تیل کی قیمت

جراہ جلوس میں پیچھے کی طرف رہنا چاہتا تھا۔ اس کو پتا تھا کہ اس کی ماں دوسری سمت سے آنے والے جلوس میں پیش پیش ہو گی۔ یہ مخالف سمت سے آیا ہو ا جلوس قدرے چھوٹا تھا مگر زیادہ پر جوش تھا۔ جراہ کی آنکھیں بیتابی سے ماں کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ ”وہ تو ان سب لوگوں کی لیڈر ہے کہاں غائب ہو گئی ہے! “ وہ اور انتظار نہ کر سکا۔ اس نے اپنے ٹرک کو اسٹارٹ کیا اور ماں کے گھر کی طرف دوڑ پڑا۔ گھر کیا تھا ایک ویرانہ تھا۔ دروازے کو زور سے کھولتے ہوئے وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوا۔ آج ماں کے چہرے پر کتنا سکون تھا۔ وہ کتنی گہری نیند سو رہی تھی۔

تقریباً دو سال سے جراہ کی ماں جس کا نام میکاک تھا اور جراہ کے درمیان ایک بحث چل رہی تھی۔ لیکن یہ دو باشعور لوگوں کی بحث تھی جس سے ماں اور بیٹے کی محبت میں ذرا سا بھی خم نہیں آیا تھا۔

Read more

آری

سنتوش درختوں کے انسپکٹر کو بہت بے بسی اور غصے سے واپس جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ پتا نہیں اسے اس درخت کو کاٹنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔ ادھر اس کی بیوی بضد تھی کہ یہ ساری رکاوٹیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ درخت ان کے لئے پَوِترہے اور وہ اس کو نہیں کٹوانے دے گی۔ سنتوش کے ذہن میں یہ خیالی تصویر گھوم رہی تھی کہ دہلی میں اس کے بھائی سد ہیر نے پولیس کے ساتھ مل کر اپنے دشمن کو ایک دن کے اندر قتل کروادیا تھا اور یہاں درخت کا کٹوانا اتنا بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا۔

سنتوش کو ٹورونٹو کے اس مکان میں رہتے ہوئے تیس سال گزر چکے تھے۔ اس کے تینوں بچے یہیں بڑے ہوئے۔ ابتدائی، ثانوی اور یونیورسٹی کی تعلیم اسی علاقے میں حاصل کی اور اب وہ شادی کر کے الگ رہ رہے تھے۔ سنتوش بھی اب ریٹائر ہو گیا تھا اور تقریباً سارا وقت گھر ہی میں رہتا تھا۔ اگر سردی زیادہ نہ ہو تو مکان کے اگلے لان میں وقت گزارنا پسند کرتا تھا۔ اگلے لان میں میپل کا بہت بڑا درخت تھا۔ موسم گرما میں یہ درخت پتوں سے بھر جاتا اور اور لان اور مکان کو اپنے سائے میں رکھتا۔ مگر یہ درخت اب کسی بیماری کا شکار تھا اور بہت ہی کم پتّے دیتا تھا۔

Read more

کٹھ پتلی کے بہت روپ ہوتے ہیں

دہلی میں بارش شروع ہوئی تو تھمنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ گرج چمک بھی زوروں پر تھی۔ دفعتاً کٹھ پتلیوں کے فنکار شرجیل کے مکان کے پچھلے حصّے کی دیوار گر گئی اور اس کی نازک نازک کٹھ پتلیاں اس دیوار کے نیچے دب گئیں۔ وہ دیوانوں کی طرح کٹھ پتلیوں کو…

Read more

بدیسی ادب: انگوری شکنجہ

چارلس ڈی گریوز Charles de Gruse جب بھی پیرس میں میز بانی کرتا تو اپنے غیر ملکی مہمانوں سے یہی کہتا ”آپ کو ایک اعلی ریڈ وائن red wineسے لطف اندوز ہونے کے لئے فرانسیسی ہونا ضروری نہیں ہے، لیکن ایک عمدہ وائن کی پہچان کے لئے فرانسیسی ہونا ضروری ہے“ وہ یہ مسکرا کر کہتا تاکہ اس کے مہمان اس کی بات سے ہتک نہ محسوس کریں۔

فرانسیسی سفارتی عملے میں زندگی بھر کام کرنے کے بعد، کاؤنٹ چارلس ڈی گریوز اپنی بیوی کے ساتھ قوے وولٹیر میں ایک خوبصورت مکان میں رہتا تھا۔ وہ ایک قابل ِپسند شخص تھا، پر وضع بھی اور اپنی میزبانی اور دل نوازی کے لئے مشہور تھا۔

Read more

”دانائی کی تلاش میں“ پر ایک غیر دانا تبصرہ

دانائی کیا ہے؟ مفکّر کسے کہتے ہیں؟ دانشور کی کیا خصو صیات ہونی چاہئیں اور کوئی دانشور کیسے بن سکتا ہے؟ کیا کچھ لوگ پیدائشی دانشور ہوتے ہیں؟ اگر چہ یہ بہت سادہ سوالات ہیں لیکن ان کے جوابات اتنے ہی کٹھن اور پیچیدہ ہونگے۔ اور شاید مختلف لوگوں کے یہ جوابات بھی ایک دوسرے کے…

Read more

غریبوں کی عالی شان مسجد اور کافر مسافر

اس چلتی ہوئی ریل گاڑی کے باہر ایک ہجوم محسن کو کافر قرار دے کر اس کی جان کے درپے تھا۔ مگر اس کی نظریں سڑک کے اس پار مسجد کے خوبصورت گنبد اور میناروں پر پیوست تھیں جہاں اس نے آدھ گھنٹہ پہلے نماز ادا کی تھی۔ محسن کی یہ محسور کن کیفیت دیکھ کر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے اس شہر کے لوگوں کی تعریف کی۔ اس کے ردّ عمل کے طور پر محسن بے ساختہ کچھ بڑبڑایا۔ ساتھ بیٹھا ہو ا نوجوان اور اس کے دو دوست فوراً کھڑاے ہوگئے۔ محسن نے مڑ کر دیکھا تو وہ نوجوان غصے میں آگ بگولہ ہوئے اسے گھور رہے تھے جیسے کہ وہ اس پر حملہ کرنے والے تھے۔ محسن کے اندر ایک عجیب و غریب اضطراب پیدا ہوا جیسے اس پر دل کا دورہ پڑنے لگا ہو۔ پھر اس کے اندر کی شعوری قوت اس کے اضطراب پر حاوی ہو گئی اور مسکرا کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

Read more

کل اور آج

”میں تم سے تنگ آ چکا ہوں۔ اب اسی سوچ میں ہوں کہ کس طرح تم سے جان چھڑاؤں۔ “
” وہ کیوں؟ “

” تمہارے پاس انسانوں کو دینے کے لئے کیا ہے؟ جنگ، ظلم، بھوک، جہالت، بیماری۔ تم کس بات پر اتنا اکڑتے ہو؟ “
” میں حقیقت ہوں اور تم صرف فریب ہو۔ میں تمہارے بغیر زندہ رہ سکتا ہوں لیکن تمہارا وجود میرے بنا ممکن نہیں۔ “

” اس فریب کے ذریعے ہی تو انسان جی رہا ہے۔ تمہاری حقیقت میں تلخی کے علاوہ کچھ بھی نہیں! “
” تمہارے پاس جھوٹے وعدے، جھوٹے خواب ہیں۔ کیا کسی کو دھوکا دینا اچھی بات ہے؟ “

Read more

درویشوں کا ڈیرا پر تبصرہ

خط لکھنے کی روایت اگرچہ بہت قدیم ہے لیکن ا س کو اردو ادب میں شامل کرنے کی اہمیت مرزا غالب کے خطوط سے شروع ہوئی ہے۔ میں نے ثانوی اسکول میں غالب کے ادبی خطوط پڑھے تھے۔ اس کے بعد کچھ اور ادیبوں کے بھی اکا دکا خطوط پڑھنے میں آئے۔ چند سال پہلے…

Read more