گالی دشنام کی ثقافت ہم سب کی دشمن ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلہ یہ بھی نہیں کہ پانامہ کا ڈرامہ ہوا اور حسب معمول ایک اور منتخب وزیراعظم راندہ درگاہ ٹھہرے، شکوہ یہ بھی نہیں کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر اور اس کے خاندان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ حیرت ثاقب نثار سے ملک ارشد تک کے کرداروں پر بھی نہیں ہوئی، پچیس جولائی کے الیکشن کی بھی کوئی خلش نہیں، مانگے تانگے کی حکومت کی ناکامی کا دکھ بھی نہیں، خوفناک مہنگائی سے گھبراہٹ بھی نہیں، مخالفین کو جیلوں میں ٹھونسنے کا غصہ بھی نہیں اور میڈیا کا گلہ دبانے پر کوئی وحشت بھی نہیں!

لیکن اگر سچ پوچھیں تو شکوہ بھی ہے اور گلہ بھی، حیرت اور خلش سے بھی جان نہیں چھوٹتی اور گھبراہٹ، غصہ اور وحشت بھی کبھی جان کو آجاتے ہیں لیکن جن عوامل سے یہ جذبات اور احساسات جنم لیتے ہیں وہ عوامل ہماری گرد وپیش کے حقائق اور سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں، اس لئے ہمیں بھی گلے شکوے، غصہ خلش اور حیرت و وحشت کے عادی بنا گئے اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ احساسات اور جذبات سیاسی اُتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں کبھی منفی رنگ میں، تو کبھی مثبت سمت میں، کبھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تو کبھی ایک دوسرے پر جان چھڑکتے۔

کبھی مخالف سیاسی جماعت کو غدار ٹھہراتے تو کبھی ان کے لئے شاہراہوں پر لڑتے دکھائی دیتے، کبھی ان کے پتلے جلاتے تو کبھی بلائیں لیتے اور صرف سیاست پر کیا موقوف یہی رویّہ ذمہ دار اداروں عرف عام میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بھی پہلے ہی دن سے چلا آرہا ہے کبھی غاصب ٹھرایا تو کبھی سر کا تاج بنایا، کبھی اصل حکمران کہا تو کبھی دھرتی کا مان کہا، کبھی اسلام آباد کی شاہراہوں پر نظر آئے تو تپ گئے لیکن بارڈر پر کھڑے دیکھا تو عقیدت کے آنسو بہائے، گلے شکوے کریں گے لیکن اگر ایک ابھی نندن بھی مقابلے پر آئے تو پوری قوم پشت پر کھڑی دکھائی دے گی۔

سچ تو یہ ہے کہ کبھی کبھی اس قُرب و بُعد اور محبت و ناراضگی سے وہ لطف بھی اُٹھایا جاتا ہے جو صدیوں پر پھیلی اس تہذیب کا حصہ ہے جس سے ہمارے رشتوں ناطوں اور عزیزداریوں کے خدو خال ترتیب پاتے ہیں یعنی ناراضگیاں اور محبتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں لیکن تہذیب کے حدود وقیود بھی متعین ہیں۔ یہ اسی تہذیب کا حسن ہے کہ ہمارے سر اور داڑھی کے بالوں میں ایک بھی سیاہ بال نہیں بچتا لیکن اپنے بزرگوں کے سامنے بات کرتے ہوئے زبان پر آبلے پڑ جاتے ہیں۔

اپنے بچے جوان ہو بھی جائیں تو بڑے بھائی کا ڈر ذہن پر سوار ہی رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی تیسرے درجے کا لبرل اسے غیر جمہوری رویے اور حقوق کی پامالی کے معنی دے لیکن اس معاشرے کا حسن اور توازن اسی تہذیب میں پنہاں ہے، جس میں تکریم اور اعتدال کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جس سے ایک مہذب لہجہ پھوٹتا ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ بعض سیاسی ڈکیت اس تہذیب سے پھوٹتی چھوٹی موٹی ناراضگیوں اور محبتوں کے سوداگر بن کر اسے اپنے اپنے سیاسی دکانوں پر بیچنے نکلے کیونکہ ان کی کل سیاسی زاد راہ اسی سوداگری کے نفع و نقصان سے ہی نکلتا ہے۔

بات صرف سیاست کی حدود و قیود تک رہتی تو بھی مٹی پاؤ کا فلسفہ بروئے کار لاتے لیکن اس غلاظت کی آگ تو ان دروبام تک بھی آ پہنچی جہاں سے سر بلند لیکن شفاف اُردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ کا دھارا نکلتا رہا اور پھر سیاست کا وجود اور اس کا اُجلا لبادہ بے حیائی کے کیچڑ میں ایسا لت پت ہوا کہ اقدار اور تہذیب سر پیٹتی رہ گئیں۔ جس سیاسی بساط پر کبھی نوبزادہ نصراللہ خان، مولانا مودودی، ولی خان اور غوث بخش بزنجو نظریے کو طاقت اور دلیل کو داؤ بنا کر کھیلتے وہاں اب ایک ایسا گروہ سر گرم عمل ہے جن کی زبانوں سے صبح و شام غلاظت ٹپکتی ہے اور جو گفتگو کو گالی اور دلیل کو دشنام میں بدل کر ایک روشن روایت اور تابندہ تہذیب کے پرخچے اڑا نے لگے حتی کہ جنازوں اور اموات تک کو بھی نہیں بخشا۔

لیکن بدقسمتی سے وہ اس سیاسی بندوبست کا حصہ بھی بنے ہیں جس سے خلق خدا کو اب کراہت محسوس پونے لگی۔ صورتحال اس حد تک بگڑی کہ شریف گھرانوں نے یا تو گھروں سے ٹیلی وژن اُٹھوا دیے یا نیوز چینلز اُڑا کر رکھ دیے لیکن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ماھرین لعن طعن اور بد زبانی اس تہذیب پر اپنی ڈھٹائی کے ساتھ حملہ آور ہو چکے ہیں جس کے اندر نسلوں کی تربیت ہوتی اور معاشرے میں اقدار اور احترام پنپتے۔ لیکن یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے کہ اس گروہ کے خلاف مؤثر اور مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھائیں تاکہ صدیوں پر محیط اپنے معاشرتی اقدار کے ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کو بھی بچا سکیں۔

اور ہاں اس گروہ کی گالم گلوچ اور کذب زبانی کے ناظرین اور سامعین ہم سب کی نسلیں ہی ہیں کیونکہ اس ملک میں کون سا سیاستدان جج، جرنیل، صحافی، ڈاکٹر، انجئنئیر، وکیل یا اُستاد ہے جن کی اولادیں اس ”عذاب“ سے محفوظ ہیں یا جن کے گھروں میں یہ گروہ صبح و شام ٹی وی یا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا ”مخصوص کلچر“ نہیں پہنچا رہے ہیں۔ اس معاملے کو سیاسی گروہ بندیوں سے الگ رہ کر سوچنا اور لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ اور پھر ان زبان درازوں کی سیاست کیا اور نظریہ کیا۔

کیونکہ ہوا کا رُخ تبدیل ہوتے ہی سب سے پہلے ان چیلوں کے پروں کی پھڑپھڑاھٹ سنائی دیتی ہے۔ جن کا اگلا ٹھکانہ کوئی دوسرا درخت بھی ہو سکتا ہے اور کسی غلاظت کا ڈھیر بھی۔ لیکن ہم سب کا مشترکہ مسئلہ اپنے اقدار اور نسلوں کے بچاؤ کا ہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کا تمسخر اڑاتے تماشے میں ایسے مگن ہو جائیں کہ ہوش آئے اور پلٹ کر دیکھیں تو خود اپنی نسلوں کے لئے ایک تمسخر اور تماشا بن چکے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •