خاموش صحن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کیسی کشیدگی، یہ کیسا کھچا کھچا سا ماحول، ان دیواروں کے پیچھے کچھ چھپا ہوا خوف؟ کیا اس عمارت کا وہی حال ہو گا جو رام باغ کا ہوا تھا؟ کیا میرے بچے یہاں محفوظ ہیں؟ سیتا کچھ دنوں سے یہ سوچ سوچ کر پاگل ہوتی جا رہی تھی۔

رام باغ بھی تو پہلے کتنا اچھا تھا، کئی دہائیوں سے پرسکون اور محفوظ، جیتا جاگتا سانس لیتا ہؤا محلہ۔ شام کو پرانے درختوں میں سے ہزاروں پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں گلی میں سے بچّوں کے شور کے ساتھ مل کر زندگی کا ایک عجیب نغمہ سناتیں۔ لیکن پھر ایک سال میں سب کچھ بدل گیا جب کچھ نئے لوگ اس محلے میں آ بسے۔ ایک بندر کو دھتکارنے پر فساد کھڑا کر دیا۔ چند مسلمانوں کے کپڑوں کی دکانیں جلا دی گئیں اور مشہور زمانہ مٹھائی کی دکان پر حملے میں اس کا مالک کرن جی مارا گیا۔

اسی لئے تو سیتا دونوں بچوں سمیت رام باغ کا علاقہ چھوڑ کر ایسٹ پوائنٹ ٹاور میں آگئی تھی۔

کتنا اچھا ماحول تھا اس عمارت میں، نیچے صحن میں شام کو بچے کھیلتے کودتے اور بڑے بیٹھ کر گپ شپ لگاتے، دیوالی آتی یا عید سب ہی جشن منانے کے موڈ میں نظر آتے۔

پھر کچھ لوگوں کو یہ سکوں یہ خوشیاں یہ ہم آہنگی یہ دوستیاں راس نہیں آئیں۔ مینٹینس کمیٹی کو ایک عرضی آئی کہ کمیو نیٹی ہال کو مسجد بنا دیا جائے، دوسری عرضی آئی کہ اس کو مندر میں تبدیل کر دیا جائے۔ کچھ دانشوروں نے دونوں گروہوں کو سمجھایا کہ اس کو ایسے ہی رہنے دیا جائے کیونکہ فلیٹوں میں آٹھ دس مہمانوں سے زیادہ کو بلانے کی گنجائش نہیں ہے۔ پھر یہ بھی تجویز کیا گیا کہ جب وہ ہال خالی ہو تو کوئی بھی جاکر اس میں اپنی عبادت یا مراقبہ کر لے۔ یہ بھی پیش کش ہوئی کہ ہندو اور مسلمان کمیو نیٹی ہال میں عبادت کے لئے اپنے اپنے اوقات مخصوص کر لیں۔ لیکن ان میں سے چند جیالوں نے کسی کی نہ سنی۔

مینٹینیس کمیٹی نے دونوں عرضیاں رد کر دیں۔ کچھ ہندو تذبذب میں تھے کہ مسلمان کیوں نہیں ہماری ضرورت کو سمجھتے کہ ہمارا مندر آدھ گھنٹہ دور ہے۔ عرضی دینے والے مسلمان ناراض تھے کہ ہمیں تو پانچ بار مسجد جانا ہوتا ہے پھر کیوں ہماری آسانی کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ الزام تراشیاں شروں ہو گئیں محبتیں شکوک میں بدل گئیں آپس کا آنا جانا بند ہو گیا۔ وہی لوگ جنہیں پہلے سیتا مسکرا کر ہیلو یا سلام کہہ دیتی تھی اب ان سے نہ جانے کیوں آنکھیں کتراتے ہوئے گزر جاتی تھی یا شاید وہ اس سے نگاہیں نہیں ملاتے تھے۔

اب شام کو صحن پر دونوں گروہ قبضہ کر لیتے ہیں۔ ایک کونے میں نماز اور درس اور دوسری طرف پوجا پاٹ۔ اور ان کے علاوہ صحن میں کوئی بھی نہیں ہوتا کوئی پرندہ بھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •