وینٹی لیٹر پر پڑی یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ آوارہ، بد مزاج اور تلخ قدموں کے ساتھ ایک بار پھر انہی لمحوں کے پاس تھی جن لمحوں کے ساتھ اس کی زندگی سانس لیتی تھی۔ بائیِس برس پہلے کا وہ ایک لمحہ جو اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ بھی تھا اور ساتھ ہی سب سے بدصورت لمحہ بھی وہی تھا۔ وہ اپنے سسکتے ہوے وجود کے ساتھ بھیگے ہوے اس سٹیشن پر موجود تھی۔ جہاں زندگی کی گاڑی کے آنے میں ابھی پورا ایک گھنٹہ تھا۔ وہ اس لمحے کو دیکھ کر مسکرائی۔ جو کسی کی یاد کی صورت میں اس کے وجود کے اندر دوڑ رہا تھا۔

سٹیشن پر موجود اکلوتے بینچ نے اسے خوش آمدید کہا تھا۔ وہ بینچ برسوں بعد بھی کسی کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ بینچ کے دائیں طرف چاے کا ڈھابہ اسی ظالم مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جس مسکراہٹ سے وہ برسوں پہلے پہلی بار آشنا ہوئی تھی۔ وہ چاے کا کپ ہاتھ میں لے کر بینچ کے اسی ایک سرے پر بیٹھ گئی تھی جہاں پر موجود جگہ کی خوشبو اس سے ہمکلام تھی۔ بائیس برس پہلے کی وہ آدھی ادھوری شام ایک بار پھر اس کے سامنے تھی۔ برسوں پہلے کا وہ منظر اس روز پھر سے جاگ اٹھا تھا۔

”سنیے کیا میں آپ سے کچھ دیر مل سکتا ہوں“

دعا نے حیرت سے اس متناسب سی قدوقامت کے نوجوان کو دیکھا جو یہ کہہ کر نہایت ہی بے تکلفی سے بینچ کے دوسرے سرے پر بیٹھ گیا۔

وہ یہ دیکھ کر اٹھنے ہی لگی تھی کہ نوجوان کے چند جملوں نے اس کے بڑھتے قدموں کو جیسے روک لیا۔

”میں زندگی سے ہارا ہوا شخص ہوں۔ آپ اپنی زندگی میں سے چند قیمتی لمحے مجھے دے دیں گی تو شاید میری ڈوبتی سانسوں کو کوئی کنارہ مل جاے“

دعا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو نوجوان چند درد بھرے لمحات ہاتھوں میں اٹھاے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے نوجوان کی آنکھوں کی طرف نہیں دیکھا۔ بس ان درد بھرے لمحات کو آنسو بہاتے دیکھا۔ ان ویران لمحوں کو ہاتھوں میں تھام کر اب وہ بینچ پر دوبارہ سے اسی جگہ بیٹھ گئی تھی۔

”میرا نام داود شاہ ہے۔ دو برس پہلے ٹھیک اسی جگہ پر میری محبت سے ملاقات ہوئی تھی۔ محبت نے اپنی قربت کے چند خوبصورت لمحات مجھے بخشے اور مجھے اپنا قیدی بنا لیا۔ “

دعا نوجوان کی گفتگو کے دائرے میں با ادب ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔ اسے لگ رہا تھا وہ اس دائرے کی قید سے کبھی باہر نہیں نکل سکے گی۔

”تمہیں پتا ہے محبت اپنے قیدی کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے، محبت اسے پہلے خوشبووں اور رنگوں سے کھیلنا سیکھاتی ہے اور پھر تپتے صحرا میں جلتا چھوڑ دیتی ہے۔ محبت کے قانون میں رہائی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر قیدی رہائی کی تمنا کرے تو اسے اپنی سانسوں کی قربانی دے کر ہی اس قید سے رہائی ملتی ہے۔ سو میں بھی دو برس سے اس محبت کی قید میں ہوں۔ میں نے بہت کوشش کی کہ مجھے محبت کے بدلے محبت ملے مگر ناکام رہا۔ محبت کی قید سے رہائی پانے کے لئے اپنا وجود ٹِرین کی پٹری کو سونپنے جا رہا تھا کہ مجھے تم نظر آ گئیں۔ تمہاری آنکھیں ہو بہو اس بے وفا کی طرح ہیں۔ میرا دل چاہا تم سے بات کروں اور قید محبت کی اذیت کو کچھ کم کروں۔ “

داود شاہ خاموش ہو گیا تھا۔ وہ رو رہا تھا۔ دعا اب اس کے قریب بیٹھ گئی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا جن میں موجود درد اور اذیت کے لمحے اب آنسو بہا رہے تھے۔ نوجوان کے قریب بیٹھی محبت کی خوشبو اب اس کے وجود کے اندر پناہ ڈھونڈنے لگی تھی۔ دعا جو اس نوجوان کو محبت کی قید سے رہائی دلوانا چاہتی تھی۔ اب خود محبت کی قید میں تھی۔ محبت کے کچھ شوخ رنگ اب ان دونوں کے ہمسفر تھے۔ ٹرین آ چکی تھی۔ دعا کو اب جانا تھا۔

جاتے سمے اس کا وجود اعتراف محبت سے مہک رہاتھا۔ اس مہک کو اپنا زاد راہ بنا کر دعا اگلے سٹیشن پر اتر گئی۔ داود کے ساتھ اب اس کی روزانہ بات ہونے لگی تھی۔ محبت اپنی تکمیل کی منتظر تھی کہ ایک روز محبت نے اسے جلتی ریت میں تنہا چھوڑ دیا۔ وہ جو محبت کے آسمان پر ملن کے مسکراتے رنگ دیکھنے لگی تھی کہ اچانک سے داود نے اس سے رابطہ ختم کر دیا۔ اس کی سانسیں جن سگنلز سے چلتی تھیں۔ وہ سگلنلز آنا بند ہو گئے تھے۔ دعا کو لگتا تھا اس کا دم گھٹ جاے گا۔

اس کا وجود ان آوازوں کو سننے کا منتظر تھا جن کے سننے سے وہ تروتازہ ہو جاتی تھی۔ اس کے ٹوٹتے بکھرتے وجود کو اس کے گھر والوں نے ہی سنبھالا۔ داود کے بارے میں وہ اپنے گھر والوں کو بتا چکی تھی۔ اس کے ساتھ مل کر اس کے گھر والوں نے داود کو بہت ڈھونڈا مگر اس کا سراغ نہیں مل سکا۔ گھر اور فون نمبر ان سب میں اب داود کا کوئی نشان نہیں تھا۔ دعا کچھ عرصے بعد سنبھل تو گئی مگر داود کی یاد سے وہ کبھی چھٹکارا حاصل نہیں کر سکی۔

دعا کی شادی اپنے کزن کے ساتھ ہو گئی۔ وہ دو اور دو چار جمع کرنے والا شخص کبھی دعا کے دل کی سرزمین کو تسخیر نہیں کر سکا یا شاید دعا نے ہی کبھی اس شخص کو اتنی اجازت نہیں دی کہ وہ اس کے دل میں موجود داود کی محبت کی جڑوں کو کاٹ سکے۔ شادی کے بعد اللہ نے اولاد کی شکل میں کچھ مزید ذمہ داریوں کا بوجھ اس کے اوپر ڈال دیا۔ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے وہ اپنی محبت کی یادوں سے کبھی کبھار ہی محو گفتگو ہوتی تھی۔

وہ یادیں اب کچھ مدہم پڑنے لگی تھیں۔ کتاب زیست کے نجانے کتنے ہی اوراق پلٹ گئے اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب اس کی بیٹی کی شادی تھی۔ بیٹی کی بارات جس علاقے سے آنی تھی۔ اس علاقے کی یادیں برسوں بعد بھی اس کے دل میں پہلے کی طرح تروتازہ تھیں۔ اس علاقے سے جب رشتہ آیا تھا تبھی اس نے اپنی بیٹی کے لئے ہاں کر دی تھی۔ کتنے برسوں سے اپنی یادوں کے اسٹیشن پر اسی ٹرین کے آنے کی منتظر تھی۔ جس ٹرین نے اس کی وینٹی لیٹر پر پڑی یادوں کو رہائی دے دینی تھی۔

نومبر کی ایک اداس شام تھی جب وہ کئی برسوں بعد اسی اسٹیشن پر موجود تھی۔ بیٹی کے سسرال وہ پہلے بھی کئی بار آ چکی تھی مگر اس سٹیشن پر جانے کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ مگر اس شام میں نجانے ایسا کیا کچھ تھا کہ دعا کی قدموں نے بے اختیار اسی اسٹیشن کا رخ کر لیا۔ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔ سردی بھی بڑھ رہی تھی۔ چاے کا کپ ہاتھ میں لئے وہ اپنی ٹرین کے آنے کی منتظر تھی کہ اچانک سے چند آوازوں نے اس کے دل کی دھڑکنوں میں ہلچل مچا دی۔

”دل کر رہا ہے آج ایک بار پھر غلط گاڑی میں سوار ہو جاوں جیسے برسوں پہلے غلط ٹرین میں بیٹھا تو تم مجھے ایک بار پھر سے مل گئیں“

یہ وہی آواز تھی جسے سننے کی تمنا لئے دعا نے ایک عمر گزار دی۔ یہ کون اتنے نرم لہجے میں نجانے کیسے کیسے انکشافات کرتا جا رہا تھا۔

”داود میں جانتی ہوں، اس روز آپ میری بے رخی سے دلبرداشتہ ہو کر ٹرین کی پٹری کو اپنا آدھا ادھورا وجود سونپنے جا رہے تھے۔ اپنی بچھی کچھی سانسوں کو لئے آپ غلط نہیں صحیح ٹرین پر بیٹھے تھے۔ آپ کے ٹوٹتے بکھرتے وجود کو دیکھ کر مجھے اسی لمحے آپ سے محبت ہو گئی تھی“

دعا کی سانسیں بے ترتیب ہوتی جا رہی تھیں۔ کسی نے شاید اسے پانی لا کر دیا تھا مگر پانی سے کہاں اسے رہائی ملنی تھی۔

”اور تمہیں مجھے اپنے قریب لانے میں کچھ وقت لگا تھا۔ کیونکہ میرے دل پر کسی اور کی محبت نے دستک دے دی تھی۔ مگر تمہارا نام جو بہت پہلے سے دل پر نقش تھا۔ اس نام کے اجڑتے وجود کو اعتراف محبت کے پانیوں سے سیرابی کیا ملی۔ وہ چند لمحوں کا نام چند دنوں میں ہی مٹ گیا“

یہ کہتے ہوے داود نے مسکرا کر ردا کی طرف دیکھا۔ ان کی گاڑی آ گئی اچانک سے اسٹیشن پر شور سا سنائی دیا تھا۔ داود ردا کو چھوڑ کر ہجوم کی طرف گیا۔ جہاں کسی کے مردہ وجود کو لوگ ایمبولینس میں منتقل کر رہے تھے۔ داود کو اس وجود کے اندر سے شعلے نکلتے دکھائی دے رہے تھے۔ وینٹی لیٹر پر پڑی دعا کی یادوں کو رہائی تو مل گئی تھی مگر داود کو لگتا تھا ان یادوں سے اس کے وجود کو راکھ بننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •