انقلاب مؤخر نہیں ہوا! سول سپریمیسی کے انقلاب کی راہ ہموار ہوئی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف صحافی، اینکر اور کالم نگار کا کالم ”دوستو! انقلاب مؤخر ہوا“ کے عنوان سے معروف بلاگنگ ویب سائٹس پر شائع ہوا ہے۔ جس میں محترمہ نے سابقہ و موجودہ سیاسی حالات کی منظر کشی کی ہے۔ ہو سکتا ہے، موجودہ سیاسی منظر نامہ سول سپریمیسی کا خواب دیکھنے والوں کی اکثریت کے لیے مایوس کن ہو۔ چونکہ محترمہ عاصمہ شیرازی نے جو سیاسی تجزیہ کیا ہے، وہ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہوئے کیا ہے۔

سول سپریمیسی کے لیے جنگ کا آغاز جنرل ایوب خان کے دور میں ہوا۔ جب مرحومہ فاطمہ جناح صدارتی انتخاب کے لیے بمشکل راضی ہوئیں۔ جنرل ایوب خان نے اپنی جیت کے لیے کیا کیا ہتھ کنڈے استعمال نہیں کیے، یہاں تک کہ اخباری اشتہارات کے ذریعے مرحومہ فاطمہ جناح کی کردار کشی کی اور غدار تک قرار دیا۔ جنرل ایوب خان نے دھاندلی کر کے انتخاب تو جیت لیا۔ لیکن عوام کی نظروں میں جنرل ایوب خان نہیں، مرحومہ فاطمہ جناح سرخرو ہوئیں۔

جنرل ایوب خان صدارتی انتخاب توجیت گئے۔ لیکن عوام کی نظروں میں گر گئے اور پھر ان کے خلاف ایسی عوامی تحریک چلی، کہ چپ چاپ استعفا دے کر گوشہ نشین ہو گئے۔ یہ سول سپریمیسی کی جیت کی پہلی ہلکی سی جھلک تھی۔ مارچ 1969 میں جب جنرل یحیی خان نے اقتدار سنبھالا، تو اگلے سال عام انتخابات کا اعلان کیا۔ ۔ عام انتخابات منعقد ہوئے اور ان انتخابات کو اب تک وطن عزیز میں تمام عام انتخابات کے مقابلے میں سب سے زیادہ صاف و شفاف و منصفانہ قرار دیا جاتا ہے۔ ستر کے صاف و شفاف اور منصفانہ عام انتخابات بھی عوام اور اہل سیاست اور سول سپریمیسی کی جیت تھی۔

لیکن جنرل یحیی خان نے عوام اور اہل سیاست کی جیت کو تسلیم نہیں کیا اور اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل نہیں کیا۔ نتیجتاً، وطن عزیز مشرقی بازو سے محروم ہو گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد عوام کے ساتھ مسلح افواج نے بھی جنرل یحیی کو بطور صدر پاکستان اور فوجی سربراہ ماننے سے انکار کر دیا۔ جنرل یحیی خان صدارت اور فوج سے استعفا دے کر اور اقتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کر کے گوشہ نشین ہوگئے۔ یہ بھی سول سپریمیسی کے لیے عوامی جدوجہد کی دوسری جیت تھی۔

لیکن وطن عزیز جب سول سپریمسی سے چند قدم کے فاصلے پر تھا، تو اہل سیاست کی باہمی چپقلش کا فائدہ جنرل ضیاءالحق نے اٹھایا اور اقتدار پر قابض ہو گئے۔ جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک چلی۔ جس کے نتیجے میں جنرل ضیاءالحق غیر جماعتی انتخابات کرانے پر راضی ہوئے۔ اور انتخابات کے بعد مرحومہ بے نظیر بھٹو کی اپریل 1986 میں وطن عزیز میں واپسی ممکن ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق کی فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد مجوزہ عام انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر ہی ہونے تھے۔ لیکن جماعتی بنیادوں پر ہوئے اور مرحومہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں۔ یہ بھی سول سپریمیسی کی طرف ایک بڑا قدم تھا۔

صدر غلام اسحق نے بد عنوانی کے الزامات لگا کر پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کی۔ تو عام انتخابات ہوئے اور آئی جے آئی کامیاب ہوئی۔ محترم میاں نواز شریف وزیر اعظم تو بن گئے۔ لیکن ان کی کامیابی کی چکا چوند آپریش مڈ نائٹ جیکال اور مہران بینک اسکینڈل میں کے نتیجے میں ٹمٹما گئی۔ اور صدر غلام اسحق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت بھی ان ہی الزامات کے تحت برخاست کی، جیسے پیپلز پارٹی کی حکومت کی برخاستگی کی تھی۔ لیکن میاں نواز شریف عدالت عظمی گئے۔ جہاں ان کو انصاف ملا اور ان کی حکومت بحال ہو گئی۔ مقتدر حلقوں نے اپنی اس شکست کو تسلیم نہیں کیا۔ نتیجتاً، صدر اور وزیر اعظم دونوں کو استعفا دینا پڑا۔ صدر غلام اسحق خان کا استعفا بھی سول سپریمیسی کی جیت ہی تھی۔

اقتدار پھر پیپلز پارٹی کو ملا اور پھر ان ہی کی پارٹی کے نامزد کردہ صدر نے مقتدر قوتوں کا آلہ کار بنتے ہوئے، پیپلز پارٹی کی حکومت کو گھر بھیج دیا۔ اقتدار پھر مسلم لیگ ( ن ) کو ملا اور کچھ عرصے بعد جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ لیکن سول سپریمیسی کی جنگ جاری رہی۔ اور ایک وقت ایسا آیا، کہ مکا لہرا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے والا جنرل پرویز مشرف، سیاست دانوں کے رحم و کرم پر آ گیا اور وردی اتارنے کے عوض صدارت کی طلب کرنے لگا۔ صدارت تو مل گئی، لیکن مؤاخذے کی تحریک کی تاب نہیں تھی، تو استعفا دے کر اپنی جان چھڑائی۔ یہ بھی سول سپریمیسی کی جیت تھی۔

گزشتہ دس سال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) نے جن نا مساعد حالات اور مقتدر حلقوں کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، اپنے پانچ سالہ دور مکمل کیے ہیں اور مقتدر حلقوں کو اقتدار کے مرکز سے دور کیا ہے۔ یہ بھی سول سپریمیسی کی جیت ہے۔ مقتدر حلقوں نے مسلم لیگ ( ن ) اور پیپلز پارٹی کو وفاق اور پنجاب سے اقتدار سے بذریعہ عام انتخابات 2018 بے دخل تو کر دیا۔ لیکن موجودہ حکومت کی ناکامیوں کے بعد مقتدر حلقے ہی بدنام ہوئے۔ اور حالیہ آزادی مارچ میں جس طرح مقتدر حلقوں کو وا شگاف الفاظ میں سیاست میں مداخلت سے باز رہنے کی بات کی گئی ہے۔ اور آزادی مارچ کے دباؤ کی وجہ سے حزب اختلاف پر سے جو تھوڑا بہت دباؤ کم ہوا ہے اور حکومت وقت پر پڑا ہے۔ یہ بھی سول سپریمیسی کی جیت ہے۔

آزادی مارچ تو اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ لیکن اس کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔ اور یہ اثرات سول سپریمیسی کی جدوجہد کے لیے مدد گار اور موافق ہیں۔ بہتر سالوں میں آمروں اور مقتدر حلقوں کے خلاف جتنی بھی عوامی تحاریک چلی ہیں۔ مقتدر حلقے عوام کی نظروں میں اتنے ہی عیاں ہوئے ہیں۔ موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ محلاتی سازشوں کی عوام کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ محلاتی سازشوں کی پل بھر میں خبر عوام تک پہنچ جاتی ہے۔

اور عوام ایسے عناصر کا ناطقہ بند کر دیتے ہیں۔ اور پھر ایسے عناصر ٹوئٹس اور بیانات کے ذریعے وضاحتیں دیتے پھرتے ہیں۔ آزادی مارچ سے کسی بڑے سیاسی انقلاب کی توقع تو پہلے بھی با شعور عوام کو نہ تھی۔ آزادی مارچ کے جو اہداف ہیں، اس کی طرف پیش رفت کی امیدیں ہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے، کہ آزادی مارچ کے بعد انقلاب مؤخر نہیں ہوا، بلکہ سول سپریمیسی کے انقلاب کی راہ مزید ہموار ہوئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •