پاکستان کا انقلابی ضمیر کون؟

یہ مردِ آہن سنہ 1928 ء میں ہوشیار پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کی شاعری نے ان کو جنوبی ایشیا کے بے باک عوامی شاعر طور پر منوا لیا۔ ان کے الفاظ محض شعر نہیں بلکہ مزاحمتی نعرے تھے جو ملک بھر کے اسکولوں، عدالتوں، جیلوں، اور احتجاجی اجتماعات میں گونجتے تھے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان کے عام شہریوں

Read more

وہ پاکستانی جس نے آزادی کی جدوجہد اور تعلیم کو عام کرنے کے جرم میں 33 سال جیلوں میں گزارے

باچا خان ایک غدار یا عوام دوست؟ لڑکپن سے ہی میں ان کے بارے میں بہت سی منفی باتیں پڑھتا یا سنتا رہا ہوں۔ لیکن کافی عرصہ پہلے میں نے یہ طے کر لیا تھا کہ جو کچھ بھی سنوں یا پڑھوں، اسے سو فیصد سچ اور حقیقت تسلیم نہ کروں، بلکہ اس میں شک کی گنجائش رکھوں اور خود اس پر تحقیق کروں۔ باچا خان کے بارے میں سچ کی تلاش میری مسلسل کوشش تھی کہ اتفاقاً الجزیرہ چینل

Read more

ہلکی سی مسکراہٹ۔

انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلاء کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبۃ ( 15 مئی) کے نام۔ النکبۃ ستّتر سال کے بعد بھی جاری ہے۔ فیضان چہرہ نچڑا ہوا، پیٹ اندر دھنسا ہوا، بازو اور ٹانگیں جیسے سوکھی ہوئی ٹہنیاں، پسلیاں نمایاں، بال بکھرے ہوئے، بدن کئی ہفتوں سے غسل سے محروم، چند چیتھڑوں میں لپٹا ہوا، ایک زندہ لاش۔ اس نے بمشکل اپنا دھڑ سنبھالا، آنکھیں ایک اجنبی عورت پر جم گئیں۔ ”میرے ماں باپ کہاں

Read more

اس پاکستانی چراغ کو سالگرہ مبارک ہو

میں ہمیشہ سے یہ مانتا رہا ہوں کہ ”تاریخ“ دنیا بھر میں حکومتوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ غلط بیانی کا شکار ہونے والا مضمون ہے۔ کافی عرصہ پہلے ایک دوست سے گفتگو کے دوران، اس نے مجھے ڈاکٹر مبارک علی کے کام سے روشناس ہونے کا مشورہ دیا۔ اگلے دن، میں چائے کا کپ لے کر اپنے مطالعہ کے کمرے میں بیٹھ گیا اور وہ لنک کھولا جو میرے دوست نے بھیجا تھا۔ ایک نوجوان براڈکاسٹر کا ایک بزرگ

Read more

میں اس سال بھی ناکام رہا

اس سال بھی ہمیشہ کی طرح میرا دھوم دھام سے استقبال کیا گیا۔ مساجد کو دلہنوں کی طرح سجایا گیا، گھروں اور دکانوں کو روشنیوں سے سنوارا گیا۔ ہر طرف لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے، ایک دوسرے کے گھروں میں ملنے جا رہے تھے۔ سوشل میڈیا خوشیوں اور دعاؤں کے پیغامات سے بھرا پڑا تھا۔ گویا ہر طرف جشن کا ماحول تھا۔ اشیائے خورد و نوش کی دکانوں پر گھمسان کا رن پڑا، جیسے کھانے پینے کے

Read more

پہلا قدم

ہسپتال کی راہداری رات کے اس پہر ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کہیں دور کسی مانیٹر کی مدھم بیں بیں بیں سناٹے کو چیر رہی تھی، جیسے تنہائی میں گھلتی ہوئی کوئی دھیمی سسکی۔ نرس یاسمین تیز قدموں سے چل رہی تھی، مگر اس کے نرم، محتاط قدم بھی فرش پر کوئی آواز پیدا نہ کر رہے تھے۔ وہ برسوں سے اس ہسپتال کا حصہ تھی، بے شمار راتیں جاگ کر گزاری تھیں، لیکن کچھ راتیں ایسی

Read more

آج کے لات و عزّیٰ

سعد خانہ کعبہ کے طواف میں مگن تھا۔ اس کے دل کی دھڑکنوں کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ دنیا کی ہر فکر اور سوچ سے آزاد ہو چکا تھا۔ صرف اللہ کی ذات، اس کا عشق، اور کعبے کی قربت، یہی اس کے دل و دماغ پر طاری تھا۔ وہ روحانیت کے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں انسان خود کو مٹانے اور اپنی ہستی کو فنا کرنے کی خواہش کرتا ہے۔ کعبہ

Read more

پارسی: ایک چھوٹی سی برادری

پارسی ان زرتشتیوں کو کہا جاتا ہے جو برِّصغیر پاک و ہند میں ایرانی پناہ گزینوں کی اولاد ہیں۔ یہ زرتشی مذہب کے لوگ چھٹی صدی عیسوی میں ایران پر ہونے والے حملے عربوں کے قبضے کے بعد وہاں سے ہجرت کر کے ہندوستان پہنچے اور وہیں آباد ہو گئے۔ پارسیوں نے تاریخی طور پر جنوبی ایشیا کی سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے خطے میں ان کی وراثت ان کی قومی تعمیر

Read more

سرنگ (افسانہ)

چاروں طرف اونچی دیواریں، ایسی بلند کہ سورج کی کرنیں ان سے ٹکرا کر بکھر جاتیں، روشنی کی ایک ہلکی سی شعاع بھی اندر داخل نہ ہو پاتی۔ دو طرف وہ کھڑکیاں جن کے پٹ شاید صدیوں سے مقفل تھے۔ اگر کبھی وہ ہمت کر کے انہیں کھولنے کی کوشش بھی کرتی، تو لکڑی کے چٹخنے کی ایسی دل خراش آواز گونجتی کہ خوف کے مارے اس کے ہاتھ کانپ جاتے۔ بقیہ دو طرف وہ دیوہیکل دروازے، جن کی ہیبت

Read more

کیا گوادر آسمان سے ٹپکا تھا؟

گوادر۔ گوادر۔ گوادر۔ اب آپ کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھیں تو گوادر کا کہیں نا کہیں ذکرِ خیر مل جائے گا؛ بندر گاہ، یا سی پیک، یا چین کے حوالے سے۔ پاکستان کے تقریباً ہر شہری کو گوادر کا نام اور اس کی اہمیت کے بارے میں تھوڑا بہت اندازہ ہے۔ لیکن جب 1947 ء میں پاکستان بنا تو یہ پاکستان کی سر زمین کا حصّہ نہیں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں بچّہ تھا تو

Read more

ویل چیئر

  صبح کے دس بج رہے تھے۔ گھر کی فضا بہت بھاری اور بوجھل تھی۔ دانیال اور اس کی بیوی ایک دوسرے کے وجود سے انکار کرتے ہوئے خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ دانیال نے جیکٹ پہنی، ایک لفافہ پکڑا اور پیدل رفیع کے گھر کی طرف چل پڑا۔ بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے اس کے جسم میں سنسناہٹ پیدا کر رہے تھے۔ دس منٹ بعد وہ ایک دروازے کے باہر کھڑا تھا اور گھنٹی دے

Read more

جھونپڑی

فلک پر کالے بادل چھا رہے تھے اور ہوا کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی۔ اس عالم میں کچھ لوگ اس نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ” امّاں، تم آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کیا بارش ہونے والی ہے؟“ شمائلہ کی آواز میں معصومیت اور اندیشے نجانے کب سے مدغم ہو چکے تھے۔ پینتیس سالہ ماں جو معاشرے کی مار کی وجہ سے پچاس سال سے بھی زیادہ عمر رسیدہ لگ رہی تھی بہت آہستہ سے

Read more

دوسری پگڈنڈی

فیض سہ پہر کی نارنجی دھوپ میں اس پگڈنڈی کی خوبصورتی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایک طرف گہرائی میں مچلتی ہوئی ندی اور دوسری طرف سبزے سے نہائی ہوئی کھائیاں، اس کے نشیب و فراز، اور خوبصورت موڑ، وہ اس سارے منظر سے مسحور ہو چکا تھا۔ وہ اس لمبی پگڈنڈی پہ مگن چلا جا رہا تھا۔ دور سے اسے ایک مرد اور عورت مخالف سمت سے آتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ فیض نے ان پر توجہ نہیں دی۔

Read more

طبلہ نواز

نبیل کے لئے ماضی کی وہ بہشت اب ایک دوزخ بن گئی تھی۔ وہ ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ ریٹائر ہو جانے کے بعد وہ موسیقی کے شوق کی طرف پوری توجہ دے گا۔ طبلہ، اس کی روح، اس کا جنون۔ اور وہ پانچ سال تک اس کی ہر تال میں محو رہا۔ ریاضت، مشق، اور نبیل۔ چھوٹا طبلہ ’دایاں‘ اور بڑا طبلہ ’بایاں‘ ، ان پہ نبیل کی ہتھیلیاں اور انگلیاں اس طرح ٹکراتی تھیں جیسے کسی کمپیوٹر پروگرام

Read more

نیل پالش

درمیانے خد و خال کی حامل ندا نے نیل پالش کی شیشی کھولی۔ اور برش کو بھگو کر سلطانہ کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ وہ برش کو سلطانہ کی چھوٹی انگلی کے ناخن پہ پھیرنے ہی والی تھی کہ سلطانہ نے پوری قوت سے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا اور آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ سلطانہ سلطانہ، بتاؤ کیا ہو رہا ہے تمہیں؟ مجھے تم سے ملے ہوئے پانچ دن ہو چکے ہیں لیکن تم نے اب

Read more

دودھ کی تھیلی

” کاشف، دودھ، کاشف۔“ یہ سوچ سوچ کر تیس سالہ خوبرو خدیجہ کا سر پھٹا جا رہا تھا۔ ”ایک کاشف جس نے دودھ کے گلاس کو دھکیل دیا، اور دودھ کو چکھا تک نہیں۔ اور دوسرا کاشف چائے میں دودھ کی چند بوندوں کے لئے ترستا رہا۔“ پھر اس کا ذہن بیگم صاحبہ کی طرف چلا گیا۔ ”وہ بھی کوئی میری عمر ہی کے لگ بھگ ہو گی۔ جب پرسوں مجھے اس کے سامنے لے جا کر زمیں پہ بٹھایا

Read more

تین بٹا پانچ انسان

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ میں سیاہ فام باشندوں کی غلامی معیشت کا ایک اہم ستون تھی۔ یہ سیاہ فام انسان افریقہ سے اغوا کر کے بحری جہازوں کے ذریعے امریکہ اور دنیا کے کئی اور ممالک میں پہنچائے جاتے تھے جہاں ان کو فروخت کیا جاتا تھا۔ امریکی سفید نسل کے لوگ ان کو انسان سمجھنے کے بجائے ایک جائیداد سمجھتے تھے۔ ان کو انتہائی برے حالات میں رکھا جاتا تھا، اور کھیتوں اور دوسری کئی صنعتوں میں ان

Read more

گرم گرم چائے

سمیع کی زبان کے ذائقے کے سارے مسام حرکت میں آ گئے۔ اس نے پھر سوچا۔ ”گرم گرم چائے۔ “ صبح کی خنکی اس کے چوڑے ماتھے کو ٹھٹھرائے جا رہی تھی۔ اس تاریک اور سرد بنکر میں اس کو آئے ہوئے دس دن ہو گئے تھے۔ یہاں انتہائی مضبوط دیواروں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ بس ایک دروازہ پچھلی طرف سے کھلتا تھا، اور مشین گن سے فائر کرنے کے لئے کچھ سوراخ۔ شاید سمیع کو اس وحشتناک جگہ

Read more

غلام جائیداد۔ دوسری اور آخری قسط

اب للؔی ماں بننے والی تھی۔ مسٹر سینڈز ایک دن دوپہر کے وقت ایک ڈاکٹر کے ساتھ آیا۔ ڈاکٹر نے للؔی کے معائنے کے بعد مسٹر سینڈز کو بتایا کہ وہ اس حمل کو گرا سکتا تھا۔ لیکن مسٹر سینڈز نے للؔی کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئیے کہا۔ ”یہ ایک بد چلن لڑکی ہے، یہ اب اپنے کیے کا انجام بھگتے گی۔“ اس کے بعد للؔی کا جنسی استحصال کم ہو گیا۔ اب ایک دائی ہر ہفتے اس کے

Read more

غلام جائیداد

گھوڑوں کا اصطبل دو گھنٹے کی بارش سے کیچڑ ہو گیا تھا۔ پندرہ سالہ سیاہ فام للؔی اصطبل کے ایک کونے میں کیچڑ پہ کچھ اور غلاموں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ بارش رکی تو اصطبل کے ملازم نے سب غلاموں کو مکئی کی ڈبل روٹی کے پانچ پانچ ٹوسٹ دیے۔ اس کے ہاتھ میں ایک لمبا کوڑا تھا اور کمر سے ایک چمڑے کا تھیلا لٹک رہا تھا جس میں کچھ اوزار تھے۔ ملازم نے ان بیس غلاموں کو

Read more

تخلیقی اقلیت: خواب اور الجھنیں

"زندگی کی تین شکلیں جن کو میں نے نام دئے ہیں: زندگی کس طرح اونٹ بن گئی، اور اونٹ شیر میں تبدیل ہو گیا، اور آخر میں شیر ایک بچہ بن گیا۔” – ’ اس طرح زرتشت نے کہا ‘ (کتاب کا نام)، مصنّف فریڈرک نطشے (1844–1900) اپنی کتاب کے آغاز میں جرمن فلسفہ دان نطشے نے علامتی طور پر تین تبدیلیوں کو بیان کیا ہے جن سے ایک فرد کو اپنے تخلیقی مقصد کے لئے آزادی حاصل کرنے کے

Read more

نفسیاتی مریض

سارے مجمع پہ سناٹا چھا گیا جیسے کسی سانپ نے ایک ہی لمحے میں سب کو ڈس لیا ہو۔ پھر چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ ” کہیں سعید پاگل تو نہیں ہو گیا!“ ” لگتا ہے اس کو خودکشی کا شوق ہے۔“ ” مجھے تو پہلے ہی اس کی دماغی حالت پہ شک تھا۔“ ” یہ بیٹھیے بیٹھیے کہیں کھو جاتا ہے اس کو ضرور مدد کی ضرورت ہے میں اس سے ضرور بات کروں گی۔ مجھے خطرہ ہے کہ

Read more

غلامی

میں اپنے دوست کریم کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔ دنیا کے اہم واقعات کے بارے میں بات چیت شروع ہو گئی۔ کریم نے مجھے بتایا کہ میں ایک غلام ہوں۔ مجھے اس کا یہ کہنا انتہائی برا لگا۔ ” میں غلام کیسے؟ میں آزاد ہوں۔ میں اپنی مرضی سے کھا پی سکتا ہوں۔ اپنی پسند کے کپڑے پہن سکتا ہوں۔ میں خود کو نکھارتا ہوں۔ میرا اپنا کاروبار ہے۔ میں اس کا مالک ہوں۔ میں یہ کاروبار اپنی مرضی کے

Read more

پانچ ہزار سال قبل

کرینہ راؤ جلد از جلد ماتا کے پاس پہنچنا چاہتی تھی۔ ماتا، جو درگا دیوی کا اوتار تھی، وہ کرینہ کو پاس بلا کر ایک پیغام دینا چاہتی تھی۔ جب کرینہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے فوراً مختصر ضروری سامانِ سفر باندھا، اپنے قبیلے کے لوگوں کو اس کی واپسی کا انتظار کرنے کے لئے کہا، اور سفر شروع کر دیا۔ خاردار راستے، دہکتے ہوئے پتھر، وہ آہستہ آہستہ چلتی رہی، قدم بہ قدم آگے بڑھتی

Read more

غزہ کی گڑیا

تین سال کی ندا دودن سے رو رہی تھی۔ میری للی، میری گڑیا کہاں ہے؟ وہ اور اس کے بہن بھائی ماں باپ سب بچے گئے تھے۔ لیکن ان کے اپارٹمنٹ کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی۔ باپ بھی ایک ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا۔ کوئی رہنے کی جگہ نہیں،  روزی کمانے کا ذریعہ نہیں۔ کوئی حال نہیں،  کوئی مستقبل نہیں۔ چاروں طرف موت اور مفلسی کا بھیانک رقص زوروں پہ تھا۔ باپ گڑیا ڈھونڈنے کے لئے

Read more

تباہی کے دہانے سے بھی آگے: پاکستان کی آبادی میں اضافہ

(Original article: The Express Tribune; Beyond the brink: Pakistan ’s population explosion) ترجمہ و تخلیص: حبیب شیخ آبادی میں اضافے کا ٹائم بم پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور وہ دنیا کے پانچ سب سے زیادہ آبادی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان کی آبادی 245 ملین یعنی 24 اعشاریہ 5 کروڑ ہو گئی ہے۔ اس کے شدید منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ آبادی میں اضافے نے معیشت کو مفلوج کر دیا ہے، اہم

Read more

سجنی کی باہیں

جگمیت کو دودھیائی چاندنی سے نہایا ہوا مکان دور سے نظر آ رہا تھا۔ سرد تیز ہواؤں سے اس کو بار بار جھرجھری آ رہی تھی۔ وہ نجانے آج کتنے کلومیٹر پیدل چل چکا تھا۔ کتنی بسوں میں بیٹھ چکا تھا۔ اب وہ گھر کے پاس پہنچ چکا تھا۔ پھول پتوں سے لدی ہوئی باہر کی دیوار کتنی سندر لگ رہی تھی۔ باہر کی طرف بونے بونے درخت قطار میں کھڑے ہوئے ہوا سے جھوم رہے تھے۔ نیلے رنگ کا

Read more

چلو اچھا ہوا

شنکر نے اس وحشتناک بت کی تراش کو مکمل کیا اور بڑبڑانا شروع کر دیا۔ ”میری محبوبہ، آج میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ہاں، وہ بھی دل کی گہرائی سے۔ تمہیں شاید یہ بھی اندازہ نہیں کہ میں تمہارا شکر گزار کیوں ہوں! کچھ عرصہ پہلے جب میں ایک بھنور میں پھنس گیا تھا تو میں نے تمہیں فون کیا۔ تم نے کتنی آسانی سے مجھے ٹال دیا۔ اور میں نادان یہی سمجھتا رہا کہ تم فوراً میری

Read more

گٹھڑیاں

”آخر وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتا ہے، مجھے وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔“ ٹھیک ساڑھے تین بجے دروازے پہ دستک ہوئی۔ میں نے لپک کر دروازہ کھولا۔ پچاس سالہ سعید ہی تھا لیکن یہ کیا؟ اس نے کئی گٹھڑیاں اپنے پر لادی ہوئی تھیں، کندھے جھکے ہوئے، چہرے پہ ایک مصنوعی مسکراہٹ۔ کچھ لمحے تو میں اسے دیکھتا ہی رہا۔ پھر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ میں نے فوراً اسے اندر آنے کے لئے کہا۔ سعید کو شاید

Read more

طاہرہ کی فریاد

یہ ایک دم قیامت کیسے آ گئی؟ طاہرہ تو سو رہی تھی کہ آسمان پھٹ جانے کی آواز آئی، زمین کانپنے لگ گئی، اور پھر وہ نیچے جا رہی تھی ٹوٹی ہوئی چھتوں اور دیواروں کے ساتھ، کھڑکیوں اور کواڑوں کے ساتھ، خوفناک آوازوں اور چیخوں کے ساتھ۔ طاہرہ پتا نہیں کہاں گری۔ اس کے چاروں طرف ملبہ ہی ملبہ تھا اور فضا میں صرف گرد ہی گرد۔ اس کے سر سے خون بہہ کر ماتھے پہ آ رہا تھا

Read more

دریا کے سات سبق

میں حسب معمول دریا کے کنارے پانی کے بہاؤ کی مخالف سمت میں چل رہا تھا۔ دریا کی موجیں کنارے تک مشکل سے پہنچ پا رہی تھیں۔ ہوا بھی قدرے سست ہی تھی۔ ماحول میں ایک عجب ٹھہراؤ تھا۔ میں ہمیشہ بائیں طرف مڑ کر ایک بڑے پتھر پر پانی میں پاؤں ڈال ایک دو گھنٹوں کے لئے بیٹھ جاتا تھا۔ خزاں کا موسم اپنے رنگ دکھا رہا تھا۔ کچھ مرے ہوئے پتے اور سوکھی ٹہنیاں دریا کے بہاؤ کو

Read more

دنیا کا معروف دانشور لیکن اپنے ہی گھر میں اجنبی

’تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے‘ کے سلسلے کی ساتویں قسط بر صغیر ہند کی بیسویں صدی نے اپنے مکینوں کو دو ایسی ’اقبال‘ نام کی شخصیات سے نوازا جنہوں نے اپنے اقبال کو معراج تک پہنچا دیا۔ ایک مشرق میں ہی رہتے ہوئے اپنی فکر اور شاعری کے ذریعے سے مسلمانوں کے لئے خودی اور عشق کا پیامبر بنے۔ دوسرے ’اقبال‘ مغرب میں رہتے ہوئے تدریس، سیاسی سر گرمیوں، تجزیہ نگاری، اور صحافت کے ذریعے سے بے خوف

Read more

گھر واپسی – افسانہ

اب میں واپس کیسے جاؤں؟ لیکن میں واپس کیوں جاؤں! میں اپنی مرضی سے گھر کو چھوڑ کر آیا تھا۔ میرا ایک مقصد تھا، ایسا مقصد جس کے حصول کے لئے ہر راستہ کو جائز سمجھا، ہر جاندار شے کو مٹانے کے قابل سمجھا، جو راستے میں جان بوجھ کر یا اتفاقاً آ جائے اس کو ہٹانا ضروری جانا، جو نہیں جھکا اس کو زبردستی جھکا دیا۔ وہ کتنا بڑا نصب العین تھا! ہمیں یہی بتایا گیا کئی سالوں سے۔

Read more

تخار سے کابل تک: روزگارِ زندگی کی تلاش میں فریبا کی جدوجہد

حالیہ سیاسی منظرنامے کی تبدیلیوں نے افغانستان کو خواتین کے لئے پھر بدترین مقامات میں سے ایک بنا دیا ہے، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جو اپنے گھروں کے لئے روزی کمانے کی ذمہ دار ہیں۔ انہیں اور بھی گہری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کے لئے روزی کمانے کے لئے طریقے بہت ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے تخار میں مشکل زندگی گزارنے والی فریبا اپنے

Read more

غزہ کی لیلیٰ

’میری ماں کہاں ہے، میری امی! ‘ لیلیٰ کے آنسو خشک ہو چکے تھے، حلق کانٹا بن چکا تھا پھر اس نے اپنی دائیں ٹانگ کو دیکھا اور چیخ مار دی ’میرا پیر کہاں گیا، یہ ٹانگ اتنی درد کیوں کر رہی ہے؟ امی امی تم کہاں ہو۔ آتی کیوں نہیں میرے پاس میرے پاس آ کر میری ٹانگ کو دیکھو مجھے بتاؤ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے یہ سب لوگ کراہ رہے ہیں کچھ دھاڑ دھاڑ کے رو

Read more

آپ اللہ اللہ کیوں نہیں کرتے؟

چند روز پہلے ایک پرانے جاننے والوں کا فون آیا کہ وہ ہمارے شہر ایک دو روز کے لئے آرہے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے ہم سے بھی ملنے آئیں گے۔ ایک دو دن بعد دونوں میاں بیوی تشریف لائے اور چائے پہ کچھ پرانے دنوں کی اور آج کل کے زمانے کی باتیں ہوتی رہیں۔ باتوں کے درمیان مہمان خاتون مجھ سے مخاطب ہوئیں۔ ’آپ کہانیاں لکھنے کے بجائے اللہ اللہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ کہانیوں میں کیا

Read more

انگریزی کی غیر انسانی سزا شیطانی ہوا کیا تھی

جب انگریز ہندوستان میں جہاز سے اترے تو ہندوستان ایک امیر ملک تھا جس کی جی ڈی پی پورے کرہ ارض کا تقریباً 25 فیصد تھی۔ جہاں کہیں بھی انگریزوں نے ہندوستان کے علاقے پر قبضہ کیا، انہوں نے سخت پیداواری ٹیکس لگائے، مقامی صنعت کو تباہ کیا، اور برطانیہ کو بھارت کے قدرتی وسائل برآمد کیے۔ اس عمل میں وہ لاکھوں لوگوں کو غربت کی طرف دھکیلتے رہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انگریز مقامی آبادی کے ساتھ دوسرے درجے

Read more

ادھوری عورت کی پوری کہانی

میں پیدا ہوئی تو میرا نام سندر رکھ دیا گیا۔ مجھے میرے خالق نے خوب تراش تراش کر بنایا تھا۔ میرے دماغ کو ذہانت کے مادے میں گوندھ گوندھ کر تخلیق کیا تھا۔ مجھے سیکھنے کی بے پناہ قوت سے نوازا گیا تھا۔ مجھ میں کیا کمی تھی! کیا خامی تھی جو مجھے بازار میں بیچنے کے لئے لے جایا گیا اور میری قیمت مقرر کر دی گئی۔ لوگ آتے، مجھ سے باتیں کرتے، میری تعریفیں کرتے اور قیمت دیکھ

Read more

مصنّفہ کی کامیابی؟

نعیمہ آج پھر خورشید نقوی کے کمرے میں داخل ہوئی لیکن اس دفعہ وہ گھبرائی ہوئی نہیں تھی۔ خورشید نے سرسری نظروں سے نعیمہ کو دیکھا۔ ’بیٹھیں بیٹھیں، مجھے صرف پانچ منٹ کے لئے اجازت دیں۔ ‘ یہ کہہ کر خوش لباس اور انتہائی نحیف خورشید کمرے سے باہر جانے لگا۔ ’رکیے۔ مجھے اپنے سوال کا جواب چاہیے۔ آپ نے فون پہ میرے سوال کا جواب نہیں دیا اس لئے میں خود چلی آئی۔ ‘ خورشید نے اشارے سے بتایا

Read more

قابلِ محبت

  سارہ ایک عام سی شکل کی لڑکی تھی لیکن شاید مسکرانے کے انداز میں کوئی اس کا مد مقابل نہیں تھا۔ اس نے کالی پینٹ کے ساتھ ہلکے ہرے رنگ کا کرتہ پہنا ہؤا تھا جو اس پہ بہت سج رہا تھا۔ سارہ کو سمجھ میں نہیں آریا تھا کہ وہ نیلم کے سوال کا کیا جواب دے۔ اس نے اپنی کرسی سائے میں گھسیٹتے ہوئے کہا۔ ‘نہیں یار! اب تم اس بات کو اور نہیں کھینچو۔’ ‘کیا ہوا!

Read more

ہجر کی سہانی شام

مریم کو یہ ابھی کل کی بات لگ رہی تھی جب اس کو وردہ نے کہا تھا۔ میں تم سے ناراض ہوں، مجھے سے چھپ چھپا کر کیا منصوبے بن رہے ہیں! وردہ واقعی چہرے سے ناراض لگ رہی تھی۔ ’بھئی کیا بات ہے یار۔ کوئی ایسی بات ہی نہیں ہوئی جو تمہیں بتاؤں۔ پتا نہیں کیا اونٹ پٹانگ بول رہی ہو۔ ‘ مریم نے اپنی بائیں طرف کی لٹ سے کھیلتے ہوئے کہا۔ ’اچھا اب اداکاری، وہ بھی مجھ

Read more

کیا بھگت سنگھ ہمارا ہیرو نہیں ہو سکتا؟

28 ستمبر 1907 کو غیر منقسم ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے لائل پور ضلع (اب پاکستان کے فیصل آباد) کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والے بھگت سنگھ کا نام تاریخ کی کتابوں میں ہمیشہ کے لئے درج ہے۔ اس اعزاز کی وجہ ہندوستانی آزادی کی جدوجہد میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ انہیں 23 مارچ 1931 کو پھانسی دے دی گئی تھی، جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔ انقلابی عزم اس خاندان میں ایک روایت

Read more

شانتی نگر

’ دیکھیں، آپ لوگوں کے پیروں میں کتنے چھالے پڑ گئے ہیں۔ ‘ یہ سرائے کے ملازم کی آواز تھی۔ ’ ہوں، تم نے ہمارے چہروں پہ مسکراہٹ کو نہیں دیکھا۔ ‘ چوبیس سالہ ناصر بستر سے آٹھ کر بیٹھ گیا۔ ’ آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی! یہ چھالے تو کافی بھر گئے ہیں۔ ‘ ناصر کچھ دیر خاموشی سے ملازم کو دیکھتا رہا۔ ’منزل پانے کا جنون ہے تو یہ آبلے تنگ نہیں کرتے۔ ‘ ’ صاحب، آپ

Read more

ایک وقت کی روٹی کے لئے

میں چودہ سال کا لڑکا، مسافر ریل گاڑی کا ڈرائیور ہوں چودہ سال کا لڑکا اتنی لمبی ریل گاڑی کا ڈرائیور میں خود حیران ہوں لیکن  بہت خوش ہوں میری گاڑی پہاڑوں کے دامن سے وادیوں کے درمیان میں سے بل کھاتی ہوئی ریلوے لائن پہ میری ریل اب بولان خندق سے گزرے گی میں اپنے انجن سے خوب سیٹیاں بجاؤں گا جلتے ہوئے کوئلے کا دھواں اس کالے انجن سے کیسی شان سے نکل  رہا ہے زمین کی سطح بلند ہو

Read more

جب وردہ نے رومال کو لیرا لیرا کر دیا

وردہ نے رومال کو لمبی سانس لے کر سونگھا اور اس کو اپنی ناک سے الگ نہ کر سکی۔ آنسوؤں کی دھار نے آہستہ آہستہ رومال میں سے آتے ہوئی عمار کے عطر کی خوشبو کو مانند کر دیا تھا۔ وردہ نے ایک آہ لی اور رومال کو پھاڑنا شروع کر دیا۔ ’دقیانوسی کہیں کا اس ٹشو پیپر کے زمانے میں بھی رومال استعمال کرتا ہے، پرفیوم کو چھوڑ کر عطر خریدتا ہے۔ پتا نہیں کون سے دور کا انسان

Read more

مشہور زمانہ کتاب ”شرمناک سلطنت: انگریزوں نے ہندوستان کے ساتھ کیا کیا“ پہ تبصرہ

میں نے کچھ عرصہ پہلے چند ایک مضامین پڑھے تھے کہ کس طرح چرچل نے برطانوی راج کے دوران ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کو جان بوجھ کر بھوکا مرنے دیا اور کس طرح اس نے کھلے عام ہندوستانیوں کے خلاف نفرت آمیز تبصرے کیے ۔ میں نے روزنامہ ٹورونٹو اسٹار میں شری پردکار کے لکھے گئے ایک مضمون میں پڑھا کہ بنگلور کے ایک کلب نے فخر سے اپنی ویب سائٹ پہ چرچل کا نام کلب کے رکن کے طور

Read more

کمزور کی قوت

انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلاء کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبۃ ( 15 میئ) کے نام ایک تپتے میدان کی واردات جہاں کچھ بھی نہیں تھا سوائے اڑتی ہوئی ریت کے۔ ایک طرف بھاری بھرکم فولادی ہاتھی کی مانند ہیئت اور دوسری طرف ایک اتنی چھوٹی ہستی جسے دور سے کیا نزدیک سے بھی گزرنے والا نظر انداز کر دے۔ ’میری طرف دیکھو۔ مجھے تم سے کچھ سوالات پوچھنے ہیں۔ تمہیں میری قوت کا اندازہ ہے،

Read more

رام سنگھ کی رام کہانی

  میں نے رام سنگھ سے ایک دو جملے 1947 کے فسادات کے آنکھوں دیکھے حال کے بارے میں کمیونٹی سنٹر میں ہم بزرگوں کی محفل میں سن رکھے تھے۔ جستجو پروان چڑھی کہ ایک غیر مسلم سے پوچھا جائے کہ اس نے کیا دیکھا اور اس پہ کیا بیتی۔ میں نے رام سنگھ سے اس کا فون نمبر لیا اور کچھ دنوں کے بعد اس کے گھر پہنچ گیا۔ رام سنگھ نے دروازہ کھولا تو میں اس کی بیٹھک

Read more

جب قوم کی قابل فخر بیٹی کا لباس سرعام تار تار کیا گیا!

ایک ہمہ جہت ہستی جو پیشہ ور وکیل تھیں، انسانی حقوق کی علم بردار بھی، تشدد کا شکار عورتوں اور اقلیتی افراد پہ توہین مذہب کے الزامات کے ہدف افراد کے لئے قانونی لڑائی لڑنے والی جنگجو، مظلوموں کو پناہ فراہم کرنے والی ہمدرد، آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے والی خاتون آہن، سری لنکا، ایران اور فلسطین کے بارے میں بین الاقومی اداروں کے لئے ان کی ذمہ داریاں، اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ

Read more

میرا زیور

’یہ کون ہے؟ اس کی آنکھوں میں کہیں بھی محبت کی جھلک نہیں ہے۔ یہ عجیب طرح میری طرف دیکھ رہا ہے، جیسے، جیسے۔ پتا نہیں کیا! لیکن وہ کبھی ادھر جاتا ہے ، کبھی ادھر۔ مجھے تو اس کی شکل و صورت سے خوف آ رہا ہے۔ آخر یہ ہے کون؟ ہو سکتا ہے کہ یہ میرا وہم ہی ہو، ڈر ڈر کے کانپنے سے بہتر ہے کہ اس سے پوچھ ہی لوں۔ ‘ ’کیا میں پوچھ سکتی ہوں

Read more

ضرور کچھ بات ہو گی

میں بے شرم ہوں! ’وجیہہ کو دیکھا تم نے۔ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہے۔ سنا ہے دفتر ہیں مردوں کے ساتھ میٹنگوں میں بیٹھتی ہے۔ پتا نہیں میٹنگ کے بہانے کیا کیا کرتی ہوگی۔ مجھے سب پتا ہے ان میٹینگوں کا ۔ نہ شرم نہ حیا! بس روز صبح سج سجا کے نکل جاتی ہے اور شام گئے واپس آتی ہے۔ ‘ بد چلن ہوں! ’یہ تو ایسی ہو گئی ہے جیسے اس کے لئے یہ اچھا ہی ہو

Read more

کیا وہ خود غرض تھا!

ماں کمرے میں داخل ہوتے ہی گھبرا جاتی ہے۔ گھپ اندھیرا، بھاری بھاری سی فضا، دیواروں سے ٹپکتی ہوئی وحشت جیسے اس کمرے میں کسی چڑیل یا بھوت نے ڈیرا ڈال دیا ہو۔ ’ایک مہینے سے تو کمرے میں بند ہے۔ تجھے کیا ہو گیا ہے بیٹا بتاتا کیوں نہیں؟ میں تیری ماں ہوں۔ مجھ سے کیوں چھپا رہا ہے تو؟‘ ’ماں میں یہاں سے جا نا چاہتا ہوں۔ میں یہاں نہیں رہ سکتا۔‘ ’تمہیں ایسی کیا تکلیف ہے، بتا

Read more

محبت میں سب جائز ہے!

رینا نے مبوتے کے ماتھے پہ لمبا بوسہ دیا، کافی دیر تک اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا۔ پھر تیزی سے کمرے سے باہر نکل آئی۔ کلینک سے باہر نکل کروہ تیز تیز خاموش قدموں سے بس اسٹاپ پہ آ کر کونے میں بیٹھ گئی۔ بسیں آ رہی تھیں، بس اسٹاپ پہ رکتیں اور پھر اگلے اسٹاپ کی طرف چلی جاتیں۔ ’اب میری زندگی کا اگلا اسٹاپ کون سا ہے؟ ‘ یہ سوچ کر اسے ایک جھرجھری

Read more

گورکن کی محبت

گورکن قبر کی کھدائی میں مصروف تھا۔ گیلی مٹی اور سردی نے اس کے کام کو اور مشکل کر دیا تھا۔ یخ بستہ ہوا کے باوجود اس کے ماتھے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے رکتا اور پھر لمبا سانس لے کر کدال اٹھا لیتا۔ تیس پینتیس لوگ جنازے کے ساتھ بہت بے چینی سے قبر کے تیار ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس ہجوم میں چوبیس سالہ رضوانہ ہلکے لال رنگ کے قمیض شلوار

Read more

سید سبط حسن: قوم نے اس عظیم مفکر کو کیوں بھلا دیا!

بعض لوگ زندگی سے بڑے ہوتے ہیں اور بہت کچھ کر جاتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو ادیب بھی تھا، صحافی بھی اور سیاسی میدان میں عملی طور پہ شامل بھی، مظلوموں اور مفلسوں کا ہمدرد، ظلم اور تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے والا انسان دوست، استحصالی نظام کا تجزیہ کرنے والا مفکر، متبادل نظام پہ روشنی ڈالنے والا ریفارمر، ایک سادہ زندگی گزارنے والا درویش؛ کہنے کو وہ صرف ایک ذات تھی لیکن وہ اپنے اندر ان سب

Read more

حرف ”ہ“ کو مٹانے والی لڑکی

آج صبح بائیس سالہ خالدہ کو ای میل آئی کہ وہ سالانہ امتحانات میں نہیں بیٹھ سکتی۔ اس نے ای میل کو دوبارہ پڑھا، پھر عینک لگا کر تیسری بار۔ پھر وہ بڑبڑائی۔ ’خالدہ، تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا۔ صاف صاف تو لکھا ہے کہ میں امتحانات میں نہیں بیٹھ سکتی۔ مگر کیوں؟ ‘ پھر اس نے عابدہ کو فون کیا۔ عابدہ کے فون کی لاین مصروف تھی۔ ’یہ کمبخت تو کبھی نہیں فون اٹھاتی۔ اب کس سے پوچھوں! میری

Read more

پارکنسن کی بیماری

چند روز پہلے میری ملاقات ڈاکٹر عبدالقیوم رانا سے ہوئی تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں پارکنسن کی بیماری کے بارے میں ایک مضمون لکھوں اور شائع کروں تاکہ عام لوگوں کو اس مرض کے بارے میں آگہی ہو۔ اس طرح وہ اس مرض میں مبتلا مریضوں کی مشکلات کو سمجھ سکیں گے اور خود بھی اس بیماری کی علامات سے واقف ہو جائیں گے۔ میں نے اس درویش صفات معالج سے عرض کیا کہ طب کی سائنس

Read more

مبارک بادیں

کوئی ساٹھ سال کے لگ بھگ کی عمر کا عمار چغتائی جو اپنی صحت کی وجہ سے دس سال چھوٹا لگتا تھا مٹھائی کی دکان میں داخل ہوا اور حسب معمول چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ اس کے دل میں اس دکان کی صفائی اور قرینے سے رکھی ہوئی مٹھائیاں دیکھ کر ایک عجب گدگدی سی ہونے لگتی۔

پھر اس نے حجاب میں ملبوس لڑکی کی طرف دیکھا۔ ’ایک ایک کلو کے پانچ ڈبے مکس مٹھائیوں کے بنا دیں، کھوئے اور بیسن کی برفی زیادہ ڈالیں۔ ‘

Read more

رام نام ست ہے: ایک سچے واقعہ پہ مبنی افسانہ

حقے کے دھوئیں نے اور باہر سے آتی ہوئی لو نے اس گول خوبصورت کمرے کی حدت میں اضافہ کر دیا تھا۔ ابھی حیدر علی نے جو کچھ بھی کہا، اس سوال سے دو تین افراد انتہائی پریشان ہو گئے تھے۔ حیدر علی کے سامنے بیٹھا ہوئے کرتے اور پتلون میں ملبوس قدرے فربہ نوجوان بولا۔ مانا کہ وہ ہمارے ساتھ رہے، کھائے پئے لیکن ہمارا دھرم تو اس سے مختلف ہے پھر ہم کیسے لال کا اس کے دھرم

Read more

میرے جسم پہ یہ لکیریں

مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب میں ایک مجسم تھی ان لکیروں سے پاک تھی۔ یہ بہت پرانی بات، کروڑوں سال پرانی بات جب میرے بسنے والے غاروں میں رہتے، صحراؤں میں پھرتے، پہاڑوں کی چٹانوں اور وادیوں کی گہرائیوں میں رزق ڈھونڈتے لیکن انہوں نے میرے جسم پہ کبھی لکیریں نہیں کھینچی، مجھے کبھی نہیں بانٹا۔ کروڑوں سالوں میں میرے ان باسیوں کے کچھ طور طریقے بدل گئے لیکن انہوں نے مجھے ایک اکائی جانا۔ جب کسی

Read more

کیا آپ اس غلام بچے کو جانتے ہیں؟

’ تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے‘ کے سلسلے کا تیسرا مضمون ایک عیسائی بچے کی کہانی جس کی وجہ سے پاکستان کے بندھوا مزدوروں (بونڈڈ لیبر) کی حالت زار ملک کے اندر اور ملک کے باہر توجہ کا مرکز بنی۔ اقبال مسیح 1983 میں پاکستان کے شہر پنجاب میں لاہور سے قریب ایک تجارتی شہر مریدکے میں ایک غریب کیتھولک عیسائی خاندان میں پیدا ہوا۔ چار سال کی عمر میں اس بچے کو اس کے خاندان نے قرضوں

Read more

تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے (2)

1979 میں ایک پاکستانی سائنسدان نے طبیعیات کا نوبل انعام جیتا۔ ان کی زندگی کا اہم ترین کام ذراتی طبیعیات کے ایک نظریے کی وضاحت کی کلیدی تحقیق تھی جو آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی یہ تحقیق 2012 میں ہگز بوسن (Higgs boson) ذرے کی دریافت میں پیش خیمہ ثابت ہؤئی۔ یہ ایک بہت اہم بنیادی دریافت تھی کیوں کہ یہ ذرہ دیگر تمام ذرات کو مادہ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے اس لئے اس ذرے

Read more

بت اور بت

بنگلور ائرپورٹ پر تیس سالہ عالیہ نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پہ پہنچ کر پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن اسے صرف طارق کی پشت نظر آ رہی تھی۔ وہ دیکھتی رہی کہ شاید طارق مڑ کر اسے دیکھے بھری آنکھوں سے کہ پتا نہیں اب کب اور کہاں ملیں گے۔ لیکن طارق ایسے ہی کھڑا رہا ایک بت کی طرح۔ ایک بھاری نسوانی آواز نے عالیہ کو چونکا دیا۔ ’میڈم، سامان اور بیگ بیلٹ پہ رکھیں۔ ‘ تھوڑی دیر بعد عالیہ

Read more

میرا نام ریچل کوری ہے

انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلاء کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبۃ ( 15 مئی) کے نام 11 مئی کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں الجزیرہ چینل کی صحافی شیریں ابو عاقلۃ کی ہلاکت کے نام ریچل ایلین کوری ( 10 اپریل 1979۔ 16 مارچ 2003 ) ایک امریکی امن کارکن اور ڈائری لکھاری تھی جو فلسطینی حامی گروپ انٹرنیشنل سالیڈیریٹی موومنٹ (آئی ایس ایم) کی رکن تھی۔ اسے اسرائیل کی فوج کے بکتر بند بلڈوزر نے دوسرے

Read more

یوکرین اور دو انسان

یہ ہمیشہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جنگ کا پہلا حملہ سچائی پہ ہوتا ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال امریکہ میں ایک پندرہ سالہ کویتی بچی نیرہ کی عراقی فوج کے خلاف جھوٹی گواہی تھی جس نے گواہی کے دوران رو کر یہ بتایا کہ اس نے عراقی فوجیوں کو اسپتال میں بچوں کو انکیوبیٹرز سے نکالتے ہوئے دیکھا، انہوں نے انکیوبیٹرز چوری کر لئے اور بچوں کو مرنے دیا۔ بعد میں پتا چلا کہ جنگ کے دوران نیرة

Read more

معراج محمد خان: تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے

یہ ایوب خان کے مارشل لاء کا ابتدائی دور تھا۔ سندھ مسلم کالج کے طلبا سندھ مدرسہ (ملحقہ سکول) میں ہڑتال کروانے کے لئے آتے تو سکول کی گھنٹی بج جاتی۔ میں بھی کچھ سکول کے طلبا کے ساتھ ہجوم میں شامل ہونے کے لئے باہر نکل جاتا۔ کالج کا ایک نوجوان ہجوم سے خطاب کرتا، تقریر ایسی کہ پورے مجمع کو سانپ سونگھ جاتا، جذبات سے بھری ہوئی اور الفاظ کا چن چن کر انتخاب۔ اس کے بعد ہجوم

Read more

گدھ اور گڑیا: صفیہ بی بی ریپ کیس

وہ ایک ماٹی کی گڑیا تھی، عام گڑیوں سے کئی لحاظ سے بہت مختلف۔ اس کے پاس تن، ذہن، اور روح سب تھا لیکن ایک چیز کی کمی تھی۔ تیرہ سال کی اس ماٹی کی گڑیا سے مشقت کروانا ضروری تھی۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جاکر اپنے ننھے منے نازک ہاتھوں سے محنت کرنے لگی۔ حواس خمسہ میں ایک حس کی کمی کے باعث گڑیا کی چھٹی حس بہت تیز ہو گئی تھی۔ یہ چھٹی حس ہی اکثر اس

Read more

گھاٹے کا سودا

’اب بتاؤ کیا خاص بات کرنی ہے جس کے لئے تم نے مجھے بلایا ہے۔ ‘ سونیا نے دھوپ کی ہلکی کرنوں سے چمکتی ہوئی ثمرہ کی بڑی بڑی بالیوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’سونیا کیا بتاؤں، میں اس کو چھوڑ رہی ہوں۔ ‘ ثمرہ کا سارہ بوجھ ایک دم اتر گیا تھا۔ ’کیا یار؟ سب خیریت ہے نا!‘ ’سونیا مجھے تو سلیم میں کوئی خاص اچھائی نظر نہیں آتی۔ یہ تو خود بس ایسا ویسا ہی ہے اور مجھے

Read more

کیا آپ ایک حقیقی Slumdog Millionaire کو جانتے ہیں؟

  کچھ سال پہلے ایک بھارتی فلم Slumdog Millionaire نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی اور کئی بین الاقوامی انعامات حاصل کیے لیکن یہ ایک فرضی کہانی تھی۔ یہ تحریر آپ کو ایک حقیقی Slumdog Millionaire کے بارے میں بتائے گی جس نے غربت و افلاس کی دیواروں کو پار کر کے نہ صرف کروڑوں روپے کمائے بلکہ زندگی کے کئی اور شعبوں میں بھی خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں۔ یوں تو ہر زندگی ایک کہانی ہوتی ہے لیکن

Read more

کیا چیز ہے یار!

’اؤے! دیکھ، کیسے دوڑ رہی ہے یہ فٹبال کی چمپئن‘ ۔ ایک آواز آئی۔ ’واہ بھئی کیا چیز ہے! ‘ زور دے کر کسی نے کہا۔ ’ہاں کیا چیز ہے یار!‘ یہ تیسری آواز تھی۔ معمولی شکل و صورت کی پچیس سالہ سارہ فٹبال کے پیچھے بھاگنے کے بجائے لڑکوں کی طرف چل دی۔ ’ابے وہ تو ہماری طرف آ رہی ہے! ‘ ’شیرنی کی طرح ہمیں گھور رہی ہے۔ ‘ ’بس اب لائن مار دے اس چیز کو یار۔‘

Read more

اندھے بہرے گونگے

میں ایک گاؤں میں رہتی ہوں یہ میرا گاؤں، میری بہشت نہر میں بہتا ہوا شفاف پانی ہر سو لہلہاتے ہوئے کھیت مست مست چرندے پرندے کوئل کی کوک اور مرغ کی بانگ جانوروں کے گلے میں بندھی ہوئی گھنٹیوں کا ساز شام کو دور سے آتی ہوئی کانوں میں رس گھولتی بانسری کی آواز پہلی بارش پہ مٹی سے اٹھنے والی مدہوش کردینے والی خوشبو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ بڑی بڑی خوشیاں پورا گاؤں بس ایک گھر ویہڑوں کی

Read more

میں دوغلی ہوں!

میں اس کے پاس بیٹھنا چاہتی ہوں، میں اس سے دور بھی رہنا چاہتی ہوں۔ میں اس کو چھونا چاہتی ہوں، میں اس سے فاصلہ بھی رکھنا چاہتی ہوں۔ میں اس کی طرف جاتی ہوں، کبھی میں واپس پلٹ آتی ہوں۔ میں اس کی باتیں سننا چاہتی ہوں مگر وہ بات چیت شروع کرتا ہے تو میں اس کو مختصر کر دیتی ہوں۔ میں گھر سے میں یہاں نہیں آنا چاہتی اور یہاں سے میں گھر واپس نہیں جانا چاہتی۔

Read more

دو آنسو

سکندر نے اسکرین پر دیکھا۔ ابھی ٹرین آنے میں چار منٹ باقی تھے۔ ’ہیلو۔‘ پیچھے سے نسوانی آواز آئی۔ سکندر نے مڑ کر دکھا۔ یہ کوئی سفید کپڑوں میں ملبوس چالیس سال کی عورت ہوگی ہاتھ میں اس کے بڑا سا بیگ تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک دو پہیوں والے چھوٹے سے سوٹ کیس کا ہینڈل۔ سکندر نے مسکرا کر جواب دیا ’ہیلو۔‘ لیکن ایک دم چونک گیا جب اس عورت کے چہرے پر دو آنسو بہتے دیکھے۔ ’مجھے

Read more

سینگار نوناری کا جرم کیا تھا؟

چھبّیس جولائی سنہ دو ہزار اکیس کی نصیر آباد، سندھ کی رات کتنی اندھیری اور خاموش تھی لیکن اتنی ہی پر سکون بھی۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ اور تھکن کے بعد سینگار نوناری اس کی بیوی اوربچے خوابوں کی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے۔ اچانک ایسے لگا کہ صور پھونک دیا گیا ہے، کوئی سفید کپڑوں میں ملبوس خلائی مخلوق دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو چکی تھی، چیزوں کو ادھر ادھر پھینک رہی تھی اور گھر کے پورے

Read more

داعش کی بیٹی

لیلیٰ کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ٹیلیفون اس کے ہاتھ سے گرا گرا جا رہا تھا۔ ’ہیلو۔‘ یہ تو جانی پہچانی آواز تھی۔ ’ہیلو، ہیلو!‘ ’میں ہوں لیلیٰ۔‘ آنسو فون پہ ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ ’ماں ماں میں بچ گئی ہوں میں زندہ ہوں، فوج نے ہمیں آزاد۔‘ ’ لیلیٰ۔ لیلیٰ۔ میری بچی۔ تو زندہ ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے تو زندہ ہے۔ ہم تو بالکل نا امید ہو گئے تھے۔ ‘ ماں کی سانس اکھڑ رہی

Read more

تم مر کیوں نہیں جاتی!

بال بکھرے ہوئے، خستہ کپڑوں میں ملبوس باون سالہ شہزاد کمرے میں داخل ہوا۔ میشا کا ذہن کلبلایا۔ تین زندگیاں! نہیں دو زندگیاں اور ایک! ایک کیا؟ پھر پچپن سالہ چست و چوکس میشا نے نے شہزاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ ’کل پورا ایک سال ہو جائے گا۔ ایک سال سے میں اور تم باری باری اس کے سرہانے بیٹھے ہوئے ہیں! ‘ ’ہوں۔ ‘ پھر شہزاد کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ آئی، پیلے چہرے میں دھنسی

Read more

خاموش دستک

اس نے نہ جانے کتنے عرصے کے بعد آج سگریٹ سلگایا تھا۔ سگریٹ کی ڈبیا تو اس کی لائبریری میں دو سال سے پڑی ہوئی تھی ایک دراز کے اندر۔ کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ اسے باہر نکالے لیکن اس سوچ کو دھکا دے کر ہمیشہ ذہن سے نکال دیا کرتا تھا۔ لیکن آج کا دن مختلف تھا گرمی عروج پر تھی ہوا بھی خلاف معمول رکی ہوئی تھی جیسے کسی کے آنے کی منتظر ہو۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی ایک اداس خاموشی۔ اس کی خاموشی اور تنہائی کے ساتھ پکی دوستی تھی لیکن یہ آج کی خاموشی مختلف تھی کچھ عجیب سی، ایسے کچھ ہونے والا تھا۔

Read more

جب ریما نے محفل میلاد لوٹ لی

’ریما یہ میرے سوٹ تو دیکھو، میلاد کے لئے سلوائے ہیں۔ کم از کم تین چار جگہ تو جانا ہی ہے۔ ‘ پچیس سالہ ہاجرہ نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔ ’ہاں بہت اچھے ہیں۔ ‘ ریما نے انجانے میں اپنے پہنے ہوئے آسمانی رنگ کے سوٹ کو دوپٹے سے چھپاتے ہوئے کہا۔ ’پتا ہے ریما کتنے میں آئے ہیں۔ یہ تین تو پانچ پانچ ہزار کے ہیں۔ ایک سات کا ہے۔ اور یہ دیکھو کتنا خوبصورت، کام دیکھو کہ نظریں

Read more

متوسط طبقے کا لڑکا

انٹرویو انگریزی میں جاری تھا۔ مینجر کا دفتر بہت وسیع تھا، میز اور دیواریں خوبصورت تاریخی فن پاروں سے سجی ہوئی تھی تھی۔ کوئی آدھ گھنٹے سے مینجر ٹیکنیکل سوالات پوچھ رہا تھا۔ جب اسے اسد کی صلاحیت پر اعتماد ہو گیا تو دوسرے سوالات کی طرف توجہ دی۔ ادھر اسد بھی منیجر کی ذہانت اور علم سے کافی متاثر تھا اور منیجر کا چہرہ اسد کو کتنا ہشاش بشاش اور صحت مند دکھائی دے رہا تھا۔ ’میں تمہاری تکنیکی

Read more

امریکہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف جنگ

امریکہ سرمایہ دارانہ نظام کا پاسبان ہے۔ اس نظام کے تحت عوام کو مراعات فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں بلکہ اس کی ذمے داری ان مراعات کو حاصل کرنے کے لئے مواقع فراہم کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں معیار زندگی کو پیسوں اور اشیا کی مقدار سے ناپا جاتا ہے اور زندگی کی کوالٹی کے متعلق ضروریات مثلاً پبلک ٹرانسپورٹ، علاج معالجہ کی سروس، امن و امان، غربت کے خاتمے کی ترجیحات کم ہوتی ہیں۔

Read more

کاغذ سے کاغذ تک

ٖ سیما نے دونوں کاغذ میز پہ رکھ دیے ساتھ ساتھ لیکن ان کے درمیان دس سال کا سفر تھا ایک گھر سے دوسرے گھر کا سفر، جانے پہچانے چہروں سے انجانے چہروں کے درمیان ہونے کا سفر، محبت کے اظہار سے نفرت کے آشکار کا سفر۔ سیما ان پہ لکھے ہوئے الفاظ کی طاقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ایک کاغذ نے اسے دس سال پہلے زاہد سے باندھ دیا اس کی رضامندی کے بغیر، ماں باپ کے

Read more

عراقی بچّے کا سایہ اور امریکی فوجی

گندے اور نا زیبا کپڑوں میں ملبوس پچیس سالہ انٹونی پاگلوں کی طرح بھاگ رہا تھا۔ ’یہ تو وہی ہے، اس نے یہاں پر بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔‘ پھر اس کو ایسا لگا کہ اچانک ایک سایہ اس کے سامنے آ گیا دھندلا سا مگر اس کے نقش و نگار جانے پہچانے۔ انٹونی چیخ مار کر رینا کے ساتھ چمٹ گیا۔ ’رانی رانی، کس طرح اس سے جان چھڑاؤں! یہ ہر جگہ میرے ساتھ ہے مجھے یہ ایک بار مار کیوں نہیں دیتا تاکہ میں اس اذیت ناک زندگی سے نجات پا لوں۔‘

میک اپ سے عاری سادہ طبیعت کی حامل تیس سالہ رینا نے انٹونی کو الگ کرتے ہوئے کہا۔ ’انٹونی میں تمہاری پوری مدد کروں گی، تمہیں اس سے فائدہ پہنچے گا مجھے خود پہ اور تم پہ پورا اعتماد ہے۔‘

Read more

دو راستے

ماں اور بڑے بھائی دونوں کی یہی سوچ تھی کہ ضمیر کا دماغ خراب ہو چکا تھا لیکن وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔ باپ کی سوچ کی تبدیلی کو کسی طرح انہوں نے برداشت کر لیا تھا لیکن وہ ضمیر کو صحیح راستے پہ واپس لا کر رہیں گے۔ پچیس سالہ ضمیر نجانے کتنی کتابیں مذہب کے بارے میں پڑھ چکا تھا اور اتنے ہی لیکچر انٹرنیٹ پر سن چکا تھا۔ اس کی ماں اور بڑے بھائی دونوں کو

Read more

ایک پتھر

انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام پچپن سالہ وجیہہ الشکل حارث نے اپنے اوزاروں کو دیکھا پھر اس پہلی اینٹ کو جس سے اس نے اپنے مکان کے توڑنے کے عمل کو شروع کرنا تھا۔ اس نے ہاجرہ کو اشارہ کیا کہ وہ وہاں سے چلی جائے مگر وہ اس سے آ کر لپٹ گئی۔ حارث کی آنکھوں کا جیسے بند ٹوٹ گیا تھا لیکن ہاجرہ

Read more

تین مورتیاں

میں دن بھر کانفرنس میں شرکت کے بعد بلڈنگ سے باہر نکلا تاکہ تھوڑی دیر کے لئے اس اجنبی شہر کی پیدل گھوم پھر کر سیر کروں۔ ابھی کچھ ہی دور گیا تھا کہ دور سے ایک سفید رنگ کا مندر نظر آیا۔ اس کا اٹھتا ہوا چمکدار کلسا آسمان کی طرف اشارہ کر رہا تھا جیسے بھگوان سے ہم کلام ہو۔ شاید یہی وہ تین مورتیوں والا مندر تھا جسے دیکھنے کا مجھے اشتیاق تھا۔

