پاکستانی سیاست میں کیا ہونے جا رہا ہے؟


پاکستان کی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی سے اوپر کا کوئی ڈگری پروگرام شروع کرنا پڑے گا۔ یہ تو بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ لاہور کے فیشن اور کشمیر کے موسم کا کوئی پتہ نہیں ہوتا کب تبدیل ہو جائے لیکن ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس مقولے میں پاکستان کی سیاست کا اضافہ دے کے جاہیں گے۔ ابھی پچھلے سال کی بات ہے الیکشن کے شور میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے تجزیے کیے جا رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کو پاکستان دشمن قرار دے کر کسی بھی قسم کے اتحاد کے امکان کو پی ٹی آئی کی طرف سے بار بار رد کیا جا رہا تھا، شیخ رشید جیسے لوگوں کو سیاست سے دور رکھنے زلفی بخاری جیسے لوگوں کو امپورٹ نہ کرنے حفیظ شیخ جیسے سابق خزانے کے کوتوالوں کو نشان عبرت بنانے کی قسمیں کھائی جا رہی تھیں۔

نواز شریف زرداری مولانا فضل الرحمان جیسے جہاندیدہ سیاست دانوں کی کشتی ڈبونے کے لئے ترکھان کو کشتی میں سوراخ کرنے جیسے مشن سونپے جا رہے تھے۔ اربوں ڈالر کروڑوں نوکریاں لاکھوں بیرون ملک سے مزدور پاکستان آنے کی پیشن گوئیاں کی جا رہی تھیں۔ عوام کو شعور دیا جا رہا تھا کے جب گیس پیٹرول مہنگا ہو تو سمجھ لو کے ملک کا وزیراعظم چور ہے۔

اب یہاں سمجھنے والی صرف ایک بات ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی عوام ذہنی طور پر اس مقام پر کیسے پہنچی کہ جو لوگ یہ خواب دکھا رہے تھے۔

اس سے تھوڑا پیچھے جائیں تو ملک کو بند کرانے یوٹیلٹی بل جلانے بیرون ملک سے پاکستان پیسہ نہ بھیجنے کی ترغیب دلانے سول نافرمانی کی تحریک چلانے ملکی املاک پر حملے کرنے عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دینے بے حیائی عام کرنے پورے ملک سے کرپٹ اور فار سیل سیاستدان اکٹھے کرنے والے، امپائر کی انگلی کے اشارے کے انتظار میں ملک کا تین ہزار ارب روپے کا نقصان کرنے سی پیک کو روکنے والے بھی وہی لوگ تھے۔ پھر اس عوام نے ان پر اعتبار کیوں اور کیسے کیا؟

میں صرف اس نظریعے کا قائل ہوں کہ پاکستان کو یرغمال بنا کر کشمیر کو ہاتھ سے نکالا گیا۔ عوام کی ستر سال کی قربانیاں جانوں کے نذرانے ضائع کیے گئے۔ کشمیری عوام کی امیدوں پر پانی پھیرا گیا اس سازش میں بڑے بڑے عہدے داروں کے ساتھ ساتھ گلی محلے میں رہنے والی وہ عوام بھی شامل ہے جن کے سامنے ماضی قریب کے مصر کی مثال موجود تھی جب ایک جمہوری اور منتخب صدر کو ہٹانے کے لئے بالکل یہی طریقہ آزمایا گیا۔ عوام کو سرخ بتی کے پیچھے لگا کے ملک کا دیوالیہ نکال دیا گیا۔ پھر بھی یہ بھولی عوام ان جاگتی آنکھوں کے خوابوں کے پیچھے بھاگی جن آنکھوں نے جاگنے سے پہلے ملک دشمن سرگرمیاں سر عام اسلام آباد کی سڑکوں پر دکھائی تھیں۔

نواز شریف دو سو ارب ڈالر کی کرپشن سے ہوتے ہوتے پچاس روپے کے اسٹام پر ملک سے جا رہا ہے زرداری بھی جلد ہی جانے والا ہے۔ اور جن لوگوں کو شک ہے کہ نواز واپس نہیں آئے گا وہ امید جواں رکھیں اللہ ان کو صحت دے وہ مارچ یا اپریل یا اس سے پہلے واپس آ جائے گا۔ کیونکہ جو مشکل دیکھنی تھی دیکھ چکا اب بہار آنے والی ہے اور ہر دسمبر کے بعد بہار کی امید جاگ اٹھتی ہے اور نواز شریف بہار سے پہلے پاکستان لوٹ آئیں گے۔ البتہ ن لیگ اور پی پی کی سیاست کے ختم ہونے کی پیشن گوئیاں کرنے والوں کی سیاست عروج سے پہلے ہی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

جس برے انداز میں پی ٹی آئی سیاست سے آوٹ ہونے جا رہی ہے یہ بھی ملک کا نقصان ہے۔ ایک پارٹی کا اضافہ پاکستان کی سیاست میں بہتری کی طرف اشارہ تھا لیکن جس انداز میں اس کی سیاست ختم ہوئی مجھے تو یقین ہے کہ پاکستان کی محب الوطن طاقتوں نے حکیم سعید کی پیشن گوئیوں کے بعد اس مشن پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ  اگر پاکستان دشمن طاقتوں نے اس کو استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس کو روکنا مشکل ہو گا اس لیے اس کا بہترین حل یہی نکالا گیا کے اسے اقتدار میں لا کر اس قدر گرایا جائے کہ عوام کے دل و دماغ میں اس کے لئے ایسی نفرت پیدا ہو کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کی پوزیشن میں ہی نہ رہے۔ اور وہ اس میں کامیاب رہے اور یہ بھی اس میں کامیاب رہے البتہ اس سارے کھیل میں ملک کو نا قابل تلافی تقصان پہنچا۔

چلیں جو ہو گیا اس کا ازالہ ممکن نہیں اور یہ باقی عوام کی طرح ان لوگوں نے خود بھی بھگتنا ہے جو اس میں حصہ دار تھے۔ اب آگے کیا ہونے والا ہے ٹی وی اینکروں کے تبصرے سیاستدانوں کے ہر پل بدلتے بیانات عوام کی بے یقینی کی کیفیت اڑان بھرنے کے لئے تیار ممبران نواز شریف کی پرواز زرداری کی تیاریاں مولانا کا اعتماد ایک نئی کہانی کے پلاٹ کی تیاری ہے۔

جن لوگوں کو مولانا پاکستان کی سیاست میں مردہ گھوڑا نظر آ رہا تھا ان کے لئے یہ کسی صدمے سے کم نہیں کہ اس وقت مولانا ہی اصل سیاست کر رہا ہے۔ جن لوگوں کا خیال تھا کے مولانا اسلام آباد نہیں آئے گا میں نے اس وقت ان کے ذہن سے زنگ اتارنے کی کوشش کی تھی کہ مولانا کے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے، پھر کہہ رہے تھے کہ مولانا آ گیا تو کچھ حاصل کیے بغیر لوٹ جاے گا اور آج جب مولانا لوٹ گئے ہیں تو ان کا خیال ہے کہ وہ خالی ہاتھ ہی لوٹے ہیں لیکن مولانا نے تیرہ دن کے دھرنے سے وہ حاصل کیا جو نواز اور زرداری پچھلے ڈیڑھ سال کی بھاگ دوڑ سے حاصل نہیں کر پائے، مولانا کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ موجودہ اسمبلی کو ختم کر کے دوبارہ انتخاب کروائے جائیں تو وہ اس میں کامیاب رہے اس کے علاوہ وہ سیاست کے مین دھارے میں شامل ہونے وہ مذہبی جماعتوں کا بہترین چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے میں بھی کامیاب رہے۔

دو ہزار بیس الیکشن کا سال ہے لیکن چونکہ وہ محنت ضائع ہونے کا خطرہ موجود ہے جو مسلم لیگ ن کو سیاست سے دور کرنے کے لئے پچھلے دو سال سے کی گئی ہے اس لئے قوی امکان ہے کے نئے الیکشن کے بجاے ان ہاؤس تبدیلی کی کوشش کی جائے گی۔ اگر شیخ رشید اور چوہدری برادران عمران خان کو اس وہم میں رکھنے میں کامیاب ہو گئے کہ اس کی وزارت عظمی کو کوئی خطرہ نہیں اور اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد پیش کر گئیں تو ان ہاؤس تبدیلی ہی متوقع ہے البتہ اگر عمران خان کو محسوس ہو گیا کہ حکومت ان کے ہاتھ سے جانے والی ہے تو وہ اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔

جو بھی ہو یہ بات پکی ہے کے یہ حکومت چلنے والی نہیں اور اسے ہر حال میں گھر جانا ہے البتہ ہماری دلی خواہش ہے کہ جو بھی ہو قانونی پارلیمانی طریقے سے ہو۔ ہم عمران خان کے دھرنے کے بھی خلاف تھے اور مولانا کے دھرنے کے بھی خلاف تھے۔ ملک کے اندر کوئی بھی کام پارلیمان سے ہو کے گزرنا چائیے۔ جب تک آئین اپنی اصلی حالت میں نافذ نہیں ہوتا اور پارلیمان مضبوط نہیں ہوتی کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔

اور یہ سیاست دان یہ جج یہ جرنیل یہ بیوروکریٹ سب ہمارے اندر سے نکلتے ہیں یہ کوئی خلائی مخلوق نہیں ہیں۔ ان کو راہ راست پر لانے کے لئے سڑکوں پر نکلنے ملکی املاک کو نقصان پہنچانے کے کلچر کا خاتمہ ہونا چائیے۔ جب ہم خود رائے راست پر آئیں گے یہ خود بخود رائے راست پر آ جائیں گے۔ جب ہم سرخ بتی کے پیچھے بچوں کی طرح بھاگنا پسند کریں گے تو یہ ضرور ہمیں بھگائیں گے کیونکہ ہم انہیں منتخب ہی اس لیے کرتے ہیں کہ جو کام ہمیں پسند ہو وہ کریں۔ ہم دفتر میں دکان میں بیٹھ کر جتنی کرپشن کرتے ہیں ہماری پہنچ ہی اتنی ہوتی ہے۔ وہ جتنی کرتے ہیں ان کی پہنچ وہاں تک ہوتی ہے۔ اس لیے اوپر والوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے نرسریوں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام ہم میں سے ہر ایک گھر بیٹھ کے کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS