صدارتی نظام کی کیا ضرورت ہے؟

جس وقت یہ کالم تحریر کیا جا رہا ہے اُس وقت ٹی وی پر کابینہ میں رد وبدل کی خبریں پوری شدومد کے ساتھ چل رہی ہیں، اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ پوری تندہی کے ساتھ جاری ہے، ردوبدل اپنے عروج پر ہے، اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ وزیر خزانہ اسد عمر…

Read more

ناقابلِ اشاعت کالم: تبدیلی ریورس گئیر میں

حکومت نا اہلی اور ناکردہ کاری کی جس معراج پر پہنچ چکی ہے اس کا بیان الفاظ میں ممکن نظر نہیں آتا۔ المیہ یہ نہیں ہے کہ حکومت کی اس ابتر حالت کا لوگوں کو اندیشہ نہیں تھا۔ المیہ تو یہ ہے کہ وہ سارے زرخیز دماغ جو گذشتہ پانچ سال تک تبدیلی کا سنہرا خواب بیچتے رہے وہی اب اس خواب کی بھیانک تعبیر قوم کو دکھانے پر مامور ہو گئے ہیں۔ ایسے معصوم بن گئے ہیں کہ جیسے شریک جرم ہی نہیں تھے۔ جو اشخاص ٹی وی سکرینوں پر تبدیلی کے خوش رنگ سونامی کی داستان سناتے تھے اب اسی سونامی کی تباہی کی کہانی سنانے میں بھی وہی رطب اللسان ہیں۔

اس ساری صورت حال میں بس ایک غربت میں پسے ہوئے عوام ہیں جو ایک دوجے کا حیرانی اور پشیمانی سے منہ تک رہے ہیں۔ اس لئے کہ خیر کی کوئی خبر، امید کی کوئی کرن اب ان کو نظر نہیں آ رہی۔ حالات ایسی تیزی سے بگڑ رہے ہیں کہ اس تنزلی کے راستے میں اب کوئی شئے حائل نہیں ہو رہی۔ بسا اوقات تو یہ لگتا ہے کہ اس تباہی کی رفتار جان بوجھ کر تیز کی جارہی ہے۔ مہمیز لگائی جا رہی ہے۔ حکومت خود اپنے آپ سے انتقام لے رہی ہے اور عوام کو اس تبدیلی کا مزہ چکھا رہی ہے جس کے نعرے گذشتہ پانچ سال کنٹینروں، ٹی شوز اور جلسوں میں لگائے گئے تھے۔

Read more

یک جہتی مارچ کیوں نہیں ہو رہا ؟

انتخابات سے پہلے عمران خان نے کرپشن کا جو بیانیہ عوام کے سامنے رکھا وہ بہت حدتک کامیاب رہا لیکن یہ گولی سب کو ہضم نہیں ہوئی۔ بہت سے لوگ اِس بیانیے سے اختلاف کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ انتخابات میں بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں، بہت سے لوگ نواز شریف…

Read more

الیکشن کمیشن اور خواتین کا عالمی دن

خواتین کے عالمی دن پر جہاں سارے ملک میں تقریبات کا سلسلہ جاری تھا وہاں ایک تقریب کا د عوت نامہ ہمیں بھی موصول ہو گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نگہت صدیقی جو ایک نہایت محنتی اورذمہ دار آفیسر ہیں ان کا فرمانا تھا کہ اس موقع پر ایک سیمینار الیکشن کمیشن میں ہونا قرار پایا ہے اور اس میں آپ کی شمولیت لازم ہے۔ سیمینار کے موقع پر الیکشن کمیشن کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ صحافی، سول سوسائٹی کے نمائندے، خواجہ سراؤں کی تنظیموں کے سرگرم ارکان، معذور افراد کی تنظیمیں، ڈی اے آئی تعبیرکی انتظامیہ، معروف صحافی، نادرا کے نمائندے، غیر ملکی مندوب، خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی پرعزم خواتین وہاں موجود تھیں۔

سیمینار کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے کی، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے معزز ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن کی سیکرٹری ثمینہ حسن نے ایک پریزینٹیشن میں اپنے مطالبات پیش کیے ۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے ان تجاویز کا بھی ذکر کیا جن کی مدد سے خواتین کی الیکشن کے عمل میں شرکت کو بہتر اور فعال بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی الیکشن کے حقوق کے حوالے سے جن مشکلات سے دوچار ہے اس کے حوالے سے یہ سیمینار خصوصی حیثیت کا حامل تھا

Read more

خلیجی شہزادہ آ گیا میدان میں

یہ قصہ خلیج کی ریاستوں میں سے ایک چھوٹی ریاست کے عیاش شہزادے کا ہے۔ اس عیاش شہزادے کے من میں جانے کیا سمائی کہ اس نے پاکستان آنے کی ٹھان لی۔ پاکستان کا قصد ایک دوست ملک سے باہمی تعلقات کے فروغ کی خاطر بالکل نہیں ہوا۔ دراصل شہزادے نے سن رکھا تھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ یہاں کی بیشتر آبادی دو وقت کی روٹی کو ترستی ہے۔ پینے کا صاف پانی عوام کو میسر نہیں۔ صحت کی سہولیات اور کھیل کے میدان تک موجود نہیں۔

شہزادے کی آمد کی وجہ نہ حکومتی نظام میں بہتری تھی، نہ غریب عوام کی فلاح کا کوئی ارداہ تھا۔ دراصل شہزادہ امیر ریاستوں میں سے ایک چھوٹی ریاست کا شہزادہ تھا اور اپنے ارد گرد بے شمار امیر لوگوں میں رہ کر وہ کچھ احساس کمتری میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ خلیج کے لوگوں کو اپنی دولت سے مرعوب نہیں کرسکتا تھا اس لئے اس نے ایک غریب ملک کے سفر کی ٹھانی۔ ایسا ملک جہاں کے لوگ اس کی جاہ و حشمت سے خوب مرعوب ہوں، اس کے قصیدے گائیں، اس کے کے نام کے نعرے لگائیں کہ ”شہزادہ آ گیا میدان میں۔ ہے جمالو“

Read more

جمہوریت بہترین انتظام ہے

ایک زمانے میں آصف زرداری بڑے دھڑلے سے کہا کرتے تھے کہہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ اسی زمانے میں بزرگ یہ فرماتے تھے کہ بری جمہوریت کا علاج مزید جمہوریت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ الیکشن سے پہلے ہمیں بھی بہت شوق تھا کہ اس ملک میں خوب جمہوریت پنپے۔ عوام کے ووٹ کو توقیر ملے۔…

Read more

پاکستان کا ہیرو۔ گل زمین خان

گل زمین خان سے میری ملاقات انیس سو چھیانوے میں، میری مرحومہ اہلیہ صائمہ عمار کے ساتھ ہوئی۔ صائمہ چونکہ خود بھی بینائی سے محروم تھیں اس لئے ہم نے مل کے نابینا افراد کے لئے ایک چھوٹا سا پروجیکٹ شروع کیا تھا جس میں نابینا افراد کے لئے صوتی کتب ریکارڈ کی جاتی تھیں۔…

Read more

مسترد شدہ کالم ۔ قصر انصاف کو منہ چڑانا بری بات ہے

میرے سامنے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک وڈیو بار بار چل رہی ہے۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کا انٹرویو ہے جو جیو چینل پر مدتوں پہلے چلا تھا۔ اس انٹرویو میں جسٹس ریٹائر نسیم حسن شاہ، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں۔ اپنے بیان میں فرماتے ہیں کہ مولوی مشتاق، بھٹو کے دشمن تھے انہیں اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے تھا اور بھٹو کے وکیل نے ہمیں غصہ دلایا اور اس وقت کا ماحول ایسا تھا کہ میں نے بھی فیصلے سے اختلافی نوٹ نہیں لکھا حالانکہ اس فیصلے سے مجھے اختلاف تھا۔ اینکر نے سوال کیا کہ اگر بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی تو کیا ملک کی تاریخ مختلف ہوتی؟ چیف جسٹس صاحب نے جواب دیا مجھے یہ نہیں پتہ کہ تاریخ مختلف ہوتی یا نہ مگر بھٹو کی جان ضرور بچ سکتی تھی۔

Read more

مستقبل کا لائحہ عمل – غیر سینسر شدہ مکمل کالم

کسی بھی ٹاک شو میں چلیں جائیں یا اس بحث کا نظارہ ٹی وی پر دیکھ لیں جو ہر روز شام سات بجے سے رات گئے تک چینلوں پر ہو رہی ہوتی ہے اس میں سوائے الزام تراشی کے کچھ نہیں ملتا۔ ہر کسی کو دوسرے سے شکوہ ہے۔ وہ سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن میں ہیں ان کو حزب اقتدار سے شکوہ ہے۔ جو اقتدار میں ہیں ان کو اپوزیشن سے اختلاف ہے۔ اپوزیشن کی اپنی جماعتیں بھی جا بجا ایک دوسرے سے روٹھ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ماضی کے وہ قصے سرعام لے آتی ہیں جو اب قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔

جمہور کی قوتیں غیر جمہوری قوتوں پر الزام تراشی کرتی ہیں اور غیر جمہوری قوتیں عوام کے لیڈروں کی رعونت اور کرپشن کی رام کہانی سنانا شروع کر دیتی ہیں۔ اس ساری سعی لاحاصل سے کچھ نہیں حاصل ہو رہا۔ بحث برائے بحث سے ایک اور بحث کا آغاز تو ہو سکتا ہے مگر اس سے کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہے۔ نتیجے پر پہنچنے کے لئے تفکر کی ضرورت ہو تی ہے، سنجیدہ لائحہ عمل اختیار کرنا پڑتا ہے مگر اس کی فرصت کسی کے پاس نہیں ہے۔

Read more

عثمان بزدار: تماشے اور کرتب میں فرق ہوتا ہے – مسترد شدہ کالم

بہت سوچا۔ یقین مانیے بہت سوچا کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب کا منصب سونپا گیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم ہر جگہ ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے ہیں؟ کیا وجہ ہے ہر میٹنگ میں عثمان بزدار کی مثالیں دی جا رہی ہوتی ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر عثمان بزدار کا دفاع کیا جا رہا ہوتا ہے؟ کیا وجہ ہے عثمان بزدار کے ساتھ صوفے پر بیٹھے دیہاتیوں کی تصویر سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرنے کی ضرورت پڑی؟

کیا وجہ ہے کہ عثمان بزدار کو سیاست کا وسیم اکرم تعبیر کیا جا رہا ہے؟ سیاسی مبصرین اس بارے میں اپنی اپنی رائے رکھتے ہیں۔ کوئی اسے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائی کا شاخسانہ بتاتا ہے۔ کوئی وزیر اعظم کے گھر سے ان کی سفارش کا پتا دیتا ہے۔ کوئی ان کے آبائی گھر میں بجلی نہ ہونے کو ان کی واحد قابلیت بتاتا ہے۔ اس تعیناتی کے معاملے پر ٹی وی پروگراموں میں تجزیہ کاروں اور میڈیا اینکروں نے عثمان بزدار کو بہت رگیدا۔

Read more