آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں: چیف جسٹس آصف کھوسہ


سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران کئی اہم قانونی نکات واضح ہوئے۔ کئی مواقع پر عدالت عظمیٰ نے سرکاری وکلا کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں اٹارنی جنرل کی جانب سے آرمی چیف کی توسیع کو آئینی روایت قرار دیا جانا بھی شامل ہے۔

گزشتہ دو روز سے حکومت کی جانب سے یہ موقف پیش کیا جاتا رہا کہ آرمی چیف کی توسیع دراصل ایک آئینی روایت ہے جس پر عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ یہ آئینی روایت نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں، گزشتہ تین آرمی چیف میں سے ایک کو توسیع ملی، دوسرے کو نہیں، اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا آئین کو بار بار پڑھتے ہیں تو نئی چیز کھل جاتی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم تو پہلی بار پڑھتے ہیں تو کچھ نکل آتا ہے۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے استدعا کی کہ عدالت ان الفاظ کو حذف کر دے جس پرچیف جسٹس نے کہ آپ تو کہتے ہیں کہ حکومت نے کوئی غلطی نہیں کی۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو فوج کے سربراہ کی مدت کے تعین کا قانون بنانے کے لیے چھ ماہ کا وقت دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے اور حکومت سے چار نکات پر تحریری بیانات طلب کئے ہیں۔

Facebook Comments HS