یہ سب ہماری سیاست کا حصہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بیرون ملک اپنی پراسرار بیماری کے علاج کی وجہ سے جاچکے۔ ان کی بیماری کے حوالے سے جس طرح افواہوں، طنز و تضیحک کا بازار گرم ہوا، اس سے اس امرکا یقین ہوگیا ہے کہ پاکستان میں بیماری پر سیاست بھی کمال ہنر کا کام ہے۔ گوکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم کی سیاسی ساکھ و مستقبل اس وقت داؤ پر لگ چکا ہے، یا انہوں نے خود اپنے پورے خاندان کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

انہیں جن جن بیماریوں کا سامنا تھا، اب ان کا علاج کس طرح ہو رہا ہے اس پر عوامی رائے واضح طور پر منسقم و پیش رفت سے لاعلم ہیں۔ عدلیہ نے حکومتی اجازت نامے پر میاں نواز شریف کو بیرون ملک باہر جانے کی اجازت دی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حکومت جتنی رقم زر ضمانت رکھنا چاہتی تھی۔ عدلیہ نے رقم کے تعین کے بغیر ضمانتی بانڈ لے کر حکومتی شرائط پر سابق وزیر اعظم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی۔ اس موقع پر ضرورت اس امر کی تھی کہ حکمراں جماعت اگلے چار ہفتوں تک خاموشی کے ساتھ صبر و تحمل سے کام لیتی، کیونکہ حکومتی مہلت ختم ہونے کے بعد اُنہیں کئی مواقع مل سکتے تھے۔

یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ سابق وزیر اعظم ِ سزا یافتہ ہیں۔ اس لئے کسی بھی صورت نواز شریف کو پاکستان واپس آنا ہوگا۔ ان کی بیماری کے حوالے سے قیاس آرائیاں کرنے کا قائل نہیں کیونکہ سیاسی جماعتوں کی انحطاط پزیری دیکھ چکا کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر جس طرح بیان بازیاں و شوشے چھوڑے گئے، وہ آج بھی شرمساری کے لئے کافی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نئی بات تو تب ہوگی، جب چار ہفتے بعد مزید مہلت کے لئے میاں نواز شریف کے وکلا ء حکومت یا عدلیہ سے رابطہ کریں گے، یقینی طور پر اُس وقت تک بیماری کی تشخیص سامنے آچکی ہوگی۔

جس کے بعد حکومت یا عدلیہ کا صوابیدی اختیار ہوگا کہ وہ سابق وزیر اعظم کو مزید مہلت دیتے ہیں یا پھر یہ حکم دیتے ہیں کہ ’کیونکہ ان کی بیماری کی تشخیص ہوچکی ہے اس لئے اب انہیں پاکستان واپس آکر علاج کے ساتھ اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے‘ ۔ لیکن میری دانست میں قبل از وقت بلاجوا ز میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے جس کا بظاہر مقصد یہی نظر آتا ہے کہ میاں نواز شریف کے ساتھ انسانی بنیادوں پر ہمدردی کے تاثر کو ختم کردیا جائے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن ان سب باتوں کا فائدہ کیا ہوگا؟ کیا نواز شریف کو واپسی کے بعد پھانسی پر چڑھا دیا جائے گا، یا پھر شریف خاندان کی تمام جائیداد ضبط کرلی جائیں گی۔ یہ طے ہے کہ میاں نواز شریف بیماری کی تشخیص ہونے کے بعد بھی مکمل صحت یاب ہونے تک بیرون ملک رہنا چاہتے ہیں، کیونکہ انہیں جو بیماریاں لاحق ہیں وہ تو وطن واپسی پر بھی رہیں گی۔ اس لئے وطن واپسی کا فیصلہ پاکستان مسلم لیگ ن کے مستقبل کی سیاست کا فیصلہ کرے گا۔

اگر شریف فیملی پاکستان کی سیاست سے طویل مدت تک کے لئے دور رہنا چاہتے ہیں تو برطانیہ میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرسکتے ہیں۔ کئی رہنما خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرچکے ہیں اور مناسب وقت پر وطن واپس بھی آئے، یہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔ دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ میاں نواز شریف اُس وقت تک ریلیف حاصل کرتے رہیں جب تک انہیں کسی بھی طرح مستقل این آر او نہیں مل جاتا۔ یا پھرپاکستان آکر مقدمات کا سامنا کریں، بیماری کی گراؤنڈ پر مستقل علاج کے لئے پیرول پرمستقل ضمانت لے لیں اور سزا معطل کروانے کی کوشش کریں، جس کی کامیابی کے زیادہ امکانات ہیں۔

اسی گراؤنڈ پرمیاں نواز شریف ایک مخصوص مدت تک علاج کی غرض سے ملک سے باہر رہ سکتے ہیں۔ بیرون ملک بیماری کی تشخیص و علاج کو گراؤنڈ بنا کر کل وقتی یا عارضی ریلیف حاصل کی جا سکتی ہے، اس طرح جیل جائے بغیر پاکستان میں بھی ان کا علاج اور سیاسی سرگرمیاں جاری رہنے کے امکانات موجود ہیں۔ فرض بھی کرلیا جائے کہ اگر حکومت ان پرنئے مقدمات درج کرکے گرفتار کرتی ہے تو ان کی بیماری کی وجہ سے ممکن نظر نہیں آتا کہ جسمانی ریمانڈ یا جوڈیشنل ریمانڈ پر زیادہ دیر اسیررہ سکیں۔ یہاں اس بات کی توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ویڈیو اسکینڈل یا پھر بریت کی مرکزی درخواست پر کسی غیر متوقع ممکنہ فیصلے سے میاں نواز شریف او ران کے خاندان کی سیاست دوبارہ زندہ ہوجائے۔

اس وقت واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ ریاست کے چاروں ستون ایک صفحے پر نہیں ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے علاوہ، فارن فنڈنگ کیس کی تلوار کا فیصلہ تمام سیاسی دھارا تبدیل کرسکتا ہے۔ اب یہ کس کے حق میں فیصلہ ہوگا، پاکستانی سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے ملکی سیاست کی موجودہ صورتحال میں قوی امکان یہی ہے کہ اگر فار ن فنڈنگ کیس کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف گیا تو حقیقی سیاسی سونامی آسکتی ہے۔

تاہم اس بحران سے پی ٹی آئی نکلنے میں کامیاب ہوگئی اور ان کے اتحادی مستقل جڑے رہتے ہیں تو عمران خان کی وزرات اعظمیٰ کو کوئی خطرات نہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پی ٹی آئی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ ایک مہینے بعد پاکستان کے سیاسی مستقبل کی سمت واضح ہونے کے نمایاں امکانات موجود ہے۔ پی ٹی آئی کی عجلت و ڈپریشن کی وجہ سے عوامی ہمدردی کاجھکاؤ تبدیل ہو رہا ہے۔ ماہ دسمبر میں کئی اہم تبدیلیاں ہو رہی ہیں جس کے بعد نئے سال کے سورج سے دھند میں خاتمے کے سبب سیاسی صورتحال واضح ہوجائے گی۔

پی ٹی آئی جذبات کی رو میں بہہ کر کئی سنگین غلطیاں کرچکی ہے، ان کے پاس مزید غلطیوں کی بہت کم گنجائش رہ گئی ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنی سمت درست نہ کرسکیں لیکن انہیں پارلیمانی سیاست پر ہی توجہ دینا ہوگی، انگلی پکڑ کر دور تک نہیں چلایا جاسکتا۔ انہیں شریف خاندان کے معاملات کو مکمل طور پر مجاز عدالتوں کے سپرد کردینے چاہیے۔ قوم کے سامنے شریف خاندان کی مبینہ بدعنوانیاں عدالت میں اگر ثابت ہو جاتی ہیں تو انہیں سیاسی ماحول کو بدمزگی سے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

سیاسی پنڈتوں کا مزیدکہنا ہے کہ وزیراعظم کی مشاورتی ٹیم یا تو انہیں صائب مشورے نہیں دے رہی یا پھر وہ خود نظر انداز کررہے ہیں۔ وزیر اعظم کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں شیروانیاں چند گھنٹوں میں سلوا لی جاتی ہیں۔ اتحادی کسی وقت بھی ہرجائی ہوسکتا ہے۔ قریب ترین و قابل اعتماد ساتھی اچانک نظریہ ضرورت کے تحت اپنی وفاداری تبدیل کرلیتے ہیں۔ یہاں سب کچھ آناً فاناً ہوسکتا ہے، اس لئے انہیں کسی خوش گمانی و غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ کیونکہ یہ سب کچھ ہماری سیاست کا حصہ ہے اور ہم یہ سب دیکھتے رہے اور دیکھتے رہیں گے، بھلا آپ سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ کسی بھی نظام اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے لئے فرشتے نہیں مل سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •