مسئلہ کشمیر۔ نہ بساط نہ اختیار ۔ ناقابل اشاعت کالم

اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا پر امن تصفیہ ہی خطے میں ترقی کی ضمانت ہے۔ قریبا ستر برس سے یہ مسئلہ اس خطے کی سلامتی کے لئے آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ اسی انسانی المیے کی وجہ سے دونوں نیوکلیئر پاورز ہر وقت جنگ کے دھانے پر کھڑی رہتی ہیں۔ اسی قضیے کی وجہ سے دونوں ممالک میں ترقی کی بہت سی راہیں مسدود ہو چکی ہیں۔ اسی تنازعے کی وجہ سے تعلیم صحت اور سماجی ترقی ان دوممالک میں مفقود ہے۔

Read more

عمران خان کا دورۂ امریکہ

اس وقت ملک میں ہر طرف وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کی بات ہو رہی ہے۔ اس کی کامیابی کو ورلڈ کپ جیسی لازوال کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ اور عمران خان کی میٹنگ میں جو ہوا سو ہوا لیکن امریکہ میں عمران خان کے جلسے نے لوگوں کے دلوں کو گرما دیا۔ قریباً دس ہزار سمندر پار پاکستانیوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر عمران خان کے ساتھ سلیفی بنانے کی کوشش میں تھا۔ بار بار عمران خان زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے۔

Read more

میں اپنی والدہ کو کبھی سچ نہیں بتا سکا

میری والدہ کا پھر مجھے فون آیا ہے۔ فون کی بابت بتانے سے پہلے ضروری ہے کہ میں اپنی والدہ کا تعارف کروا دوں۔ میری والدہ کی عمر 84 برس ہے۔ 60 کی دہائی میں بہت کم ایسی خواتین تھیں جنہوں نے ڈبل ایم اے کیا۔ امی نے پہلے فارسی اور پھر اردو ادب میں…

Read more

پیچھے ہٹتی اپوزیشن اور ”قوم کا وسیع تر مفاد“

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس سے کچھ لوگ مایوس بھی ہوئے۔ لوگوں کو اس کانفرنس سے توقعات تھیں کہ اس کے نتیجے میں ان پر آنے والی افتاد سے کسی طرح نجات ملے گی مگر آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں حکومت پر تنقید تو بہت کڑی کی گئی مگر عملی اقدامات کی طرف کم ہی اشارے ملے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہر جماعت کے سربراہ نے حکومت کی بری کارکردگی پر دل کھول کر تنقید کی۔

Read more

ایک پاؤ دہی اور دھنیے کی گڈی

پھر ہوا وہی جو کہ ہمارے ہاں عموماً بڑے مفکرین اور دانشوران کرام کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی جیسے ہی نیم خوابی کے عالم میں ایک انقلاب پیش منظر ہوتا ہے، جیسے ہی عالمی امن قائم ہونے لگتا ہے، جیسے ہی تمام دنیا کے غریبوں کو ان کے حقوق ملنے لگتے ہیں اسی لمحے ایسے…

Read more

نواز شریف کی ڈیل؟

اگرچہ میڈیا میں ہر چوتھے دن ایک غلغلہ مچ جاتا ہے کہ نواز شریف نے ڈیل کر لی۔ اس کارِ نیک کو آپ تک پہنچانے میں بہت سے تجزیہ کار، اینکر اور صحافی شامل ہیں۔ کوئی کہتا ہے نواز شریف لندن جا رہے ہیں اور اب کبھی واپس نہیں آئیں گے، کوئی شنوائی سناتا ہے…

Read more

کیونکہ ضمیر زندہ ہے

معروف فکاہیہ شاعر سید ضمیر جعفری کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ان کی سنجیدہ شاعری بھی کمال کی تھی مگر اسے کبھی قبولیت عام نصیب نہیں ہوئی۔ ایسا بھی ہوا کہ استاد نے مشاعرے میں سنجیدہ غزل سے آغاز کیا اور لوگ ہنس، ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ ضمیر بظاہر اس بات پر بدگمان نہیں ہوتے تھے بس سادگی سے کہہ دیتے کہ ”بھئی جو قبول ہو گیا وہ ٹھیک ہے“۔ لیکن دل ہی دل میں اس بات سے خوفزدہ بھی تھے شاید اسی وجہ سے انہوں نے اپنی سنجیدہ شاعری کی کتاب کا نام ہی ”سنجیدہ کلام“ رکھ دیا کہ مبادا لوگ اس پر بھی ٹھٹھے مارتے پھریں۔ اب اسے شومئی قسمت ہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب کو کوئی بھی نہیں جانتا، نہ ہی ضمیر جعفری کے فن اور شخصیت پر تحقیق کرنے والوں نے سنجدہ شاعری کی اس باکمال کتاب کا اپنے مقالوں میں کہیں تذکرہ کیا۔ لیکن اگر اب آپ کو کہیں سے یہ کتاب دستیاب ہو جائے تو ضمیر کا اک نیا رخ دیکھنا آپ کو نصیب ہو گا۔

Read more

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

پاکستان میں گزشتہ ماہ برٹش امریکن ٹوبیکو کے ریجنل ڈائریکٹر اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مابین باہمی ملاقات کے حوالے سے خبریں سنی گئیں۔ اِس ملاقات کے حوالے سے یہ بھی سنا گیا کہ پاکستان میں ٹوبیکو سیکٹر کی جانب سے اِس ریجنل ڈائریکٹر نے عمران خان کو دیامیر بھاشا، مہمند ڈیم فنڈ…

Read more

بند گلی سے نکلنے کا راستہ

وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو آئے اب قریباً نو ماہ ہو چکے۔ اب حکومت وقت کے پاس ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کی داستان سنانے کی سہولت ختم ہو تی جا رہی ہے۔ کرپشن کے مسلسل بلاثبوت بیانیے کی گردان سے اب عوام بور ہوتے جا رہے ہیں۔…

Read more

بند گلی سے نکلنے کا راستہ

وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو آئے اب قریباً نو ماہ ہو چکے۔ اب حکومت وقت کے پاس ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کی داستان سنانے کی سہولت ختم ہو تی جا رہی ہے۔ کرپشن کے مسلسل بلاثبوت بیانیے کی گردان سے اب عوام بور ہوتے جا رہے ہیں۔ اربوں، کھربوں کے غبن کی افسانوی داستانیں اب یکسانیت کا شکار ہو چکیں۔ سیاسی انتقام اب لوگوں کو کھلنے لگا ہے۔ لوگ اب اس بیانیے کے سوا کچھ چاہتے ہیں۔ کچھ فلاح کا پیغام، کچھ روزمرہ کی سہولت عوام کا تقاضا ہو رہی ہے۔

لیکن حکومت وقت کے پاس ماضی کی حکومتوں کو کوسنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ تبدیلی کے جو سہانے خواب دکھائے گئے تھے لوگوں کی آنکھیں ان کی تعبیر کے انتظار میں ترس گئی ہیں۔ لوگ اپنی تقدیر کے تبدیل ہونے کے منتظر ہیں مگر یہاں تماشا یہ ہے کہ کئی برس گزر گئے ہیں تقدیر تو کیا تقریر نہیں تبدیل ہوئی۔ ایک ہی بات ہے جو کسی رٹے رٹائے طوطے کی طرح ہر وزیر، مشیر کی زبان پر ہے۔ ایک ہی بیانیہ ہے جو بغیر کسی ثبوت، بنا کسی دلیل کے ہر عوامی خطاب میں دہرا دیا جاتا ہے۔

Read more