محبت اور جنس کی کشمکش

ایک تخلیق کار جب کسی خیال کے گرد تخلیقی تار وپور بُنتا ہے تو اس کے سامنے اپنا سماج، رواج اور بشری تعلقات اور ان سے وابستہ سوالات ہوتے ہیں۔ روایت اور جدت کے حُسن میں کہانی اپنا سفر طے کرتی ہے۔ میں نے ناول ”زینہ“ کے بارے میں کچھ ایسا ہی محسوس کیا ہے۔مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار خالد فتح محمد سے گوجرانوالہ میں ملا اس وقت ان کے پہلے ناولٹ ”خلیج“ کی تقریب پذیرائی تھی۔ جس پر میں نے ایک مضمون پڑھا تھا۔ شاید 10 یا 12 برس پہلے کی بات ہے۔ اب 2019 ء ہے اس دوران خالد فتح محمد کی دوسری تخلیقات منظر عام پر آئی ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال قلم کار ہیں۔ اگر ”خلیج“ کی اشاعت کو دیکھا جائے اور ان کے موجودہ ناول کے درمیان گیارہ، بارہ برس ہ کا فرق ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔

Read more

پاکستان میں نئے صوبے ناگزیر ہیں

سرائیکی صوبے کے قیام کے حوالے سے تحریک میں اچانک تیزی آگئی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے کہا، کہ صوبہ جنوبی پنجاب ملتان، بہاولپور ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان کے اضلاع پر مشتمل ہو گا۔ آبادی کی بنیا د پر سینٹ میں نمائندگی ملے گی۔ قومی اسمبلی کی چالیس اور صوبائی اسمبلی کی 125 نشستیں ہو ں گی۔ سرائیکی صوبے کے قیام کے حوالے سے پچھلے تیرہ برسوں سے تحریک شدت اختیار کر چکی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے سرائیکی بنک کے قیام کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔ گزشتہ پانچ سال مسلم لیگ (ن) کی حکومت رہی۔ اس دوران بہاولپور صوبے اور سرائیکی صوبے کے قیام کے بِل پیش کیے گئے۔ چونکہ ن لیگ سرائیکی صوبہ بنانے کے حق میں نہیں تھی، لہذا بِل سیاسی پوائنٹ سکورنگ تھا۔ اس وقت ن لیگ کے پاس مرکز اور پنجاب میں اکثریت تھی۔ اگر ن لیگ سنجیدہ ہوتی تو اب تک سرائیکی صوبہ بن چکا ہوتا۔

Read more

نواز شریف کا پاور شو؟

سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپنی درخواست ضمانت میں توسیع مسترد ہو نے کے بعد نواز شریف نے لاہور میں اپنی سیاسی پاور شو کر نے کا فیصلہ کیا۔ لاہور جہاں مسلم لیگ (ن) کے گیارہ قومی اسمبلی اور اکیس صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں۔ پچھلے ایک سال میں یہ دوسرا موقع ہے جب نواز شریف نے لاہور میں پاور شو کرنے کی کو شش کی، گزشتہ برس 12 جولائی کو جب وہ گرفتاری دینے آئے۔ پچھلے پندرہ برس سے مسلم لیگ، ن کا گڑھ ہے۔ 2008 ، 2013، 2018 کے الیکشن اس بات کا ثبوت ہیں۔

مگر کیا وجہ ہے مسلم لیگ کے سپورٹر الیکشن میں ووٹ تو ن لیگ کو دیتے ہیں مگر احتجاجی سیاست سے پرہیز کرتے ہیں۔ جب نواز شریف گزشتہ برس لاہور کے ہوائی اڈے پر اترے تو جلوس کے شرکاء جن کی تعداد پندرہ ہزار کے قریب تھی وہ ائیر پورٹ بھی نہ پہنچ سکا۔ لاہور، گوجرانولہ، شیخوپورہ، کی آبادی کو دیکھتے ہو ئے یہ تعداد بہت کم تھی۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، جس سپریم کورٹ کو نواز شریف اور ان کے حامی دن رات برا بھلا کہتے ہیں اسی سپریم کورٹ میں ضمانت میں توسیع کے لیے بھی پہنچ گئے۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ ”آپ کوچھ ہفتے علاج کرانے کے لیے دیے تھے، ٹیسٹ کرانے کے لیے نہیں“۔

Read more
––>