وجاہت مسعود سے اوریا مقبول تک، چند مشہور کالم نگاروں کا ذکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وجاہت مسعود۔ اعلی درجے کی زبان لکھتے ہیں۔ تلخ بات کو شوگر کوٹ کر کے کہنے کا ہنر رکھنے کا ہنر رکھتے۔ تحریر میں ایسے اشارے استعمال کرتے ہیں جن کا ریفرینس حالات حاضرہ اور تاریخ سے واقف افراد کے پاس ہوتا ہے اور وہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ سماجی مسائل اور رویوں پر کبھی کبھار لکھتے ہیں، لیکن جب بھی لکھتے ہیں کمال کر دیتے ہیں۔ ان کا مطالعہ اور یادداشت حیرت انگیز ہے۔

خورشید ندیم۔ سنجیدگی کا مظہر ہیں۔ ان کا کالم منطقی انداز میں علم کا بہتا دریا ہوتا ہے۔ دکھائی دیتا ہے کہ صاحب تحریر جس موضوع پر لکھ رہا ہے اس پر گرفت رکھتا ہے۔

جاوید چوہدری۔ داستان گوئی کے فن میں امام ٹھہرے ہیں۔ کہانی کی بہترین بنت ان کے پڑھنے والوں کو کھینچتی ہے۔ یاد رہے کہ کہانی لکھنے والا کہانی میں دلچسپی کو اہمیت دیتا ہے حقائق کو نہیں۔ یہ ہنر انہیں اردو کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا کالم نگار بناتا ہے۔ انسانوں کو حقائق نہیں کہانیاں پسند ہیں۔

ارشاد بھٹی۔ جو تم کو ہو پسند وہی بات کہیں گے، تم دن کو اگر رات کہو رات کہیں گے۔ یہ تسلیم و رضا ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتی ہے اور ہمیں بھی لطف اندوز ہونے کا بھرپور موقع دیتی ہے۔ ان کے کئی ڈائلاگ تو ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، خاص طور پر بچوں کا دودھ چرانے والا۔

رؤف کلاسرا۔ خوب ریسرچ کرتے ہیں اور کرپشن کا کوئی نیا کٹا ڈھونڈ نکال لاتے ہیں اور اسے کھول کر خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اتنی زیادہ کرپشن اور نا انصافی کے بارے میں جان کر میں تو ہمیشہ ڈپریس ہوتا ہوں۔ ان کے المیہ مضامین کمال ہوتے ہیں۔ اگر یہ ان کا مجموعہ کتابی شکل میں مرتب کریں تو خاصے کی چیز ہو گا۔

حسن نثار۔ قوم کو لعن طعن پسند ہے اور حسن نثار قوم کی یہ ڈیمانڈ پوری کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مقبول ہیں۔ ہم سب کو یقین ہے کہ سیاست دان نہایت کرپٹ ہیں اور ملک کی تمام خرابیوں کی جڑ ہیں۔ اس لئے جب حسن نثار ان کے لتے لیتے ہیں تو ہمیں یہی لگتا ہے کہ وہ حق لکھ رہے ہیں اور حق کے سوا کچھ نہیں لکھتے۔

اوریا مقبول جان۔ قوم کو وہ مال دیتے ہیں جس کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہے۔ وائٹ واکرز کی فوج ان کو اپنا امام مانتی ہے اور قلمی دنیا کا سپہ سالار ٹھہراتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہود و ہنود ان سے لرزتے ہیں۔ لگ رہا ہے کہ ان دنوں جاوید چوہدری یا عمران خان صاحب سے بھی متاثر ہیں۔ چودہ نومبر 2019 کے پروگرام حرف راز میں یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ غزہ جس پر اسرائیل ظلم ڈھا رہا ہے، مصر کے صحرائے سینا کے پار مصری علاقے میں ایک بندرگاہ ہے جس کا اسرائیل نے بحری محاصرہ کر رکھا ہے۔ اس کے چاروں طرف مصر ہے اور ایک طرف سمندر ہے۔ یہ اسرائیل سے کئی سو کلومیٹر دور ہے۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جسے مسلمانوں نے فتح کیا (حالانکہ بحیرہ روم کا یہ شہر فلسطین کے آخری کونے پر واقع ہے ) ۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک غزہ تو فلسطین میں ہے جس پر اسرائیل ظلم ڈھا رہا ہے اور دونوں میں غین پر زیر زبر کا فرق ہے۔ دوسرا قاہرہ کے نواح میں ہے جہاں فرعونوں کے اہرام ہیں۔ اسے کھینچ کر ساحل سمندر پر لانا اور اسرائیل سے محاصرہ کروا دینا بھی کمال ہے۔ بہرحال اوریا صاحب معصوم ہیں، ساری غلطی عربوں کی ہے جو دو علاقوں کا ملتا جلتا سا نام رکھ بیٹھے ہیں۔

اور پھر ابن انشا۔ جو دنیا گول ہے کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہنستے کھیلتے مقامات آہ و فغاں سے گزر جاتے ہیں۔ انہیں پیرس جا کر مونا لیزا کی تصویر یا تعبیر پانے کی نسبت ہوٹل کے کمرے میں موجود ماچس کی ڈبیا یا سوٹ کیس میں پڑی سونف کی پڑیا زیادہ اہم موضوع دکھائی دیتی ہے۔ بیکار چیزوں پر بھی اچھا لکھنا میری رائے میں کمال کی معراج ہے۔ اور یہی کالم نگار مجھے پسند ہیں۔ میں انہیں ہی اپنا مرشد مانتا ہوں۔

اور بھی بہت ہیں۔ تمام کا ذکر ممکن نہیں۔ چند روشن مناروں کا ذکر ہی کیا جا سکتا ہے۔ چراغ حسن حسرت کو پڑھنے کی خواہش ہے لیکن بدقسمتی سے ان کی کالموں کا مجموعہ دستیاب نہیں۔ کسی لائبریرین کے پاس موجود ہو تو ترنت رابطہ کر کے زیربار احسان کرے۔

مجھے قوم کی راہنمائی کرنے کا کوئی خاص شوق نہیں ہے۔ میں صرف اچھا وقت گزارنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہوں۔ خاص طور پر سیاستدانوں کو مشورے دینا کوئی اتنی عقل والی بات نہیں سمجھتا۔ اس کی بجائے انشا کی طرح بے مقصد باتوں پر ہنس کھیل کر وقت گزارنے کو ترجیح دیتا ہوں۔

گلی محلے سے مار کھا کر قومی لیول تک پہنچنے والے سیاسی نابغوں کو ان سب چیزوں کا پہلے ہی علم ہوتا ہے۔ ہم اپنی کرسی پر پڑے پڑے قومی اصلاح کے جو ہوائی قلعے بناتے ہیں وہ انہیں عملی دنیا میں پرکھ چکے ہوتے ہیں۔ بس کالم نگاروں کو اہمیت دینے کی خاطر بھولے بن کر یہ ان سے مشکل سے نکلنے کا مشورہ مانگ لیتے ہیں۔ یہ ان کے مفادات ہوتے ہیں جو ان سے فیصلے کرواتے ہیں۔ اسی وجہ سے کبھی فواد چوہدری کو زرداری میں ملک کا مسیحا دکھائی دینے لگتا ہے اور ایک ہی دن بعد زرداری سب سے بڑی بیماری قرار پاتا ہے اور عمران خان جس وقت تک اقتدار کا مالک ہوتا ہے اس وقت تک ملک و ملت کا نجات دہندہ بن جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1206 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar