سندھ حکومت کتوں سے ہار جاتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھٹو کے شہر لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والا 6 سالہ حسنین کسی بم بلاسٹ کا شکار نہیں ہوا، بلکہ اکیسویں صدی میں کتوں کے کاٹنے سے اپنا پورا چہرہ چھدوا کر زخموں سے چور علاج کے لیے کراچی لایا گیا ہے، کیونکہ لاڑکانہ میں نا تو اس کے علاج کی کوئی سہولت موجود ہے اور نا ہی اس کے درد کی دوا۔ ہاں اگر کچھ موجود ہے تو بھٹو کا قرض یا پھر وہ کھوکھلے نعرے، جن کی بنیاد پر سگ گزیدہ بچے کے والدین، دہائیوں سے اپنی تقدیر ہر بار ان کرپٹ نمائندوں کے ہاتھوں لکھوانے پر مجبور ہیں، جنہوں نے کبھی بھی ایک نظر ان کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ یہ وہ قوم ہے جن کے ووٹ پر سراج درانی جیسے منتخب نمائندے علی الاعلان پیشاب کرتے ہیں، اور یہ لوگ اگلی بار پھر اپنے ووٹ کی حرمت کو بھلا کر ان جیسوں کو دوبارہ اسمبلی میں بھیج کر اپنی غلامی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

ذرا ایک نظر اس معصوم بچے کے زخموں کی طرف دیکھیں اور پھر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے عالمانہ بیان پر بھی غور فرمائیں، جس میں وہ تمام تر برائی کی جڑ بچوں کو جانتے ہوئے فرماتی ہیں کہ ”بچے کتوں کو تنگ کرتے ہیں، اسی لیے کتے بچوں پر حملہ کرتے ہیں۔ اب ہم کتوں کو سنبھالیں یا بچوں کو؟ “ یاد رہے کہ پچھلے سال بھی زرداری صاحب کی ہمشیرہ وزیر صاحبہ نے کتوں کے مسائل اور ان کی نفسیاتی الجھنوں کے بارے میں اپنی ماہرانہ رائے پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہر کتا پاگل نہیں ہوتا بلکہ کچھ اپنے دفاع میں بھی کاٹ لیتے ہیں“ اس بیان کو لے کر محترمہ کافی عرصے تک سوشل میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنی رہی تھیں اور اب بھی بنی ہوئی ہیں۔ لیکن اس پورے عرصے کے دوران محکمہ صحت، محکمہ بلدیات و دیگر اداروں سمیت مجموعی طور پر سندھ حکومت کی کارکردگی محض لفاظی تک محدود رہی ہے اور کسی قسم کے عملی اقدامات سامنے نہیں آئے بلکہ صورت حال مزید بدتر ہوئی ہے اور اس قسم کے واقعات کے تسلسل میں اضافہ ہی دیکھا گیا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق رواں سال صوبے بھر میں 10 ماہ کے دوران سگ گزیدگی کے ایک لاکھ 86 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف کراچی میں آوارہ کتوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ بتائی جا رہی ہے اور ان کے کاٹنے سے کراچی میں روزانہ 150 سے زائد افراد متاثر ہورہے ہیں۔ جبکہ سندھ کے دیگر علاقوں میں اس کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کتے کے کاٹنے سے ہلاکتوں کے واقعات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں، لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ پانچ ہزار سے زائد افراد اس وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں اور ان واقعات میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سرکاری طور پر رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد ہے، اصل صورت حال اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

اکیسویں صدی میں بھی اگر کوئی شخص سگ گزیدگی سے ہلاک ہوجائے یا پھر ہمارے بچے اس حال کو پہنچا دیے جائیں کہ کتے سڑکوں پر ان کے چہروں سے کان، ناک، گال چبا ڈالیں، سر کی کھال تک کھینچ ڈالیں تو یقین جانیے کہ انسان کی اس سے بڑھ کر بے توقیری نہیں ہو سکتی۔ اپنے حقوق کے لیے اور اپنی نسلوں کی حفاظت کے لیے ہر فورم اور ہر سطح پر مزاحمت کریں، کہ اگلی بار جب یہ نمائندے آپ کے دروازے پر ووٹ کی بھیک مانگنے کے لیے اپنی پراڈو سے اتریں تو ان کا استقبال کتوں سے کروائیں تاکہ کسی اور سگ گزیدہ حسنین کو وینٹی لیٹر پر اپنی زندگی کی سانسیں ادھار نہ لینی پڑجائیں۔ شاید غالب اسی وقت کے لیے پکار اٹھا تھا

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ

ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گزیدہ ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •