1977 کا سبق : پانچ جولائی سے پہلے سنبھل جائیں تو بہتر ہے
سلیم صافی صاحب کے پروگرام ’جرگہ‘ میں فضل الرحمن صاحب نے دھرنے کے ختم ہونے کے بعد بھی اپنی تحریک کے کامیابی سے چلنے کی یقین دہانی دلاتے ہوئے یہ خبر بھی سنائی کہ ان کی تحریک کے نتیجہ میں موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے حکومت کو دھاندلی کی پیداوار اور ’ناجائز‘ حکومت قرار دیا۔ اس کے بعد یکلخت سیاسی درجہ حرارت میں تلخ کلامی کے رحجان میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ وزیر ِ اعظم نے ایک تقریر میں بلاول صاحب پر طبع آزمائی کرنے کے علاوہ ’ڈیزل کے پرمٹوں‘ کا حوالہ دے کر حاضرین کو لطف اندوز کیا۔ مفتی محمود صاحب اور بلاول صاحب دونوں کے خاندان اور سیاسی پارٹیاں ایک طویل سیاسی ماضی رکھتے ہیں۔ اور یہ ماضی سبق حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور عمران خان صاحب کے لئے ضروری نہیں کہ وہ ہر اُس غلطی کو دہرائیں جو ماضی کے سیاستدان کرتے رہے ہیں۔
سب سیاستدان کچھ یاد کریں۔ یہ پہلی مرتبہ تو نہیں کہ حکومت کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیا گیا ہو۔ 1977 کا سال مجھے یاد ہے اورسیاستدانوں کو تو بخوبی یاد ہو گا۔ وزیر ِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے 7 مارچ 1977 کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ایک منتخب حکومت انتخابات کرا رہی تھی۔ اگر یہ روایت مستحکم ہو جاتی تو پاکستان میں جمہوری روایات مستحکم ہو سکتی تھیں۔
اس اعلان کے فورا ً بعد اپوزیشن کی نو جماعتوں نے قومی اتحاد کے نام سے اتحاد بنایا اور اپنی پُر زور انتخابی مہم شروع کی۔ فضل الرحمن صاحب کے والد مفتی محمود صاحب اس اتحاد کی قیادت کر رہے تھے۔ 16 جنوری کے اخبارات میں مفتی محمود صاحب کا بیان شائع ہوا کہ اس حکومت کے تحت شہری آزادیاں سلب کی گئی ہیں۔ ان کی بحالی سب سے اہم ہے۔ اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اسلامی آئین کی طرف پیش رفت نہیں ہو رہی۔ حالانکہ نیا آئین اُن کی تائید سے منظور ہوا تھا بلکہ اس کے منظور ہونے پر دعا بھی انہوں نے ہی کرائی تھی۔
دو دن بعد مفتی صاحب نے اعلان کیا کہ کبھی مہنگائی میں اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا اس حکومت کے دور میں ہوا ہے۔ بھٹو حکومت نے صحافت کی آزادی کو سلب کیا ہے اور ہم صحافت کو آزاد کرائیں گے۔ جو پڑھنے والے بعد میں پیدا ہوئے ہیں، انہیں بھی یہ بیانات کچھ سنے سنے لگ رہے ہوں گے کیونکہ حالیہ دھرنے کے دوران فضل الرحمن صاحب بھی بالکل ایسے ہی بیانات دیے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ 1977 میں ان کے والد کا نشانہ بھٹو صاحب تھے اور اب بھٹو صاحب کے سیاسی وارث ان پہلو میں کھڑے ہو کر ان کے دھرنے میں تقریر کر رہے تھے۔
اور اب اُن کا نشانہ وزیر ِ اعظم عمران خان صاحب ہیں۔ جب 25 جنوری 1977 کو قومی اتحاد حیدر آباد میں بہت بڑا جلسہ کیا تو مفتی محمود صاحب نہ کہا کہ اس جلسے سے ہماری فتح ثابت ہو چکی ہے۔ بلکہ بعد میں پشاور اور لاہور کے جلسوں کو دیکھ کر مفتی صاحب نے کہا تھا کہ انسانوں کے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر اس بات کی علامت ہیں کہ حکمرانوں کا سورج غروب ہو رہا ہے۔ اصغر خان صاحب نے کہا کہ الیکشن تو ہم جیت چکے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے اب دھرنے میں شامل لوگوں کی تعداد دیکھ کر فضل الرحمن صاحب نے اپنی فتح کا بگل بجا دیا تھا اور ایسے بیانات دیے تھے کہ عوام کا فیصلہ تو آگیا ہے۔
اس لئے حکومت کو رخصت ہوجانا چاہیے۔ جنوری کے آخر میں ہی مفتی صاحب نے اعلان کیا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اور یہ بیان بھی بار بار دیا کہ انکم ٹیکس کو ختم کر کے زکوۃ اور عشر کو نافذ کی جائے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے اب فضل الرحمن صاحب نے اسلامی معیشت کے نفاذ کی بات کی ہے۔ جماعت ِ اسلامی کے قائد طفیل محمد صاحب نے نواب شاہ کے جلسے میں ایک ایک چیز کی قیمتیں گنوا کر یہ ثابت کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ بیانات سامنے آئے کہ ہم قیمتوں کو سات سال پہلے کی سطح پر لے جانے کا معجزہ دکھائیں گے۔ بالکل اسی طرح آج کل موجودہ حکومت کے مخالف ایک ایک چیز کی قیمت کا ماضی سے موازنہ کر کے لاجواب کر دیتے ہیں۔
آج کل موجودہ حکومت پر کشمیر کا سودا کرنے کا الزام لگتا ہے اور فضل الرحمن صاحب نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ شملہ معاہدہ ختم ہونے کا اعلان کیا جائے۔ 1977 میں اس قسم کے الزامات بھٹو صاحب پر لگ رہے تھے۔ فروری 1977 کے آخر میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے قومی تحاد کے اہم لیڈر شاہ احمد نورانی صاحب نے ایک جلسے میں اعلان کیا تھا کہ ہم شملہ معاہدہ ختم کر کے کشمیر کا فیصلہ بزور ِ شمشیر کریں گے۔ لطیفہ یہ ہے کہ اسی جلسے میں مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال کر بھارتی جنرل کو گارڈ آف آنر پیش کرنے والے جنرل نیازی صاحب بھی خطاب کر کے لوگوں کے خون کو گرما رہے تھے۔ یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ قومی اتحاد کا جلوس 130 میل تک لمبا تھا۔ اور تحریک ِ پاکستان کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔
پھر کیا ہوا؟ 7 مارچ کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی۔ اپوزیشن نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور یقینی طور پر یہ الزامات بالکل غلط نہیں تھے۔ حکومت کے خلاف تحریک اور زور سے چلائی گئی۔ پہیہ جام ہوا۔ زندگی مفلوج ہوگئی۔ فوج طلب کی گئی۔ کچھ شہروں میں مارشل لاء لگایا گیا۔ حکومت نے گھٹنے ٹیکنے شروع کیے۔ مذاکرات شروع ہوئے۔ یہ امید نظر آنے لگی کی کسی فارمولے پر مفاہمت ہوجائے گی کہ پانچ جولائی کو ہم نے خبر سنی کہ ملک میں مارشل لاء لگادیا گیا ہے۔ جنرل ضیاء صاحب 90 دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ لے کر آئے اور پھر یہ نوے دن تاریخ کے طویل ترین نوے دن ثابت ہوئے۔
بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی۔ وہ اس بات سے خائف تھے کہ قومی اتحاد کی حکومت نہ آجائے۔ مگر اس سے برا اس اتحاد کی حکومت میں بھی کیا ہو سکتا تھا؟ مفتی صاحب جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو جمہوریت پاکستان میں شجر ِ ممنوعہ بن چکی تھی۔ قومی اتحاد صاحب والے بھٹو صاحب کے دور کو تو غیر جمہوری سمجھتے تھے لیکن ضیاء صاحب کی کابینہ میں شامل ہونے میں انہیں کوئی قباحت نظر نہ آئی۔ مفتی محمود صاحب نے تحریک چلاتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ یہ تحریک شہری آزادیوں اور جمہوریت کو بحال کرے گی۔
اس تحریک کے نتیجہ میں جو دور شروع ہوا اس میں ان دونوں کا وہ حشر ہوا، جس کی مثال ہماری تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ گیارہ سال بعد بھی نفاذ ِ اسلام کا کام نہ ہو سکا۔ یہ تحریک چلی تھی کہ صحافت کو آزاد کرایا جایا گا۔ جو دور آیا، اس میں صحافیوں پر تشدد کر کے صحافت کو آزاد کیا گیا۔ مہنگائی کا گراف بھی اوپر سے اوپر ہی جاتا رہا۔ کشمیر نے کیا آزاد ہونا تھا، سیاچین بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ آخر میں مفتی صاحب کے بیٹے فضل ا الرحمن صاحب بھٹو صاحب کی بیٹی کے ساتھ جمہوریت اور سیاست کے مردے میں جان ڈالنے کے لئے ایم آر ڈی کی تحریک چلا رہے تھے۔ آخر ہمارے سیاستدان یہ سبق کب حاصل کریں گے کہ اختلافات کو ایک حد میں ہی رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ رات کے ختم ہونے کے بعد جو دن چڑھتا ہے وہ رات سے بھی زیادہ تاریک ہو سکتا ہے۔ اس لئے پانچ جولائی سے پہلے ہی سنبھل جائیں تو بہتر ہے۔


