کسی کا حکم اور اطاعت گزاروں کی بھیڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساری ہوائیں۔

ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں۔

کہ ان کی سمت کیا ہے۔

پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کبھی جمود کا شکار نہیں رہا۔ جمود کو لوگ سٹے بلیٹی کہتے ہیں۔ یہاں ٹھہراؤ کبھی آیا ہی نہیں۔ یہاں شب بھر میں مسجد بنانے والے ہزاروں کی تعداد میں ایک اعلان پر اکٹھے ہو سکتے ہیں، نمازی، آپ کو خال خال ہی نظر آئیں گے۔ یہاں اسحاق خان اور غلام احمد جیسے غلام آپ کو حکمرانی کرتے نظر آئیں گے تو باوردی رعب داب والے ڈھول کی تھاپ پر ہار پہنے، کسی غلام کی موت کا جشن مناتے دکھائی دیں گے۔ اپنا سب کچھ قربان کرکے پاکستان آنے والے لیاقت علی خان، لیاقت باغ میں ہی خون میں لت پت نظر آئیں گے تو ذولفقار علی جیسے سوشلسٹ تختہ دار پر جھولتے دکھائی دیں گے۔

یہاں بت تراشے جاتے ہیں۔ پتھر کے بتوں میں روح ڈالی جاتی ہے انہیں چلنا پھرنا، بولنا چالنا اور آداب حکمرانی سکھائے جاتے ہیں اور جب وہ سیکھ جاتے ہیں، انہیں بیکار کردیا جاتا ہے۔ ان کے چہروں پر سیاہی مل دی جاتی ہے اور سیاہی مائل چہروں کی سیاہ کاریاں میڈیا پر دکھائی جاتی ہیں۔

نواز شریف کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ ایک بت تراشا گیا، پھر اس میں روح پھونکی گئی۔ جب اس کے منہ پر سیاہی ملنے کا وقت آیا تو اس نے سیاہی پھینکنے والا ہاتھ پکڑ لیا۔ پہلی بار کسی نے یہ گستاخی کی تھی۔ اس کو لال قلعے کی سیر کرائی گئی۔ اس نے قلعے میں بادشاہوں کی زندگی کو قید خانے کی جالیوں سے دیکھا۔ وہ زد پر اڑا رہا۔ اس کی بیگم نے تحریک شروع کردی۔ بت تراشوں کو قرض دینے والوں نے آنکھیں دکھائیں تو سزائے موت کے قیدی کو بغیر کسی بانڈ کے اور بغیر کسی عدالت سے ضمانت لئے جلاوطن کر دیا۔

سات سال کی جلاوطنی کے بعد وہ پھر بغیر اجازت وطن میں گھسنے کی کوشش میں اسلام آباد لینڈ کر گیا، مگر باہر نہ نکل سکا اور واپس سعودی عرب روانہ ہوا۔ ایک سال بعد پھر واپس آیا اور انہی عدالتوں سے بری ہوا۔ تیسری بار وزیراعظم بنا اور پھر اپنے ہی سنگتراشوں کے ہاتھوں رسوا ہوا۔ اس کی بیرون ملک موجودگی میں اس کو سزا سنائی گئی۔ وہ بیمار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر بیٹی کے ساتھ واپس آیا۔ اسے واپس آنے سے روکا گیا مگر وہ اپنی مرضی سے جیل چلا گیا۔ ایک بار پھر اسی کھیل کے تحت اس کو باہر بھیج دیا گیا۔

عمران خان کا خوبصورت بت تراشا گیا۔ اس کو صادق اور امین قرار دلوایا گیا۔ بڑے بڑے شیروں کو ڈنڈے کے زور پر پی ٹی آئی کے پٹے ڈالے گئے۔ ایک کمزو سی سول حکومت بنائی گئی۔ اس کے پیچھے وردی کی فوٹو لگا کر اس کو طاقتور کیا گیا۔ کمزور تنے پر سرسبز اور گھنی شاخوں کا بوجھ ڈالا گیا۔ اس کی ٹہنیوں پر ٹراسپلانٹ لگائے گئے۔ مگر یہ پودا پھل پھول نہ سکا۔ پھولوں کی جگہ اس درخت پر خار اگنے لگے۔ مالی پریشان ہے۔ وہ اس درخت کو پانی لگا لگا کر تھک چکا ہے۔ اب اس درخت کی شاخیں کٹنے کا موسم آگیا ہے۔

نواز شریف جیسے آیا تھا ویسے ہی نکل گیا۔ شاید وہ خود کچھ عرصہ جیل میں رہ کر اپنی سیاست پکی کر رہا تھا۔ اپنی پارٹی کو اگلی ٹرم کے لئے پاور میں لانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اپنی بیٹی کا مستقبل روشن کر رہا تھا یا بھائی کی حکومت پر اطمینان کرنا چاہتا تھا، یہ تو وقت بتائے گا۔ عمران خان کی حکومت مگر لرز رہی ہے۔

فضل الرحمان کی اسلام آباد آمد اور روانگی، ایک پر اسراریت لئے ہوئے ہے اور اس کا پر اعتماد لہجہ بھی بہت کچھ بتا رہا ہے۔ پرویز الہی کے حالیہ انٹرویوز بھی پرانی کہانی کو نیا موڑ دیتے نظر آتے ہیں۔ ایم کیو ایم کا بدلتا لہجہ اور پیر پگاڑا کی مایوسی، دانا و بینا لوگوں کے لئے خاصا ساز و سامان رکھتی ہے۔

چیرمین نیب کی تقریر موجودہ حالت کو ایک نیا رخ دیتی نظر آتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ نیب اب تک پچھلے تیس سال کے رکے ہوئے کیس نمٹا رہی تھی۔ (اگرچہ ابھی تک کوئی سیاسی کیس سوائے نواز شریف، نہیں نمٹایا) اب گزشتہ چودہ ماہ کی ہونے والی کرپشن کو دیکھیں گے۔ ہوا کا رخ بدل رہا ہے اور؛

ہوائیں اور لہریں۔

کب کسی کا حکم سنتی ہیں۔

اب مالم جبہ کیس لگے گا اور ہیلی کاپٹر کیس کا حساب ہوگا۔ پارٹی فنڈنگ کیس بھی اب کھلنے والا ہے۔

عمران خان نے نواز شریف کا ملبہ عدالت پر ڈالنے کی جو بھونڈی کوشش کی ہے اس کے جواب میں چیف جسٹس نے بھی ان کو وارننگ دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے ”احتیاط کریں“۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ عدالت اس سے پہلے ایک وزیر اعظم کو سزا دے چکی دوسرے کو نا اہل کر چکی۔

کسی کا حکم ہے

دریا کی لہریں

یہ سرکشی کم کرلیں۔

اپنی حد میں ٹھہریں۔

ملک میں یہ تماشا چل رہا ہے۔ اور خزاں کا موسم اپنے زرد پتوں اور ٹھنڈی خشک ہوا کے ساتھ پھر لوٹ آیا ہے۔ پت جھڑ شروع ہو چکی۔ اسی اداس موسم میں فیض کی برسی آئی ہے۔ پاکستانی عوام نے ویسے تو کبھی بہار کا موسم دیکھا ہی نہیں کبھی دیش میں ”چپکے سے بہار“ آ بھی جائے تو جلد ہی غریب کی جوانی کی طرح ڈھل جاتی ہے۔ غلامی ہے کہ جانے کا نام نہیں لیتی۔ کیا کریں؟

چلتے ہیں دبے پوں، کوئی جاگ نہ جائے۔

غلامی کے اسیروں کی یہ خاص ادا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •