مقابلے کا وقت

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کرونا فنڈ اور ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس فورس کے قیام کا بنیادی مقصد وبا کے دونوں میں سخت لاک ڈاؤن میں جسے کہ آج سے مارکیٹ اور دکانیں 5 بجے بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ٹائیگر فورس غریب اور مستحق افراد کے گھروں تک راشن اور پہنچانے کا کام کرے گی اس فورس کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف کے

Read more

شخصیت سازی کی ضرورت

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے وبا کے دنوں میں ایک معاشی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔، پٹرول 15 روپیہ کم کر دیا ہے۔، روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لیے 200 ارب روپے اور ایکپسوٹ انڈسٹری کے لیے 100 ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ اس ریلیف پیکج کو بہت شاندار قرار نہیں دیا جاسکتا ریاست کو اس سے بڑھ کر عوام کا خیال رکھنا چاہیے مگر اس بحران زدہ اور

Read more

ڈاکٹر مبشر حسن کی باتیں

ان سے ملاقاتوں کا احوال لکھنے بیٹھیں تو یادوں کے کئی بند دریچے کھل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر مبشر حسن بڑے انسان تھے۔ بھٹو صاحب کے وزیر خزانہ رہے۔ بعد میں ان سے اصولی موقف پر وزارت چھوڑی۔ جب بھی میں ان سے پوچھتا کہ آپ نے وزارت کیوں چھوڑی کیا بھٹو صاحب آپ کی وزارت میں بطور وزیراعظم مداخلت کرتے تھے وہ نفی میں سر ہلا دیتے۔ ڈاکٹر صاحب کا موقف تھا۔ پاکستان میں طاقت کے اصل مراکز کہیں اور

Read more

تھانہ کلچر اور پولیس اصلاحات

قیام پاکستان کے بعد سے اب تک پولیس میں اصلاحات ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے ہر حکومت نے پولیس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے حیرت سے انگیز طور پر سول سروس اور فوج سے پولیس میں جانے والے افسر بھی تھانہ کلچر اور پولیس میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا سول سروس اور فوج سے پولیس میں جانے والے بھی پولیس کے رنگ میں رنگتے گئے۔ آج محکمہ پولیس پر

Read more

سماج میں شدت پسندی

یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ہم یہ تو بڑی شدت سے چاہتے ہیں کہ بھارت سیکولر ملک کا تشخص برقرار رکھے اور یہ مطالبہ کرتے ہی ہم اپنی آواز بڑی بلند کر لیتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان بھی اکثر ٹویٹ کرتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے گاندھی اور نہرو کی روایات کا خاتمہ کر دیا ہے۔ سیکولر بھارت عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ وزیراعظم یہ بھول جاتے ہیں اگر قائداعظم محمد علی جناح نے بھی

Read more

”میں“ اور ”شجر حیات“ ایک مطالعہ

خالد فتح محمد عصر حاضر کے اہم ترین ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں ان کے اب تک 6 افسانوی مجموعے اور 8 ناول شائع ہو چکے ہیں اس کے علاوہ تراجم کے حوالے سے کافی کام کیا ہے۔ 4 ترک ناولوں اور ایک جرمن ناول کو اردو ادب کا حصہ بنا چکے ہیں زیر طبع 5 ناول ہیں ان سارے کاموں کو وہ کمال مہارت سے کرتے ہیں۔ سال میں ایک کتاب ان کی ضرور منظرعام پر آتی ہے۔

Read more

لاہور پریس کلب میں دو کہانی کار

لاہور پریس کلب پنجاب کا سب سے بڑا اور اہم ترین صحافتی مرکز ہے۔ ملکی سطح پر لاہور پریس کلب، کراچی پریس کلب، اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد تین نمایاں ترین صحافتی مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور پریس کلب اور کوئٹہ پریس کلب بھی اہم صحافتی مرکز ہیں۔ لاہور پریس کلب کی موجودہ قیادت صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد عابد نے ممبر گورننگ بادی عمران شیخ کی زیر نگرانی ایک لائبریری کمیٹی کا قیام عمل

Read more

ثقافتی اقدار

وطن عزیز اس وقت بے شمار مسائل میں گھِرا ہوا ہے۔ معیشت کی خرابی، امن و امان کے مسائل، مذہبی رواداری کا فقدان اور بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت مل کر معیشت کی بحالی اور امن و امان کی بحالی کے لیے انتھک کام کر رہے ہیں اور قوی امید ہے کہ سال کے آخر تک نئے سال کے شروع تک سیاسی اور عسکری قیادت اس سلسلے میں

Read more

امریکا کا کامیاب دورہ اور اپوزیشن کا احتجاج

وزیراعظم عمران خان کے دورے امریکہ کے فوراً بعد ہی امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کر دیا ہے کہ امریکہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے حوالے سے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گا۔ طویل عرصے سے امریکہ اور پاکستان میں ایف 16 طیاروں لاجسٹک سپورٹ کے حوالے سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو پا رہے تھے مگر وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے فوراً بعد ہی امریکہ اس کام پر راضی ہو گیا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں وزیراعظم

