بیگم کا ناشتہ

کرونا وائرس کی دہشت گردی کے پیش نظر مرد حضرات گھر بیٹھے جس جاں گسل مرحلے سے گزر رہے ہیں اسے خواتین سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جب گھر میں مسلسل متمکن مردوں کے وٹس ایپ پر، ہر لمحہ آنے والے مشتاق میسجزکو، تاکنے والی تیز نگاہیں تعاقب کر رہی ہوں، تو اس مرحلے پر نہ صرف زندگی سے جی اچاٹ ہو جاتا ہے بلکہ بغیر ماسک کے گھر سے نکلنے کو چاہتا ہے، لوگوں سے بے تکلفانہ ہاتھ ملانے کو من کرتا ہے اور کچھ قریبی رشتہ داروں سے تو بغل گیر ہونے کی خواہش ہوتی ہے۔

اکثر گھر بیٹھے اصحاب کی طرح مجھے بھی اہلیہ پر ترس آ گیا کہ جانے کس دل سے اتنے دنوں سے میری ہی صورت دیکھنے پر مجبور ہیں۔ کیا کیا نہ گزرتی ہو گی بے چاری کے دل پر۔ یہی سوچ کر رقیق القلبی کے ایک کمزور لمحے میں بیگم کے لئے علی الصبح ناشتہ بنانے کا عہد کیا۔ اس عزم صمیم کے پیش نظر صرف بیگم کی بیچارگی نہیں تھی بلکہ وٹس ایپ کی بار بار بجنے والی گھنٹی سے بھی ان کی توجہ ہٹانا مقصود تھا۔ اس خوشنودی کے بادی النظر وہ سماجی اور خانگی خطرات بھی تھے جس کا سامنا قریباً ہر اس مرد کو کرنا پڑتا ہے جس کے وٹس ایپ کی گھنٹی بار بار بجتی ہے اور جو بیگم کی اچانک آمد سے بے خبر ”رات گئے تک موبائل پر نگاہ ٹکائے، دنیا بھر کے سنجیدہ علوم اور دقیق فنون کا، نظارہ کرنے میں غرق رہتا ہے۔

Read more

اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکومت نے ختم ہونا ہے، ہر وزیر کی وزارت نے کبھی نہ کبھی ختم ہونی ہے۔ ہر عروج نے زوال کا مزا چکھنا ہے۔ یہ حکومت بھی ایک دن ختم ہو جائے گی۔ اس کے وزراء بھی گھروں میں بیٹھے اپنے دور اقتدار کی غلطیوں کو کوس رہے ہوں گے۔ اس کے مشیر بھی بھی اپنی موجودہ حرکتوں پر پشیمان ہوں گے۔ لیکن اس وقت ان کے کروفر پر ہنسنے والے تو بہت ہوں گے مگر ان کا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہیں ہو گا۔

Read more

میرا جسم، میری مرضی

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق دو ہزار پندرہ سے دو ہزار انیس کے دوران میں پاکستان میں قریبا پانچ ہزار خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، پانچ ہزار کے قریب خواتین کو ریپ کیا گیا، ایک ہزار خواتین کے ساتھ گھروں میں مار پیٹ کی گئی اور دو سو بہتر خواتین کے جسم پر تیزاب پھینکا گیا۔ یہ وہ تعداد ہے جو رپورٹ ہو گئی ہے۔ یہ وہ مظلوم خواتین ہیں جن کی خبریں اخبارات میں لگ گئی ہیں یا پھر ان کی رسائی تھانوں تک ہو گئی ہے۔

ظلم کا شکار گمنام خواتین کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ ان خواتین کے جسموں کے ساتھ جب چیر پھاڑ کی گئی ہو گئی تو انہوں نے سوچا ضرور ہو گا کہ ”میرا جسم، میری مرضی“ ہونی چاہیے۔ لیکن یہ سلوگن نہ تیزاب پھینکنے والوں نے سنا، نہ ریپ کرنے والوں نے سمجھا، نہ گھروں میں مار پیٹ کرنے والے مرد اس راز کو پاسکے۔

Read more

سارے زمین پر

ایک فلم بنی تھی ”تارے زمین پر“ ہمارے سیاسی افق پر آج کل جو فلم چل رہی ہے اس کا نام ہونا چاہیے ”سارے زمین پر“۔
دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کو اب قریبا پونے دو سال ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں ہماری سیاست، معاشرت، ریاست اور معیشت بہت تبدیل ہو چکی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان بیس ماہ کا سنجیدہ اور منطقی جائزہ لیا جائے۔ دیکھا جائے کہ کس فریق نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں بنیادی طور پر تین اہم فریق تھے۔ مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور اسٹیبشلمنٹ۔ اس وقت ان میں سے دو فریق مل کر کھیلنا چاہ رہے تھے جبکہ ایک فریق نے باقی دونوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہوا تھا۔

Read more

عنقا ہے وہ طائر کہ دکھائی نہیں دیتا

گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو بہت وائرل ہوئی جس میں ایک خاتون نے ایک ٹریفک کانسٹیبل کو پنجابی درست بولنے پر غلط انگریزی میں ڈانٹ دیا۔ اپنی زبان کے کے ساتھ یہ تحقیر کا یہ موقعہ کوئی نیا نہیں تھا۔ ہم نے اس تنزلی تک پہنچنے میں دہائیاں صرف کی ہیں۔ ہم یہ…

Read more

فصیح الرحمن نے اچھا کیا

فصیح الرحمن نے اچھا کیا جو اس جواں عمری میں دنیا سے چلے گئے۔ میں جانتا ہوں کسی بھی دوست کی جوان موت پر یہ جملہ لکھنا سنگدلی ہے لیکن میں بڑے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ فصیح الرحمن نے اچھا کیا۔

میری فصیح الرحمن سے بہت زیادہ ملاقات نہیں تھی۔ البتہ دوستوں سے ان کا ذکر بہت سنا تھا۔ ایک ٹاک شو میں ان سے ملاقات ہوئی نمبر ایکسچنج ہوئے۔ چند دنوں کے بعد فصیح کا فون آ گیا۔ گھنٹوں باتیں ہوتی رہیں۔ اپنی صحافت کے عروج کی باتیں۔ سیاستدانوں کی باتیں۔ صحافت پر پابندیوں کی باتیں۔ آزادی اظہار پر قدغنوں کی باتیں۔

Read more

عمران خان کی حکومت کو مت گرائیں: ناقابلِ اشاعت کالم

یہ بات اب سب پر واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملک کی معشیت کو سنبھالا دینا عمران خان کے بس کی بات نہیں رہی۔ حالات روز بہ روز دگرگوں ہو رہے ہیں۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈالر کی قیمت کسی طور کم نہیں ہو رہی، پٹرول کی قیمت میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ شرح بے روزگاری پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہو رہے ہیں۔ آٹے اور چینی کی قیمت نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے تمام اخراجات روک دیے گئے ہیں۔ تعلیم اور صحت پر اخراجات منجمد کر دیے گئے ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں اربوں ڈوب رہے ہیں۔ معشیت کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔ ملک کی متوقع شرح ترقی دو فیصد رہ گئی ہے۔

حد تو یہ ہے کہ اس وقت افغانستان اور بنگلہ دیش ہم سے زیادہ بہتر شرح نمو رکھتے ہیں۔ کوئی دن آتا ہے کہ ہم خبر سنیں گے کہ فلاں فلاں سرکاری ادارے اپنے ملازمین کی تنخواہ نہیں دے سکے۔ بس اب اسی کی کسر رہ گئی ہے۔

Read more

گٹر سے اٹھے لوگ اور ان کے وزیراعظم

مجھے اس بات کا بھر پور ادراک ہے کہ اس کالم کا عنوان ہر لحاظ سے تحریر کی شائستگی کو پامال کرتا ہے۔ مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ اس طرح کے الفاظ کی اجازت اخبارات کی صفحات کی طہارت نہیں دیتی۔ مجھے معلوم ہے کہ اس طرح انسانوں کو مخاطب کرنا ایک نیچ…

Read more

نواز شریف نے ایسا کیوں کیا؟

اس بات کو ماننے میں کوئی باک نہیں کہ جو کچھ مسلم لیگ ن نے گذشتہ دنوں پارلیمنٹ میں کیا اس سے ووٹ کے تقدس کا بیانہ زمیں بوس ہو گیا ہے۔ جو کچھ ہوا اس سے سول سپریمیسی کا پردہ چاک ہو گیا اور جو ڈھول مسلم لیگ ن نے کئی برسوں پیٹا تھا…

Read more

جان اللہ کو دینی ہے

اطلاعات کے مطابق سابق صدر اور آرمی چیف جنرل مشرف کی طبیعت بہت ناساز ہے۔ وہ کسی شدید بیماری کا شکار ہیں۔ اس بات کی تصدیق ان کی تازہ ترین وڈیو سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ ہسپتال کے بستر سے، نقاہت کے عالم میں۔ اپنے خلاف آنے والے خصوصی عدالت کے فیصلے کے…

Read more