لگی۔ اس خادم نے مناسب سمجھا کہ بانی پاکستان سے منسوب شاہ راہ کی بازدید کو فی الحال اٹھا رکھا جائے اور آدھے راستے سے قیام گاہ کی سمت واپس ہوگیا، لیکن آدھے راستے میں تیز بارش نے آ لیا اور بندہ کمرے تک پہنچتے پہنچتے، مے کدے سے پرہیز کے باوجود تر دامنی کی تصویر بن چکا تھا۔ اس سیر کی چند تصاویر احباب کی خدمت میں پیش ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •