شہروں کو بھی کلمہ پڑھایا جا رہا ہے


\"Mohsin

کسی بھی انسان کے لیے قدرت کا یہ انعام ہوتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد اس کا نام زندہ رکھتی ہے اور اس کے نام کا زندہ رہنا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ اس کے اعمال خدا کی نظر میں مقبول ہیں مشہور شعر ہے کہ

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو
آواز خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

مارچ 1849ء کی بات ہے جب لاہور پر انگریز حکومت کا قبضہ ہوا اوراس وقت ہنری لارنس اور جان لارنس نامی دو انگریز افسروں کو انتظامی بورڈ کا ممبر بنایا گیا اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے جان لارنس 1853ء میں پنجاب کے پہلے چیف کمشنراور بعد میں لیفٹیننٹ گورنر بن گئے۔ سر ایچیسن کے بقول ہنری لارنس بھی بعد ازاں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنربن گئے اور مظلوم لوگ آپ کو مسیحا سمجھتے اور آپ سے خاص انس رکھتے تھے ۔ کیونکہ آپ نے اس علاقے کی ترقی کے لیے کافی جدوجہد کی۔ جب جان لارنس بطور گورنر پنجاب تعینا ت ہوئے مقامی آبادی کا انتظام چلانے کے لیے صرف ایک غیر ملکی قانون تھا جس کی رو سے رنگ نسل اور مذہب کا لحاظ کیے بغیر سب انسان برابر تھے آپ نے اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا قانون وضع کیا جو سب کو انکے متعلقہ مذہب اور رواجوں کے مطابق ڈیل کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ پنجاب انتظامی لحاظ سے باقی صوبوں کی نسبت زیادہ اچھی حالت میں تھا اور یہ انتظامی بہتری ہی تھی جس کی وجہ سے 1857ء کی جنگ میں انگریز حکمرانوں کو پنجاب سے کسی قابل ذکرمزاحمت کا سامنانہیں کرنا پڑا۔ حکومت وقت نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے نام پر ایک باغ بنوایا جس کا نام لارنس گارڈن رکھ دیا اور قریباّ ایک صدی تک یہ باغ اور اس سے ملحقہ روڈ بالترتیب لارنس گارڈن اورلارنس روڈ کے نام سے پہچانے جاتے رہے۔

اور پھر1947 ء آگیا اورمذہبی اختلاف نے شدّت پکڑی اورمذہب کی بنیاد پر دو نئے ملک وجود میں آئے اورایسا ہوا کہ قبروں کے کتبے تبدیل ہونے لگے۔ قبریں تو وہی رہی لیکن ان میں مقیم مردوں کے نام تبدیل ہونے لگے۔ مجھے اس کتبہ تبدیل کرنے کا پہلی بار احساس تب ہوا جب میرا گزر باغ جناح سے ہوا کیونکہ باغ جناح کا نام قائداعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لارنس گارڈن سے تبدیل کر کے جنا ح باغ رکھا گیا ہے۔ گو کہ اس نام کی تبدیلی کے پیچھے کوئی مذہبی شدّت پسندی کا جذبہ کارفرما نظر نہیں تھا صر ف اپنے محبوب راہنما کوخراج تحسین پیش کرنے کے جذبے کے تحت تبدیل کیا گیاحالانکہ قائداعظم نے اس جگہ کا اپنی زندگی میں شاید ہی ایک باردورہ کیا ہو۔ لیکن ان کا اس باغ کے بنانے میں یا تعمیر وترقی میں کوئی بھی کردار نہیں تھا۔ اور یہ عمل تب کیا گیا جب پاکستان اپنے قیام کے ابتدائی ایّا م میں تھا اورجب پاکستان کی تعمیربھی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اور کسی بھی نئی تعمیر کردہ عمارت کوقائداعظم کے نام سے منسوب کیا جا سکتا تھا لیکن ہمیں نئی تعمیر کی جگہ کتبہ تبدیل کرنا زیادہ آسان محسوس ہوا ۔ اور یہ ایسی بابرکت شروعات ہوئی کہ کتبے تبدیل کرنا آئندہ کے لیے ہمارا قومی مزاج بن گیا۔ خود سوچیں کیا ایک انسان کی موت کے بعد اس کی قبر پر کسی دوسرے کا کتبہ لگایا جاناکسی بھی لحاظ سے ایک مناسب عمل ہو سکتا ہے ؟ کیا کسی ایک فرد محنت کو سراہنے کے لیے کسی دوسرے شخص کی محنت اور قابلیت کو اکارت کرنا جائز ہو جاتا ہے؟۔ مرنے کے بعد کسی شخص کی پہچان چھین لینے سے بڑا ظلم اس شخص پر کیا ہوگا۔

کتبے تبدیل کرنے کی یہ لہرجو جگہ جگہ چل پڑی ہے اسے بیمار ذہنیت اور شدت پسندی کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کی زد میں وہ مقامات اورشخصیات بھی آتے جارہے ہیں جن کی تاریخی حوالے سے اہمیت مسلمہ ہے اور جن کی خدمات سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور ان کی خدمات بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب ساری انسانیت کے لیے تھی اور نئے تبدیل شدہ نام خالصتاً مذہب کی بنیاد پر رکھے جا رہے ہیں اور اکثر شہروں کو اسلامائز کیا جا رہا ہے یا پھر اکثر نام ان شخصیات کے نام پر رکھے جا رہے ہیں جن کی خدمات سے کوئی شخص بھی واقفیت نہیں رکھتا۔ مثلاً بلوچستان میں واقع’’ہندو باغ‘‘ کو اسلام قبول کروا کر نیا نام مسلم باغ رکھ دیا گیا ہے شہرقصورمیں واقع وان رادھا رام کا نام جو کہ سر گنگا رام کے والد تھے کے نام سے تبدیل کر کے’’حبیب کوٹ‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ موصوف حبیب کون تھے۔

حالانکہ سر گنگا را م اگروال وہ عظیم شخصیت ہیں جو لاہور سے 64 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مانگٹانوالہ میں پیدا ہوئے اور ہماری آج بھی لاہور میں بنی ہوئی اکثرسرکاری عمارتیں انہی کے ہاتھوں کی ڈیزائن شدہ اورا نہی کی زیر نگرانی تعمیر شدہ ہیں مثلاّ جی پی او آفس لاہور، لاہور میوزیم،ایچیسن کالج، میو کالج آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس)،گنگا رام ہاسپٹل،لیڈی میکلیگن گرلزہائی سکول،کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور،البرٹ وکٹر ونگ آف میو ہاسپٹل،سر گنگا رام ہائی سکول(موجودہ لاہور کالج فار ویمن)، ہیلے کالج آف کامرس (موجودہ ہیلے کالج آف بینکنگ اینڈ فائنانس) ان سب کے علاوہ رینالہ خورد میں واقع پاور سٹیشن،فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں گھوڑا ٹرین کی سہولت آپکی مہیا کردہ ہے اپنے وقتوں کی یہ بڑی مفید اور منفردسہولت کئی دہائیوں تک کارآمد رہی اور اسیّ کی دہائی میں بیکار ہوگئی جس کو حکومت نے 2010ء میں دوبارہ ثقافتی ورثے کے طور پر بحال کیا ہے۔

بات نکلی ہے تو یہ ذکر بھی مناسب رہے گا کہ کچھ دن پہلے مجھے گورنمنٹ ہائی سکول قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ، جہاں سے میں نے میٹرک کی تھی، جانے کا اتفاق ہوا،سڑک سے گزرتے ہوئے اچانک ایک بورڈ نظر پڑی جس پر اس گاؤں کا نام لکھا ہوا تھا یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک مذہبی تنظیم کی طرف سے مذکورہ گاؤں کا نیا نام’’ قلعہ اسلام‘‘ رکھ دیا گیا ہے اور یہ بورڈ اہل علاقہ کو نیا نام باور کروانے کے لیے ہی لگایا گیا تھا جس پر پرانے نام کو کراس کیا ہوا تھا اور ساتھ نیا نامِ’’قلعہ اسلام‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اسی سے ملتا جلتا تجربہ کچھ دن بعد دوبارہ اسوقت ہوا جب مجھے ایک دوست سے ملنے کے لیے قلعہ دیدار سنگھ جانے کا اتفاق ہوا۔ کیونکہ اس قصبہ کا نام بھی تبدیل کر کے’’ قلعہ محمدی‘‘رکھ دیا گیاہے۔

کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ ہم اشیاء کے نام رکھتے کیوں ہیں؟کسی بھی شے کا نام رکھنے کے پیچھے کیا مقصد کارفرما ہوتا ہے؟ اصل میں کسی بھی جگہ یا شہر کا نام رکھنے کا مقصد اس جگہ کو مخصوص پہچان عطا کرنا ہوتا ہے اور عموماً کسی بھی شے کو نا م دیتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ رکھے جانے والا نام اس شے کے متعلق یا اس شخص کے متعلق جس نے اس شے کو ایجاد یا دریافت کیا یا اس کی تعمیرو ترقی میں کوئی حصہ ڈالایا جن حالات میں وہ شے وجود میں آئی ان حالات کے متعلق اپنے اند زیادہ سے زیادہ معلومات کا ذخیرہ سمو سکتا ہو۔ یعنی کسی بھی شے کا نام اس کی اپنی اور اس کے بانی کی تاریخ کامکمل عکاس ہوتا ہے۔ اورکسی شے کا نام تھوڑی سی بھی سوجھ بوجھ کے حامل شخص کے ذہن میں اس شے کی تاریخ اور ان حالات کی شبیہہ گھما دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے جن مخصو ص حا لات میں وہ چیز وجود میں آئی ہوتی ہے۔

اورکیا ہم نے کبھی غورکیا ہے کہ کسی دوسرے انسان کی محنت سے خریدی ہوئی یا بنائی ہوئی چیز کی ہیئت تبدیل کر کے اور اسے نیا نام دے کر جو لوگ استعمال کرتے ہیں انہیں معاشرہ ’’چور‘‘ کا لقب عطا کرتا ہے۔ اور چور کون ہوتا ہے جو خود کچھ کرنے سے قاصر ہوتا ہے جس کے اپنے پلے کچھ نہیں ہوتا وہ دوسروں کی محنت چھین کر گزارہ کرتا ہے۔ اور ٖغور کریں تو آج کل ہم لوگ بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ صرف جگہ کا نام بدل کرکسی شخص کی ساری زندگی کی محنت اکارت کر دیتے ہیں ۔ وہ بھی صرف اس لیے کے اس شخص کا تعلق ہمارے مذہب یا مسلک سے نہیں تھا۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہم کس نہج پر چل پڑے ہیں جس قوم کو الکاسب حبیب اللہ کا درس دیا گیا تھا اس نے بحثیت قوم چوری کے فن کو پیشے کے طور پر اپنا لیا ہے۔ اگر ہمیں اپنے نام کے کتبے لگانے کا اتنا ہی شوق ہے تو ہمیں چاہیئے کہ اپنی تعمیرخود کریں ایسی عمارتیں بنائیں جن پر اپنے نام کے کتبے سجا سکیں۔ اور دوسروں کی بنائی ہوئی عمارتوں کی حفاظت کریں تاکہ فخر سے بتا سکیں کہ ہم نے کن حالات سے گزر کر موجودہ منزل پائی ہے ۔ اور حقیقت کو بھول کراگرہم لا کھ کو شش کر کے تاریخ کو مسخ کر لیں ہم اپنی بے عملی نہیں چھپا سکیں گے ہمیں ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑے گا

Facebook Comments HS