ناروے میں قرآن پاک کی بے حُرمتی


ناروے کے ایک شہر کرسچن سینڈ جس کی کُل آبادی تقریباً نوے ہزار ہے اور جس میں مسلمانوں کی خاصی تعداد بھی پائی جاتی ہے میں قرآن پاک کو جلانے کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ جسے انتہائی دائیں بازو کی ایک تنظیم (sian) نے توجہ حاصل کرنے اور مقامی مسلمانوں کو تشدد پر اُکسانے کے لئے کیا۔ کیونکہ اس تنظیم کا سربراہ (لارس تھورسن) جو پچھلے کافی عرصے سے مسلمانوں کے خلاف جھوٹ اور پراپیگنڈہ کے ذریعے کرسچن سینڈ کے مقامی لوگوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہا تھا وہ اپنے ناپاک عزائم میں بُری طرح ناکام رہا۔

اس گروپ کی سپورٹ کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اتنے بڑے ایونٹ کے لئے وہ فقط سات لوگ اکٹھے کر سکے اور سینکڑوں مقامی لوگ اُن کی مخالفت میں اکٹھے ہوئے جو اُن کے خلاف نعرہ بازی بھی کر رہے تھے۔ اس واقعہ کے تناظر میں مقامی نارویجین شہری مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور یکجہتی کے اظہار کے لئے مسجدوں کے باہر انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی گئیں۔

یورپی ممالک میں انتہائی دائیں بازو کے عیسائیوں کا ایک گروپ ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف سرگرم رہا ہے۔ وہ یہودیوں، ہندوؤں اور دیگر مذاہب کو تو کسی حد تک قبول کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کو نہیں۔ روز طرح طرح کے جھوٹ اور افواہیں پھیلا کر مسلمانوں کے خلاف نفرت اُبھارتے ہیں۔ یہ لوگ مذہبی جنونی اور ذہنی مریض ہیں، ان گروپس کا مقصد مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو پُر تشدد، جاہل اور غیر مہذب ثابت کر کے ملک بدر کروانا ہے اسی لئے یہ مسلمانوں کو طیش دلانے کے لئے کبھی قرآن کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی ہمارے پیارے نبی کے خاکے بناتے اور کبھی مختلف قصے، کہانیاں بنا کر اُن کی تضحیک کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، تاکہ ہم اس کا ردِعمل دیں اور یہ باقی کی آبادی کو قائل کر سکیں کہ ہم لوگ وحشی ہیں اور قانون کا احترام نہیں کرتے۔

نیوزی لینڈ کی مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والی دہشت گردی کی واردات بھی ایسے ہی ایک گروپ کے نمائندے نے کی تھی، لیکن نیوزی لینڈ کی پوری قوم اس بربریت کے خلاف اپنی وزیراعظم کے ساتھ مسلمانوں کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور ایسے تمام گروپوں پر پابندی لگا دی گئی جو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتے تھے۔ اس رویہ کو پورے عالمِ اسلام بالخصوص پاکستانیوں نے بہت سراہا۔

آج اس واقعہ کے بعد ایک بار پھر پوری اسلامی دُنیا بالخصوص پاکستانیوں کے مذہبی جذبات بہت مجروح ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں ہمارے لئے سیکھنے اور اپنی سمت درُست کرنے کا یہ ایک سُنہری موقع ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور دیکھیں کہ کہیں ہمارے کسی عمل یا رویے سے کسی کمیونٹی کے مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوتے، کیونکہ ہمارا تو یہ دعوٰی ہے کہ اسلام کامطلب ہی سلامتی ہے اور دُنیا میں سب زیادہ پُرامن، رحم دل، روادار اور انسانیت کا علمبردار مذہب دینِ اسلام ہی ہے۔

بدقسمتی سے یہ بھی ایک حقیقت ہے جب ہمارے ہاں ہندوؤں کی لڑکیوں کو اغوا کر کے مذہب تبدیلی کا ذکر آتا ہے تو ہم اپنے کان لپیٹ لیتے ہیں۔ عیسائیوں پر توہینِ مذہب کا الزام لگتا ہے تو بغیر حقائق جانے اُن کی پوری پوری بستیاں جلا ڈال دیتے ہیں۔ احمدیوں کے حقوق کی بات شروع ہو تو ہمارے منہ سے جھاگ اُڑنا شروع ہو جاتی ہے اور ہم اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ جس قُرآن کی حُرمت بچانے کے لئے ہم مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں وہ تو کہتا ہے کہ ”اللہ کے نزدیک وہ لوگ گونگے بہرے جانوروں سے بھی بدتر ہیں جو انحصار عقل پر نہیں کرتے۔ اور یہ کہ ”جو ہلاک ہوا وہ دلیل سے ہلاک ہوا اور جو زندہ ہوا، وہ دلیل سے زندہ ہوا“ لیکن آج ہم لوگوں کو بغیر دلیل کے کافر سمجھنے کو اپنے ایمان کی مضبوطی سے تعبیر کرتے ہیں۔

اور پھر اوّل تو ہم مانتے ہی نہیں کہ ہم کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے پُرتشدد رویے اور نفرت کی توجیہات میں اقلیتوں کے عقائد پیش کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں مشکل سوالات سے احتراز، غیر ضروری عقیدت اور نیم خواندہ مولویوں کی طرف سے پھیلائی گئی نفرت اور غلط فہمیاں ہیں جس سے معاشرہ میں جہالت، تشدد اور گھٹن پیدا ہو چکی ہے۔ اب ہم اپنے مخالف کو دلائل سے نہیں بلکہ گھٹیا الزامات سے چپ کرواتے ہیں جو ہمیں تصوراتی، خیالی دنیا سے بیدار کرنے کی کوشش کرے۔

فتویٰ اور غداری ہمارے اجتماعی ہتھیار ہیں جنہیں ہم اپنے مخالفوں کے خلاف بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ ان ہتھیاروں سے ناں تو جناح، بھٹو اور سلمان تاثیر محفوظ رہے اور ناں ہی ایدھی، جنید حفیظ اور مشال خان۔ اب تو یہ آگ بڑے گھر تک بھی پہنچ چکی ہے۔ ابھی حال ہی میں پشاور ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن جمع کرائی گئی ہے جہاں آرمی چیف کے عقیدے پر سوال اُٹھایا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا دائیں بازو کے عیسائیوں کی صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف نفرت، پروپیگنڈہ یا دہشت گردی کی وجہ سے آج تککسی مسلمان نے اپنا مذہب تبدیل کیا؟ بلکہ جو لوگ ہمارے نبی یا کتاب کی تضحیک کریں اور ہمارے مذہبی جذبات کو مجروح کریں ہمارے دل میں اُن کے لئے نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور ہم چاہے مذہبی ہوں یا غیر مذہبی پوری قوت سے اپنے عقائد کا دفاع شروع کر دیتے ہیں۔ تو ہم کیونکر ایسا سوچتے ہیں کہ ہم دوسروں کی تحقیر و تذلیل کرنے سے اُن کی سوچ بدل پائیں گے؟ اگر واقعی آپ کی زندگی کی اولین ترجیح دوسروں کو اپنے عقائد پر لانے کی ہے تو پھر علم حاصل کریں، دلیل اور منطق پر عبور حاصل کریں اورمخالفین کو اپنے اخلاق اور دلائل کے انبار سے منانے کی کوشش کریں، ناں کہ تشدد اور نفرت سے۔

Facebook Comments HS