آپ خود سمجھدار ہیں
سچ بات تو یہ ہے کہ عمران خان کی جماعت میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو عمران خان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں سے آگاہی رکھتے ہیں۔ وہ گورننس کی طرف توجہ کرنا چاہتے ہیں۔ معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ جمہوریت کو شعار کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں کی تضحیک نہیں چاہتے۔ سیاسی مخالفین پر بے بنیاد مقدمات سے انکا دل گھبراتا ہے۔ خان صاحب کا طرز گفتار انکے مزاج سے لگا نہیں کھاتا۔ وہ پی ٹی آئی میں موجود "لوٹوں” سے بد گمان ہوتے ہیں۔ عثمان بزدار انکی آنکھوں میں چھبتے ہیں۔ سترہ روپے کلو ٹماٹر والے بیان پر انہیں بھی شرمندگی ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی میں جوتم پیزار پر انہیں بھی خفت محسوس ہوتی ہے۔ بی آر ٹی کا پراجیکٹ ان کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہے۔ مالم جبہ کیس سے وہ بھی نظریں چراتے پھرتے ہیں۔ تین سو پچاس ڈیم والی بڑھک یاد کرانے پر ان پر گھڑوں پانی پڑ جاتا ہے۔ کسی بیمار مریض کا تمسخر اڑانا ان کی اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتا۔ گالی گلوچ ان کے مزاج کو برہم کرتی ہے۔ وہ بھی ان باتوں پر رنجیدہ ہوتے ہیں۔
سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ یہ لوگ اگر اپنی” قیادت” سے اختلاف کرتے ہیں، دبے دبے لفظوں میں اس اختلاف کا اظہار کرتے ہیں تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ یہ اپنے” حلف ” کے وفادار نہیں یا پھر یہ کہ یہ باغی ہو گئے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ لوگ بھی پاکستانی ہیں۔ دردمند دل رکھتے ہیں۔ ملکی معیشت کی حالیہ زبوں حالی پر یہ بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں۔ پاکستان کی بین الا قوامی سطح پرموجودہ تضحیک ان کو بھی تکلیف دیتی ہے۔ اس ملک کے عوام کا درد یہ لوگ بھی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کچھ کرنا چاہتے ہیں کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن بس اپنی عزت ، وقار اور "پروٹوکول” کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیئے مسلم لیگ ن میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نواز شریف کی طرز سیاست سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ اداروں کے ساتھ جنگ کی جائے۔ وہ نہیں چاہتے کہ سول سپریمسی کا نعرہ اس وقت لگایا جائے۔ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں مگر دھیرج سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جب نواز شریف حکومت میں ہوں تو اسمبلی کے ہر اجلاس میں تشریف لایا کریں۔ اسمبلی میں قانون سازی کیا کریں۔ ترقیاتی کاموں کے سوا صحت اور تعلیم پر بھی توجہ دیا کریں۔ خاندانی سیاست کے سوا بھی کچھ کیا کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پارٹی کی تنظیم سازی ہو، بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں۔ میاں صاحب عہد وزارت عظمی میں بھی ایم این ایز اور ایم پی ایز کو شرف ملاقات بخشا کریں۔ سرکاری عہدے بانٹنے کے لیئے کشمیری ہونا شرط نہ ہو۔ پارٹی کے اہم عہدوں پر صرف خاندان کے لوگ ہی براجمان نہ ہوں۔ پارٹی کے فیصلوں میں سب کو شریک کیا جائے۔ پارٹی کارکنوں کی عہد حکومت میں بھی توقیر کی جائے۔ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں پر بھی توجہ دی جائے۔ لاہور کے علاوہ باقی پنجاب پر بھی نظر کرم کی جائے۔
سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ یہ لوگ اگر اپنی” قیادت” سے اختلاف کرتے ہیں، دبے دبے لفظوں میں اس اختلاف کا اظہار کرتے ہیں تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ یہ اپنے” حلف ” کے وفادار نہیں یا پھر یہ کہ یہ باغی ہو گئے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ لوگ بھی پاکستانی ہیں۔ دردمند دل رکھتے ہیں۔ ملکی معیشت کی حالیہ زبوں حالی پر یہ بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں۔ پاکستان کی بین الا قوامی سطح پرموجودہ تضحیک ان کو بھی تکلیف دیتی ہے۔ اس ملک کے عوام کا درد یہ لوگ بھی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کچھ کرنا چاہتے ہیں کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن بس اپنی عزت ، وقار اور "پروٹوکول” کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کا حال بھی مخلتف نہیں ہے۔ اس پارٹی میں بعض بہت سے باکمال لوگ ہیں جو زرداری صاحب کی انداز سیاست سے اختلاف رکھتے ہیں۔ بیڈ گورننس کے الزام سے وہ پیچھا چھڑا نہیں پا رہے۔ وہ کرپشن کے الزامات پر منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ وہ بلاول کو نئی قیادت سمجھتے ہیں ۔ وہ زرداری صاحب کو پارٹی کی تنظیم نو میں حائل سمجھتے ہیں۔ وہ الیکشن سے پہلے بلوچستان اسمبلی میں ہونے والے کھلواڑ پر شکوہ کناں ہیں۔ وہ سینٹ کے الیکشن میں ہونے والے ظلم پر دل ہی دل میں خفا ہیں۔ وہ رضا ربانی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا چپکے چپکے ماتم کرتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ پیپلز پارٹی میں ہیں جو دور حاضر میں سولہ آنے درست بات کرتے ہیں مگر اس پارٹی کا ماضی اس درست بات کو عملی شکل دینے سے روکتا ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو موروثی سیاست کے خلاف ہیں ۔ جو پارٹی کی تنظیم نو چاہتے ہیں۔ جو کچھ اور نہیں تو کم ازکم لاڑکانہ کے حالات بدلنا چاہتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو "بھٹو” کے نعرے سے آگے نکلنا چاہتے ہیں۔ جو اپنی ہی سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوال کرتے ہیں ۔ جو کراچی سے کچرا صاف نہ ہونے کو اپنے لیے طعنہ سمجھتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو اب زرداری صاحب کو آرام کا مشورہ دینا چاہتے ہیں۔
سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ یہ لوگ اگر اپنی” قیادت” سے اختلاف کرتے ہیں، دبے دبے لفظوں میں اس اختلاف کا اظہار کرتے ہیں تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ یہ اپنے” حلف ” کے وفادار نہیں یا پھر یہ کہ یہ باغی ہو گئے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ لوگ بھی پاکستانی ہیں۔ دردمند دل رکھتے ہیں۔ ملکی معیشت کی حالیہ زبوں حالی پر یہ بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں۔ پاکستان کی بین الا قوامی سطح پرموجودہ تضحیک ان کو بھی تکلیف دیتی ہے۔ اس ملک کے عوام کا درد یہ لوگ بھی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کچھ کرنا چاہتے ہیں کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن بس اپنی عزت ، وقار اور "پروٹوکول” کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔
حیرت کا مقام یہ ہے کہ اس دور میں اپنی قیادت سے اختلاف صرف سیاسی جماعتوں تک ہی موقوف نہیں، "دیگر” بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔
سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ یہ لوگ اگر اپنی” قیادت” سے اختلاف کرتے ہیں، دبے دبے لفظوں میں اس اختلاف کا اظہار کرتے ہیں تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ یہ اپنے” حلف ” کے وفادار نہیں یا پھر یہ کہ یہ باغی ہو گئے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ لوگ بھی پاکستانی ہیں۔ دردمند دل رکھتے ہیں۔ ملکی معیشت کی حالیہ زبوں حالی پر یہ بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں۔ پاکستان کی بین الا قوامی سطح پرموجودہ تضحیک ان کو بھی تکلیف دیتی ہے۔ اس ملک کے عوام کا درد یہ لوگ بھی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کچھ کرنا چاہتے ہیں کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن بس اپنی عزت ، وقار اور "پروٹوکول” کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔
اب اس سے آگے میں قارئین کو کیا کہوں آپ سمجھ جائیے ۔ آپ تو خود سمجھدار ہیں.


