وزیر اعظم جناب عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بچوں میں غذائیت کی کمی بات کی تھی، جو کہ نا صرف پاکستان بلکہ تیسری دنیا کے ہر ملک کا مسئلہ ہے۔ جب وہ یہ بات کر رہے تھے، تو لگ رہا تھا کہ وہ مسئلے کی سنجیدگی کو جانتے ہیں اور ضرور اس کے لیے کچھ کریں گے، لیکن چوں کہ وہ حکمران ہیں اور حکمرانوں کے لیے ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“، کا لحاظ کرتے ہوئے سوچا کہ وہ جانے اور ان کے دکھ، کیوں نہ ”اپنے حصے کی شمع“ روشن کرنے کی کوشش کی جائے۔
غذائیت کی کمی دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ انسان کو مناسب مقدار میں کھانا ملتا ہی نہیں، جب کہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ انسان ظاہری طور پر تو پیٹ بھر کے کھانا کھاتا ہے لیکن اس کی خوراک میں غذائیت کے اجزا کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ جسم کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اور انسان غذائیت کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسری قسم کو ”ہڈن ہنگر“ یعنی ”پوشیدہ بھوک“ کا نام دیا جاتا ہے اور اس وقت دنیا میں ہر نو میں سے ایک انسان کو وافر مقدار میں کھانا نہیں ملتا، جب کہ اس کا اڑھائی گنا انسان ایسے ہیں جو ظاہری طور پر وافر کھانا کھانے کے باوجود غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔
Read more