خدا کا شکر ہے!

ویسے تو انسان کو ہر حال میں خدا کا شکرادا کرتے رہنا چاہیے لیکن انسان کی زندگی میں بعض حالات و واقعات ایسے بھی رونما ہو جاتے جو انسان کو لا محالہ خدا کا شکر بجا لانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مشہور کہاوت ہے کہ شیخ سعدی پہ ایسا وقت بھی گزرا کہ ان…

Read more

دیکھنا تقریر کی لذت!

جب سے حضرت وزیراعظم نے اقوام متحدہ نے اپنی قادرالکلامی کے جوھر دکھا کے مسلم امہ کی قیادت کی باگ ڈور سنبھالی ہے، دل کے معاملات کے حالات بھی ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“ والے چل رہے ہیں۔ ہمہ وقت ایک ہی ورد جاری ہے کہ دیکھنا تقریر کی لذت…

Read more

وزیراعظم کے مغالطے!

کچھ عرصہ سے ایک کتاب کا سرورق سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، کتا ب کا عنوان ”پاکستانیوں کے مغالطے“ کافی پرکشش ہے اور لامحالہ انسان کا دل چاہتا ہے کہ اسے ضرور پڑھا جائے لیکن کیا کریں شومی قسمت سے ابھی تک اس سعادت سے محروم ہیں۔ دل نے تسلی دی کہ آپ خود بھی تو پاکستانی ہو جو آپ کے مغالطے ہوں گے دوسرے پاکستانیوں کے مغالطے ان سے چنداں مختلف نہ ہوں گے ، جون ایلیا کی سنو اور اس پہ سر دھنو!

ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم

Read more

صبر ظالم کی چڑ ہے

بچپن سے حضرت بلالؓ کا واقعہ سنتے اور پڑھتے آئے ہیں جس سے امیہ بن خلف کے ان پر مظالم اور ان کے صبر و استقامت کے ساتھ احد، احد پکارتے ہوئے دین اسلام پر قائم رہنے کا بیان بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے حضرت عمرؓ پر بنی ہوئی ایک ٹی وی سیریز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ سیریز عربی میں ہے لیکن انگریزی سبٹائیٹلز مہیا ہیں۔ مذکورہ سیریز میں حضرت بلالؓ کے واقعہ کو ایک اور نقطہ نظر سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔

Read more

عمران خان وزیر اعظم بن گئے، ہماری دلی خواہش پوری ہو گئی

اگر 1997 کے الیکشن کا خیال آئے تو یہ ہمارے پرائمری سکول کا زمانہ تھا اور اس کے بارے میں صرف یہ ذہن میں آتا ہے کہ ہمارے خاندان والوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا تھا جو کہ شکست کھا گئی تھی اور مجھے یاد ہے کہ اس ہار نے کچھ دنوں تک دماغ کو جکڑے رکھا تھا کہ ”آپاں پیپل پالٹی نوں بوٹ پائے سی تے او ہر گئی اے“ خیر کچھ عرصہ بعد اس الیکشن کو بھول بھال گئے، پھر 1999 ہو گیا لیکن اس کے بارے میں بھی اتنا یاد ہے کہ بس جمعہ کے خطبے میں مولوی صاحب نے کہا تھا کہ ”اینے بہت ات چکی سی، ہن آپ ای چکیا گیا اے نا فِر“ اور ہمیں اتنا ادراک ہوا تھا کہ نواز شریف کی بات ہو رہی ہے اور اس نے بہت ہی غلط کام کیے تھے۔ اس کے بعد خوشحالی کا دور شروع ہوتا ہے۔

Read more

اقبال ایک وکیل! مگر کس کا؟

میٹرک میں اقبال کی نظمیں شکوہ اور جواب شکوہ پڑھیں تو وہ اشعار جن میں اقبال مسلمانوں کے کارنامے گنواتے ہیں دل کو بہت بھاتے تھے مثلاً بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے یا محمود و ایاز کے عین لڑائی میں ایک ہی صف میں کھڑے ہوجانے والا شعر یا پھر یورپ کے کلیساؤں میں اذانیں دینے اور تلواروں کی چھاؤں میں کلمہ پڑھنے کا بیان دل کو بہت لبھاتا تھا مگر اغیار کے کاشانوں پر خدا کی رحمتوں کے نزول کا ذکر پڑھتے ہوئے ڈر بھی جاتے تھے۔ اسی طرح ”جواب شکوہ“ میں جوہر قابل اور آدم کی تعمیر کے لیے اہل گل کی کمیابی، یا ڈھونڈنے والوں کو نئی دنیا کی عطا کا بیان اچھا لگتا تھا۔

Read more

سٹنٹڈ گروتھ کا مسئلہ اور حکومت کے کرنے کے کام

وزیر اعظم جناب عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بچوں میں غذائیت کی کمی بات کی تھی، جو کہ نا صرف پاکستان بلکہ تیسری دنیا کے ہر ملک کا مسئلہ ہے۔ جب وہ یہ بات کر رہے تھے، تو لگ رہا تھا کہ وہ مسئلے کی سنجیدگی کو جانتے ہیں اور ضرور اس کے لیے کچھ کریں گے، لیکن چوں کہ وہ حکمران ہیں اور حکمرانوں کے لیے ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“، کا لحاظ کرتے ہوئے سوچا کہ وہ جانے اور ان کے دکھ، کیوں نہ ”اپنے حصے کی شمع“ روشن کرنے کی کوشش کی جائے۔

غذائیت کی کمی دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ انسان کو مناسب مقدار میں کھانا ملتا ہی نہیں، جب کہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ انسان ظاہری طور پر تو پیٹ بھر کے کھانا کھاتا ہے لیکن اس کی خوراک میں غذائیت کے اجزا کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ جسم کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اور انسان غذائیت کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسری قسم کو ”ہڈن ہنگر“ یعنی ”پوشیدہ بھوک“ کا نام دیا جاتا ہے اور اس وقت دنیا میں ہر نو میں سے ایک انسان کو وافر مقدار میں کھانا نہیں ملتا، جب کہ اس کا اڑھائی گنا انسان ایسے ہیں جو ظاہری طور پر وافر کھانا کھانے کے باوجود غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

Read more

غالب کے حضور

ہے آدمی بجائے خود ایک محشر خیال ہم انجمن سمجھتے ہیں، خلوت ہی کیوں نہ ہو رات کے تقریبا ً دو بج رہے تھے، میں نے نیا تالیف شدہ مینیو سکرپٹ پروفیسر کو ای میل کیا اور بستر پر دراز ہو گیا، لیکن عادت سے مجبور سونے سے پہلے فون کو کھولنا نہیں بھولا۔ دیوانِ…

Read more

سفیدہ ! رحمت یا زحمت

حال ہی میں بی بی سی نے ایک درخت سفیدے پر مضمون شائع کیا جس میں عام فہم انداز میں بتایا گیا ہے کہ یہ درخت کس طرح پاکستان جیسے پانی کی کمی کا شکار ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ جس پر ”ایگری اخبار“ نے ایک ردعمل شائع کیا ہے جس میں بی بی سی کی رپورٹ پر تجزیہ دیا گیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ سفیدے کا درخت کوئی خاص برا نہیں ہے بلکہ شیشم (ٹالی) کے درخت سے بہتر ہی ہے۔ یہ ایک دلچسپ رپورٹ ہے اس لیے سوچا کیوں نہ اس کا جائزہ لیا جائے۔

اس رپورٹ میں انتہائی سائنسی طریقے سے شائع شدہ تحقیق کے حوالے دے کر سفیدے کو ایک فائدہ مند درخت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب سے پہلے 1993 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کاشت ہونے والا تقریباً پچاس فیصد سفیدہ ایسے بارانی علاقوں میں ہوتا ہے جن میں سالانہ بارش بہت کم ہونے کے باوجود سفیدہ انتہائی کامیابی سے اگتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سفیدے کی پانی کی طلب کچھ خاص زیادہ نہیں ہے۔

Read more

کیا جلدبازی ہمارا قومی رویہ ہے

خدا کے فضل سے ہم نے جب بھی کوئی سفر اختیار کیا اس میں کوئی نہ کوئی عجوبہ ضرور ہوا اور اس میں کچھ نہ کچھ عمل دخل ہمارا بھی ضرور رہا۔ یعنی بعد میں غور کرنے پر ہم پر یہی کھلا کہ یہ چن اپنا ہی چڑھایا ہوا ہے۔ خیر اس دفعہ جو ہوا اس کی تفصیل بتانے سے پہلے ہم آپ کو تھوڑا سا اس سفر کے بارے میں بتا ئے دیتے ہیں کہ کیوں اور کہاں کا سفر تھا۔

ہوا کچھ یوں کہ رواں سال اگست میں ہمیں انٹرنشپ کے لیے فرانس کے شہر مونٹپیلیئر جانا پڑا جو کہ جنوبی فرانس کا ساحلی شہر ہے اور یہان ”سپاگرو“ زراعت کے حوالے سے تحقیق کا ایک مشہور ادارہ ہے۔ ہمیں اس ادارے میں دو ماہ ریسرچ کے حوالے سے کام کرنا تھا جس کی تفصیل میں یقیناً آپ کو کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔ خیر وقت مقررہ پر ہم نے اتاترک ائیرپورٹ سے اڑان بھری اور تقریباً تین گھنٹے بعد تولس اترے۔ یہاں سے وہ قصہ شروع ہوتا ہے جو کہ ہمارے لیے کافی کوفت کا باعث بنا۔

Read more