حرا کے مبینہ قاتل نے اسے مارنے کی وجوہات کا انکشاف کر دیا


لاہور میں شادی سے تین روز قبل قتل کی جانے والی لڑکی حرا کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم احسن نے قتل کی وجوہات بتا دیں۔ ملزم احسن نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے تکرار ہونے کے بعد طیش میں آکر حرا پر گولی چلا دی تھی۔

احسن نے کہا کہ اس نے مقتولہ حرا کو شادی سے تین روز قبل بلایا تھا، مگر اس کے ساتھ تکرار ہونے کی وجہ سے اس نے طیش میں آکر گولی چلائی۔ ملزم احسن نے اپنے بیان میں کہا کہ حرا کو پہلی گولی لگنے کے بعد اس لیے قتل کیا کہ وہ بچ گئی تو مجھے مروا دے گی ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے فون ریکارڈ کے مطابق ملزم کے ساتھ ساڑھے 12 ہزار میسجز ہوئے، جبکہ ملزم احسن نے مقتولہ کے ساتھ جنسی تعلقات کا اعتراف بھی کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 3 ماہ کے دوران ملزم اور مقتولہ کے فون کی موجودگی پانچ بار ایک ہی جگہ پائی گئی، جبکہ قتل ہونے سے چار روز پہلے بھی حرا ملزم سے ملنے گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے مقتولہ کی قابل اعتراض ویڈیو بھی بنائی تھی جو بعد میں ڈیلیٹ کردی تھی جبکہ گرفتارملزم احسن کا فون فرانزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

مقتولہ حرا کو لاہور کے علاقے گلبرگ میں 22 نومبر کو گھر سے بلا کر قتل کیا گیا تھا جبکہ اسے تین دن بعد دلہن بننا تھا۔

حرا کے والد دودھ فروش ریاض حسین نے لاہور کے گلبرگ تھانے میں بیٹی کے قتل کی جو ایف آئی آر درج کرائی اس میں کہا گیا تھا کہ رات 7 بجے گھر پہنچا تو اطلاع ملی کہ بیٹی حرا گھر میں نہیں ہے، جس پر میں اسے دیکھنے کے لیے گھر سے باہر نکلا تو اطلاع ملی کہ گھر کے عقب میں موجود گراؤنڈ میں میری بیٹی کو دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کر دیا ہے۔

انہوں نے ایف آئی آر میں مزید لکھوایا ہے کہ میں جب موقع پر پہنچا تو دیکھا کہ حرا مردہ حالت میں پڑی ہے جبکہ وہاں علاقے کے دو افراد غلام حیدر ولد محمد دین اور بشیر موجود تھے جنہوں نے بتایا کہ دو موٹر سائیکل سواروں نے حرا کو فائرنگ کر کے قتل کیا اور لبرٹی مارکیٹ کی جانب فرار ہو گئے، ہم نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

Facebook Comments HS