فیض فیسٹول میں فرسودہ نعرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیض فیسٹیول کا تیسرا اور آخری دن جاری ہے اور مجھے سب سے دلچسپ چیز کامریڈ فاروق طارق کے لگوائے ہوئے وہ نعرے تھے جو مدت ہوئی پرانے ہو چکے ہیں گو کہ میں کامریڈ فاروق طارق کا بڑا مداح ہوں اور ہمیشہ انہیں ایک شفیق استاد کی طرح پایا ہے۔ ”سرخ ہے سرخ ہے ایشیاء سرخ ہے“ یا پھر ”فیض تیرا خواب ادھورا مل کر ہم سب کریں گے پورا“۔ پہلی بات تو یہ کہ ایشیاء کسی انصاف اور برابری کے نظریہ ( سوشلزم ) سے معمور یا مسحور ہو کر سرخ ہرگز نہیں ہے اور نہ کوئی ایسی امید باندھی گئی ہے البتہ مشرق وسطی معصوموں کے خون سے سرخ ضرور ہے۔

میں حیران ہوں کہ ایسے غیر حقیقی نعرے وہ لوگ لگا رہے ہیں جنہیں تاریخ کو سب سے زیادہ سمجھنا چاہیے۔ مارکس تو تاریخ کی طبقاتی تشریح سے انسان کے استیصال کی کہانی سناتا ہے۔ پھر یہ کہنا کہ کسان اپنے خون سے انقلاب کو رنگ دے گا ایک فرسودہ سا رومانس ہے۔ میں تو ایک کٹرسوشلسٹ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور مجھے یاد ہے عابد منٹو صاحب نوجوان رنگرٹوں کو ترقی پسند مصنفین کی کتابیں پڑھنے پر لگا دیا کرتے تھے اور زندگی کو دیکھنے کا نناظر دیتے تھے۔

اپ اگر پڑھنا لکھنا نہیں چاہتے تو کارپوریٹ میلوں میں نعرے بازی کر کے دل ہلکا کر لیں لیکن یہ سب کچھ محض ایک سستی سی سرگرمی رہ جاتی ہے۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور دنیا کو اپنے پیغام (جسے اپ خود سمجھتے ہوں ) سے روشناس کروانے کے لئے تخلیقی راستے ڈھونڈنے ہوں گے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اپ دالان میں شاندار سا گیت یش کرتے، رقص کرتے، ڈرامہ کرتے۔ آخر فیض نے بھی تو نعرے بازی کی بجائے نظم اور ایک انقلابی کے غیظ و غضب کو غزل میں ڈھالاہے۔

 ایسے ناداں تو نہ تھے جاں سے گزرنے والے۔ ویسے تو کامریڈ فاروق طارق یہ نعرہ بھی لگوا رہے تھے کہ ”فیض تیرا خواب ادھورا ہم سب مل کر کریں گے پورا“ لیکن میں کیونکہ طبقاتی جدوجہد، پاکستان سوشلسٹ پارٹی، مزدور کسان پارٹی اور عوامی جمہوری پارٹی سے کسی حد تک وابستہ رہا ہوں اور وہاں کے کلچر سے بخوبی واقف ہوں اور اسی طرح میڈیا کی سترہ سالہ زندگی نے مختلف طبقات تک رسائی دی جو شاید کوئی اور کام کرتے ہوئے ممکن نہ ہوتا۔

 اس فیسٹیول میں نعرے بازی سے تو فیض کا خواب ہر گز پورا نہیں ہو گا بلکہ یہ فیسٹیول تو آہستہ آہستہ سماجی، جنسی و جذباتی گھٹن دور کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور شاید پوری دنیا میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ میں نے تو یہ بھی محسوس کیا ہے کہ سوائے علی مدیح ہاشمی کے فیض صاحب کے گھر والے بھی انہیں اب ایک نظریاتی یا سوشلسٹ یا انقلابی وغیرہ کہنا نہیں چاہتے مبادا فیض صاحب آج کی دنیا میں جہاں نہ تو کلاسیکی انداز میں کوئی مزدور تحریک چل رہی ہے، نہ کسان اک کھیت نہیں اک دیس نہیں ساری دنیا مانگ رہے ہیں، نہ معاشی نظام کے متبادل کے طور پر کوئی نیا معاشی نظام پیش کیا جا رہا ہے، نہ ریاستی جبر پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر اکا دکا صحافی کہیں جبر کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو دوسری بھیانک آوازیں اتنی شدید ہیں کہ صحافی کا دم گھٹنے لگتا ہے۔

اجتماعی طور پر ریاستی چیرہ دستیوں کے خلاف کوئی تحریک نہیں۔ ہمارے نوجوان سوشلسٹوں کو سمجھنا چاہیے کہ سیاست کرنے کے دو ہی طریقے ہیں کہ لائبریوں میں بیٹھو اور مارکس بن جاؤ یا جنگلوں (علامتی معانی میں کہہ رہا ہوں) میں جاؤ اور چی گویرا بن جاؤ۔ دقیانوسی اور غیرحقیقت پسندانہ نعرے بازی ایک بیمار سے رومانس کے سوا کچھ نہیں۔

 سرمایہ دارانہ نظام اور منڈی کی معیشت نے بھیڑیے پیدا کیے ہیں یا بھوکے اور مجھ جیسے پمفلٹوں یا سنی سنائی باتوں پر پلے بڑھے مارکسسٹ یکلخت سرمایہ دارانہ نظام کو گالی بک دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس نظام نے انسان کی نفسیاتی تربیت یوں کی ہے کہ بھوکوں مرتا بندہ بھی فیس بک پر سٹیٹس چڑھائے بغیر چین نہیں پاتا۔ نا انصافی پر مبنی نظام میں پسا ہوا شخص بھی اشیا کے حصول میں مقابلہ بازی ضرور چاہے گا حالانک وہ اسی مقابلہ بازی کا ایک ادنی سا شکار ہوتا ہے۔ بہت بھاری ذمہ داری ہے مارکسسٹوں پر یعنی انسانوں کی نفسیاتی تربیت اور عالمی معاشی نظام کا متبادل اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کی تمام انسان دوست جہتوں اور تہذیبوں کو ادب، فلم، فکر، فن اور تعلیم سے اجاگر کرنا۔ اسی نظام میں رہتے ہوئے اس نظام کے خلاف لڑنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •