یہاں پنجابی زبان اور دیگر گالم گلوچ ممنوع ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Sadia\"ابھی کل ہی ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ بس یوں ہی بے سبب، بغیر کسی ایجنڈے، بغیر کسی مقصد کے۔ خدا بھلا کرے انٹرنیٹ کی بدولت میسر ان مفت کی ایپلیکیشنز کا کہ ان بے مقصد بے تکی ملاقاتوں کا سلسلہ صبح کے پہلے پہر سے لے کر رات کے آخری پہر تک بڑی ہی سہولت سے جاری و ساری رہتا ہے۔ کچھ بھی کہئے، آپ کا کون سا بل آنا ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ان خدائی نعمتوں نے تو موبائل فون کمپنیز کے نائٹ پیکیجز کو بھی مات دے دی۔ جب پورے نہیں تو آدھے جہاں کی چغلیاں (جنھیں ہم اپنی پاکیزہ اصطلاح میں تبادلہ اہم معلومات کہتے ہیں) کر چکے تو دل میں آئی کہ کہ اس عظیم ہستی سے اپنے بلاگ کے بارے میں رائے بھی لی جائے۔ بس یوں ہی۔ ناچیز کو دو ہی دن گزرے تھے ایک نیا بلاگ لکھے جو دو چار سوشل میڈیا تبصروں کے بعد ہمارے اپنے ہی خیال میں \’دی نیو انٹرنیٹ کریز \’ تھا۔ سمجھ گئے آپ۔ اصل مقصد تھا اپنی دل کھول کر تعریف سننا اور نہیں نہیں کا ڈرامہ کرنا۔

شومئی قسمت کہ ان حضرت کو اپنے دل کے پھپھولے کھولنے کا نادر موقع مل گیا۔ وہ بخیے ادھیڑے کے ہم کبھی فون کو اور کبھی زمین کو گھورتے۔ بغیر کسی یاری دوستی رشتے ناتے کا لحاظ کے بغیر جھٹ سے ہی فرما دیا \’یار یہ جو تمہارا اردو بلاگ ہے نا یہ کچھ ایسا ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی پینڈو نیا نیا انگلستان آیا ہو اور اپنا پورا زور لگا کر غلط صحیح انگریزی کی دھاک بٹھانے کے چکّر میں اپنے اگلے پچھلے سب سبق سنا ڈالے۔ یار مائنڈ نہ کرنا لیکن کچھ نیچرل نہیں لگتا۔\’

ہم بس اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ \’اٹس اوکے\’ کا راگ الاپتے رہے لیکن مائنڈ بھی بہت کیا۔ اجی یہاں سارا نہیں تو کم سے کم آدھ جہاں تو پکا ہماری زبان دانی کے زمین آسمان سے قلابے ملاتا ہے۔ اِنہوں نے کیا بات کر دی صاحب۔ خیر جلنے والے کا منہ کالا۔ اس عظیم الشان اور بلند و بلا حوصلہ افزائی کے باوجود اپنا لیپ ٹاپ گھٹنوں پر دہرا اور ایک نئے مضمون کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے۔ یوں ہار مان لی تو کیسے چلے گا بھلا۔

لیکن یہاں یہ بھی کہتے چلیں کہ آج سے دس سال پہلے جو کوئی یہی بات کہتا تو سر فخر سے بلند ہو جاتا۔ کچی عمر تھی اور خون جوان۔ عمر رفتہ کی تیس بہاریں اور خزائیں دیکھنے کے بعد وہ ولولہ انگیزیاں کہاں رہتی ہیں۔ بہت خوش ہوتے کہ ہماری اردو تو کچے دھاگے کی طرح کمزور ہے لیکن انگریزی خیبر کے قلعے کی طرح مضبوط۔ دل خوشی سے جھوم جھوم جاتا کہ اپنی مادری زبان میں لفظوں کے محتاج ہیں اور سرکاری زبان میں جذبوں کے۔ جی حضور، اردو کہ مادری زبان ٹھہری اور سرائیکی پدری۔ خدا کا صد شکر ادا کرتے ک کسی دوست کی نظر والد صاحب کے کمرے کی بالائی طاق پر دھری ہیر وارث شاہ کے ضخیم نسخے پر نہیں گئی، وہ پنجابی کا مطالعہ بھی تو کرتے تھے۔ سو ہم کہہ رہے تھے کہ ہم دن بھر انگریزی موسیقی پر سر دھنتے۔ جب کبھی انگریزی تقریری مقابلے جیتتے اور تعریف میں یہ سننے کو ملتا \’اس بچی کی انگریزی تو بلکل نیٹو انگلش اسپیکر والی ہے\’ تو یقین مانئے کہ خون کم از کم ڈیڑھ دو سیر تو بڑھ ہی جاتا ہوگا۔

جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا کہ والد صاحب کی قومیت سرائیکی تھی۔ ہمارے کم سے کم بیس سال پرانے بچپن میں جب کبھی بھی ان کے گاؤں سے ددھیالی رشتےدار سفید لنگی اور کلف سے اکڑے بڑے بڑے پگڑ پہن کر آتے تو ہم تو بس یہی دعا کرتے رہتے کہ کوئی دوست گھر نہ آ جائے۔ اور جو کوئی آ جاتا تو جی چاہتا کے زمین میں سینکڑوں فٹ نیچے خود کو گاڑ لیں اور اس وقت تک تو نہ نکلیں جب تک یہ دوست یا رشتےدار چلے نہ جائیں۔ والد صاحب کا معمول تھا کہ ہر چھٹی پر گاؤں ضرور جاتے۔ صحرا کی تپتی دوپہر میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ بان کی ننگی چارپائی پر بیٹھے ان کے سرائیکی چٹکلوں پر یوں کھلکھلاتے کہ جیسے دو جہانوں کی دولت تو بیٹھے بٹھائے مل گئی ہو۔ دوران سفر بھی علاقائی گیت اور صوفی کلام سنتے جاتے۔ ہم دل ہی دل میں خون جلاتے رہتے کہ ہمارے سب دوستوں کو فلمی گانے ازبر تھے اور ایک ہم تھے کہ انتاکشری میں بھی عطااللہ عیسیٰ خیلوی اور عارف لوہار سے آگے نہ بڑھ پاتے۔ انگریزی گانے ہر جگہ تھوڑا ہی کام آتے۔

خدا کا شکر ادا کرتے کہ اس نے والد صاحب کی ملازمت ایک ایسے شہر میں رکھی جہاں بہترین انگریزی اسکول موجود تھا۔ اشرافیہ کے سوشل سٹینڈرڈ پر فٹ آنے کے لئے بالکل موزوں۔۔۔ اور قسم اٹھوا لیجئے جو کبھی اسکول میں انگریزی زبان کے علاوہ کوئی گالی بھی دی ہو۔ فیسوں کے صدقے ننھی سی عمر میں ہی ایسی گٹ پٹ انگریزی بولتے تھے کہ چھوٹی پھپھو اپنی سہیلیوں کو بلا کر ہمارا بندر کا۔۔۔ اوہ معاف کیجئے گا۔۔۔ انگریزی کا تماشا بڑے ہی فخریہ انداز میں دکھاتیں۔ دادی مرحومہ بھی کڑکڑاتے نوٹ وارے جاتیں۔ قربان ہی جاتیں کہ ہم ان سے انہی کی زبان میں ہی نہیں بول پاتے تھے۔ رشتے داروں میں ہماری فرنگی تہذیب سے آشنائی یعنی \’تمیز\’ کے گن گائے جاتے۔ وہ انگریزی میں کیا کہتے ہیں نا \’پراؤڈ پیکاک\’۔۔۔ ہمارا \’تمیزدار\’ بچپن اسی کا عکاس تھا۔

لیکن وقت تو بنا ہی چلنے کو ہے۔ تھم جائے تو اس کو بھی کائی لگ جائے۔ ایسا زنگ لگے جو کسی ریگ مال سے نہ جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اردو، پنجابی اور سرائیکی ادب میں دلچسپی بڑھنے لگی۔ زبان کی چاشنی اور اپناپن روح کو ایسے سرشار کرنے لگا کہ جیسے اندر باہر چاندنی سی بھر گئی ہو۔ یہ لت کچھ ایسی لاگی کہ دن بدن بڑھتی ہی گئی اور آج ایک لاعلاج مرض کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ احساس ہو گیا کہ جتنی مرضی انگریزی سیکھ جاؤں خواب تو پھر بھی اپنی ہی زبان میں دیکھیں گے نا۔ آج آپ کے سامنے زور لگا کر اردو زبان میں لکھتے ہیں۔ ناقدین کی کڑواہٹ سہتے ہیں۔ کرم فرماؤں کا پیار سمیٹتے ہیں۔

لیکن بات پھر بھی نہیں بن پاتی۔ پھر بھی اچھا نہیں لگتا جب کوئی یہ آئینہ دکھا دے کہ بی بی انگریزی تک ہی رہو۔ تمہاری اردو نیچرل نہیں۔ صاحب، نیچرل ہو بھی کیسے؟ ہم تو اس غیّور قوم سے ہیں جو کسی دوسری زبان میں بھی اپنا لہجہ تک آنے کو \’پینڈو\’ (ناقابل معافی جرم) گردانتی ہے۔ دنیا کی دسویں بڑی زبان کو فاؤل لینگویج کہتی ہے۔ ایلیٹ اسکولوں میں پنجابی بولنا تو درکنار اردو زبان میں سرگوشی تک کی اجازت نہ دیں کہ مبادا بچے کی زبان \’خراب\’ نہ ہو جائے۔ اور یہ جو چند سر پھرے اسے لازمی مضمون بنانے کی لغو باتیں کرتے ہیں؟ چھی چھی۔۔۔ کیسی ناقص الفہم بات کر ڈالتے ہیں۔ بچے کی اپنی زبان سے ناشنائی اور انگریزی سے رغبت پر سر فخر سے اس قدر بلند کر ڈالتے ہیں کہ کوہ قاف کی سب سے بلند چوٹی کو بھی چیر ڈالیں گے۔ محلے کے ان بچوں سے بھی بولنے پر پابندی لگا دیتے ہیں جن کو اپنی زبان بھولنے کا سنہری موقع نہ ملا ہو۔ اور آپ کا مطالبہ ہیں کہ ہم اپنی اسی زبان میں نیچرل بھی ہوں؟ وو کیا کہتے ہیں \’ آدھا تیتر آدھا بٹیر\’۔۔۔ اجی ہمارا تو یہ حال بھی کچھ آگے پیچھے ہی ہے لہٰذا صرف بٹیر چلے گا۔

فرنگی راج میں جب شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیا کرتے تھے تو سنا ہے کہ سرکاری کلبوں میں یہ تحریر صاف آویزاں کر دی جاتی تھی کہ ”کتوں اور ہندوستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے“۔ جیسے کتے اور ہندوستانی ایک برابر ہیں وہ بھی اپنے ہی دیس میں۔

\"beaconhouse\"

بالکل ایسے ہی جیسے آج کے اسکول یہ لکھ کر بانٹ بیٹھتے ہیں ”اسکول میں گالم گلوچ، مثلاً پنجابی زبان، ممنوع ہے“۔ انگلش میڈیم شرفا میں اب گالم گلوچ اور پنجابی زبان ایک برابر ہیں وہ بھی اپنے ہی پنجاب میں۔ آج کے بعد فرنگی آقاؤں کو کوسنا کم کر دیجئے کہ یہاں تو آگ اپنے ہی گھر کے چراغ سے لگی ہے۔

سلام صاحب، چلتے ہیں۔ سر دکھنے لگا ہے۔ ایک تو اردو لکھنے میں دقّت بہت آتی ہے ہمیں۔ افوہ!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments