لاہور پریس کلب میں دو کہانی کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور پریس کلب پنجاب کا سب سے بڑا اور اہم ترین صحافتی مرکز ہے۔ ملکی سطح پر لاہور پریس کلب، کراچی پریس کلب، اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد تین نمایاں ترین صحافتی مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور پریس کلب اور کوئٹہ پریس کلب بھی اہم صحافتی مرکز ہیں۔ لاہور پریس کلب کی موجودہ قیادت صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد عابد نے ممبر گورننگ بادی عمران شیخ کی زیر نگرانی ایک لائبریری کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد پریس کلب کی لائبریری میں ادبی تقریبات منعقد کروانا تھا۔

راقم اس کمیٹی کا رکن ہے۔ اس سلسلے کی دو اہم تقریبات جو راقم کی ذاتی کاوشوں کے نتیجے میں پریس کلب کی لائبریری میں منعقد کی گئی ان کی روداد قلم بند کر رہا ہوں۔ ابھی اس ایک ماہ سے زائد وقت ہے موجودہ باڈی کے پاس ممکن ہے ایک اور تقریب ہو جائے۔ پہلے میں ممبر گورننگ باڈی عمران شیخ کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جو لائبریری کمیٹی کے نگران تھے۔ ان کے بھرپور تعاون کے بغیر ان تقریبات کا انعقاد ناممکن تھا۔ لہٰذا ان کی تعریف نہ کرنا زیادتی سمجھتا ہوں۔

اردو زبان اور ادب برصغیر میں دیگر بولی جانے والی زبانوں کے مقابلے میں کم عمر ہے۔ دیگر تمام زبانیں خاصی قدیم ہیں۔ جب برصغیر میں آئے تو اپنے ساتھ عربی اور فارسی لے کر آئے۔ ان دو زبانوں کے ملاپ جو زبان وجود میں آئی اسے ہم اور آپ اردو کے نام سے جانتے ہیں جو ہمارے وطن کی قومی زبان ہے۔ اردو زبان میں ایسا جاندار ادب تخلیق ہو چکا ہے جو کسی بھی صورت میں عالمی سطح پر پرکھا جائے تو کسی بھی زبان سے کمتر نہیں ہوگا۔

ہمارے حکمران طبقے کی نالائقی کی انتہا کے آج تک ہم اپنی زبان کے ادب کو دنیا کے سامنے ڈھنگ سے پیش نہیں کر سکے۔ شاعری، ناول، افسانہ، ڈرامہ، سفرنامہ، مضمون نویسی، خطوط، انشائیہ، طنزومزاح حتی کہ ایسی صنف ہے جس میں اردو ادب میں کام نہیں ہوا۔ فکشن اردو ادب کا ایک بہت ہی مضبوط پہلو ہے۔ اردو کا پہلے افسانہ نگار منشی پریم چند اور پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد تھے۔ ان کے بعد ایسے ایسے چاند ہندوستان کے ادب پر چمکے جن کی روشنی کے آگے ہر چیز ماند پڑ گئی۔

افسانے کی بات کی جائے تو پریم چند، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، حسن عسکری، احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین آتے ہیں۔ ناول میں ڈپٹی نذیر احمد، قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، شوکت صدیقی، عزیز احمد کا ڈنکا بجتا نظر آتا ہے۔ یہ سلسلہ ان ناموں کے بعد رک نہیں جاتا بلکہ قیام پاکستان کے بعد اردو ادب میں فکشن اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد، محمد خالد اختر، منشایاد، رشید امجد، رشید مصباح، سمیع آہوجہ، رحمان مذنب، یونس جاوید، امجد طفیل، ڈاکٹر عالم خان، عاصم بٹ، غافرشہزاد، اسد محمد خان، نیر اقبال، حسن منظر، آصف عمران، آزاد مہدی، خالد فتح محمد، محمود احمد قاضی، نسیم بیگ، عبدالوحید اعجاز فکرال اور راقم بھی اس فہرت میں سب سے آخر میں آتا ہے۔ یہ سب نام اپنی اپنی جگہ بہت اہم ہیں۔ ادیبوں کی ٹاپ ٹین درجہ بندی جاری نہیں کی جا سکتی کیوں ادب ان تمام باتوں سے بلند ہوتا ہے۔ یہ سب نام اپنی اپنی تخلیقات کے ذریعے ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔

رشید مصباح ان ناموں میں سے ایک اہم ترین نام، 70 ء کی دہائی میں انہوں نے افسانہ لکھنا شروع کیا اور اب تک لکھ رہے ہیں۔ ان کی افسانوں کی تین کتابیں، ”سوچ کی داشتہ“، ”گم شدہ آدمی“ اور ”برے آدمی کا سچ“ شائع ہو چکی ہیں۔ ایک ناول چند ن بانی وہ طوفیل عرصے سے لکھ رہے ہیں جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ رشید مصباح ایک نظریاتی کہانی کار ہے۔ ان کو ادب کے ساتھ ساتھ بایاں بازو کا بھی بہت شوق ہے بلکہ جنون ہے۔

وہ اپنی ادبی مصروفیات میں سے وقت نکال کر بایاں بازو کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی مختلف نظریاتی کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ ذریعہ معاش ان کا درس و تدریس ہے۔ مختلف کالجوں میں پڑھاتے رہتے ہیں۔ لاہور پریس کلب لائبریری کمیٹی نے ان کے اعزا زمیں بھی تقریب رکھی جس کے مہمان خصوصی معرو ف شاعر قائم نقوی تھے۔ ڈرامہ نگار، ناول نگار ریاظ احمد، افسانہ نگار عبدالوحید، شاعر واصف اختر، افسانہ نگار آدم شیر اور صحافی ادیب، فہیم اختر اور طاہر اصغرنے رشید مصباح کے فن پر اظہار کیا تھا۔

دوسری تقریب عاصم بٹ کے ساتھ رکھی گئی جن کے تین ناول اور ایک افسانوں کی کتاب شائع ہو چکی ہے۔ حال ہی میں ان کا ناول ”بھید“ شائع ہوا ہے جسے ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی ہے۔ عاصم بٹ فکشن کے علاوہ ترجمے بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کافکا کی کہانیوں کے ترجمے کیے، اس کے علاوہ عہد سازناول نگار عبداللہ حسین پر بھی ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔ عاصم بٹ اس وقت اکادمی ادبیات لاہور کے روح رواں ہیں۔ ان کے اعزاز میں بھی لاہور پریس کلب لائبریری کمیٹی نے ایک شام کا انعقاد کیا۔

جس میں اقبال حیدر، فیصل اقبال، م سین بٹ، رشید مصباح، عبدالوحید، بابر ریاض نے اظہار خیال کیا۔ عاصم بٹ کی کہانیوں کی زبان لاہوری ہوتی ہے۔ اندرون شہر کی گلیوں میں جابجا بکھرے موضوعات کو عاصم بٹ اپنی تخلیقات کا حصہ بناتے ہیں۔ وہ اپنی مٹی اور اپنی تہذیب سے جڑے ہوئے ادیب ہیں۔ ان کا تخلیقی سفر جاری ہے۔ ہماری حتی الامکان کوشش ہے کہ لاہور پریس کلب کی لائبریری کو علم ادب کا گہوارہ بنایا جائے اور شہر میں بسنے والے ادیبوں کے ساتھ شامیں منائی جائیں۔ ہمیں اس روایت کو ختم کرنا ہوگا کہ کسی ادیب کے مرنے کے بعد تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا جائے۔ اپنے زندہ ادیبوں کو یاد رکھنا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کام کے لیے لاہور پریس کلب کی لائبریری حاضر ہے۔ جہاں ہم بیٹھ کر ادب کی سیر حاصل گفتگو کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •