فیض فیسٹیول: جہاں فیض ملا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عظیم اذہان خیالات پہ گفتگو کرتے ہیں، اوسط اذہان واقعات پہ اور عام اذہان لوگوں کے متعلق بات کرتے ہیں۔ فیض فیسٹیول میں ہر کیٹیگری تھی۔ آئیڈیاز پہ بھی بات ہوئی، واقعات پہ بھی اور لوگوں کے متعلق گوسپ کرنے والے بلکہ صرف اسی مقصد سے آئے لوگ بھی موجود تھے۔ خیالات شئیر کرنے سے ہی آپ کچھ سیکھتے ہیں۔ فیسٹیول کے سیشنز بھی ہر ایک اپنے ذوق کے مطابق سلیکٹ کرتا اور سنتا ہے ناپا کے طلبا کا داستان گوئی کا سیشن اچھا تھا یہ ایک مرتا ہوا فن ہے اسے زندہ رکھنا ضروری یہی وہ فن ہے جو ہماری لوک وزڈم کو زندہ رکھے ہوئے جس کی بنیاد پہ ہم وہ سیکھتے ہیں جو کہیں لکھا نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ داستان گو اس کی اچھی کاوش ہے۔ ادائیگی، آواز کا اتار چڑھاو، داستان میں ڈرامائی تاثر سبھی خوب تھا۔

ادب و آداب کیا ہوتے ہیں یہ پٹیالہ گھرانے کے سیشن میں دیکھا ایک ایسا کلچر جو اب پنپ رہا ہے جہاں آپ بات کرتے اور سنتے مخاطب کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے فون کو زیادہ توجہ دے دیتے ہیں، گفتگو کے دوران بنا معذرت اٹھ کے جانے کو عار نہیں سمجھتے وہاں شفقت امانت علی کا یہ کہنا کہ میں بات کروں تو بھلے کال اٹینڈ کو لیکن ارشد محمود صاحب یا کوئی دوسرا گفتگو کرے تو خاموشی اختیار کیجیے، اٹھ کر مت جائیے یہ وہ تہذیب ہے جو اب سے کچھ عرصہ پہلے تک سکھائی جاتی تھی لیکن اب کہیں نظر نہیں آتی۔

ہر فن کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک جمالیاتی پہلو اور دوسرا اس میں مہارت، کسی بھی فن میں ان دونوں کا توازن ضروری ہے خاص طور پہ موسیقی سننے والے اس کی مہارتوں کو کم سمجھتے اور اس کی جمالیاتی پہلو سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں۔ اور میوزک ہو یا کوئی اور آرٹ زندہ وہی رہتا ہے جس کی جڑیں مضبوط اور خوبصورتی قائم ہو۔ یہ خوبی کلاسکلز میں ہے تبھی وہ ہر دور میں زندہ ہے۔ وہ بات یا آرٹ جو محض موجودہ ٹرینڈ کے زیر اثر مشہور ہوتاہے وہ تیزی سے ابھرتا ہے اور اسی تیزی سے ختم ہو جاتا ہے۔ کلاسیکل میوزک آج بھی زندہ ہے۔ گفتگو کا فن اور اس کے ساتھ سامعین کو جوڑے رکھنا خود ایک کمال ہے جو اس سیشن میں نظر آیا۔ بات سے بات کیسے نکلتی ہے۔ اس میں دلچسپی کیسے قائم رکھی جائے اور موضوع سے کیسے جڑا رہا جائے یہیں سیکھا۔

بڑے لوگ بڑے ہوتے ہیں ان کی باتیں عظیم ہوتی ہیں۔ وسعت اللہ خان صاحب سے ہلکی سی ملاقات میں جانا کہ وہ اپنے چاہنے والوں سے کیسے اپنایت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہلکے سے تعارف pr ان کا اتنا کہہ دینا کہ میں نے آپ کا نام دیکھا ہے جب ہم سب پہ بلاگ لکھنے کا بتایا۔ اس بات نے میرا دن شاندار کر دیا۔ یہ لوگ اپنے آپ میں ایک ادارہ ہیں جو تہذیب وآداب کو ساتھ لیے چل رہے ہیں۔ یہ وہ اقدار ہیں جو آج کے ٹرانزیشن کے دور میں اپنا آپ کھو رہی ہیں۔ لیکن ان عظیم لوگوں کی وجہ سے آج بھی کہیں نہ کہیں نئے لوگوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔

ڈھول ترنگ، آہنگ و یکجہتی کے اظہار کا بہترین اظہار ہے۔ یہ وہ ردھم ہے جو مختلف سوچ وخیال کے لوگوں کے احساست کو ردھم میں ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ دو دن میں اس کا حصہ رہی۔ یہ ردھم کا آہنگ ہم سب میں موجود ہے اس کا ایسا اظہار اور اتنا آرٹسٹک پیغام سماج میں پہنچانا ایک کمال ہے۔ وہ جس نے کبھی انسٹرومنٹ نہ بجایا ہو ان کا بیٹ کو سمجھنا اور اسے بجانا ایک کمال ہے۔ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہیں خوشی میں، آہنگ میں، ردھم میں، محبت میں یہ پیغام اس سے بہتر طریقے سے نہیں پہنچایا جا سکتا۔

الحمرا ان پلگ ایک اور کمال سیشن ایک فیوژن جو لوک موسیقی، کلاسیکل اور جدید موسیقی کو اتنا خوبصورت پیش کرتا ہے کہ آپ جھوم اٹھتے ہیں۔

طلبا کی آواز جتنی یہاں بلند ہے اور محفوظ بھی اتنی کہیں اور نہیں۔ نعرہ بلند کرنا اس کا حصہ بننا، بہتری کا خواب ہر انسان میں موجود ہے وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ اس کے مقاصد کیا ہیں شاید کم ہوں گے لیکن ان کا ساتھ دینے والے بہت سے لوگ ہیں۔ یہ ایک طرح کی افسوس کی بات بھی ہے کہ ہم بنا جانے کسی بھی ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لیکن انسانی فطرت کو دیکھا جائے تو اظہار کی خواہش اور برملا بلند آواز اس کا خاصا ہے زیادہ نہ سہی بہت سوں کا کتھارسس ہی ہو گیا۔

عظیم لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی سانسو‍ کے ساتھ زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ سوچ کے ساتھ جاری و ساری رہتی ہے۔ اور ایسی سوچ جو ہر دور کے لوگوں کو سوچنے پہ آگے بڑھنے پہ ابھارتی ہے۔ ایک ایسا پیغام جو ایک متوازن اور آزاد معاشرے کا ہے اسے اتنی کامیابی سے پھیلانا یقینًا ایک ایچیومنٹ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •