تعلیمی اداروں میں جسمانی تشدد

\"pasport-size-for-ppsc\"

وقاص شاہد

* ترقی یافتہ ممالک میں کسی بھی سطح پر مار پیٹ قابل سزا جرم ہے۔
* بچوں کو مارنے والے والدین جیل بھیج دیے جاتے ہیں۔
* اساتذہ کا بیہمانہ تشدد بچوں کو سکول سے بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے۔
* سرکاری سکولوں کے علاوہ نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ بھی اپنے اساتذہ کو جسمانی سزا دینے سے روک نہیں سکی۔
* اساتذہ اپنے رویوں میں تبدیلی کے ذریعے نئی نسل کو مفید شہری بنانے میں اپنا کردار اد کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں عام طور پر ’جسمانی تشدد‘ کا نام سنتے ہی سکولوں میں اساتذہ کی وہ مار پیٹ اور جارحانہ رویہ ذہن میں آتا ہے جس کی وجہ سے طلبہ وطالبات کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوجا تا ہے، جب کہ امریکہ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں جسمانی تشدد کی تعریف کچھ اور ہے۔ ان ممالک کے قوانین کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر افراد پر جسمانی تشدد قابل سزا جرم ہے۔ چاہے وہ تشدد اسکول کے اساتذہ کی جانب ہے ہو یا بچے کے اپنے والدین اس کو ذہنی یا جسمانی طور پر پریشان کریں، دونوں صورتوں میں بچے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شکایت درج کروائے۔ ایک سروے کے مطابق امریکہ میں تشدد اور مار پیٹ کے 15 فیصد کیسز والدین کے خلاف درج کروائے گئے۔ برطانیہ میں سڑکوں، چوراہوں، بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر حکومت کی جانب سے جسمانی سزا کے خلاف بڑے بڑے اشتہارات آویزاں کرنے کے ساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی بچوں کے لئے پیغامات نشر کئے جاتے ہیں کہ ’’اگر آپ کو اپنے والدین، اساتذہ یا گھریلو ملازمین کے رویے کے خلاف شکایت ہے تو فوری اس ہیلپ لائن پر رابطہ کریں‘‘۔ ایسے والدین جو اپنے بچوں کو جسمانی سزا دیتے ہیں انہیں 24 گھنٹے کے اندر ’سوشل سروسز ڈیپارٹمنٹ‘ میں جواب دہ ہونا پڑتا ہے جہاں تنبیہ کے ساتھ بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ حقیقی والدین کو جیل کی سزا بھی دی جاتی ہے۔

پولینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے 1783 میں تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا ختم کرنے کے قوانین بنائے، جب کہ انگلستان میں 1986 سے اسکولوں میں اساتذہ کی جانب سے دی جانے والی سزا کو ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم پاکستان اور بھارت سمیت دیگر ایشائی ممالک کے اکثر طلبہ کو اساتذہ کی مارپیٹ اور نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان ممالک میں والدین کے خلاف شکایات درج کروانے کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

\"torture-students\"پاکستانی اسکولوں میں 4 سے14 سال کی عمر کے طلبہ و طالبات کوسب سے زیادہ جسمانی سزا دی جاتی ہے، جب کہ کالجوں میں استاد کی مار پیٹ کے واقعات بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تاہم یونیورسٹی کی سطح پر ایسے واقعات کی تعداد صفر ہے۔ جسمانی سزا کی بدتین مثال سوشل میڈیا پر چلنے والی وہ ویڈیو ہے جس میں استاد لکڑی کے ڈنڈے کے ساتھ طلبہ کو بے دردی کے ساتھ پیٹ رہا ہے۔ ایسے دردناک مناظر دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ اسی طرح کی بے شمار ویڈیوز جن میں اساتذہ نے طلبہ کو ’مرغا‘ بنا رکھا ہے، سوشل میڈیا پر بکثرت موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسمانی سزا کے واقعات صرف سرکاری اسکولوں میں ہی رپورٹ نہیں کئے جاتے، نامور نجی ادارے جو بھاری فیسیں لے کر ’’انگریزی طور طریقوں کے مطابق‘‘ تعلیم دیتے ہیں، وہاں بھی ڈسپلن اور کارکردگی کو بنیاد بنا کر جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسے واقعات میڈیا کی نظر کے اوجھل رہتے ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دورِ حکومت میں ’’مار نہیں پیار‘‘ کی پالیسی اپنائی گئی، جس کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے۔ طلبہ میں استاد کا احترام اور خوف ختم ہو گیا۔ والدین اپنی ذاتی رنجشوں کا بدلہ لینے کیلئے اساتذہ کے خلاف شکائتیں کرنے لگے۔ اساتذہ کا موقف ہے کہ استاد اور شاگرد میں مناسب عزت و احترام والا رشتہ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب طالبِ علم کے دل میں استاد کا خوف ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کے معاشی، معاشرتی اور سماجی حقائق کے برعکس ہمارے ہاں طلبہ کو ہر قسم کی آزادی دینا خود ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ ہمارے پاس درجنوں مثالیں ہیں جن میں طلبہ نے اپنی ناقص کارکردگی کا ملبہ استاد پر ڈالتے ہوئے محکمہ کے افسران کو شکایات کیں۔ ایسے میں استاد کی عزتِ نفس مجروح ہونا اور اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنا یقینی بات ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اساتذہ کی بلاوجہ مارپیٹ کی وجہ سے اسکولوں سے نکل جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ ہر سال 30 سے 35 ہزار بچے اسکولوں سے بھاگ جاتے ہیں، جس کی وجہ اسکول انتظامیہ کا نامناسب رویہ اور اساتذہ کا بیہمانہ جسمانی تشدد ہے۔ اگر ہم اس تصویر کا دوسرا پہلو دیکھنے کی جسارت کریں تو ہمارے سامنے ایسے افراد کی درجنوں مثالیں آئیں گی جنہیں استاد کی پٹائی نے اپنا قبلہ درست کرنے پر مجبور کیا اور آج وہی مار ان کی ترقی و خوشحالی کا زینہ بنی ہوئی ہے۔

ماہرین نفسیات اور بچوں کے موضوعات کے محققین کے مطابق ایسے افراد کی شخصیت میں تشدد پسندی پائی جاتی ہے جنہیں زندگی کے ابتدائی سالوں میں ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ وہ بیوی بچوں پر تشدد کرنے کے علاوہ مختلف قسم کے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جلد باز اور جھگڑالو ہوتے ہیں۔ زیادہ تر خودکشیوں کا رجحان بھی انہی لوگوں میں دیکھنے کو ملتا ہے جنہیں بچپن میں کسی وجہ سے ذہنی یا جسمانی اذیتوں کا سامنا رہا ہو۔

تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کی ذہنی و روحانی آبیاری کے ذریعے انہیں ملک کا مفید شہری بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا شہری جو ملک و قوم کے مستقبل کا تابندہ ستارہ بن کر چار سو روشنی کی کرنیں بکھیر سکے، لیکن بعض عناصر کے نامناسب رویے اور ذہنی و جسمانی تشدد کی وجہ سے یہ ستارہ کہیں تاریک ہی نہ ہو جائے۔ ہم سب کو سوچنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words