کیا پنجاب میں اسٹیٹس کو کی مزاحمت سے چھوٹے صوبوں کو فائدہ ہو سکے گا؟
گذشتہ کچھ عرصے سے پنجاب میں سیاسی ہلچل نظر آ رہی ہے، جس میں اہم کردار بائیں بازو کے نوجوان طلبہ و طالبات ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بائیں بازو کی مزاحمت کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے والے عدلیہ کے فیصلے آنے سے پہلے تک مسلم لیگ نواز بھی ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیے کے ساتھ ملک میں جاری غیرجمہوری قوتوں کے اسٹیٹس کو کے خلاف مزاحمت کے میدان میں تھی۔ بہرحال پنجاب کے اندر حالیہ سیاسی ہلچل کو سمجھنے کے لئے پاکستان میں پنجاب کے تسلط کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
پاکستان بننے سے لے کر آج تک ملک کے اندر پنجاب کو ایک بالادست صوبے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس صوبے کی نہ صرف فوج میں اکثریت ہے، بلکہ ہندستان کی تقسیم کے بعد وہاں سے آنے والے اردو بولنے والوں کے ساتھ پنجابیوں کو بیوروکریسی میں بھی خاص اھمیت دی گئی۔ پاکستان بنانے کے لئے جو تحریک چلائی گئی، اس میں اگر پنجاب کے کردار کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پنجاب کا ملک کی تشکیل میں کوئی قابل تعریف کردار بھی نہیں تھا کیوں کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک بنانے کے لئے مسلم لیگ کے 23 مارچ 1940 ع والے سیشن میں جنھوں نے قرارداد پیش کی، ان کا تعلق پنجاب سے نہیں، بلکہ وہ فضل الحق تھے، جو بنگالی بولتے تھے۔
اسی طرح ہندوستان کی جس پہلی اسمبلی نے پاکستان بننے کی حمایت میں قرارداد پاس کی، وہ بھی پنجاب اسمبلی نہیں بلکہ سندھ اسمبلی تھی۔ بالکل اسی طرح پاکستان تحریک میں جن لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصا لیا وہ بھی یوپی اور دیگر مسلم اقلیتی علاقوں کے وہ مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگ تھے، جن کو ہندستان سے انگریز کے جانے کے بعد اپنے مفادات خطرے میں نظر آ رہے تھے۔ ملک کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کی بات کریں یا پھر ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی تو ان دونوں کا تعلق بھی پنجاب سے نہیں تھا۔ لیکن اس پوری صورتحال کے باوجود ملک بننے کے بعد پنجاب کیسے ملک کا بالادست صوبہ بننے میں کامیاب ہوا؟
پاکستان بننے کے بعد بھی ملک پوری طرح سے انگریز کے تسلط سے نہیں نکل سکا تھا۔ ایک طرف مسئلہ کشمیر پر ہندوستان پاکستان کو آنکھیں دکھا رہا تھا، تو دوسری جانب افغانستان کی طرف سے بھی سرحد صوبے کو افغانستان سے ملانے پر زور دیا جا رہا تھا۔ اس صورتحال کے مدنظر عوام کے سامنے یہ منطق پیش کی گئی کہ ملک کی سرحدیں بیرونی حملوں سے محفوظ نہیں، اسی لئے عسکری قوت کو بڑھانا اور طاقتور بنانا ہی ملک کے مفاد میں تھا، جس صورتحال میں یقیناً پنجاب کا ہی بھلا ہونا تھا، کیونکہ پنجاب کو انگریزوں کی طرف سے بھی ”مارشل ریسز“ مانتے ہوئے ان کو فوج میں بھرتیوں کے دوران بہت اھمیت دی جاتی رہی، اسی لئے پنجاب کے لوگ پاکستان کی عسکری قوت میں اپنا سکہ جمانے میں کامیاب ہو گئے۔
