کیا آپ اپنے پسندیدہ ادیب ’شاعر‘ دانشور سے ملنا چاہتے ہیں؟


جن لوگوں نے کتابوں سے دوستی کی ہے ’ادب سے محبت کی ہے اور فلسفے سے عشق کیا ہے ان میں سے اکثر کا کوئی نہ کوئی پسندیدہ ادیب‘ شاعر یا دانشور ہوتا ہے اور ان کے دل میں کبھی کبھار یہ خواہش انگڑائی لیتی ہے کہ کاش ایک دن ہم اس لکھاری سے ملیں۔

اکثر لوگوں کو اپنے پسندیدہ لکھاری سے ملنے کا موقع میسر نہیں آتا۔ بعض لوگوں کے پسندیدہ ادیب اور شاعر میر اور غالب ’سقراط اور افلاطون کی طرح اس دارِ فانی سے کوچ کر چکے ہوتے ہیں۔ بعض اتنے دور رہتے ہیں کہ ان تک رسائی ممکن نہیں ہوتی اور بعض ایک ہی شہر میں رہ کر بھی نہیں مل سکتے۔ وہ انہیں مشاعروں یا ٹی وی پر دور سے دیکھ لیتے ہیں اور ان سے ملنے کی حسرت لیے افسردہ ہو جاتے ہیں۔

پچھلے تیس برسوں میں میں نے کینیڈا ’امریکہ‘ یورپ ’ہندوستان اور پاکستان میں جن ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کے انٹرویو لیے ان میں

گوپی چند نارنگ بھی شامل ہیں ندا فاضلی بھی

عبداللہ حسین بھی شامل ہیں کشور ناہید بھی

فہمیدہ ریاض بھی شامل ہیں افتخار عارف بھی

اور بہت سے اور بھی

جن دنوں میں غلام احمد پرویز کی کتابیں۔ سلیم کے نام خطوط۔ اور۔ انسان نے کیا سوچا۔ پڑھ رہا تھا میں ان سے ملنے کینیڈا سے لاہور گیا۔ ان کا جمعے کا خطبہ سنا اور ان سے تبادلہِ خیال کیا۔

ایک دفعہ میں لاہور میں زاہد ڈار کے ساتھ منیر نیازی سے ملنے گیا۔ وہ اتنے خوش ہوئے کہ ایک گھنٹے تک لگاتار بولتے رہے۔ وہ ایک مونولوگ تھا ڈائلاگ نہیں تھا۔ گھر آ کر میں نے وہ سحر انگیز مونولوگ رقم کر لیا۔

میں ایسے لوگوں سے بھی ملا ہوں جو اپنے محبوب لکھاری سے مل کر بہت مایوس ہوئے۔ ان کی توقعات کے شیش محل چکنا چور ہو گئے۔ اسی لیے بعض مداح اپنے پسندیدہ لکھاری سے نہیں ملنا چاہتے۔

میں نے ایک دفعہ فہمیدہ ریاض سے پوچھا کہ کیا آپ کو حیرانگی ہوتی ہے کہ لوگ اپنے پسندیدہ لکھاری سے مل کر نا امید ہوتے ہیں کہنے لگیں بالکل نہیں۔ لکھاری اپنی شاعری ’اپنے ناول‘ اپنے افسانوں اور اپنے مقالوں میں ایک مثالی زندگی کا فلسفہ پیش کرتا ہے جس پر وہ خود بھی کاربند نہیں ہو سکتا۔ اس کے خواب اور آدرش حقیقی زندگی سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ وہ ان خوابوں پر خود بھی عمل نہیں کر پاتا کیونکہ زمینی حقائق ان خیالی اور مثالی حقائق سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ناول میں کردار تخلیق کرنا اور زندگی میں اس کردار کی طرح زندہ رہنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ یہ ایک اہم ادبی اور نفسیاتی نقطہ ہے۔

بعض لوگ انسان سے بڑے ادیب ہوتے ہوتے اور بعض ادیب سے بڑے انسان۔ خوش قمست ہیں وہ لوگ اور وہ ادیب جو ادب اور زندگی میں ایک توازن قائم کر پاتے ہیں نجانے کتنے تضادات اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ایک ادیب ’شاعر اور دانشور بھی اپنی زندگی میں کئی مراحل سے گزرتا ہے اسے کئی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ آزمائشیں اسے وقت کے ساتھ ساتھ بدل رہتی ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ادیب شاعر اور دانشور بیس سے چالیس سال تک روایت سے بغاوت کرتے ہیں۔ پھر کچھ عرصہ اپنی زندگی پر نظرِ ثانی کرتے ہیں۔

بعض جوانی میں مر جاتے ہیں۔ بقول مصطفیٰ زیدی

؎ پھر جی حدودِ سود و زیاں سے گزر گیا

اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا

بعض لکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔

بعض ایک نئے آدرش سے لکھنا شروع کرتے ہیں اور ان کی بزرگی کی تخلیقات جوانی کی تخلیقات سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔ وہ روایت سے بغاوت اور بغاوت سے دانائی کے سفر میں کامیاب ہوتے ہیں۔

اور بعض تخلیقی سنِ یاس کا شکار ہو جاتے ہیں اور creative menopauseکی وجہ سے لکھنا چھوڑ دیتے ہیں اور صرف ادبی محفلوں کی صدارت کرتے رہتے ہیں۔

بعض ادیب ’شاعر اور دانشور بہت شرمیلے ہوتے ہیں اور محفل میں خاموش رہتے ہیں۔ چونکہ وہ زیادہ بات چیت نہیں کرتے اس لیے بہت سے مداحین ان سے ملنے کے بعد مایوس ہو کر لوٹتے ہیں۔

جب ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ انہوں نے بہت غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ لکھاری سے نہیں ملنا چاہتیں تو ان کی گفتگو نے مجھے مندرجہ ذیل نثر پارہ لکھنے کی تحریک دی۔ آپ بھی سن لیں۔

۔ غائبانہ رشتہ

تم میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے

میں تمہارے بارے میں بہت کچھ جانتی ہوں

ہمارا رشتہ ایک غائبانہ رشتہ ہے

میں انٹرنیٹ پر تمہارے کالم پڑھتی ہوں

تمہاری کتابوں کا مطالعہ کرتی ہوں

تمہارے انٹرویو سنتی ہوں

تمہاری تحریریں تازہ ہوا کا جھونکا ہیں

جو میرے باہر کی گھٹن کو کم کرتے ہیں

تمہارے انٹرویو روشنی کے دیے ہیں

جو میرے اندر کی تاریکی میں کمی پیدا کرتے ہیں

میرے لیے تم

ایک آس ہو

ایک امید ہو

ایک آدرش ہو

ایک خواب ہو

کبھی کبھار میرا جی چاہتا ہے

تم سے ملوں

بہت سی باتیں کروں

بہت سے سوال پوچھوں

لیکن پھر سوچتی ہوں

کہیں ایسا نہ ہو

میں نے جو اپنے ذہن میں

تمہارے بارے میں

تصورات کا شیش محل بنا رکھا ہے

وہ چکنا چور ہو جائے

اگر ایسا ہوا تو

میری روح لہو لہان ہو جائے گی

میں اسے برداشت نہ کر پاؤں گی

بکھر جاؤں گی

اس لیے

میں نے فیصلہ کیا ہے

میں تم سے کبھی نہیں ملوں گی

اور

اس رشتے کو غائبانہ رشتہ ہی رہنے دوں گی

خالد سہیل

29 اکتوبر 2019۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail