کہتے ہیں کہ لفظوں کی اپنی تصویریں ہوتی ہیں۔ ہر لفظ کے ساتھ ایک تراشیدہ تصویری پیکر ہوتا ہے جو ذہن کی دیوار پر نقش ہوتا ہے۔ ان لفظوں کے معنی بسا اوقات تصاویر میں پوشیدہ ہوتے ہیں اور انہی سے لفظ کے مفہوم واضح ہوتے ہیں۔ یہ تصاویر ہمارے ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں یا نقش کروا دی جاتیں۔ بعض اوقات تصویر کی تلاش میں لفظ سرگرداں ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ تصویر لفظ کو تلاش کر رہی ہوتی ہے۔ یہ لفظی تصویریں ہمارے بچپن سے مفہوم پاتی ہیں اور تا عمر ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔ کچھ تصویریں ہمیں زور زبردستی سے رٹائی جاتی ہیں اور کچھ ایسے نقش ہوتے ہیں جو ہمارے ذہن پر منجمند ہو جاتے ہیں۔ آپ چاہے کتنی بھی کوشش کر کے ان تصویروں کو ذہن سے کھرچیں یہ پھر بھی اپنا نشان باقی رکھتی ہیں۔ اپنی شبیہ قائم رکھتی ہیں۔ لفظوں سے ذہن میں تصویر بننا بعض اوقات شعوری کوشش ہوتا ہے اور اکثر یہ کیفیت غیر شعوری ہوتی ہے۔ جیسے بچوں کو حروف تہجی سکھاتے ہوئے تصویر دکھائی جاتی ہے۔ الف سے انار بتایا جاتا ہے اور ب سے بکری بتایا جاتا ہے۔ پ سے پنکھا سکھایا جاتا ہے۔ ان لفظوں کی یہی تصاویر تمام عمر ہماری یاداشت پر نقش رہتی ہیں ہمیں ابجد کے ابتدائی سبق یاد کرواتی ہیں۔
ہماری سیاسی لغت میں بے شمار لفظ ایسے ہیں جن کے معنی تصویر کی شکل میں ہم پر بہت دیر میں واشگاف ہوئے ہیں۔ اب ”احتساب“ کے لفظ کو ہی لے لیں۔ آنکھیں بند کر کے اس لفظ کو سوچیں تو اپوزیشن کے قریباً ہر رہنما کی تصویر آپ کے سامنے آئے گی مگر حکومت کا کوئی سیاست دان، کوئی وزیر، کوئی مشیر اس لفظ کی قید میں نہیں آئے گا اس لئے کہ ہمیں یہی رٹایا گیا ہے کہ اگر ”احتساب“ ہو گا تو اپوزیشن کا ہو گا اور حکومت کے ارباب بست و کشاد کا اس لفظ سے نہ کوئی تعلق ہے نہ وہ اس لفظ کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
Read more