طلبہ ملک و قوم کا سرمایہ
17 نومبر کو طلبہ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ طلبہ کسی بھی سماج، ملک و قوم کا روشن چہرہ ہوتے ہیں اور قوم کی مستقبل بھی انہیں سے وابسطہ ہوتی ہے۔ طلبہ کو علم و تحقیق کے آزادانہ وسیع میدان میسر ہوں تو وہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو آسمان کے افق پر چمکتا ستارہ بنا سکتے ہیں۔ کیونکہ ترقی پسندی، روشن خیالی اور بہترین پالیسیز کی تشکیل کا ہنر وہی طلبہ حاصل کر سکتے ہیں جنہیں وہ ماحول اور سہولیات میسر ہوں۔
ھندوستان کی تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کرنے والا بھگت سنگھ بھی ایک طالب علم تھا۔ بنگلہ دیش کے تحریک کی بنیاد بھی طلبہ ہی کی مزاحمت اور قتل سے شروع ہوئی۔ بلوچستان کے تحریکوں میں تو طلبہ ہر اوّل دستے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
طلبہ کے علمی و عملی صورتحال میں حقیقی کردار تعلیم اور اس کے لیے میسر آزادی و سہولیات ادا کرتے ہیں۔ تعلیم ایک ایسا زیور ہے جس کے بغیر انسان سماجی و اقتصادی ترقی نہیں کر سکتا، طلبہ کسی بھی ملک و قوم کے لیے ترقی کی منزل کے حصول میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں اور اس دور میں اچھے تعلیمی ادارے طلبہ کی اہم ضرورت ہیں۔ کیونکہ طلبہ کو تعمیری عمل اور تربیت کے مراحل طے کرنے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر میں یونیورسٹیوں تک رسائی ہو۔ دیہی علاقوں کے طلبہ کی پہنچ دیگر شہروں میں قائم یونیورسٹیوں تک بہت کم ہے۔
اعلیٰ تعلیم صرف انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لیے بھی سودمند ثابت ہوتی ہے اس لیے ہر سطح پر طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ طلبہ تنظیموں کو عالمی دن کے موقع پر پروگرامز ترتیب دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ عالمی دن کے موقع پر پروگراموں کے ذریعے سے یہ پیغام طلبہ کو دینا ہے کہ انہیں بنیادی ضرورت سے محروم رکھا جارہا ہے طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے حق کی آواز بلند کرنے کے لیے طلبہ تنظیموں سے روابط قائم کریں۔
کیونکہ تنظیم (یعنی اکٹھ) ہمیشہ سے انسان کی ضرورت رہی ہے جس سے وہ ایک دوسرے کے مددگار، معاون استاد ثابت ہوئے ہیں۔ انسان جب جنگلوں میں رہتا تھا تب بھی وہ انفردیت کی بجائے ایک ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا تھا۔ افریقہ کے جنگلوں سے بھی انسان نے جتھوں، ٹولیوں، اجتماع کی صورت میں ہجرت کی اور 11 سال قبل پہلی تہذیب کی بنیاد بھی انسان کے اجتماعی خصوصیات ہی کی بدولت ممکن ہو پایا۔
لہٰذا طلبہ کو ملک و قوم کے لیے خدمت اور نمایاں کام سر انجام دینے کے لیے اکٹھ اور تنظیمی بیٹھکیں لگانی ہوں گی تاکہ اجتماعی طورپر مل کر وہ اپنے ملک و قوم کے لیے کوئی نمایاں کام سر انجام دے سکیں۔


