ڈائجسٹ رائٹرز کی کہانی

ہر کہانی کی اپنی ایک داستان ہوتی ہے۔ ہر داستان کا ایک پس منظر ہوتا ہے اور اس پس منظر میں ایک اہم کردار ہوتا ہے جو اس کہانی کے جنم کا باعث ہوتا ہے۔

پاکستان میں بالعموم ڈائجسٹ رائٹرز کے ساتھ متعصبانہ رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ نہ ان کو ادبی سطح پر شناخت ملتی ہے نہ ادبی رسالے ان کی تخلیقات کو چھاپنے کی زحمت کرتے ہیں نہ ان کی سرکاری سطح پر کوئی پذیرائی ہوتی ہے نہ ان کو معاشرے میں ایک مصنف کی اہمیت ملتی ہے۔ ڈائجسٹ رائٹرز کے حوالے سے نہ کوئی تحقیقی مواد ہمیں ملتا ہے نہ ان کہانی کاروں پر کبھی کسی نے سنجیدہ کام کیا ہے۔ ڈاکٹر کرن نذیر احمد نے پہلی بار اس اہم موضوع پر اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں بات کی ہے۔

Read more

امی

میری والدہ پروفیسر صدیقہ انور کا انتقال اس رمضان کے تیسرے روزے ہوا۔ عمر پچاسی برس تھی۔ انہوں نے تینوں روزے رکھے۔ ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سب نے ان سے ضد کی کہ آپ اس عمر میں روزہ نہ رکھیں۔ شرع بھی اجازت دیتی ہے۔ ضد سے تنگ آ کر بالاخر…

Read more

میری امی

میری والدہ پروفیسر صدیقہ انور کا انتقال اس رمضان کے تیسرے روزے ہوا۔ عمر پچاسی برس تھی۔ انہوں نے تینوں روزے رکھے۔ ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سب نے ان سے ضد کی کہ آپ اس عمر میں روزہ نہ رکھیں۔ شرع بھی اجازت دیتی ہے۔ ضد سے تنگ آ کر بالاخر…

Read more

شناختی علامت۔ ہتھیلی پر زخم کا نشان

مجھے بچپن سے ہی شاعر کہلانے اور شعر کہنے کا بہت شوق تھا مگر بدقسمتی سے شعر کہنے کی قدرتی صلاحیت نصیب نہیں ہوئی۔ شعر کہنے کے لئے بنیادی طور پر دو علوم سے واقفیت بے انتہا ضروری ہے۔ ریاضی اور موسیقی۔ ریاضی میں تعلیمی استعداد کبھی تینتیس نمبر سے آگے نہیں گئی اور موسیقی…

Read more

آنسوؤں کی سیاسی تاریخ – ناقابلِ اشاعت کالم

بڑے لوگوں کے آنسو وقت کی وہ دستاویز ہوتے ہیں جو تاریخ کے اوراق کو ان کی یاد میں نم رکھتے ہیں۔ اس ملک خداداد میں ہم نے بہت سے لوگوں کو اشک بار ہوتے دیکھا، بہت سی نم آنکھیں جھیلیں، بہت سے آنسوؤں کا سامنا کیا۔ یہ سب رونے والے عام لوگ تھے لیکن…

Read more

بیگم کا ناشتہ

کرونا وائرس کی دہشت گردی کے پیش نظر مرد حضرات گھر بیٹھے جس جاں گسل مرحلے سے گزر رہے ہیں اسے خواتین سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جب گھر میں مسلسل متمکن مردوں کے وٹس ایپ پر، ہر لمحہ آنے والے مشتاق میسجزکو، تاکنے والی تیز نگاہیں تعاقب کر رہی ہوں، تو اس مرحلے پر نہ صرف زندگی سے جی اچاٹ ہو جاتا ہے بلکہ بغیر ماسک کے گھر سے نکلنے کو چاہتا ہے، لوگوں سے بے تکلفانہ ہاتھ ملانے کو من کرتا ہے اور کچھ قریبی رشتہ داروں سے تو بغل گیر ہونے کی خواہش ہوتی ہے۔

اکثر گھر بیٹھے اصحاب کی طرح مجھے بھی اہلیہ پر ترس آ گیا کہ جانے کس دل سے اتنے دنوں سے میری ہی صورت دیکھنے پر مجبور ہیں۔ کیا کیا نہ گزرتی ہو گی بے چاری کے دل پر۔ یہی سوچ کر رقیق القلبی کے ایک کمزور لمحے میں بیگم کے لئے علی الصبح ناشتہ بنانے کا عہد کیا۔ اس عزم صمیم کے پیش نظر صرف بیگم کی بیچارگی نہیں تھی بلکہ وٹس ایپ کی بار بار بجنے والی گھنٹی سے بھی ان کی توجہ ہٹانا مقصود تھا۔ اس خوشنودی کے بادی النظر وہ سماجی اور خانگی خطرات بھی تھے جس کا سامنا قریباً ہر اس مرد کو کرنا پڑتا ہے جس کے وٹس ایپ کی گھنٹی بار بار بجتی ہے اور جو بیگم کی اچانک آمد سے بے خبر ”رات گئے تک موبائل پر نگاہ ٹکائے، دنیا بھر کے سنجیدہ علوم اور دقیق فنون کا، نظارہ کرنے میں غرق رہتا ہے۔

Read more

اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکومت نے ختم ہونا ہے، ہر وزیر کی وزارت نے کبھی نہ کبھی ختم ہونی ہے۔ ہر عروج نے زوال کا مزا چکھنا ہے۔ یہ حکومت بھی ایک دن ختم ہو جائے گی۔ اس کے وزراء بھی گھروں میں بیٹھے اپنے دور اقتدار کی غلطیوں کو کوس رہے ہوں گے۔ اس کے مشیر بھی بھی اپنی موجودہ حرکتوں پر پشیمان ہوں گے۔ لیکن اس وقت ان کے کروفر پر ہنسنے والے تو بہت ہوں گے مگر ان کا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہیں ہو گا۔

Read more

میرا جسم، میری مرضی

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق دو ہزار پندرہ سے دو ہزار انیس کے دوران میں پاکستان میں قریبا پانچ ہزار خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، پانچ ہزار کے قریب خواتین کو ریپ کیا گیا، ایک ہزار خواتین کے ساتھ گھروں میں مار پیٹ کی گئی اور دو سو بہتر خواتین کے جسم پر تیزاب پھینکا گیا۔ یہ وہ تعداد ہے جو رپورٹ ہو گئی ہے۔ یہ وہ مظلوم خواتین ہیں جن کی خبریں اخبارات میں لگ گئی ہیں یا پھر ان کی رسائی تھانوں تک ہو گئی ہے۔

ظلم کا شکار گمنام خواتین کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ ان خواتین کے جسموں کے ساتھ جب چیر پھاڑ کی گئی ہو گئی تو انہوں نے سوچا ضرور ہو گا کہ ”میرا جسم، میری مرضی“ ہونی چاہیے۔ لیکن یہ سلوگن نہ تیزاب پھینکنے والوں نے سنا، نہ ریپ کرنے والوں نے سمجھا، نہ گھروں میں مار پیٹ کرنے والے مرد اس راز کو پاسکے۔

Read more

سارے زمین پر

ایک فلم بنی تھی ”تارے زمین پر“ ہمارے سیاسی افق پر آج کل جو فلم چل رہی ہے اس کا نام ہونا چاہیے ”سارے زمین پر“۔
دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کو اب قریبا پونے دو سال ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں ہماری سیاست، معاشرت، ریاست اور معیشت بہت تبدیل ہو چکی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان بیس ماہ کا سنجیدہ اور منطقی جائزہ لیا جائے۔ دیکھا جائے کہ کس فریق نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں بنیادی طور پر تین اہم فریق تھے۔ مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور اسٹیبشلمنٹ۔ اس وقت ان میں سے دو فریق مل کر کھیلنا چاہ رہے تھے جبکہ ایک فریق نے باقی دونوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہوا تھا۔

Read more