عمران خان کو نوازشریف کی بیماری کا سب سے زیادہ پتا تھا: عارف حمید بھٹی


تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ عمران خان کو نوازشریف کی بیماری کا سب سے زیادہ پتا تھا، عمران خان کو نوازشریف سے بھی زیادہ پتا تھا، کس قانون میں لکھا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مجرموں کو چھوڑ دیا جائے، اب مشرف پر این آراو دینے کا کیوں شکوہ کرتے ہو۔ ڈکٹیٹروں کو برا بھلا کہتے ہیں، خود ڈکٹیٹرو ں سے بڑھ کرکام کررہے ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ عمران خان کو نوازشریف کی بیماری کا پتا نہیں تھا۔ عمران خان کو ڈاکٹرز اور سب سے زیادہ نوازشریف کی بیماری کا پتا تھا۔

21 اکتوبر کو نوازشریف کے پلیٹ لیٹس 14ہزار ہوجاتے ہیں۔ اس سے پہلے 19 تاریخ کو نیب میں محمد محفوظ نام کا ٹیسٹ کروایا جاتا ہے اس پر پلیٹ لیٹس 55 ہزار آتے ہیں۔ عمران خان کو سب پتا تھا جس طرح ان کی مجبوری وزیراعظم بننا تھی اسی طرح نوازشریف کو بھیجنا ان کی مجبوری تھی۔

انہوں نے کہا کہ محترمہ مریم نوازبھی چلی جائیں گی لیکن مریم نواز کب جائیں گی یہ میں ٹائم فریم نہیں دے سکتا۔ انہوں نے لوگوں کو بے وقوف بنانے کا ٹھیکہ لے لیا ہے ۔ یہ سب کچھ خود کرتے ہیں پھر صحافیوں کو دھمکاتے ہیں اور نوٹس بھجواتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اب اپنے کارکنوں کو بے وقوف بنانے کیلئے سب کچھ کہتے ہیں، جبکہ نام تو وزیراعظم عمران خان نے خود نکالا ہے۔ نوازشریف مجرم تھے۔ لیکن کس قانون میں لکھا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سزایافتہ مجرموں کو چھوڑ دیا جائے ۔ اگر ایسا ہے تو پھر مشرف پر کیوں شکوہ کیا جا رہا ہے کہ مشرف نے نوازشریف کی سزا معاف کر کے باہر بھیج دیا۔

ڈکٹیٹروں کو آپ برا بھلا کہتے ہیں جبکہ آپ خود ڈکٹیٹرو ں سے بڑھ کرکام کررہے ہیں، زلفی بخاری کو پولیس کیوں نہیں بلا رہی؟ نیب پرویز خٹک اور باقی کرپٹ لوگوں کو کیوں نہیں بلا رہی؟ جب احتساب سلیکٹڈ کیا جائے گا تو نفرت کو جنم دے گا۔ جب آپ اپنے بندوں کو بچائیں گے تو کوئی دوسرا بھی اپنے بندے کو بچانے کی کوشش کرے گا۔

Facebook Comments HS