Read more

اک چُپ سو دکھ

اس میں کو ئی شک نہیں کہ صحافت سے وابستہ افراد جب فکشن کی طرف آئیں اور وہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں۔ تو معلومات اور موضوعات کا ایک سیلاب ان کی طرف اُمڈ آتا ہے۔ اب یہ تخلیق کا ر کی صوابدید پر ہے، وہ اس سیلاب کے آگے بند باند ہ کر اپنی مرضی کے شگاف ڈال دے اور موضوعات کا انتخاب کرے۔ بعض اوقات اخباری زبان کا بہ کثرت استعمال ادبی اور تخلیقی زبان کو نقصان

Read more

پانی زندگی ہے

یوں تو اس وقت وطن عزیز کو بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ دہشت گردی، امن امان کی بالادستی، بدعنوانی کا خاتمہ، اچھی انتظام کاری، توانائی کا بحران، بدترین معاشی صورت کا خاتمہ، بے روزگاری، مہنگائی، ٹیکس اہداف حاصل کرنا مگر ان تمام مسائل کی ماں جس مسئلے کو کہا جا سکتا ہے وہ ہے پانی کا بحران ہے۔ جنرل ایوب خان کی حکومت کو ختم ہوئے پچاس سال گزر گئے ہیں اور ان پچاس سالوں میں ہم نے کوئی بڑا

Read more

محبت اور جنس کی کشمکش

ایک تخلیق کار جب کسی خیال کے گرد تخلیقی تار وپور بُنتا ہے تو اس کے سامنے اپنا سماج، رواج اور بشری تعلقات اور ان سے وابستہ سوالات ہوتے ہیں۔ روایت اور جدت کے حُسن میں کہانی اپنا سفر طے کرتی ہے۔ میں نے ناول ”زینہ“ کے بارے میں کچھ ایسا ہی محسوس کیا ہے۔مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار خالد فتح محمد سے گوجرانوالہ میں ملا اس وقت ان کے پہلے ناولٹ ”خلیج“ کی تقریب پذیرائی تھی۔ جس پر میں نے ایک مضمون پڑھا تھا۔ شاید 10 یا 12 برس پہلے کی بات ہے۔ اب 2019 ء ہے اس دوران خالد فتح محمد کی دوسری تخلیقات منظر عام پر آئی ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال قلم کار ہیں۔ اگر ”خلیج“ کی اشاعت کو دیکھا جائے اور ان کے موجودہ ناول کے درمیان گیارہ، بارہ برس ہ کا فرق ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔

Read more

پاکستان میں نئے صوبے ناگزیر ہیں

سرائیکی صوبے کے قیام کے حوالے سے تحریک میں اچانک تیزی آگئی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے کہا، کہ صوبہ جنوبی پنجاب ملتان، بہاولپور ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان کے اضلاع پر مشتمل ہو گا۔ آبادی کی بنیا د پر سینٹ میں نمائندگی ملے گی۔ قومی اسمبلی کی چالیس اور صوبائی اسمبلی کی 125 نشستیں ہو ں گی۔ سرائیکی صوبے کے قیام کے حوالے سے پچھلے تیرہ برسوں سے تحریک شدت اختیار کر چکی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے سرائیکی بنک کے قیام کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔ گزشتہ پانچ سال مسلم لیگ (ن) کی حکومت رہی۔ اس دوران بہاولپور صوبے اور سرائیکی صوبے کے قیام کے بِل پیش کیے گئے۔ چونکہ ن لیگ سرائیکی صوبہ بنانے کے حق میں نہیں تھی، لہذا بِل سیاسی پوائنٹ سکورنگ تھا۔ اس وقت ن لیگ کے پاس مرکز اور پنجاب میں اکثریت تھی۔ اگر ن لیگ سنجیدہ ہوتی تو اب تک سرائیکی صوبہ بن چکا ہوتا۔

Read more

نواز شریف کا پاور شو؟

سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپنی درخواست ضمانت میں توسیع مسترد ہو نے کے بعد نواز شریف نے لاہور میں اپنی سیاسی پاور شو کر نے کا فیصلہ کیا۔ لاہور جہاں مسلم لیگ (ن) کے گیارہ قومی اسمبلی اور اکیس صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں۔ پچھلے ایک سال میں یہ دوسرا موقع ہے جب نواز شریف نے لاہور میں پاور شو کرنے کی کو شش کی، گزشتہ برس 12 جولائی کو جب وہ گرفتاری دینے آئے۔ پچھلے پندرہ برس سے مسلم لیگ، ن کا گڑھ ہے۔ 2008 ، 2013، 2018 کے الیکشن اس بات کا ثبوت ہیں۔

مگر کیا وجہ ہے مسلم لیگ کے سپورٹر الیکشن میں ووٹ تو ن لیگ کو دیتے ہیں مگر احتجاجی سیاست سے پرہیز کرتے ہیں۔ جب نواز شریف گزشتہ برس لاہور کے ہوائی اڈے پر اترے تو جلوس کے شرکاء جن کی تعداد پندرہ ہزار کے قریب تھی وہ ائیر پورٹ بھی نہ پہنچ سکا۔ لاہور، گوجرانولہ، شیخوپورہ، کی آبادی کو دیکھتے ہو ئے یہ تعداد بہت کم تھی۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، جس سپریم کورٹ کو نواز شریف اور ان کے حامی دن رات برا بھلا کہتے ہیں اسی سپریم کورٹ میں ضمانت میں توسیع کے لیے بھی پہنچ گئے۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ ”آپ کوچھ ہفتے علاج کرانے کے لیے دیے تھے، ٹیسٹ کرانے کے لیے نہیں“۔

Read more