نوکری کی خاطر قربانی

میں ایک دو نہیں ایسے بے شمار صحافیوں کو جانتا ہوں کہ جو سچ کہنے کے جرم میں گذشتہ چند سالوں میں بے روزگار ہوئے۔ انہیں نوکریوں سے بہیمانہ طریقوں سے نکال دیا گیا۔ ان کے لئے اخبارات اور چینلز کے دروازے بند کر دیے گئے۔ مگر یہ اپنی حق گوئی کی سرشت سے باز نہیں آئے۔ انہوں نے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی روش باقی رکھی۔ یہ وہی صحافی ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا لیا ہے۔ ایسے بھی ہیں جن کے گھر میں بوڑھے والدین علاج اور دوائی کو ترستے ہیں مگر یہ اپنے اصولوں پر قائم ہیں۔

Read more

آپ خود سمجھدار ہیں

سچ بات تو یہ ہے کہ عمران خان کی جماعت میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو عمران خان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں سے آگاہی رکھتے ہیں۔ وہ گورننس کی طرف توجہ کرنا چاہتے ہیں۔ معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔…

Read more

نواز شریف بیمار نہیں ہیں!

یہ بات درست ہے کہ نواز شریف کے پلیٹلٹس کے اتار چڑھائو کی خبریں میڈیا پر خوب مرچ مسالے لگا کر پیش کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں تک میڈیکل رپورٹس پہنچنے سے پہلے خبر میڈیا کو لیک کر دی جاتی ہے۔ اینکروں سے ہوتی تجزیہ کاروں کے ہاتھ چڑھتی ہے اور تب جا کر سابق وزیراعظم…

Read more

مبارک ہو مسلمانو۔ مبارک ہو

تادم تحریر مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ابھی تک پشاور موڑ اسلام آباد نہیں پہنچا۔ ابھی تک قافلہ منزل کی طرف رواں ہے۔ کنفیوژن اس قافلے کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا ہے۔ ابھی تک اپوزیشن کی جماعتوں کا جلسے/ دھرنے کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی…

Read more

کیا دھرنے اور ایکس ٹنشن میں کوئی تعلق ہے؟

آرمی چیف جناب جنرل قمر باجوہ کی ایکسٹنشن ایسا موضوع ہے جس پر میڈیا میں بہت کم بات ہوتی ہے۔ کچھ کے پر جلتے ہیں کچھ ازراہ احتیاط خاموش رہتے ہیں۔ لیکن موجودہ ملکی صورت حال کا تقاضا ہے کہ اس موضوع پر سنجیدہ بات کی جائے۔ پاکستان کو اس وقت کئی بین الاقوامی چیلنجز…

Read more

مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا ہدف اور حکمت عملی بتاتے ہیں

ابھی ابھی مولانا فضل الرحمن سے بات ہوئی ہے۔ ٹیلی فون پر اس گفتگو سے بہت سے ابہام ختم ہوئے ہیں اور بہت سے سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ اس کالم میں اسی گفتگو کا خلاصہ قارئین کے لئے پیش کر رہا ہوں۔ اس بات کا تو سب کو ادراک ہے کہ مولانا نے ستائیس اکتوبر کو موجودہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس احتجاجی تحریک کا نام آزادی مارچ تجویز کیا گیا۔ اس مارچ کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں کی شمولیت پر سوال اٹھ رہا ہے۔ کبھی میڈیا پر ن لیگ لے بائیکاٹ کا اعلان سامنے آ جاتا ہے۔ کبھی مسلم لیگ ن کی دھڑے بندی زیر بحث آنے لگتی ہے۔

Read more

کیا نومبر میں سیاسی بھونچال آئے گا؟

ملکی سیاست میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ مثبت رپورٹنگ کی قدغن ختم ہو گئی ہے۔ حکومت کی نااہلی پر وہ بھی زبان دراز ہو گئے ہیں، جو حکومت کے قیام کا باعث تھے۔ معیشت زبوں حالی کا نقشہ پیش کر رہی ہے اور اس میں بہتری کے کوئی امکان نظر نہیں آر ہے۔…

Read more

امجد اسلام امجد کی پچھترویں سالگرہ

ایک صاحب دانش نے کہا کہ ”یہ کہنا درست نہیں کہ امجد اسلام امجد کے ڈرامے جب ٹی وی پر چلتے تھے تو سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مباح ہو گا کہ امجد اسلام امجد کے ڈرامے جب ٹی وی پر چلتے تھے اس وقت گھر آباد ہو جاتے تھے“۔ ایک صاحب امجد اسلام امجد کی ہمہ جہت شخصیت کو مدں ظر رکھ کر کچھ اس طرح گویا ہوئے کہ ”امجد اسلام امجد دراصل دو امجدوں میں پھنسا ہوا اسلام ہے“ کچھ دوستوں نے امجد کی غزل کی تازگی پر بات کی اور کچھ ان کی نظم کی رعنائی پر گفتگو کرتے رہے۔ لیکن ان کی شخصیت کے دو اہم پہلو یعنی ”خوش خوارکی اور خوش مزاجی“ پر بات کم ہوئی۔

Read more

مریم نواز، دیا سلائی اور موجودہ حکومت کا انہدام

انگریزی چینلوں کی ڈاکومنٹریز میں کسی بھی عمارت کو گرانے کے دو طریقے دکھائے جاتے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ امتداد زمانہ کے سبب عمارت دہائیوں میں بوسیدگی کی اس انتہا پر پہنچ جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ انہدام اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ ہر اینٹ، مٹی ہو جاتی ہے اور ہر بنیاد میں ریت در آتی ہے۔ ہر دراڑ، شگاف بن جاتی ہے اور ہر دیوار برسوں لرزنے کے بعد دھڑام سے گر جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ زیادہ موثر اور برق رفتار ہے۔

Read more

بیگم کلثوم نواز کی آخری خواہش اور میاں نواز شریف کا عزم

آج سے ٹھیک ایک برس پہلے بیگم کلثوم نواز کا لندن کے ہارلے سٹریٹ کیلنک میں انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر تھیں اور دل کے عارضے کے علاوہ کینسر بھی ان کے جسم میں پھیل چکا تھا۔ گذشتہ کئی دنوں سے کلثوم نواز، نواز شریف اور مریم نواز سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ اس بات پر بہت حیران ہوتیں اور شکوہ کرتیں کہ ”باؤ جی جہاں بھی ہوں رات کو مجھے کال ضرور کیا کرتے تھے اب ایسی کون سی مصروفیت آن پڑی ہے“۔ لندن میں مقیم بچوں نے ان سے یہ بات چھپا کر رکھی تھی کہ نواز شریف اور مریم نواز اس وقت جیل میں ناکردہ گناہوں میں قید ہیں۔

Read more