خدا کا شکر ہے!


ویسے تو انسان کو ہر حال میں خدا کا شکرادا کرتے رہنا چاہیے لیکن انسان کی زندگی میں بعض حالات و واقعات ایسے بھی رونما ہو جاتے جو انسان کو لا محالہ خدا کا شکر بجا لانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مشہور کہاوت ہے کہ شیخ سعدی پہ ایسا وقت بھی گزرا کہ ان کے پاس پہننے کے لیے جوتے تک نہیں تھے جس کی وجہ سے دل میں ملال سا تھا کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ انسان کے پاس جوتے بھی نہ ہوں۔ انہی خیالات میں گم کسی راندہ درگاہ بستی میں پہنچ گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ چوراہے میں ایک جیتا جاگتا انسان بیٹھا ہے جس کے سرے سے پاؤں ہی نہیں ہیں، یہ دیکھنا تھا کہ شیخ صاحب فی الفور خدا کا شکر بجا لائے کہ اس نے جوتے نہ سہی پاؤں تو ودیعت کر ہی رکھے ہیں۔

اب ہم اس بچپن میں سنی ہوئی کہانی کو یکسر بھول چکے تھے اور بات بے بات افسردہ ہو جاتے تھے۔ آپ کو تو معلوم ہے کہ جب انسان بھٹک جائے تو خدا ا بھی مختلف طریقوں سے سیدھی راہ سجھانے کے انتظام کرتا رہتا ہے۔ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کسی اور نے نہیں بلکہ حضرت وزیراعظم نے خود کروائی ہے۔ ہم تو ان کے علم و عرفان کے بہت پہلے سے قائل ہیں لیکن کچھ حاسدین ہیں جو اس میں ہمیشہ کجی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ایک بات میں آپ کو بتاتا چلوں وزیراعظم ایک درویش صفت، دنیا سے بے پپروا اور صوفی منش انسان ہیں، اکثر اپنی دانش و حکمت کے موتیوں سے اس سیاہ روئے زمین کو منور کرتے رہتے ہیں اور اس میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔

دوسرے عام پاکستانیوں کی طرح ہم بھی امریکی ڈالر کی حالیہ مہنگائی اور اس کے عوام کی صحت و جیب پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے پریشان رہتے تھے کہ آخر کار حضرت خان صاحب کو جلال آ گیا اور اپنی فلسفیانہ گفتگو سے اس دل ناصبور کو قرار بخشا۔ فرمانے لگے انسانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ڈالر 155 روپے کا ہونے سے ہلکان ہوئے جاتے ہیں ان کو تو خدا کا شکر کرنا چاہیے یہی ڈالر 250 کا بھی ہو سکتا تھا، پھر یہ کیا کرتے۔ اسی وقت توبہ کی، سجدے میں گر گیا اور اس قوم پر اولوں کی طرح برسنے والی بے شمار نعمتوں کاکا شکر بجا لایا جن میں سے چند ایک آپ سے بھی شیئر کرنا چاہتا ہوں۔

مثلا خدا کا شکر ہے کہ پٹرول 115 روپے فی لیٹر ہے یہ 215 روپے بھی ہو سکتا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ ٹماٹر مہنگے ہی سہی لیکن مل تو رہے ہیں، یہ ناپید بھی ہو سکتے تھے۔ خدا کا شکرہے نوکریاں نہیں مل رہیں ورنہ بغیر تنخواہ کی نوکریوں پہ جبری بھرتی بھی ہو سکتی تھی۔ خدا کا شکر ہے شیخ رشید وزیر ریلوے ہے وہ وزیر خارجہ یا داخلہ بھی ہو سکتے تھے۔ خدا کا شکر ہے عثمان بزدار وزیر اعلی پنجاب ہیں ان کی جگہ پہ فواد چودھری بھی لگ سکتے تھے۔ خدا کا شکر ہے وزیر اعظم عمران خان ہیں ورنہ اس عہدے پر فیصل واوڈا یا مراد سعید حتی کہ الطاف بھائی بھی متعین ہو سکتے تھے۔ خدا کا شکر ہے نظام چل رہا ہے ورنہ یہ رک بھی سکتا تھا۔

بس اتنا ہی سوچا تھاکہ خان صاحب کے کچھ اور اقوال زریں کانوں میں پڑے، فرما رہے تھے ”درخت رات کو آکسیجن چھوڑتے ہیں“ اور یہ کہ ”ہماری گائے 6 لیٹر دودھ دیتی ہے اگر یہ 12 لیٹر دینا شروع کر دے تو پاکستان میں انقلاب آ جائے گا“۔ اسماعیل میرٹھی یاد آ گئے جو بہت پہلے شاید اسی دن کے لیے فرما گئے تھے کہ

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

لیکن ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ جو گائے 6 لیٹر دودھ دے تو رہی ہے لیکن وہ 3 لیٹر بھی تو دے سکتی تھی ان حالات میں انقلاب 6 لیٹر سے ہی آجاتا یا تب بھی 12 لیٹر ہی لازم تھے۔

Facebook Comments HS