تازہ اپ ڈیٹ: سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کردیا


(ٹی وی مانیٹرنگ) سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع اور تقرری کے خلاف درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے دائر کی تاہم درخواست گزار خود پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے عدالت سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ چیف جسٹس نے درخواست کو ازخود نوٹس میں تبدیل کردیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ درخواست کو (3) 184 کے تحت ازخود نوٹس میں تبدیل کررہے ہیں۔ یہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا پہلا از خود نوٹس ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خود عدالت میں پیش ہوئے اور متعدد دستاویزات پیش کیں۔ عدالت نے کہا کہ اس درخواست کو 184 (3) کے تحت سن رہے ہیں کیونکہ درخواست میں جو سوال اٹھایا گیا کہ یہ عوامی مفاد کا سوال ہے لہٰذا یہ درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی ہے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی مدد سے ان دستاویزات کا جائزہ لیا اور نوٹس کیا کہ سمری ابتدائی طو رپر وزارت دفاع نے بھجوائی جو آرمی چیف کی تین سال کے لیے تقرری اور توسیع کے لیے بھجوائی گئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ تقرری میں آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت صدر کا اختیار ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل سے متعدد سوالات پوچھے اور انہوں نے آرمی ریگولیشن رولز کا حوالہ دیا جس کے مطابق آرمی آفیسر کی ریٹائرمنٹ کے بعد عارضی طور پر اس کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ اسی ریگو لیشن پر اٹارنی جنرل نے انحصار کیا کہ وفاق کے پاس اختیار ہے وہ آرمی چیف کی سروس کو بڑھاسکتے ہیں، ریٹائرمنٹ سے پہلے ایسا فیصلہ عوامی مفاد میں کیا جاسکتا ہے، ریگولیشن 255 کا جائزہ لینے کے بعد بادی النظر میں یہ شق ریٹائرمنٹ کے بعد عمل میں لائی جا سکتی ہے جس کے ذریعے ریٹائر آرمی افسر کی ریٹائرمنٹ معطل کرکے مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ عدالت کاکہنا تھا کہ اس معاملے میں جو کیا گیا وہ ایسا ہی ہے کہ جیسے گھوڑا گاڑی کے آگے گاڑی لگانا ور گھوڑے کو پچھے باندھنا۔

عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری ریجنل سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے، اس میں سیکیورٹی صورتحال کی اصطلاح جو استعمال کی گئی وہ مبہم ہے۔ مسلح افواج کسی بھی خطرے کی صورت میں باڈی کے طور پر کام کرتی ہیں، کوئی اکیلا کام نہیں کرتا، اگر یہ روایت ڈالی گئی تو پھر مسلح افواج کا ہر شخص اہم ہے اس کی مدت میں توسیع کرنا ہوگی۔

عدالت نے کہاکہ درخواست میں موجودہ آرمی چیف اور دیگر کو فریق بنایا گیا لہٰذا عدالت جنرل باجوہ اور دیگر کو نوٹس جاری کرتی ہے۔

اس دوران عدالت نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ آرمی چیف کی مدت کب ختم ہورہی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 28 نومبر آخری تاریخ ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس کی سماعت کب رکھیں جس پر اٹارنی جنرل نے بدھ کا روز تجویز کیا۔

اٹارنی جنرل کی تجویز پر عدالت نے کہا کہ ہم یہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا حکم معطل کرتے ہیں، وزیراعظم اس تقرری کے مجاز نہیں یہ صدر کا اختیار ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ وزیراعطم نے صدر کو سمری بھجوائی لیکن بعد میں پتا چلا اس کے لیے کابینہ کی منظوری ضروری ہے جس کے بعد سرکولیشن کے ذریعے کابینہ ارکان کو سرکولیٹ کیا گیا جس میں 11 ارکان نے اس معاملے پر آمادگی کا اظہار کیا جب کہ 14 نے خاموشی اختیار کیا۔

عدالت نے کہا کہ یہ سارا عمل الٹ کیا گیا، پہلے کابینہ کی منظوری اور پھر سارا معاملہ ہونا چاہیے تھا، پھر وزیراعظم صدر کو ایڈوائس کرتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے آرمی چیف کی تقرری و توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی تھی اور اس حوالے سے نوٹی فکیشن 19 اگست کو جاری کیا گیا تھا۔

Facebook Comments HS