بس اب بہت ہو گئی

خبریں سب ہی سنتے، پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔ ہر خبر کی تاثیر مختلف ہوتی ہے۔ ہر خبر مختلف ڈھنگ سے سماج کو متاثر کرتی ہے۔ خبر کے لیے وقت اہم ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد وہی خبر ردی کا ٹکڑا بن جاتی ہے۔ یہ وقت فیصلہ کرتا ہے کہ خبر بریکنگ نیوز بنتی ہیں، یا اخبارات کے صفحوں میں گم ہو جاتی ہیں یا پھر دلوں کو چیر جاتی ہیں۔ یہ خبر سب نے سنی کہ اراکین پارلیمنٹ کی

Read more

سیٹ ون سی

کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو آپ کو مجبوراً پڑھنا پڑتی ہیں اور دوسری وہ جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ظفر مسعود کی کتاب ’سیٹ ون سی‘ کا شمار مؤخر الذکر کتابوں میں ہوتا ہے۔ ظفر مسعود پیشے کے اعتبار سے بینکر لیکن مورثی اعتبار سے فلسفی، نفسیات دان اور دانشور ہیں۔ ان کا تعلق اس خانوادے سے ہے جس کی رگوں میں نانا سید محمد تقی، رئیس امروہوی اور جون ایلیا کا خون

Read more

میاں، قاضی اور حافظ

ملک کی ساری سیاست، ریاست کی ساری قوت اور عدل کے سب دروازے اس وقت پاکستان کے تین طاقتور ترین لوگوں کی مٹھی میں ہیں۔ ان تینوں طاقتور لوگوں کے شعبے مختلف اور تجربہ منفرد ہے۔ ان کی تربیت، تعلیم اور طرز زندگی ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہے۔ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں یہ تین شخصیات اس ملک کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔ انہی کے کارہائے نمایاں نے آنے والی زمانے کی تاریخ

Read more

میاں نواز شریف صاحب! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

جس دن سے شہباز شریف نے ایون فیلڈ کے فلیٹ کی سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا ہے کہ میاں صاحب 21 اکتوبر کو واپس آ رہے ہیں، اس دن سے ملکی سیاست میں ایک ہلچل سی مچ گئی ہے۔ شہباز شریف حکومت کے صدمے سے نڈھال مسلم لیگ نون کے تن مردہ میں جان سی پڑ گئی۔ چوکوں، چوراہوں پر یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ نواز شریف کے استقبال کو کتنے لوگ آئیں گے؟ روزانہ

Read more

کوئی پوچھے تو کہنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آیا تھا

پنجاب اسمبلی ٹوٹنے سے بہت پہلے کی بات ہے کہ شوکت ترین کی دو فون کالز پکڑی گئی تھیں جس میں موصوف بہت خوشی سے اپنے لیڈر کے کہنے پر خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کو آئی ایم ایف کی ڈیل کے خلاف اقدامات کا مشورہ دے رہے تھے۔ جس سے ظاہر تھا اس لیڈر کو نہ ملک کی پرواہ ہے نہ غریب آدمی کی۔ اس کے سر پر صرف اقتدار کے ہوس چھائی ہوئی ہے۔ وہ

Read more

نون لیگ ”لاہور دا پاوا“ جیسی ٹک ٹاک بنا کر الیکشن نہیں جیت سکتی

یہ بات اب روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ پنجاب کے عوام کو ان کا حق نہ دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ کوئی نیا انکشاف نہیں ہے بلکہ یہ کارروائی جنرل مشرف کے زمانے سے جاری ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ پنجاب صرف نون لیگ کا گڑھ نہیں بلکہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا قلعہ بھی ہے۔ اس قلعے کی سیاسی قوتوں میں شگاف ڈالنے کی روایت پرانی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں پہلے

Read more

تمغہ جمہوریت

جنرل باجوہ کا عہد چھ سال کے بعد ختم ہوا۔ یہ چھ برس ملک کے لیے کتنے سود مند ثابت ہوئے؟ ان میں فوج کے تشخص اور وقار میں کتنا اضافہ ہوا؟ ملک نے کتنی ترقی کی؟ جمہوریت اور غیر جمہوری قوتوں میں کس قسم کا ٹکراؤ ہوا؟ اس کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں ملتا رہے گا فی الوقت منیر نیازی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے اسی کے سہارے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش

Read more

بیچ دے – ایک غریب بادشاہ کی کہانی

ایک تھا بادشاہ۔ ویسے تو ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ لیکن پھر بھی ایک ملک خداداد کا ایک بادشاہ تھا۔ تھا تو بادشاہ مگر بہت غریب، بھوکا اور ندیدا تھا۔ بھیک مانگ کر گزارا کرتا۔ مانگے تانگے سے روٹی کھاتا۔ جہاں نرم جگہ ملتی سو جاتا۔ قمیض میں دو دو سوراخ ہوتے۔ جیب خالی اور یہی کیفیت ذہن کی بھی ہوتی۔ غربت نے بیچارے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی تھی۔ ہر آنے جانے والے کو پتھر مارتا۔ گالیاں

Read more

خان صاحب کا لانگ مارچ ناکام نہیں ہوا، انہوں نے مقاصد پا لیے

خان صاحب کے لانگ مارچ کے بعد کا پاکستان کیسا ہو گا؟ کیا اس میں تشدد، نفاق اور انتشار کی فضا ختم ہو جائے گی۔ کیا اب لوگ امن و چین کی باتیں کرنے لگیں گے؟ کیا سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے؟ میرا خیال ہے اب ایک پرسکون پر امن پاکستان کا خیال عبث ہو چکا ہے۔ جس طرح عمران خان اس ملک کو ہر شعبے میں تقسیم کر چکے ہیں وہ تقسیم اب بڑھتی ہی جائے گی۔ اب

Read more

جمہوریت کے لیے ایک جرنیل درکار ہے

زمانہ کیسے پلٹا کھاتا ہے۔ وہی عمران خان جس کو عدالتوں نے بہت تزک و احتشام سے صادق اور امین کا تمغہ تھمایا تھا۔ آج الیکشن کمیشن نے اسی عمران خان کو چور، ڈاکو اور خائن ثابت کرتے ہوئے نا اہل قرار دے دیا ہے۔ وہی عمران خان جس کے لیے ادارہ راہوں میں پھول بچھائے بیٹھا رہتا تھا آج اسی عمران خان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خفیہ مذاکرات کی جھوٹی خبر تخلیق

Read more

چور، چوری اور چوکیدار

چور کو سب سے بڑا خطرہ چوکیدار سے ہوتا ہے۔ چوری وہی کامیاب ہوتی ہے جس میں چور کے ساتھ اشتراک میں چوکیدار شامل ہو اس وقت عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا ہے۔ جلدی الیکشن ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ جلدی الیکشن کے شور غوغا کے پیچھے جو مقاصد ہیں وہ بھی یہی ہیں کہ کسی طرح حالات کی کایا پلٹ جائے وزارت عظمی کا ہما ایک دفعہ پھر ان کے سر

Read more

لاڈلا اگر گھر کو آگ لگانا چاہے تو؟

لاڈلا بچہ عموماً اسے کہتے ہیں کہ جو چاہے کوئی بھی نقصان کرے، کتنی بھی الٹی فرمائش کیوں نہ کرے، ماں باپ بیچارے مارے الفت کے سب ماننے کو تیار ہوں۔ اس کو ڈانٹ ڈپٹ سے پرہیز کریں۔ اس کو سزا دینے سے اجتناب کریں، اس کی غلطیوں پر پردہ ڈالیں، اس کی خامیوں کو اپنے سر لے لیں۔ ایسے ماں باپ باقی بچوں کی تادیب تو ہیں مگر لاڈلے کو اس کی تمام تر خامیوں کے باوجود گود میں

Read more

احسان فراموش

اس ملک کے باقی تمام سیاست دانوں اور عمران خان میں ایک تو بنیادی فرق یہ ہے کہ باقی تمام سیاستدانوں کو سیاست میں آنے، کوئی عہدہ حاصل کرنے کے بعد شہرت نصیب ہوئی۔ عمران خان واحد سیاستدان ہیں جو سیاست میں آنے سے پہلے ہی شہرت کی بلندیاں چھو چکے تھے۔ بانوے کا ورلڈ کپ ہو، یا شوکت خانم کا پراجیکٹ یہ سب سیاست میں آنے سے پہلے کے واقعات ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستانی

Read more

صرف تمہارا۔ ۔ ۔ انور مسعود

میری والدہ کے انتقال کے بعد سے میرے والد بہت بدل گئے ہیں، اب وہ زیادہ رقیق القلب ہو گئے ہیں، ان کو اب چھوٹی چھوٹی باتیں دیر تک رنجیدہ رکھتی ہیں۔ پہلے بہت سے معاملات کی فکر امی کو رہا کرتی تھی کہ کس بچے کی نوکری کیسی چل رہی ہے، کون مالی مشکلات کا شکار ہے، کس کی صحت کیسی ہے، کس کے گھر میں خوشی کا کوئی موقع ہے، کس کو سفر درپیش ہے۔ امی کے انتقال

Read more

تین غیر معمولی واقعات

ملکی حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ معمولی اور غیر معمولی کے درمیان فرق ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ بسا اوقات کوئی بہت معمولی خبر سامنے آتی مگر اس کے اثرات بہت غیر معمولی ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہوا کہ کسی خبر کو بہت غیر معمولی بنا کر پیش کیا اور اس کے پیچھے کوئی بہت معمولی سی بات ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے میں تین واقعات ایسے ہوئے جن کو ہر حال میں غیر معمولی کہا

Read more

عمران خان کا ملک کے تین ٹکڑے ہونے والا بیان

عمران خان کے حالیہ ہذیان اور ہیجان سے اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومت سے نکلنے کے بعد ان کے عزائم کیا ہیں۔ وہ اقتدار میں دوبارہ آنے کے لئے کس کس پستی میں گر سکتے ہیں۔ کس نفرت کے بیانئے کو فروغ دے سکتے ہیں۔ وہ اس ملک میں قتل غارت کا بازار گرم کر سکتے ہیں۔ دارالحکومت کو نذر آتش کر سکتے ہیں۔ صوبوں کو وفاق پر چڑھائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ اداروں کی

Read more

چار سالہ غلاظت کا ٹوکرا

ہر مذہب کے کچھ بنیادی عقائد ہوتے ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ ہر ریاست کے کچھ بنیادی ستون ہوتے ہیں جن کو منہدم کر دیں تو ریاست کی عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے۔ ہر معاشرے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جن کو توڑ دیں تو معاشرہ تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر اخلاقی دائرے کے کچھ ضوابط ہوتے ہیں جن کے بغیر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہر نظام کے کچھ قواعد ہوتے ہیں جن سے انکار اس نظام

Read more

اینکر اثاثے

جنرل مشرف کے دور حکومت کے آخری ایام میں ہمیں پتہ چلا کہ آزاد الیکٹرانک میڈیا بھی کسی چڑیا کا نام ہے۔ مشرف کے دور تاریک کو ختم کرنے میں ایک آزاد الیکٹرانک میڈیا کا بہت ہاتھ تھا۔ اس زمانے میں بہت بیباکی سے لوگوں نے کھل کر ایک آمر کے بارے میں بات کی۔ جمہوریت کے معنی سمجھائے۔ آئین کی داستان سنائی۔ ہمارے جیسے ملک میں یہ سب باتیں بہت اچنبھے کی تھیں۔ مشرف کا دور قبیح ختم ہوا

Read more

سیاسی پریشر ککر

پریشر ککر سے سیفٹی والو ہٹائیں تو پہلے بہت شدت سے بھاپ نکلتی ہے پھر رفتہ رفتہ پریشر ککر کا پریشر ختم ہو جاتا ہے اور بھاپ نکلنا بند ہو جاتی ہے۔ شہباز شریف سے ملاقات کریں یا ان کی کابینہ کے کسی وزیر سے ملیں تو یہ سب اس طرح سر پھینک کر کام میں جتے ہوئے ہیں جیسے گزشتہ چار سال کچھ ہوا ہی نہیں۔ نہ کوئی گرفتاری ہوئی نہ کوئی نا انصافی پر مبنی فیصلہ ہوا، نہ

Read more

وزیر اعظم شہباز شریف سے کون کون ناخوش ہے؟

عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ ایک عہد ستم بیت گیا۔ تاریخ کا ایک تاریک باب بند ہوا۔ نفرت، بہتان، الزام اور جبر کی حکومت تمام ہوئی۔ سیاہ رات گزر گئی۔ سیاست نے ایک نئی کروٹ لی۔ ایک طویل جمہوری جدوجہد کامیاب ہوئی۔ شہباز شریف نے انتہائی مخدوش حالات میں وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ حالات ایسے ہیں کہ نہ خزانے میں کوئی پائی بچی نہ بیرون ملک پاکستان کی کوئی عزت رہی تھی۔ ایک وسیع تر اتحاد نے نئے

Read more

اب خان صاحب پر کوئی بھی اعتبار کیوں نہیں کرتا؟

تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد سے اب تک عمران خان نے کئی پینترے بدلے، کئی داؤ آزمائے، کئی وعدے کیے اور کئی دھمکیاں دیں۔ بہت سوں کو ناراض کیا اور بہت سوں کو منانے کی کوشش کی۔ اپنی بدترین کارکردگی کے باوجود جلسوں میں گھیر گھار کر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو لایا گیا اور ان کو نت نئے بھاشن سنائے گئے۔ حتی کہ ”امر بالمعروف“ کی تھیم پر وفاقی دارالحکومت میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا

Read more

نواز شریف اور عمران خان میں چند بنیادی فرق

بہت پرانی بات نہیں ہے ابھی چند برس پہلے کا قصہ ہے کہ جو صورت حال آج عمران خان کو درپیش ہے اسی طرح کی صورت حال کا نواز شریف کو سامنا تھا۔ ان کا اقتدار بھی خطرے میں تھا اور عمران خان کی کشتی بھی ہچکولے کھا رہی ہے۔ مشکل صورت حال میں ان دو وزراء اعظموں کے رد عمل پر بات کرنا مقصود ہے۔ نواز شریف کو جب ایک بے بنیاد مقدمے کا سہارا لے کر ، انصاف

Read more

فاتح، پارٹ ٹو: ناقابلِ اشاعت کالم

سنگلاخ چٹانوں کے وسط میں جہاں نہ آبادی کا کوئی نشاں تھا، نہ زندگی کے کوئی آثار، گھپ اندھیرے میں تنکوں سے بنی ایک متروک سی جھونپڑی عجب نور سے جگمگا رہی تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں روشنی کسی برقی قمقمے کی نہیں تھی بلکہ جھونپڑی کا احاطہ ایمان کی روشنی سے منور تھا۔ زمستانی ہوا کسی بھی ذی روح کو برفاب کر دیتی مگر چشم فلک نے پریشاں نگاہوں سے یہ حیران نظارہ دیکھا کہ جھونپڑی میں ایک مرد

Read more

گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو

ہر گزرتا دن اس حکومت کی ہزیمت میں اضافہ کر رہا ہے۔ لوگوں کی نفرت ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر روز مہنگائی کے نئے طوفان کا مژدہ عوام کا نصیب ہوتا ہے۔ ہر روز ان کی توہین کا نیا طریقہ یہ حکومت تلاش کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ عوام کی بے بسی روز کا معمول ہے۔ اس حکومت کے مظالم پر ان کا ماتم اب روز کا وتیرہ ہے۔ یہ بات اب اہم نہیں ہے کہ یہ حکومت

Read more

نواز شریف کی جمہوریت کب آئے گی؟

اس سماج میں ہر چیز الٹ ہو گئی ہے۔ جو ڈاکو ہیں وہ چور چور کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ جن کا کام انصاف دینا ہے وہ طاقتوروں کے جرم چھپا رہے ہیں۔ جن کو پڑھنے کی ضرورت ہے وہ بول رہے ہیں۔ جن کا شعار سیاست میں مداخلت ہے وہ مسلسل بیان دے رہے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ جن کا مذہب امن کا پیامبر ہے وہ لوگوں کو تشدد پر آمادہ کر رہے ہیں۔ جن

Read more

نواز شریف کی ”تبدیلی“ – غیر سنسر شدہ کالم

ایک تبدیلی وہ تھی جس کا ڈھنڈورا دو ہزار اٹھارہ سے پہلے اور آج تک عمران خان پیٹتے پھر رہے ہیں۔ وقت رفتہ رفتہ گواہی دے رہا ہے کہ اس تبدیلی کے دامن میں سوائے دروغ، دشنام، دہشت اور دھمکی کے کچھ نہیں تھا۔ یہ وہی تبدیلی تھی کہ جس سے تین سو پچاس ڈیم بننے تھے، جانے کتنے ارب درخت لگنے تھے، ہر بچے نے سکول جانا تھا، اس ملک کے عوام کو آزادی اظہار کا حق ملنا تھا،

Read more

لیکن بہت دیر ہو چکی ہو گی

جب کسی حکومت سے عوام اتنے تنگ آ جائیں کہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دینے لگیں، جب مسجدوں میں حکومت سے نجات کی دعائیں ہونے لگیں، جب لوگ غربت سے خود کشیاں کرنے لگیں، جب بھوک اور افلاس لوگوں کے سروں پر عفریت بن کر ناچنے لگے، جب آئین، قانون، آزادی اظہار، انصاف کی دھجیاں اڑنے لگیں تو وہ حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ ایسے حکمران مسند اقتدار پر فائز نہیں رہ سکتے۔ یہ الگ بحث ہے کہ

Read more

اور کتنی گواہیاں چاہئیں نواز شریف کے حق میں؟

اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سیاست دانوں کے فیصلے ایوانوں میں نہیں آڈیو / وڈیو لیکس کے ذریعے ہوں گے۔ انصاف اب عدالتوں میں نہیں خفیہ ریکارڈنگز کے ذریعے ملے گا۔ حکومتیں اب ووٹ سے نہیں وڈیوز کے تعاون سے قائم رہیں گے۔ امریکہ میں مقیم معروف صحافی احمد نورانی کے ادارے فیکٹ فوکس کی جانب سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیکس نے ملک بھر میں ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ حیرت اس بات

Read more

احمد نورانی کا بیٹا کارٹون دیکھ رہا ہے

میں ابھی احمد نورانی سے مل کر آیا ہوں۔ پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سرجیکل وارڈ نمبر 3 کے ڈریسنگ روم کے باہر صحافیوں کا ہجوم تھا۔ ڈاکٹر نورانی کے سر کی پٹیاں کھول کر زخم کا دوبارہ جائزہ لے رہے تھے۔ کنپٹی پر ضرب شدید تھی۔ سر کے پچھلے حصے پر بھی زخم کے نشان تھے۔ جو کسی تیز دھار آلے سے لگائے گئے تھے۔ ڈریسنگ روم میں جانے کی سخت ممانعت تھی۔ ڈاکٹر صحافیوں سے التماس کر رہے تھے۔ صحافی عملے سے بحث کر رہے تھے۔ سب کی خواہش تھی کہ ایک نظر نورانی کو دیکھ لیں۔ صحافیوں کے پرزور اصرار پر ڈاکٹرز نے ایک ایک شخص کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔ بات کرنے سے منع کیا۔ صرف دیکھنے کی اجازت دی۔

Read more

الوداع جنرل فیض حمید الوداع

آپ کی الوداعی تقریبات تو بہت ہو چکی ہیں، صدر مملکت آپ کی خدمات کی تعریف کر چکے ہیں، وزیر اعظم خود کو آپ کے ساتھ نتھی کر چکے ہیں، وزیر خارجہ آپ کو خلعت فاخرہ عطا کر چکے ہیں، پی ٹی آئی کا ہر کارکن آپ کا احسان مند ہے، تحریک لبیک کے شعلہ بیان آپ کی دریا دلی کے معترف ہیں، پوری اسمبلی آپ کے وٹس ایپ کی منتظر رہتی، سینٹ کے سب ارکان آپ کے اذن کے

Read more

فیصلہ نواز شریف کے ہاتھ میں ہے

ملکی سیاست کی کایا اچانک پلٹ گئی ہے وہی جو کل کے فرعون تھے، جن لہجے میں تحکم اور تحقیر جھلکتی تھی، وہی اب معافی کے خواستگار ہیں، وہی جو کل کے ظالم تھے، اب مظلوم بنے دکھائی دیتے ہیں، وہی جو نفرت کا منبع تھے، اب محبتوں کے پھول برسانے کو تیار ہیں۔ یوں لگتا ہے سیاست کی تاش کی بازی اچانک نواز شریف کے ہاتھ میں آ گئی ہے، چاروں ”یکے“ ان کے ہاتھ میں ہیں، اب ان

Read more

جنتر منتر جادو ٹونا چھو منتر

گزشتہ دنوں اینکر پرسن ”عاصمہ شیرازی“ نے بی بی سی اردو کے پلیٹ فارم سے ایک کالم لکھاایک کالم لکھا۔ اس میں کسی شخصیت کی طرف کوئی اشارہ نہیں تھا بس کچھ ”تعویذ گنڈوں“ کا ذکر تھا۔ کالم کا چھپنا تھا کہ سوشل میڈیا پر غلاظت کے کئی گٹر ابل پڑے۔ اس کے بعد صحافی ”سلیم صافی“ نے اسی موضوع پر ایک وی لاگ کیا جس میں دینی اور علمی حوالوں سے بتایا گیا کہ ”جادو ٹونے اور کالے علم“

Read more

نواز شریف نے اپنا فیصلہ خدا کے سپرد کر دیا

نواز شریف لندن میں بیمار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مریم نواز کا ہاتھ تھامے جب لندن سے ایک بے بنیاد مقدمے میں سزا کاٹنے آئے تو انھوں نے ایک ہی جملہ کہا تھا کہ ”میں اپنا فیصلہ خدا کے سپرد کرتا ہوں۔“ جانے وہ قبولیت کی گھڑی تھی یا نواز شریف کے دکھی دل کی آہ تھی، اس وقت سے آج تک اس حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے جو کہا، جو کیا، وہ انھیں تھوک کر چاٹنا پڑا۔

Read more

پروفیسر الیاس ایوب میرے دوست ہیں

زندگی میں جن چند بڑے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا ان میں میر پور آزاد کشمیر کے پروفیسر الیاس ایوب کا نام اول اول اول ہے۔ آپ اگر پروفیسر الیاس کو نہیں جانتے تو یہ آپ کی کوتاہی اور غفلت ہے۔ ایسے لوگ تو تلاش کرنے چاہیں، ان سے ملاقات کرنی چاہیے ان سے زندگی کا سبق حاصل کرنا چاہے۔ چلیں آپ کو پروفیسر الیاس ملواتے ہیں۔ یہ بچپن سے نابینا ہے۔ روشنی کے کسی عکس کی یاد ان

Read more

خوف کی سرحد عبور ہو گئی

جب آپ کے مقابل ایک بہت بڑی قوت ہو تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ آپ خوف کی سرحد کو عبور کر لیں، دل سے ڈر کو نکال لیں، دلیر ہو جائیں، اپنے مدمقابل کو ہیچ سمجھیں، اپنی طاقت پر بھروسا کریں، اپنے زور بازو پر اعتماد کریں۔ مجھے خوش گمانی ہے کہ پاکستانیوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف خوف کی اس سرحد کو اب عبور کر لیا ہے، اب پاکستان کے بائیس کروڑ عوام

Read more

تبدیلی اپنے انجام کی جانب رواں دواں

ملک اس وقت جس بحران سے گزر رہا ہے وہ تاریخ میں نیا ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ امریکہ بہادر کی جانب سے ہمارے بارے میں اس قدر سرد مہری کا رویہ اختیار کیا جائے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ امریکی ٹی وی پر ہمارے وزیر اعظم کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا جائے کہ اس کی حیثیت تو اسلام آباد کے میئر جتنی نہیں۔ ایسا دہائیوں کے بعد ہوا کہ افغانستان میں ہماری ضرورت

Read more

امریکی جنرل بزدل ہیں

مجھے قوی امید ہے کہ اب تک پیارے پاکستانیوں کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہو گا کہ امریکہ سے زیادہ بزدل فوج کوئی نہیں اور اس سے زیادہ ڈرپوک جنرل کسی اور فوج میں شاید ہی دستیاب ہوں۔ اس قیاس کے پیچھے رموز یہ ہیں کہ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پرایک وڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک امریکی جنرل جس نے سینے پر ڈھیر سارے تمغے سجائے ہوئے ہیں اور وہ بھیگی بلی بنے چند امریکی سینیٹرز کے روبرو پیش ہے۔ بد زبان سینیٹرز کی جرات تو دیکھیے کہ نہ صرف کہ ایک جنرل سے سوال کر رہے ہیں بلکہ چند ایک نے تو جنرل کی بات کاٹنے کی گستاخی بھی کی، چند بدبخت سینٹرز جنرل صاحب سے اونچی آواز میں بولنے کے گناہ گار بھی ہوئے

Read more

نواز شریف کی تقریر اور تصویر دکھانے پر پابندی کیوں؟

تین دفعہ کے وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر اور تصویر دکھانے پر پیمرا نے پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ نہ صرف پابندی کا نوٹس دیا گیا بلکہ کسی بھی ٹی وی چینل کو نواز شریف کی تقریر دکھانے کی کوشش میں جرمانے اور چینل کی بندش کی تنبیہ بھی کی گئی۔ کہا یہ گیا کہ ایک مفرور اور اشتہاری مجرم کی تقریر دکھائی جا سکتی ہے نہ تصویر۔ یہ سب جانتے ہیں کہ جن مقدمات میں نواز شریف کو

Read more

آج بازار میں پا بجولاں چلو

حالات کا کیسا جبر ہے کہ اس دور میں ڈیم فنڈ کے نام پر پیسے لینے والا جج ثاقب نثار، حسین نقی سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو اور گرگٹ کے رنگ کی طرح پارٹیاں بدلنے والا وزیر، مینار صحافت سے پوچھتا ہے، ناصر زیدی سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو؟ اس دور کے صحافتی جبر کی مثالیں آنے والے زمانوں میں دی جائیں گی، اس دور کی بدترین سنسر شپ کی کہانیاں اگلے زمانوں کے نصاب میں

Read more

تین سال ۔ برا حال

حکومت کے بلند بانگ دعووں کے برعکس اس وقت ملک کا ہر شعبہ ترقی معکوس کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ جس تبدیلی کا نوے دن میں وعدہ کیا گیا تھا تین سال گذرنے کے بعد بھی اس کا رتی بھر عکس عوام کو دیکھنے کو نہیں ملا۔ تین سال مکمل ہونے پر جو دعوے کیئے گئے وہ یا تو خواب ہیں یا دروغ ہیں۔ نہ اس ملک میں ڈیم بنے ، نہ پاور پراجیکٹس لگے ، نہ ترقیاتی منصوبوں

Read more

نذرانہ یوسف زئی کی ٹویٹر سپیس اور فمینزم

شرمین عبید چنائے کی فلم "سیونگ فیس” کو آسکر ایوارڈ ملا تو زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال تھا کہ چند لبرل خواتین کو پاکستانی کی بدنامی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ ملک کی مکروہ شکل دکھا کر ڈالر کماتی ہیں۔ غیر ملکی ایجنڈے پر چلتی ہیں۔ لاہور میں کچھ صحافیوں کو یہ فلم دکھانے کا انتظام کیا گیا۔ ان میں زیادہ تر اکثریت ان لوگوں کی تھی جو اس فلم کو ملک مخالف پراپیگنڈا سجھتے تھے۔ جوں

Read more

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے؟

بقول معید یوسف (قومی سلامتی کے مشیر ) کے : ”پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ پاکستان پر کوئی الزام نہیں آیا۔“ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس قابل نفرین جملہ تحسین سننے کے لیے ہم نے ستر ہزار جوانوں کے خون سے اپنی دھرتی کو لہو رنگ کر لیا؟ اپنے بچوں کو سکولوں میں ذبح کروایا، اپنی مسجدوں سے خون میں لتھڑی لاشیں اٹھائیں۔ بس خود کو الزام سے بچانے کی خاطر۔ بس اتنی سی قیمت ہے ستر ہزاروں لاشوں کی!

Read more

چیف جسٹس صاحب، صابر محمود ہاشمی کو جشن آزادی منانے کی اجازت دی جائے

رنگ علی ہاشمی کا تعلق امرتسر سے تھا وہ برٹش آرمی میں ملازم تھے۔ برٹش آرمی سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ انگریز راج سے نفرت کرتے تھے اور غلامی کی اس زندگی سے تنگ آچکے تھے۔ آزادی کی خواہش ان کے دل میں ہر دم موجزن رہتی تھی۔ اس زمانے میں برٹش راج کے لوگ رنگ علی ہاشمی کو اینٹی سٹیٹ کہتے اور ان پر غداری کے فتوے لگاتے۔ لیکن وہ ہر خوف اور بہتان سے بالاتر ہو کر قائد اعظم کے حوصلے کے گرویدہ تھے۔ ان کے فرمودات سے عشق کرتے تھے۔

Read more

بال عوام کی کورٹ میں ہے

چند ذہین، فہیم، عقیل اور ذہن رسا رکھنے والے نوجوانوں سے مکالمہ درپیش تھا۔ یہ نوجوان خواتین و حضرات جمہوری جذبے سے لتھڑے ہوئے تھے۔ ان کی گفتار میں انقلاب کی تپش، افکار کی گرمی اور انکار کی قوت موجود تھی۔ یہ نوجوان بے باک بھی تھے اور بے لوث بھی۔ ان کے لہجے میں توانائی بھی تھی اور طاقت بھی۔ یہ نوجوان فوری انقلاب کے مطالبے پر مصر تھے۔ جبر کی قوتوں کے خلاف جہاد ان کا مطمح نظر

Read more

ہماری لڑکیاں

اس بات کو ماننے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں حقوق نسواں کے لیے جتنی تحریکیں چلیں، جتنے سیمینار ہوئے، جتنے موم بتی والے احتجاج ہوئے، جتنی شعلہ بیان تقاریر کی گئیں، جتنے عورت مارچ ہوئے ؛ سب بے سود اور بے فائدہ رہے، سب دعوے زمیں بوس ہو گئے، سب نعرے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں آج سے صدیوں پہلے زمانہ جاہلیت کے وہ لوگ کھڑے تھے جو اپنی

Read more

گالی اور گولی، اور عابد شیر علی

جس طرح گالی دینا کوئی قابل تحسین عمل نہیں ہے اس طرح مسلسل گالیاں کھانا بھی کوئی لائق تحسین بات نہیں۔ اس بات کو اب مسلم لیگ نون کے کارکنوں، قیادت اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے سمجھ لیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے واقعات صرف چند دن پہلے کے واقعات نہیں بلکہ ان کے ڈانڈے دور تک ملتے ہیں۔ اس میں کئی پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں ایک منصوبے کے تحت مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کو گالم گلوچ کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک جرم جو انہوں نے کیا ہی نہیں اس کی سزا سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر سر عام دی گئی۔ ہر ظلم کا بہر حال خاتمہ ہوتا ہے، ہر زہریلی سازش کے خلاف کوئی تدبیر نکل آتی ہے۔ ہر خاموشی کبھی طوفان بن جاتی ہے۔ یہی اب ہو رہا ہے۔

Read more

سیاسی جمود سے سیاسی جدوجہد تک – ناقابل اشاعت کالم

ملک کا سیاسی نقشہ عجب جمود کا منظر پیش کر رہا ہے۔ لگتا ہے سب سیاسی اور غیر سیاسی کھلاڑی اپنے، اپنے بیانیے کا شکار ہو چکے ہیں۔ کسی کو صورت حال میں تبدیلی گوارا نہیں۔ بساط کے سب کھلاڑی اپنے کہے کی گرفت میں ہیں۔ کوئی اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر رہا۔ کسی کو اپنے بیانیے سے ”یو ٹرن“ مقصود نہیں۔ یہ سوچنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ سیاسی جمود کیسے تخلیق ہوا اور اس سے نکلنے کی صورت کیا ہے؟ دنیا کی تاریخ ایسے مشکل مقامات پر کیا حل تجویز کرتی ہے؟ اور ہماری اپنی تاریخ کس راستے کی طرف نشاندہی کرتی ہے؟

موجودہ حکومت ”کرپشن کرپشن“ کی رٹ میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ ان کی اپنی صفوں میں چاہے کرپشن کی جتنی مرضی کہانیاں ہوں یہ مخالفین پر کرپشن کے الزامات لگانے سے، انہیں چور، ڈاکو، لٹیرا کہنے سے باز نہیں آ سکتے۔ اس لیے کہ انہوں نے ووٹ ہی اس بات کے لیے ہیں۔ انہوں نے قوم کو سمجھایا کہ اگر حاکم اعلی کرپٹ نہ ہو تو ملک ترقی کرتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں، کرپشن کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اب بقول خان صاحب کے مصاحبین کے خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں تو جانے کیوں ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

Read more

سات بہادر خواتین

ہو سکتا ہے آپ ان سات خواتین سے واقف نہ ہوں، نہ آپ کو ان کے کام کا علم ہو نہ نام کا، نہ تحریر نظر سے گزری ہو نہ تصویر سے شناسائی ہو، نہ آواز سنی ہو نہ آہنگ سے واقفیت ہو لیکن اس کے باوجود میری اس بات پر یقین کیجیے کہ ابصار فاطمہ، ثروت نجیب، سمیرا ناز، صفیہ شاہد، فاطمہ عثمان، فرحین خالد اور معافیہ شیخ اس دور کی سات بہادر خواتین ہیں۔ ان کی دلیری کی

Read more

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے نام ایک خط

یقین مانیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب! آپ نے اچھا نہیں کیا، دو سال تو کیا آپ نے افسران کی دہائیوں کی محنت برباد کروا دی، سارے بیانیے کو ہی آگ لگا دی؛ ایسا بھی کوئی کرتا ہے؟ ”قومی مفاد“ بھی کوئی شے ہوتی ہے، ”حالات کی نزاکت“ بھی کسی چڑیا کا نام ہے، آپ نے تو سارا منصوبہ ہی ناکام کر دیا، کھڑی تیار فصل کو ہی آگ لگا دی، تبدیلی کی ہنڈیا ہی بیچ چوراہے میں پھوڑ دی، کوئی ایسے بھی ”قومی راز“ طشت از بام کرتا ہے؟ کوئی ایسے بھی کام کرتا ہے؟

Read more

جرات مند صحافیوں سے اسلام آباد کو شناخت مل گئی

کہتے تو سب یہی ہیں کہ اسلام آباد کی کوئی شناخت نہیں، یہ افسروں کا قبرستان ہے، یہ بیوروکریٹس کی آماج گاہ ہے، یہ گریڈوں کا شہر ہے، یہ بابوؤں کی بستی ہے، یہاں کا کوئی کلچر نہیں، کوئی تاریخ نہیں، کوئی تمدن نہیں، یہ فائلوں پر چپ چاپ دستخط کرنے والوں کا شہر ہے، یہ ڈرائنگ رومز میں بحثیں کرنے والوں کا شہر ہے

ایسے دور تاریک میں اسلام آباد کو بالآخر ایک شناخت مل ہی گئی ہے، یہ شہر اب اپنے جری صحافیوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، ان پر بہیمانہ ستم کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، ان پر مبینہ حملوں کی وجہ سے معروف ہے۔

Read more

کارنر والا پلاٹ

کتاب مصنف کا تجربہ ہی نہیں، حافظہ بھی ہوتی ہے۔ ساری عمر کا نچوڑ جو کاغذ پر منتقل ہوتا ہے۔ یہ لفظ کی برکت سے ممکن ہوتا ہے، لفظ مصنف کے قلم سے پیدا ہوتا ہے تو ان دیکھی دنیائیں دکھا دیتا ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ سوچ، خیال، خواب اور گمان کا حسن صرف حرف کی طاقت پر منحصر نہیں، اس میں طباعت کا کرشمہ بھی شامل ہوتا ہے۔ کتاب میں کیا لکھا گیا ہے، یہ اہم ہے لیکن کیسے لکھا ہے، کیسے چھپا ہے، کیسے دکھتا ہے، یہ کہانی بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

Read more

سارا قصور بائیس کروڑ عوام کا ہے

ایک لمحے کو چھوڑیئے اس بات کو کہ جہانگیر خان ترین کا ہم خیال گروپ کس سے زور آزمائی کر رہا ہے۔ کچھ وقت کے لیے بھول جائیے کہ تخت پنجاب کی مسند پر اب کون جلوہ افروز ہو گا۔ وفاق میں کس کی حکومت بنے گی؟ لوٹے کس کے حکم پر پرواز کریں گے اور کس کے وٹس ایپ پر ساکت و جامد ہو جائیں گے۔ شہباز شریف کی وطن سے روانگی کا پروانہ جاری ہو گا یا نہیں

Read more

تکون کے چار کونے

ایک بہت سادہ سی تقسیم کے مطابق ہمیں ادب کے مطالعے میں دو طرح کی تحریروں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے ؛ ایک وہ جو سہل ہیں، اور دوسری دقیق اور گنجلک۔ سوال یہ ہے کہ جو تحریریں عام ذہنی سطح سے بالاتر ہیں کیا وہ ادب نہیں ہے؟ کیا اس کو لکھنے والا ادیب نہیں کہلا سکتا؟ دوسری جانب یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ جو بات سب کی سمجھ میں آ جائے وہ ادب نہیں رہتی بلکہ عامیانہ ہو جاتی ہے۔ ان دونوں نظریات کے اپنے اپنے ناقدین ہیں، ادب کی مکمل تعریف انہی دو کلیؤں کے درمیان کہیں قید ہے۔ یہ بحث اس لیے چھیڑ دی کہ بہت مدت کے بعد ایک کتاب پڑھی، جس میں یہ دونوں ہی کیفیات شدت سے ملتی ہیں۔ جس کا لہجہ عوامی ہے اور آہنگ فلسفہ ہائے دقیق کی بات کرتا ہے۔

Read more

نواز شریف کی سیاست۔ پانامہ کے بعد

اب نواز شریف بہت بدل گیا ہے۔ تیسری بار وزیر اعظم کی کرسی سے برخواست کیے جانے کے بعد نواز شریف کی سیاست میں بہت تبدیلی آئی ہے ؛ اب وہ مفاہمت نہیں مزاحمت کی بات کرتا ہے، اب وہ فیصلہ کن ٹکراؤ چاہتا ہے، اب وہ درمیانی راہ کی تلاش میں نہیں بلکہ آر یا پار کی سوچ رکھتا ہے، اب اس سے یہ طعنہ نہیں سہا جاتا کہ پنجاب سے مزاحمت کی آواز نہیں اٹھتی، اب وہ یہ بہتان نہیں سن سکتا کہ پنجاب کے لیڈر قربانی نہیں دیتے، اب وہ کسی ڈیل، کسی آفر کی تلاش میں نہیں، اب وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہتے، اب اس کو وہی عزیز ہے جو ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرے، اب وہ اسی کو دوست جانتا ہے جو جبر کے خلاف سینہ سپر ہو، اب اس کے قریب وہی ہے جو تاریخ کی درست سمت دیکھے، جو اس نظام سے اختلاف کی بات کرے، انقلاب کی بات کرے۔

Read more

بیٹا ہو تو سلیم صافی جیسا

ابھی ابھی معروف صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی کو ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا فون کیا۔ فون کی گھنٹی دیر تک بجتی رہی کسی نے فون نہیں اٹھایا، بات نہ ہو سکی۔ یہ اچھا ہوا، اس لیے کہ ماؤں کے مر جانے کے بعد ہمدردی کے لفظ بہت بے معنی اور بے اثر ہوتے ہیں۔ کوئی لفظ اس دکھ کا کیسے مداوا کر سکتا ہے؟ کوئی جملہ کیسے اس الم کو بانٹ سکتا ہے؟

میری سلیم صافی سے بہت ملاقات نہیں، دوستی کا دعویٰ بھی میں نہیں کر سکتا لیکن جب بھی ملاقات ہوئی، بہت ہی احترام کے دائرے میں ہوئی۔ میل ملاقات کے طریقے سے ہی انسان کی تربیت کا پتہ چلتا ہے۔ سلیم صافی سے جب بھی ملاقات ہوئی یہ احساس ہوا ان کی تربیت ایسے پاکیزہ ماحول میں ہوئی ہے جہاں دوسرے کا احترام، گفتگو کا سلیقہ اور ملاقات کا قرینہ سکھایا گیا ہے۔

Read more

ابصار عالم ہوش میں نہیں

ابھی ابھی ایف ٹن اسلام آباد کے ’معروف ہسپتال‘ کے آئی سی یو میں ابصار عالم سے ملاقات ہوئی ہے۔ سلیٹی رنگ کی ٹی شرٹ پر گولی کا نشان بہت واضح تھا۔ ایک ہاتھ میں کینولا کے ساتھ ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ گولی کے زخم پر پٹی باندھی جا چکی تھی۔ ہسپتال ایمرجنسی وارڈ کے باہر درجنوں صحافی پریشانی کے عالم میں ٹہل رہے تھے۔ کئی ٹی وی چینلز کے کیمرے لگ چکے تھے۔ اہم شخصیات کے آمد کی توقع میں پولیس کی تازہ دم اسکواڈ ہسپتال کے باہر پوزیشن لے چکی تھی۔ ہسپتال میں داخلے کی سخت ممانعت تھی۔ معروف ہسپتال کے ہیڈ آف ایمرجنسی ڈاکٹر بلال اور ڈاکٹر اسامہ تمام لوگوں کو باری باری بریفنگ دے رہے تھے۔ ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر وحید میر بھی اس موقعے پر پہنچے انھوں نے اپنی نگرانی میں ابصار کو ایمرجنسی سے آئی سی یو میں شفٹ کروایا۔

Read more

ڈسکہ الیکشن کے بارہ نتائج

این اے پچھتر ڈسکہ کا الیکشن اپنے اختتام کو پہنچا، نتیجہ وہی نکلا جو اس حلقے کے عوام چاہتے تھے۔ اس الیکشن کو ہارنے کے لیے حکومت وقت نے جو جتن کیے وہ ایک ہتک آمیز داستان ہے۔ انیس فروری کو اسی حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدوار اسجد ملہی کامیابی سے ہمکنار ہوئے تھے لیکن اس کامیابی کے پیچھے جو مجرمانہ سازشیں کی گئی تھیں وہ اب طشت از بام ہو چکی ہیں۔ کبھی فائرنگ کر کے لوگوں کو دھمکایا گیا، کبھی دھند کا بہانہ بنایا گیا، کبھی پولنگ کے عملے کو دھند کی آڑ میں غائب کیا گیا، کبھی نتائج کسی فیکٹری میں مرتب کیے گئے۔ یہ کارروائی اس قدر عریاں طریقے سے کی گئی کہ الیکشن کمیشن سے بھی نہ رہا گیا، دوبارہ الیکشن کا اعلان ہوا۔

Read more

مونچھیں ہوں تو نٹور لال جیسی

مونچھیں ہوں تو نٹور لال جیسی

عمار مسعود

قارئین نے کسی ملک کے سربراہ کے افعال کے حوالے سے ذہن میں کچھ پختہ، کچھ خام تصورات ضرور تشکیل دے رکھے ہوں گے۔ عام خیال یہ ہے کہ اس زمانے میں جب سربراہ مملکت کو خلیفہ وقت کہہ کر پکارا جاتا تھا، اس زمانے میں حاکم وقت کا تصور یہ تھا کہ وہ رات کے وقت بھیس بدل کر گلیوں میں گشت کرتا، چوری چھپے عوام میں گھل مل جاتا، ان کے دکھ درد سے واقفیت حاصل کرتا اور علی الصبح عدالت سجاتا ہوگا، جہاں قاضی شہر بھی حاضر ہوتا ہو گا، سائل زنجیر عدل ہلا کر دربار عالیہ میں دندناتے ہوئے داخل ہوتا ہو گا، بادشاہ وقت بے کس فریادی کی فریاد پر کان دھرتا، وزیر باتدبیر کے مشورے سے فیصلہ کرتا اور شہر بھر میں عدل کی دہائی پڑ جاتی ہو گی۔

Read more

اسلام آباد پولیس اور سیف سٹی پراجیکٹ

کسی بھی محکمے میں سب لوگ اچھے نہیں ہو سکتے اور کسی بھی محکمے میں سب لوگ برے نہیں ہو سکتے۔ پولیس کے محکمے کے لیے ہمارے عمومی خیالات اس سے متصادم ہیں۔ بدقسمتی سے پولیس کے بارے میں خیال آتے ہی لوگوں کے ذہنوں میں پہلا خیال رشوت کا آتا ہے، حفاظت کا تصور کم کم ہی ذہنوں میں در آتا ہے۔ پولیس کے ساتھ ہمارا یہ رویہ نیا نہیں مدتوں پرانا ہے۔ ایک خاص سوچ ہمارے ذہنوں میں بٹھائی گئی ہے کہ اس محکمے میں سب لوگ برے ہیں جو کہ ایک بہت غلط سوچ ہے، ایسا ممکن نہیں۔ اس محکمے میں بھی بہت قابل، لائق اور ایمان دار افسران اور جوان ہیں جن کی محنت اس منفی پراپیگنڈے کا شکار ہو جاتی ہیں۔

پولیس کا کام جرائم کی روک تھام تو ہے ہی مگر یہ فورس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہایت کم وسائل کے باوجود بھی جانفشانی سے مقابلہ کرتی رہی مگر ان کی قربانیوں کا ذکر کم کم ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے لاہور موٹر وے ٹول پلازہ پر چند سال پہلے دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش میں پولیس کے چند جوان شہید ہو گئے، پنجاب کے آئی جی وہاں تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا کہ میں اور میری تمام سروس ان جوانوں کے جذبہ شہادت کے پاؤں کی خاک بھی نہیں۔ اس لمحے ہمیں احساس ہوا کہ یہ بڑے قیمتی لوگ ہیں لیکن ہم ان کو وہ عزت نہیں دے سکے جو ان کا حق ہے۔

Read more

اک نئی قرارداد پاکستان

فرض کریں یہ حالات یوں ہی چلتے رہتے ہیں، یہ سلیکٹڈ حکومت ہم پر اسی طرح مسلط رہتی ہے، سلیکٹر کبھی چھپ کر کبھی ببانگ دہل اس کی پشت پناہی کرتے رہتے ہیں، ماضی کی حکومت پر الزامات ہی حکومت کی کارکردگی رہے، دس سالہ منصوبہ کامیاب ہو جائے تو کیا ہو گا؟

پیارے پاکستانیو! جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے حالات بہت خراب ہیں وہ ان حالات کو ترسیں گے، ان دنوں کے لوٹ آنے کی دعا کریں گے۔ ابھی تو دس سالہ منصوبے کا آغاز ہوا ہے، ابھی تو ساری ہلتی چولیں بڑی مشکل سے بٹھائی گئی ہیں، ابھی تو ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران کی ہر محکمے میں تعیناتی ہوئی ہے، ابھی تو پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈالنے میں فتح مبین حاصل ہوئی ہے، ابھی تو الیکٹرانک میڈیا کا تمام تر ایریا حق گو اور روگ صحافیوں سے کلیئر کروایا گیا ہے

Read more

سینٹ الیکشن کے بعد ایک کالم پیپلز پارٹی کے نام

جو لوگ ملک کے آئین کو پاؤں تلے روندتے ہیں ان سے قانونی جنگ نہیں لڑی جا سکتی، ان سے جمہوریت کی اقدار پر بات نہیں کی جا سکتی، ان سے ووٹ کی حرمت کا تقاضا نہیں کیا جا سکتا، ان سے مسائل کے قانونی پہلو زیر بحث نہیں لائے جا سکتے۔ جمہوریت کی جنگ میں غیر جمہوری قوتوں کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں ہو سکتا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے، یہ بحث ان سے نہیں ہو سکتی جو سمجھتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت بہترین انتظام ہے۔

Read more

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

وزیر اعظم کو مکمل یقین ہے کہ وہ قومی اسمبلی سے کل اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہاں بس یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم کو یہ بھی پختہ یقین تھا کہ حفیظ شیخ سینٹ میں جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم کو مکمل اعتماد تھا کہ وہ نوشہرہ کی نشست بھی جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم کو یہ بھی مکمل اعتماد تھا کہ وہ تمام تر سرکاری مشینری استعمال کر کے ڈسکہ کی سیٹ جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم کو تو وزیر آباد سے بھی فتح کی نوید سنا دی گئی تھی۔ لیکن ہر دفعہ ان کے اعتماد نے ان کو دھوکہ دیا

Read more

براڈ شیٹ کا فیصلہ ایک زناٹے دار تھپڑ ہے

کتنے برس ہو گئے کرپشن کے نعرے سنتے سنتے، ہر ٹاک شو میں یہی گردان کی جاتی رہی۔ گزشتہ پانچ سالوں سے یہ نعرہ نواز شریف کے خلاف بلند ہوا، ہر شو میں کاغذات لہرا لہرا کر ثبوت پیش کیے گئے، یہی کہا گیا کہ لوٹ کے لے گئے، ملک کو۔ بیچ دیا پاکستان کو۔ اس جعلی پروپیگنڈے کی اصلیت براڈ شیٹ کے کیس میں سامنے آ گئی، یہ حقیقت بھی اس لیے آشکار ہوئی کہ مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں چل رہا تھا، وہاں کوئی انصاف کے عمل پر اثر انداز ہونے والا نہیں تھا۔ وہ کرپشن کا منترا، وہ لندن کے فلیٹس، وہ چوری کے الزامات اور وہ ڈکیتی کے خوفناک بہتان ایک ہی فیصلے میں ہوا ہو گئے۔ براڈ شیٹ کے سہارے کرپشن کے ثبوت پیش کرنے والوں کو لینے کے دینے پڑ گئے، نواز شریف کو پینتالیس لاکھ روپے کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کی گئی کہ الزامات غلط تھے لیکن ان الزامات کے جھوٹ ثابت ہونے تک پلوں تلے بہت پانی بہہ چکا ہے، ایک منتخب وزیراعظم کو تیسری دفعہ برخواست کیا جا چکا ہے، ایک حکومت پر کرپشن کی پانچ سالہ کیمپین چل چکی ہے، لوگوں کے ذہنوں میں سیاستدانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جا چکی ہے، ایک سلیکٹڈ حکومت کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

Read more

لائٹ نہیں آ رہی

اس اندھیر نگری میں ہمیں تاریکی پھیلانے والوں کے چہرے نظر نہیں آتے، وہ اپنے جرم کے خوف کی چادر لپیٹے ہوئے اندھیرے میں ہی رہتے ہیں۔نہ کوئی ان کا چہرہ دیکھتا ہے، نہ ان کی طرف کوئی اشارہ کرتا ہے، نہ کوئی ان کو الزام دیتا ہے، نہ کوئی جرم ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب بھی کوئی اس طرح کی جسارت کرتا ہے، شور پڑتا ہے کہ ”لائٹ نہیں آ رہی“ ، پورے ملک کا سسٹم بیٹھ جاتا ہے، تاریکی مسلط کر دی جاتی ہے، ۔ اس اندھیرے کا فائدہ وہ اٹھاتے ہیں جو تاریکی کے دلدادہ ہوتے ہیں، جن کی آنکھیں روشنی میں چندھیائی رہتی ہیں، جو چراغوں کی ٹمٹماتی لو سے بھی لرز جاتے ہیں۔

Read more

ہزارہ برادری کی عورتو! اب بس بھی کر دو

ہزارہ برادری کی عورتو! اب بس بھی کر دو، اب اٹھاؤ اپنے جوانوں کے لاشے اور انھیں زمیں برد کر دو، اب خاک ڈال بھی دو ان کٹے پھٹے جسموں پر، اب آنسو بہانا بند کرو، اب ماتم کرنا چھوڑ دو، اب بین ڈالنا ترک کردو۔

نہ تمھارے آنسو کارگر ہو رہے ہیں، نہ منجمد ہوتے، ماتم کرتے بچوں پر کسی کو رحم آ رہا ہے، نہ منفی چھے ڈگری درجہ حرارت میں دھرنے سے کسی کا دل لرز رہا ہے، نہ قیامت کی گھڑی آ رہی ہے، نہ آسمان ٹوٹ رہا ہے، نہ زمین شق ہو رہی ہے، نہ تمھاری نصرت کو گردوں سے کوئی فرشتہ آ رہا ہے، نہ حکومت کوہی ترس آ رہا ہے، نہ وزرا کی سیاسی فوائد کی خواہش مر رہی ہے، نہ وزیر اعظم آ رہے ہیں، نہ مطالبات مانے جا رہے ہیں۔ تم بس اتنا رحم کرو کہ ان لاشوں کو دفن کر دو، قبیلے میں اب کوئی مرد ایسا نہیں بچا جس کے دھڑ پر اس کا سر قائم ہو۔ تو اے ہزارہ برادری کی عورتو! خود جنازے اٹھاؤ، کلمہ شہادت کا ورد کرو، میتوں کو کاندھے دو اور قبر میں ان ادھورے جسموں کو اتار دو، ان کی مغفرت کے لیے دعا مانگو، ان قربانیوں کو عظیم جانو، ان کی یادوں کو سینے سے لگاؤ اور بس خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔

Read more

دلبر جان کا کاروبار

نام تو جانے اس کا کیا تھا لیکن سب اسے دلبر جان کے نام سے پکارتے تھے۔تعلیم سے تائب تھا، میڑک بھی ایسے کیا جیسے کوئی پی ایچ ڈی کرتا ہے یعنی کئی برس لگا دیے۔ والدین بہت متفکر رہتے کہ کب ہونہار سپوت کچھ کما کر کھلائے گا ۔ لیکن دلبرجان کے کان پر جوں تک نہ رینگتی تھی۔ وہ اپنے موبائل میں غرق ہر وقت وہی کام کر تا رہتا تھا جو اس عمر کے لڑکے اکثر کرتے

Read more

ماں کی قبر کی گیلی مٹی پر دعا کرنے کے لیے کتنے دن کافی ہوں گے؟

نواز شریف کی والدہ شمیم اختر نے زندگی میں بہت نشیب و فراز دیکھے۔ انہوں نے ساٹھ اور ستر کی دہائی میں وہ وقت بھی دیکھا جب ہر طرف ان کے شوہر کے کاروبار کا طوطی بولتا تھا۔ کاروبار میں ایسی برکت ہوئی کہ دنیا بھر میں میاں شریف کا نام ہوا۔ اس وقت یہ خاندان پاکستان کے رئیس ترین خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ بھٹو دور میں نیشنلائزیشن کا نعرہ لگا تو میاں شریف سب کچھ سمیٹ کر دساور کے سفر پر جا نکلے۔ عرب ممالک نے پاکستان کے ایسے بزنس مین کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔

آپی جی کی دعاؤں میں ایسی برکت ہوئی کہ کاروبار بیرون ملک بھی پھلنے پھولنے لگا۔ سربراہان مملکت سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ بڑے بڑے لوگ گھر پر مدعو ہونے لگے۔ لیکن اس سے آپی جی کی سوچ میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے تمام تر امارات کے باوجود ہمیشہ سادہ لباس پہنا۔ نماز روزے کی پابندی کی۔ عزیز رشتہ داروں کا ہر مشکل میں خیال رکھا۔ کس کے گھر تعزیت کے لیے جانا ہے؟ کہاں مبارک باد دینی ہے؟ کہاں کسی بچے کے رشتہ کی بات کرنی ہے؟ کہاں کس کی چپکے سے مدد کرنی ہے؟ کس کے لئے نماز کے بعد خصوصی دعا کرنی ہے؟ کس کی کامیابی کے بعد شکرانے کے نفل پڑھنے ہیں؟ یہ سب فیصلے ہمیشہ سے آپی جی نے خود ہی طے کیے تھے۔ لیکن ان کی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ان کی دعائیں تھیں، نماز روزے کی عادت تھی۔ وہ آخری وقت تک اس معمول کی پابند رہیں۔ اس میں کوئی رخنہ یا رکاوٹ انہیں قبول نہیں تھی۔