اسی طرح ہندوستان سے نقل مکانی کے بعد جو اردو بولنے والے زیادہ تر پڑھے لکھے مسلمان پاکستان آئے، ان کو بیوروکریسی میں زیادہ نوازا گیا لیکن پنجاب کو بھی بیوروکریسی میں باقی صوبوں کی عوام کے مقابلے میں کافی حصہ دیا گیا۔ پاکستان بنے کے ایک سال بعد جناح صاحب وفات پاگئے اور 1956 تک ملک بغیر آئین کے چلتا رہا، اور ملک کی اصل حاکم قوت سویلین اور نان سویلین بیوروکریسی کو ہی بنایا گیا۔ حالانکہ 1956 کا جو پہلا آئین بنا اس میں بھی ملک کے چھوٹے صوبوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی کیونکہ اس سے ایک سال قبل ملک میں ون یونٹ کا نفاذ ہوچکا تھا۔ لیکن پنجاب کی بالادستی کے باوجود بھی پنجاب کے ترقی پسند اور جمھوریت پسندوں نے وقتاً فوقتاً ملک اندر چلنے والی جمہوری تحریکوں میں بھی حصہ ڈالا ہے اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
آج سے کوئی ایک ڈیڑھ سال قبل اپنے پی ایڇ ڈی تھیسز کے لئے انٹریوز کرنے کے دوران پنجاب کے ترقی پسند دانشور پروفیسر عزیزالدین احمد اور بائیں بازو کی سیاست کے ایک اھم نام جناب عابد حسن منٹو سمیت بائیں بازو کے ایک اور رہنما جناب فاروق طارق سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ ملک کے اندر بالکل پنجاب کی بالادستی رہی ہے لیکن ساتھ ہی وہ اس بات پر بھی زور دے رہے تھے کہ ”پنجاب نے سندھ کے بعد سب سے زیادہ ایم آر ڈی میں کردار ادا کیا، جو بات بہت سارے لوگ پنجاب پر تنقید کرنے وقت نہیں بتاتے“۔
بہرحال یہ بات بالکل ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ایم آر ڈی تحریک کے دوران پنجاب خاص طور پر لاھور شہر ایک مزاحمتی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اگر ہم ایم آر ڈی تحریک شروع ہونے سے پہلے بھی دیکھیں تو 12 فروری 1981 کے دن پنجاب کی عورتیں لاھور کے راستوں پر جنرل ضیاالحق کے بنائے گئے عورت دشمن قانون کے خلاف سراپا احتجاج تھیں، جن پر ضیاشاھی کی طرف سے لاٹھی چارج کرتے ہوئے پچاس سے زائد عورتوں کو گرفتار کیا گیا، جس واقعے نے پنجاب خاص طور پر لاھور میں سیاسی ہلچل کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔
کیوںکہ لاھور تقسیم سے پھلے پنجابی سکھوں کی انگریزی سرکار کے خلاف بغاوت کا شہر رہا تھا، جو پاکستان بننے کے بعد ایک خاموش شہر میں تبدیل ہوچکا تھا۔ تقسیم کے بعد اسی لاھور شھر میں ”پاک ٹی ہاؤس“ نامی کیفے پر انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرف سے ادبی بحث مباحثے ضرور ہوتے تھے لیکن عملی طور پر ملک کے باقی صوبوں بشمول بلوچستان کے اندر جو ریاستی جبر جاری رہا، اس سے لاھور کے ترقی پسند ادیب اور ترقی پسند سیاسی قوتیں بھی تقریبا لاتعلق بنی رہیں۔ لیکن ایم آر ڈی تحریک کا بھی جو زور پنجاب میں نظر آیا، اس کی بھی ایک وجہ جنرل ضیا کی کچھ ایسی پالیسیاں تھیں جو ملک کی اشرافیہ کے فائدے میں بھی نہیں تھیں۔
حال ہی میں لاھور میں منعقدہ فیض میلہ کے دوران بائیں بازو کے کچھ طلبہ و طالبات کی طرف سے 29 نومبر کو منعقد ہونے والے ”اسٹوڈنٹ سالیڈرٹی مارچ“ کے سلسلے میں بسمل عزیم آبادی کی نظم ”سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے“ گنگناتے ہوئے احتجاج کیا گیا جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا، جس میں ایک طرف نظم گنگنانے والی ایک طالبہ عروج اورنگزیب کو سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب یہ تبصرہ بھی شروع ہوا کہ اب پنجاب اسٹیٹس کو کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے، جو بات کسی حد تک درست بھی ہے، لیکن کسی دور میں اوکاڑہ اور ایم آر ڈی تحریک کے بعد اب جو پنجاب کے اندر سیاسی ہلچل نظر آ رہی ہے یے پشتونوں کی پی ٹی ایم تحریک کے بعد ہمیں اس طرح سے پنجاب کے اندر سے ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ حالانکہ پنجاب کے بائیں بازو کے رہنما اور کارکنان وقتاً فوقتاً سیاسی ہلچل میں نظر آتے رہتے ہیں لیکن وہ ہلچل بھی زیادہ تر ”سلیکٹو“ نظر آتی ہے کہ کون سے صوبے کے کن ایشوز پر متحرک کردار ادا کرنا چاہیے اور کون سے ایشوز پر خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔
اس کے باوجود اگر سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جائے تو جس طرح پی ٹی ایم کے لاھور والے جلسے میں پنجاب کے بائیں بازو نے پشتونوں کا ساتھ دیا اور جو اسٹیٹس کے خلاف موقف اختیار کیا، وہ بالکل کافی عرصے بعد پنجاب کی نئے سرے سے عکاسی کر رہا تھا۔ اس وقت جب تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد سے مزاحمتی سیاست میں خاموشی چھائی ہوئی تھی اس خاموشی کو توڑنے کے لئے بھی پنجاب سے اٹھنے والی آواز کی بہت زیادہ اھمیت ہے۔ اسی طرح پنجاب کے بائیں بازو کے اتحاد کے پرچم تلے ”لاھور لیفٹ فرنٹ“ کا قیام عمل میں لایا گیا، اس سے بھی پنجاب کے اندر ترقی پسند سیاست کو کافی قوت ملی ہے۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں یہی نظر آتا ہے کہ ملک کی مقتدر قوتیں مزاحمتی سیاست کو روکنے کے لئے اپنا پورا زور لگا رہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ملک کے مختلف حصوں سے کبھی لاپتا افراد کی بازیابی تو کبھی اسٹوڈنٹ یونین کی بحالی کی تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد بیشک نوازلیگ خاموشی اختیار کر لے لیکن پنجاب کے لوگ جو چھوٹے صوبوں کی عوام کے مسائل سے لاتعلق بنے ہوئے تھے، ان کو ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے کی اتنی تو سمجھ آچکی ہے کہ ووٹ کو عزت نہ دینے والی قوتوں کا تعلق بھی انہیں کے اپنے صوبے سے ہی ہے جو کہ نہیں چاہتے کہ ملک پر ”خلق خدا“ کا راج ہو۔ اس پوری صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے چھوٹے صوبوں کے ترقی پسندوں کو چاہیے کہ وہ پنجاب کی ترقی پسند سیاسی قوتوں سے رابطے میں آتے ہوئے اسٹیٹس کو مخالف متحدہ محاذ بنانے کی کوشش کریں تا کہ اسٹیٹس کو کو مشترکہ طور پر چیلینج کرتے ہوئے عوام کی بہتری والے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
(مصنف نے حال ہی میں چائنا کی شنگھائی یونیورسٹی سے پی ایڇ ڈی مکمل کی ہے اور ان کا پی ایڇ ڈی تھیسز کا موضوع سندھ اور بلوچستان کی بائیں بازو اور قومپرست تحریکیں رہا ہے۔ اس سے قبل قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے کیے گئے ان کے ایم فل کے تھیسز کا موضوع بھی سندھ کی بائیں بازو کی تحریکوں کی تاریخ رہا ہے۔ )