Read more

نواز شریف کی اگلی تقریر سے بات کہاں جائے گی؟

تا دم تحریر نواز شریف نے اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم سے ایک ہی تقریر کی ہے۔ لیکن اس ایک تقریر سے بہت کچھ بدل گیا۔ سوچ بدل گئی، سماج بدل گیا، یہ ملک بدل گیا۔ اس ایک تقریر سے یہ بیانیہ دم توڑ گیا ہے کہ نواز شریف کسی ڈیل کے متلاشی ہیں، این آر او مانگ رہے ہیں۔ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان بچا رہے ہیں۔ مصلحت پسند ہو کر خاموشی اختیار کر گئے ہیں۔ ایک تقریر نے یہ سب الزامات دھو دیے ہیں۔ اب نواز شریف کو چاہے جو بھی کہیں مگر کوئی بھی یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکتا کہ نواز شریف کسی رعایت کے طلب گار ہیں اور بند دروازوں کے پیچھے کسی خفیہ ڈیل کے چکر میں ہیں۔

آج تک ہم سنتے آئیں ہیں کہ پنجاب نے ہمیشہ طاقتوروں کے سامنے سر خم کیا۔ کسی لیڈر نے ہمت نہیں دکھائی، کسی نے جرات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کوئی جابر سلطان کے سامنے حق بات نہ کہہ سکا۔ ہر ایک پنجابی حکمران نے غیر جمہوری قوتوں کی مدد سے اس ملک پر حکمرانی کی۔ ہمیشہ پنجابیوں کی ”کنڈ“ لگوائی۔ لیکن اب یہ بات ختم ہو گئی ہے۔ نواز شریف نے جو کچھ ایک تقریر میں کہہ دیا، وہ کہنے کی کسی کو جرات نہیں رہی۔ غیر جمہوری قوتوں کی سب بات کرتے ہیں، مگر کوئی بھی آج تک اس طرح ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں چیلنج نہیں کر سکا۔ پنجابیوں کے چہرے سے دہائیوں کی بد نامی کا یہ داغ نواز شریف نے ایک ہی تقریر میں دھو دیا۔

Read more

سیاسی قاعدے کی الف۔ ب۔ پ – مکمل کالم

کہتے ہیں کہ لفظوں کی اپنی تصویریں ہوتی ہیں۔ ہر لفظ کے ساتھ ایک تراشیدہ تصویری پیکر ہوتا ہے جو ذہن کی دیوار پر نقش ہوتا ہے۔ ان لفظوں کے معنی بسا اوقات تصاویر میں پوشیدہ ہوتے ہیں اور انہی سے لفظ کے مفہوم واضح ہوتے ہیں۔ یہ تصاویر ہمارے ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں یا نقش کروا دی جاتیں۔ بعض اوقات تصویر کی تلاش میں لفظ سرگرداں ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ تصویر لفظ کو تلاش کر رہی ہوتی ہے۔ یہ لفظی تصویریں ہمارے بچپن سے مفہوم پاتی ہیں اور تا عمر ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔ کچھ تصویریں ہمیں زور زبردستی سے رٹائی جاتی ہیں اور کچھ ایسے نقش ہوتے ہیں جو ہمارے ذہن پر منجمند ہو جاتے ہیں۔ آپ چاہے کتنی بھی کوشش کر کے ان تصویروں کو ذہن سے کھرچیں یہ پھر بھی اپنا نشان باقی رکھتی ہیں۔ اپنی شبیہ قائم رکھتی ہیں۔ لفظوں سے ذہن میں تصویر بننا بعض اوقات شعوری کوشش ہوتا ہے اور اکثر یہ کیفیت غیر شعوری ہوتی ہے۔ جیسے بچوں کو حروف تہجی سکھاتے ہوئے تصویر دکھائی جاتی ہے۔ الف سے انار بتایا جاتا ہے اور ب سے بکری بتایا جاتا ہے۔ پ سے پنکھا سکھایا جاتا ہے۔ ان لفظوں کی یہی تصاویر تمام عمر ہماری یاداشت پر نقش رہتی ہیں ہمیں ابجد کے ابتدائی سبق یاد کرواتی ہیں۔

ہماری سیاسی لغت میں بے شمار لفظ ایسے ہیں جن کے معنی تصویر کی شکل میں ہم پر بہت دیر میں واشگاف ہوئے ہیں۔ اب ”احتساب“ کے لفظ کو ہی لے لیں۔ آنکھیں بند کر کے اس لفظ کو سوچیں تو اپوزیشن کے قریباً ہر رہنما کی تصویر آپ کے سامنے آئے گی مگر حکومت کا کوئی سیاست دان، کوئی وزیر، کوئی مشیر اس لفظ کی قید میں نہیں آئے گا اس لئے کہ ہمیں یہی رٹایا گیا ہے کہ اگر ”احتساب“ ہو گا تو اپوزیشن کا ہو گا اور حکومت کے ارباب بست و کشاد کا اس لفظ سے نہ کوئی تعلق ہے نہ وہ اس لفظ کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

Read more

بیگم کلثوم نواز کی آخری خواہش اور میاں نواز شریف کا عزم

آج سے ٹھیک ایک برس پہلے بیگم کلثوم نواز کا لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر تھیں اور دل کے عارضے کے علاوہ کینسر بھی ان کے جسم میں پھیل چکا تھا۔ گزشتہ کئی دنوں سے کلثوم نواز، نواز شریف اور مریم نواز سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ اس بات پر بہت حیران ہوتیں اور شکوہ کرتیں کہ ”باؤ جی جہاں بھی ہوں رات کو مجھے کال ضرور کیا کرتے تھے اب ایسی کون سی مصروفیت آن پڑی ہے“ ۔ لندن میں مقیم بچوں نے ان سے یہ بات چھپا کر رکھی تھی کہ نواز شریف اور مریم نواز اس وقت جیل میں ناکردہ گناہوں میں قید ہیں۔

آخری دنوں میں کلثوم نواز میں جب بھی سکت ہوتی تو وہ خود بھی کبھی موبائل ہاتھ میں لے کر ”باؤ جی“ کو کال کرنے کی کوشش کرتیں مگر کوئی جواب نہیں آتا۔ اس خدشے کے پیش نظر کہ ان کو گرفتاری کا علم نہ ہو جائے اور اس حالت میں ان کو مزید تکلیف پہنچے ان کے موبائل اور آئی پیڈ سے انٹرنیٹ کا کنکشن ختم کر دیا گیا تھا۔ اس صدمے سے بچانے کے لئے ان کے کمرے کے ٹی وی کا کنکشن بھی اتار دیا گیا تھا۔ لیکن کلثوم نواز کو دھڑکا تو لگا ہوا تھا۔ وہ ہر کسی سے پوچھتیں کہ ”تم لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو“ ۔ ایک دن انہوں نے اپنی پرانی آیا سے بھی دریافت کیا کہ ”تم ہی مجھے اصل بات بتا دو۔ مجھے لگتا ہے یہ سب مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں۔“ لیکن کسی نے ان کو یہ صدمہ نہیں پہنچایا۔ وہ ہوش میں آتیں تو سوال ضرور کرتیں ”باؤ جی کا فون آیا، مریم کی کال آئی“ اور اسی جواب کے انتظار میں گیارہ ستمبر کو ان کی زندگی کا سانس سے رشتہ ٹوٹ گیا۔
پہلی تاریخ اشاعت: 10/09/2019

Read more

عمران خان: خدشے، اندیشے اور حقیقت

گزشتہ چند ہفتوں سے اسلام آباد کے صحافتی اور سیاسی حلقوں میں ایک عجیب بحث زور پکڑ چکی ہے۔ جس کے مطابق پاکستان کے طاقتور حلقوں کا جی اب عمران خان سے بھر چکا ہے۔ وہ اس معاشی بدحالی سے نالاں ہو چکے ہیں اور اس حکومت سے نجات چاہتے ہیں مگر طاقتور لوگوں کو اندیشہ ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت کو رخصت کیا گیا تو خان صاحب سخت ردعمل دکھائیں گے اور پشتون بیلٹ کے لوگوں سے مل کر مزاحمت کی آواز اٹھائیں گے۔ یہی اندیشے خان صاحب کی حکومت کی اب تک بقا کا سبب ہیں۔

اس بحث کی گونج اخباری کالموں سے لے کر اسلام آباد کے ڈرائنگ روموں میں ”ہوانا“ کے سگار سلگاتی شخصیات سے ہوتی ہوئی حکومت کے رات گئے ”محفل“ سجانے والے وزرا کے حجروں تک پہنچی۔ سب کے ذہنوں میں خان صاحب کے ردعمل کا اندیشہ ایک بہت بڑی دلیل بن چکا ہے۔ میں بہت احترام سے اپنے تمام فاضل دوستوں سے نہ صرف اختلاف کروں گا بلکہ اس مفروضے کو گمراہ کن اور مجذوب کی بڑ قرار دوں گا۔ میرے اس استدلال کے بنیادی نقاط یہ ہیں۔

Read more

بلاول بھٹو کا اجرک والا ماسک

بلاول بھٹو کے اجرک والے ماسک کو الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت مشق ستم بنایا گیا۔ اس کا بہت ہی بھونڈے طریقے سے مذاق اڑایا گیا۔ اس کا تمسخر کا اڑاتے ہمیں یہ احساس بھی نہیں رہا کہ ہم ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کا مذاق اڑانے کے بہانے ایک صوبے کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ایک ثقافت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ہزاروں سال پرانی ایک تہذیب کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

عجیب معاملہ ہے کہ ہم اپنے بارے میں احساس کمتری میں مبتلا ہونے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ اپنی زبان، اپنی رسومات، اپنی موسیقی، اپنے فنکار، اپنے گیت، اپنی تہذیب حتی کہ ہم اپنی سوچ پر بھی شرمندہ رہتے ہیں۔ یہ احساس کمتری اس عہد غلامی میں پروان چڑھا جب ہم پر انگریز محکوم تھے۔ جب ہم غلامی کے شکنجوں میں قید تھے۔ جب ہمیں کم تر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ آج کہنے کو تو ہم آزاد ہیں مگر ہماری سوچ پر ابھی بھی زنجیریں پڑی ہوئی ہیں۔ آزادی کا پہلا لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان اپنے وجود کو تسلیم کرے، خودی کو تسلیم کرے۔ اپنے آپ کو افضل جانے، اپنے آپ کو پہچانے۔ لیکن ہمارا معاملہ بالکل مختلف ہے کہ ہم ایسے احساس کم مائیگی کا شکار ہیں کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

Read more

شکریہ عمران خان – ناقابلِ اشاعت کالم

اب جبکہ تبدیلی لانے والے تبدیلی سے بدظن ہیں اور اسے کوس رہے ہیں ایسے میں، میں سرعام، علی الاعلان کہنا چاہتا ہوں شکریہ عمران خان۔

یہ بات درست ہے کہ نئے پاکستان کے خواب کی تعبیر پاکستانیوں کے لئے نہایت بھیانک رہی۔ اب تو تبدیلی کے تمام تر دعویدار اسے ایک ڈراؤنا سپنا بتاتے ہیں۔ خود پر لعن طعن کرتے ہیں۔ اپنے منہ پر اپنا تھپڑ مارتے ہیں۔ تبدیلی کی تیز ہوا اتنی جلدی ایک تباہ کن آندھی میں بدل جائے گی یہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ عمران خان کی طلسمی شخصیت کا بت اس دھڑام سے گرے گا یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ابھی وقت ہی کتنا ہوا؟ دو سال پہلے یہی تبدیلی ٹھاٹھیں مار رہی تھی۔ جوش جذبہ اور جنون کے ترانے گا رہی تھی۔ نوجوانوں کو انقلاب پر اکسا رہی تھی اور دو سال میں ہم سب کے سامنے تبدیلی کا جنازہ جا رہا ہے اور اسے کاندھا دینے کو کوئی تیار نہیں۔ اس تبدیلی کے انتقال کا کوئی ماتم کرنے کو تیار نہیں۔ اس تبدیلی کی وفات پر کوئی آنسو بہانے کو تیار نہیں۔

Read more

یہ مصنوعی نظام اور مریم نواز کا صرف ایک جلسہ عام

خود ساختہ امیر المومنین جنرل ضیاء الحق کا دور تاریک تھا۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو چکا تھا۔ بھٹو خاندان ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ جیالے خود کو نذر آتش کر کر کے تھک چکے تھے۔ اس دور میں پیپلز پارٹی کے جان نثاروں کو نشان عبرت بنا دیا گیا۔ جیل، کوڑے، بدنامی اور خوف ان کا مقدر ہو چکے تھے۔ بھٹو کے وفادار ساتھی پابند سلاسل کر دیے گئے تھے۔ بے وفاوں نے اپنی

Read more

ڈائجسٹ رائٹرز کی کہانی

ہر کہانی کی اپنی ایک داستان ہوتی ہے۔ ہر داستان کا ایک پس منظر ہوتا ہے اور اس پس منظر میں ایک اہم کردار ہوتا ہے جو اس کہانی کے جنم کا باعث ہوتا ہے۔

پاکستان میں بالعموم ڈائجسٹ رائٹرز کے ساتھ متعصبانہ رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ نہ ان کو ادبی سطح پر شناخت ملتی ہے نہ ادبی رسالے ان کی تخلیقات کو چھاپنے کی زحمت کرتے ہیں نہ ان کی سرکاری سطح پر کوئی پذیرائی ہوتی ہے نہ ان کو معاشرے میں ایک مصنف کی اہمیت ملتی ہے۔ ڈائجسٹ رائٹرز کے حوالے سے نہ کوئی تحقیقی مواد ہمیں ملتا ہے نہ ان کہانی کاروں پر کبھی کسی نے سنجیدہ کام کیا ہے۔ ڈاکٹر کرن نذیر احمد نے پہلی بار اس اہم موضوع پر اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں بات کی ہے۔

Read more

امی

میری والدہ پروفیسر صدیقہ انور کا انتقال اس رمضان کے تیسرے روزے ہوا۔ عمر پچاسی برس تھی۔ انہوں نے تینوں روزے رکھے۔ ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سب نے ان سے ضد کی کہ آپ اس عمر میں روزہ نہ رکھیں۔ شرع بھی اجازت دیتی ہے۔ ضد سے تنگ آ کر بالاخر انہوں نے تیسرے روزے کی افطار کے بعد وعدہ کیا کہ اب وہ اس رمضان میں مزید کوئی روزہ نہیں رکھیں گی۔ رات قریبا دس

Read more

میری امی

میری والدہ پروفیسر صدیقہ انور کا انتقال اس رمضان کے تیسرے روزے ہوا۔ عمر پچاسی برس تھی۔ انہوں نے تینوں روزے رکھے۔ ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سب نے ان سے ضد کی کہ آپ اس عمر میں روزہ نہ رکھیں۔ شرع بھی اجازت دیتی ہے۔ ضد سے تنگ آ کر بالاخر انہوں نے تیسرے روزے کی افطار کے بعد وعدہ کیا کہ اب وہ اس رمضان میں مزید کوئی روزہ نہیں رکھیں گی۔ رات قریبا دس

Read more

شناختی علامت۔ ہتھیلی پر زخم کا نشان

مجھے بچپن سے ہی شاعر کہلانے اور شعر کہنے کا بہت شوق تھا مگر بدقسمتی سے شعر کہنے کی قدرتی صلاحیت نصیب نہیں ہوئی۔ شعر کہنے کے لئے بنیادی طور پر دو علوم سے واقفیت بے انتہا ضروری ہے۔ ریاضی اور موسیقی۔ ریاضی میں تعلیمی استعداد کبھی تینتیس نمبر سے آگے نہیں گئی اور موسیقی میں بھی بس اتنی شد بد ہے کہ اتنا بتا سکتا ہوں کہ گلوگار پکا راگ گا رہا ہے یا ابھی راگ پکا رہا ہے۔

Read more

آنسوؤں کی سیاسی تاریخ – ناقابلِ اشاعت کالم

بڑے لوگوں کے آنسو وقت کی وہ دستاویز ہوتے ہیں جو تاریخ کے اوراق کو ان کی یاد میں نم رکھتے ہیں۔ اس ملک خداداد میں ہم نے بہت سے لوگوں کو اشک بار ہوتے دیکھا، بہت سی نم آنکھیں جھیلیں، بہت سے آنسوؤں کا سامنا کیا۔ یہ سب رونے والے عام لوگ تھے لیکن آج کی تحریر ان آنسوؤں کے نام ہے جن کی تاریخی حیثیت ہمارے نسب اور نصاب میں لکھ دی گئی ہے۔ آج ان آنسوؤں کو

Read more

بیگم کا ناشتہ

کرونا وائرس کی دہشت گردی کے پیش نظر مرد حضرات گھر بیٹھے جس جاں گسل مرحلے سے گزر رہے ہیں اسے خواتین سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جب گھر میں مسلسل متمکن مردوں کے وٹس ایپ پر، ہر لمحہ آنے والے مشتاق میسجزکو، تاکنے والی تیز نگاہیں تعاقب کر رہی ہوں، تو اس مرحلے پر نہ صرف زندگی سے جی اچاٹ ہو جاتا ہے بلکہ بغیر ماسک کے گھر سے نکلنے کو چاہتا ہے، لوگوں سے بے تکلفانہ ہاتھ ملانے کو من کرتا ہے اور کچھ قریبی رشتہ داروں سے تو بغل گیر ہونے کی خواہش ہوتی ہے۔

اکثر گھر بیٹھے اصحاب کی طرح مجھے بھی اہلیہ پر ترس آ گیا کہ جانے کس دل سے اتنے دنوں سے میری ہی صورت دیکھنے پر مجبور ہیں۔ کیا کیا نہ گزرتی ہو گی بے چاری کے دل پر۔ یہی سوچ کر رقیق القلبی کے ایک کمزور لمحے میں بیگم کے لئے علی الصبح ناشتہ بنانے کا عہد کیا۔ اس عزم صمیم کے پیش نظر صرف بیگم کی بیچارگی نہیں تھی بلکہ وٹس ایپ کی بار بار بجنے والی گھنٹی سے بھی ان کی توجہ ہٹانا مقصود تھا۔ اس خوشنودی کے بادی النظر وہ سماجی اور خانگی خطرات بھی تھے جس کا سامنا قریباً ہر اس مرد کو کرنا پڑتا ہے جس کے وٹس ایپ کی گھنٹی بار بار بجتی ہے اور جو بیگم کی اچانک آمد سے بے خبر ”رات گئے تک موبائل پر نگاہ ٹکائے، دنیا بھر کے سنجیدہ علوم اور دقیق فنون کا، نظارہ کرنے میں غرق رہتا ہے۔

Read more

اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکومت نے ختم ہونا ہے، ہر وزیر کی وزارت نے کبھی نہ کبھی ختم ہونی ہے۔ ہر عروج نے زوال کا مزا چکھنا ہے۔ یہ حکومت بھی ایک دن ختم ہو جائے گی۔ اس کے وزراء بھی گھروں میں بیٹھے اپنے دور اقتدار کی غلطیوں کو کوس رہے ہوں گے۔ اس کے مشیر بھی بھی اپنی موجودہ حرکتوں پر پشیمان ہوں گے۔ لیکن اس وقت ان کے کروفر پر ہنسنے والے تو بہت ہوں گے مگر ان کا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہیں ہو گا۔

Read more

میرا جسم، میری مرضی

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق دو ہزار پندرہ سے دو ہزار انیس کے دوران میں پاکستان میں قریبا پانچ ہزار خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، پانچ ہزار کے قریب خواتین کو ریپ کیا گیا، ایک ہزار خواتین کے ساتھ گھروں میں مار پیٹ کی گئی اور دو سو بہتر خواتین کے جسم پر تیزاب پھینکا گیا۔ یہ وہ تعداد ہے جو رپورٹ ہو گئی ہے۔ یہ وہ مظلوم خواتین ہیں جن کی خبریں اخبارات میں لگ گئی ہیں یا پھر ان کی رسائی تھانوں تک ہو گئی ہے۔

ظلم کا شکار گمنام خواتین کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ ان خواتین کے جسموں کے ساتھ جب چیر پھاڑ کی گئی ہو گئی تو انہوں نے سوچا ضرور ہو گا کہ ”میرا جسم، میری مرضی“ ہونی چاہیے۔ لیکن یہ سلوگن نہ تیزاب پھینکنے والوں نے سنا، نہ ریپ کرنے والوں نے سمجھا، نہ گھروں میں مار پیٹ کرنے والے مرد اس راز کو پاسکے۔

Read more

سارے زمین پر

ایک فلم بنی تھی ”تارے زمین پر“ ہمارے سیاسی افق پر آج کل جو فلم چل رہی ہے اس کا نام ہونا چاہیے ”سارے زمین پر“۔
دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کو اب قریبا پونے دو سال ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں ہماری سیاست، معاشرت، ریاست اور معیشت بہت تبدیل ہو چکی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان بیس ماہ کا سنجیدہ اور منطقی جائزہ لیا جائے۔ دیکھا جائے کہ کس فریق نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں بنیادی طور پر تین اہم فریق تھے۔ مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور اسٹیبشلمنٹ۔ اس وقت ان میں سے دو فریق مل کر کھیلنا چاہ رہے تھے جبکہ ایک فریق نے باقی دونوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہوا تھا۔

Read more

عنقا ہے وہ طائر کہ دکھائی نہیں دیتا

گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو بہت وائرل ہوئی جس میں ایک خاتون نے ایک ٹریفک کانسٹیبل کو پنجابی درست بولنے پر غلط انگریزی میں ڈانٹ دیا۔ اپنی زبان کے کے ساتھ یہ تحقیر کا یہ موقعہ کوئی نیا نہیں تھا۔ ہم نے اس تنزلی تک پہنچنے میں دہائیاں صرف کی ہیں۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ مادری زبان اثاثہ ہوتی ہے۔ اسلوب ہوتی ہے۔ اسلاف کا ورثہ ہوتی ہے۔ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتی

Read more

فصیح الرحمن نے اچھا کیا

فصیح الرحمن نے اچھا کیا جو اس جواں عمری میں دنیا سے چلے گئے۔ میں جانتا ہوں کسی بھی دوست کی جوان موت پر یہ جملہ لکھنا سنگدلی ہے لیکن میں بڑے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ فصیح الرحمن نے اچھا کیا۔

میری فصیح الرحمن سے بہت زیادہ ملاقات نہیں تھی۔ البتہ دوستوں سے ان کا ذکر بہت سنا تھا۔ ایک ٹاک شو میں ان سے ملاقات ہوئی نمبر ایکسچنج ہوئے۔ چند دنوں کے بعد فصیح کا فون آ گیا۔ گھنٹوں باتیں ہوتی رہیں۔ اپنی صحافت کے عروج کی باتیں۔ سیاستدانوں کی باتیں۔ صحافت پر پابندیوں کی باتیں۔ آزادی اظہار پر قدغنوں کی باتیں۔

Read more

عمران خان کی حکومت کو مت گرائیں: ناقابلِ اشاعت کالم

یہ بات اب سب پر واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملک کی معشیت کو سنبھالا دینا عمران خان کے بس کی بات نہیں رہی۔ حالات روز بہ روز دگرگوں ہو رہے ہیں۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈالر کی قیمت کسی طور کم نہیں ہو رہی، پٹرول کی قیمت میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ شرح بے روزگاری پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہو رہے ہیں۔ آٹے اور چینی کی قیمت نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے تمام اخراجات روک دیے گئے ہیں۔ تعلیم اور صحت پر اخراجات منجمد کر دیے گئے ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں اربوں ڈوب رہے ہیں۔ معشیت کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔ ملک کی متوقع شرح ترقی دو فیصد رہ گئی ہے۔

حد تو یہ ہے کہ اس وقت افغانستان اور بنگلہ دیش ہم سے زیادہ بہتر شرح نمو رکھتے ہیں۔ کوئی دن آتا ہے کہ ہم خبر سنیں گے کہ فلاں فلاں سرکاری ادارے اپنے ملازمین کی تنخواہ نہیں دے سکے۔ بس اب اسی کی کسر رہ گئی ہے۔

Read more

گٹر سے اٹھے لوگ اور ان کے وزیراعظم

مجھے اس بات کا بھر پور ادراک ہے کہ اس کالم کا عنوان ہر لحاظ سے تحریر کی شائستگی کو پامال کرتا ہے۔ مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ اس طرح کے الفاظ کی اجازت اخبارات کی صفحات کی طہارت نہیں دیتی۔ مجھے معلوم ہے کہ اس طرح انسانوں کو مخاطب کرنا ایک نیچ اور رذیل حرکت ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ نہ یہ عنوان اخلاقی طور پر کسی معیار پر اترتا ہے نہ سماجی طور پر اس کو

Read more

نواز شریف نے ایسا کیوں کیا؟

اس بات کو ماننے میں کوئی باک نہیں کہ جو کچھ مسلم لیگ ن نے گذشتہ دنوں پارلیمنٹ میں کیا اس سے ووٹ کے تقدس کا بیانہ زمیں بوس ہو گیا ہے۔ جو کچھ ہوا اس سے سول سپریمیسی کا پردہ چاک ہو گیا اور جو ڈھول مسلم لیگ ن نے کئی برسوں پیٹا تھا وہ بیچ چوراہے میں پھٹ گیا۔ اس تاریخی یوٹرن کے بعد مسلم لیگ ن کے ورکرز اور کارکنوں نے جو قیادت کی درگت بنائی ہے

Read more

جان اللہ کو دینی ہے

اطلاعات کے مطابق سابق صدر اور آرمی چیف جنرل مشرف کی طبیعت بہت ناساز ہے۔ وہ کسی شدید بیماری کا شکار ہیں۔ اس بات کی تصدیق ان کی تازہ ترین وڈیو سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ ہسپتال کے بستر سے، نقاہت کے عالم میں۔ اپنے خلاف آنے والے خصوصی عدالت کے فیصلے کے حوالے سے، گفتگو کر رہے ہیں۔ دوسری جانب خصوصی عدالت کے فیصلے نے جنرل مشرف کو جو سزا دی ہے اس پر شادیانے بھی بجائے

Read more

چمپئین

گذشتہ دنوں یوایس ایڈ کے ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں پاکستان کے چند ہونہار نابینا لوگوں سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔ ان کے کارنامے سن کر مسرت بھی ہوئی اور حیرت بھی۔ اس سماج میں جہاں بینا افراد کے لئے تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے وہاں یہ باکمال نابینا افراد کیسے ایسے ہنر مند ہوئے؟ اس پر حیرت گم ہے۔ نہ ان کو بریل میں کتاب دستیاب ہوتی ہے نہ تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہیں نہ موبلٹی کی ٹریننگ ہے۔

Read more

نوکری کی خاطر قربانی

میں ایک دو نہیں ایسے بے شمار صحافیوں کو جانتا ہوں کہ جو سچ کہنے کے جرم میں گذشتہ چند سالوں میں بے روزگار ہوئے۔ انہیں نوکریوں سے بہیمانہ طریقوں سے نکال دیا گیا۔ ان کے لئے اخبارات اور چینلز کے دروازے بند کر دیے گئے۔ مگر یہ اپنی حق گوئی کی سرشت سے باز نہیں آئے۔ انہوں نے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی روش باقی رکھی۔ یہ وہی صحافی ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا لیا ہے۔ ایسے بھی ہیں جن کے گھر میں بوڑھے والدین علاج اور دوائی کو ترستے ہیں مگر یہ اپنے اصولوں پر قائم ہیں۔

Read more

آپ خود سمجھدار ہیں

سچ بات تو یہ ہے کہ عمران خان کی جماعت میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو عمران خان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں سے آگاہی رکھتے ہیں۔ وہ گورننس کی طرف توجہ کرنا چاہتے ہیں۔ معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ جمہوریت کو شعار کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں کی تضحیک نہیں چاہتے۔ سیاسی مخالفین پر بے بنیاد مقدمات سے انکا دل گھبراتا ہے۔ خان

Read more

نواز شریف بیمار نہیں ہیں!

یہ بات درست ہے کہ نواز شریف کے پلیٹلٹس کے اتار چڑھائو کی خبریں میڈیا پر خوب مرچ مسالے لگا کر پیش کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں تک میڈیکل رپورٹس پہنچنے سے پہلے خبر میڈیا کو لیک کر دی جاتی ہے۔ اینکروں سے ہوتی تجزیہ کاروں کے ہاتھ چڑھتی ہے اور تب جا کر سابق وزیراعظم کی فیملی کو میڈیکل رپورٹس تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ نواز شریف کی بیماری پلیٹلٹس کے اتار چڑھائو تک

Read more

مبارک ہو مسلمانو۔ مبارک ہو

تادم تحریر مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ابھی تک پشاور موڑ اسلام آباد نہیں پہنچا۔ ابھی تک قافلہ منزل کی طرف رواں ہے۔ کنفیوژن اس قافلے کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا ہے۔ ابھی تک اپوزیشن کی جماعتوں کا جلسے/ دھرنے کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی اکتیس اکتوبر کو جلسہ کرنے کو بضد ہیں جبکہ مولانا جمعے کی نماز کے بعد جلسے پر اصرار کر رہے ہیں۔ جلسے کی ہیئت پر

Read more

کیا دھرنے اور ایکس ٹنشن میں کوئی تعلق ہے؟

آرمی چیف جناب جنرل قمر باجوہ کی ایکسٹنشن ایسا موضوع ہے جس پر میڈیا میں بہت کم بات ہوتی ہے۔ کچھ کے پر جلتے ہیں کچھ ازراہ احتیاط خاموش رہتے ہیں۔ لیکن موجودہ ملکی صورت حال کا تقاضا ہے کہ اس موضوع پر سنجیدہ بات کی جائے۔ پاکستان کو اس وقت کئی بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کشمیر پر بھارتی مظالم اور مقبوضہ کشمیر پر بھارتی ظالمانہ قبضہ سب سے بڑا چیلنج ہے، ایران اور سعودی عرب تعلقات کی

Read more

مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا ہدف اور حکمت عملی بتاتے ہیں

ابھی ابھی مولانا فضل الرحمن سے بات ہوئی ہے۔ ٹیلی فون پر اس گفتگو سے بہت سے ابہام ختم ہوئے ہیں اور بہت سے سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ اس کالم میں اسی گفتگو کا خلاصہ قارئین کے لئے پیش کر رہا ہوں۔ اس بات کا تو سب کو ادراک ہے کہ مولانا نے ستائیس اکتوبر کو موجودہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس احتجاجی تحریک کا نام آزادی مارچ تجویز کیا گیا۔ اس مارچ کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں کی شمولیت پر سوال اٹھ رہا ہے۔ کبھی میڈیا پر ن لیگ لے بائیکاٹ کا اعلان سامنے آ جاتا ہے۔ کبھی مسلم لیگ ن کی دھڑے بندی زیر بحث آنے لگتی ہے۔

Read more

کیا نومبر میں سیاسی بھونچال آئے گا؟

ملکی سیاست میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ مثبت رپورٹنگ کی قدغن ختم ہو گئی ہے۔ حکومت کی نااہلی پر وہ بھی زبان دراز ہو گئے ہیں، جو حکومت کے قیام کا باعث تھے۔ معیشت زبوں حالی کا نقشہ پیش کر رہی ہے اور اس میں بہتری کے کوئی امکان نظر نہیں آر ہے۔ اپوزیشن اب سیاسی انتقام برداشت کر کے تھک چکی ہے۔ اب روز بہ روز کی گرفتاریاں ان کو خوف زدہ نہیں کر رہیں۔ بلکہ گرفتار

Read more

امجد اسلام امجد کی پچھترویں سالگرہ

ایک صاحب دانش نے کہا کہ ”یہ کہنا درست نہیں کہ امجد اسلام امجد کے ڈرامے جب ٹی وی پر چلتے تھے تو سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مباح ہو گا کہ امجد اسلام امجد کے ڈرامے جب ٹی وی پر چلتے تھے اس وقت گھر آباد ہو جاتے تھے“۔ ایک صاحب امجد اسلام امجد کی ہمہ جہت شخصیت کو مدں ظر رکھ کر کچھ اس طرح گویا ہوئے کہ ”امجد اسلام امجد دراصل دو امجدوں میں پھنسا ہوا اسلام ہے“ کچھ دوستوں نے امجد کی غزل کی تازگی پر بات کی اور کچھ ان کی نظم کی رعنائی پر گفتگو کرتے رہے۔ لیکن ان کی شخصیت کے دو اہم پہلو یعنی ”خوش خوارکی اور خوش مزاجی“ پر بات کم ہوئی۔

Read more

مریم نواز، دیا سلائی اور موجودہ حکومت کا انہدام

انگریزی چینلوں کی ڈاکومنٹریز میں کسی بھی عمارت کو گرانے کے دو طریقے دکھائے جاتے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ امتداد زمانہ کے سبب عمارت دہائیوں میں بوسیدگی کی اس انتہا پر پہنچ جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ انہدام اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ ہر اینٹ، مٹی ہو جاتی ہے اور ہر بنیاد میں ریت در آتی ہے۔ ہر دراڑ، شگاف بن جاتی ہے اور ہر دیوار برسوں لرزنے کے بعد دھڑام سے گر جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ زیادہ موثر اور برق رفتار ہے۔

Read more