Read more

کیا سوویت یونین نے واقعی افغانستان پہ قبضہ کیا تھا؟

نازی جرمن وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ جھوٹ کو اتنا دہراؤ کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں۔ امریکی سیاہ فام باشندوں کی نسلی امتیاز کے خلاف جد و جہد کے رہنما میلکم ایکس نے میڈیا کے بارے میں میں اپنے تاثرات اس طرح بیان کیے تھے۔ ”اگر آپ محتاط نہیں ہیں تو اخبار آپ کے دلوں کو مظلوموں کے بارے میں نفرت اور ظالم کے لئے محبت سے بھر دے گا“ ۔ جب اسرائیلی فوج کو لبنان سے نکلنا

Read more

خوش نصیب پیغام رساں

’عمار، تم اس کام کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہو جو میں تمہیں سونپنے والا ہوں۔‘ پلاٹون کے کمانڈر نے عمار کو اپنی سیاہ اور گہری آنکھوں سے گھورتے ہوئے کہا۔ ’جی سر، آپ حکم کریں۔‘ تیس سالہ عمار نے برجستہ جواب دیا۔ ’تمہیں سالار کے گھر جانا ہے خبر دینے کے لئے۔ تم فجر کے وقت صبح نکل جانا۔ تمہارے لئے جیپ کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ اور کل سہ پہر پانچ بجے تک واپس پہنچ جانا۔

Read more

جب امریکہ کے اصلی باشندوں کو چیچک کا تحفہ دیا گیا

واقعہ: مغربی پنسلوانیا، امریکہ میں اصلی باشندوں نے جنہیں قابض انگریز ریڈ انڈین کہتے تھے فورٹ پٹ کا محاصرہ کر لیا تھا۔ یہ کہانی اس واقعے سے منسوب ہے۔

ناشتے کے بعد دبلا پتلا ولیم نیلسن کپڑے بدل رہا تھا کہ اس کے ملازم نے آ کر اطلاع دی۔ سر! جنرل ایمرہرسٹ کا ایلچی آیا ہے۔
ہوں! ان کو ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ اور آتش دان جلاؤ، میں پانچ منٹ میں آتا ہوں۔

Read more

میں نے رشتے سے کیوں انکار کیا؟

بیس سال کی عمر ہونے کے باوجود مجھے خود پتا نہیں تھا کہ حقیقت میرا روپ تھی یا بہروپ!
جب میں پہلی بار حیات سے ملی تھی تو بغیر میک اپ کیے سادہ کپڑوں میں ملبوس تھی اور حیات کو پسند آ گئی۔ لیکن کیا میں نے اس کو ایک دھوکا دیا تھا؟

پتا نہیں کیوں لڑکیاں بچتی ہی نہیں تھیں ہمارے گھر میں، کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو جاتیں کم عمری میں ہی۔ میری عمر درازی کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے گئے، دعائیں، منتیں، نیازیں، ان کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اور ان کے ساتھ ساتھ میری ضدیں بڑھتی رہیں اور پوری بھی ہوتی رہیں۔ آخر لاڈلی جو تھی سب کی اور اکلوتی لڑکی پورے ددھیال میں۔ ماموں جان نے کئی مرتبہ کہا بھی کہ اس کو پرائے گھر جانا ہے، کوئی سسرال والے اتنے ناز و نخرے برداشت نہیں کر سکتے لیکن سب نے ان کی سنی ان سنی کر دی۔

Read more

جب شنکر کو دوست پر گولی چلانے کا حکم ملا

آمنے سامنے فوجی ڈٹے ہوئے تھے لیکن کچھ عرصے سے ایک دوسرے پر فائرنگ بند ہو چکی تھی۔ پچیس سالہ گبرو جوان شنکر دور بین لگائے دشمن کی نقل و حرکت دیکھتا رہتا۔ اب تو روز دشمن کا ایک ہی معمول تھا۔ ڈیوٹی کا بدلنا، کھانا پکانا اور مورچوں میں کھانا، چائے پکانا، سامان کی سپلائی کو ٹھکانے لگانا، کوڑا کرکٹ جمع کرنا۔ شنکر روز یہ دیکھ دیکھ کر کافی بور ہو چکا تھا۔ اس کے اپنی طرف بھی اسی

Read more

جب یوسف اپنی محبوبہ سے ملنے آیا

’میں تمہارے حسن کا اسیر ہوں اس لیے میں سیکڑوں میل کا سفر کر کے تمہارے پاس آیا ہوں۔‘ یوسف بہت بے قراری سے اسے پکار رہا تھا۔ ’لیکن مجھے تم لوگوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔‘ یوسف کو محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے کان میں سرگوشی کر رہا ہے۔ ’لیکن کیوں؟ یہاں تو کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تم یہاں محفوظ ہو اور مجھے یقین ہے کہ تم یہاں ہمیشہ ایسے ہی رہو گی۔ بھلا اتنی دور

Read more

قبرستان کا بادشاہ

فیض کے ایک ہاتھ میں پانی سے بھری ہوئی بالٹی تھی۔ فیض کے علاوہ اور بچے بھی وہاں تھے جو پھٹے ہوئے کپڑوں میں ننگے پاؤں چل رہے تھے۔ جیسے ہی کوئی مرد یا عورت قبرستان میں پھول چڑھانے کے لیے یا فاتحہ پڑھنے کے لیے آتا یا آتی تو یہ بچے پیچھے پڑ جاتے کہ وہ قبر کی صفائی کریں گے اور پانی ڈالیں گے۔ دو تین بار عمر کو بھی دوسرے بچوں کے ساتھ کچھ روپے مل گئے۔ عمر کو یہ کام اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن زندگی میں پہلی بار اس نے کچھ روپے کمائے تھے۔ ان روپوں کو چھو کر اسے ایک عجیب سی تسکین مل رہی تھی جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر بار بار ان روپوں کو چھو رہا تھا۔ ایک عورت نے آ کر بچوں میں چنے بھی بانٹے اور ایک دوسری عورت نے دو دو بسکٹ سب کو دیے۔ آج نہ جانے کتنے عرصہ بعد عمر نے بسکٹ کھائے تھے۔

Read more

آئندہ دلربا سے ملنے آنا

بیس سالہ خوبرو عارف کیٔ مرتبہ جنت بی بی سے مل چکا تھا بلکہ ایک دو بار اس کے گھر میں رات بھی گزارچکا تھا۔ آج پھر وہ جنت بی بی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا لیکن ایک بت کی طرح ساکت۔ اس کی زبان نے جذبات کی کشمکش کی وجہ سے ہلنے سے انکار کر دیا تھا۔ جنت بی بی سے ا س طرح کی بات کرنا عارف کے لئے شاید زندگی کا مشکل ترین کام تھا۔ عارف کو

Read more

میری دوسری محبت

مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ شام کی پھوار نے مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو سے ہوا کو معطر کر دیا تھا اور درختوں کے پتے ہلکے ہلکے سرسرا رہے تھے۔ شاید وہ آپس میں سرگوشی کر رہے تھے میرے اور ابراہیم کے بارے میں۔ جب میں اس سے پہلی بار ملی تھی، اس کے شائستہ اطوار نے، اس کے چہرے کی دلکش مسکراہٹ نے، اس کی شیریں زباں نے، اور جب اس نے میرے اصرار پر اپنے کہے

Read more

جب حور بی بی کو مساوات کا دورہ پڑا

’ابھی تو صرف بارہ بجے ہیں!‘ پچپن سالہ حوربی بی نے اپنی موٹی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھ کر ایک لمبا سانس لیا اور پھر ساتھ بیٹھی ہوئی عورت کو دیکھا۔ ’یہی میں سوچ رہی ہوں کہ ابھی تو بارہ ہی بجے ہیں اورجلسہ شام میں ہے۔ ہمیں اتنی جلدی لا کر کیوں بٹھا دیا انہوں نے!‘ یہ عورت کھوئی کھوئی سی لگ رہی تھی۔ حوربی بی نے گردن موڑ کر ساتھ بیٹھی ہوئی عورت کا جائزہ لیا۔ ’تمہارا

Read more

زیر زمین (فیض احمد فیض کی یاد میں )

نیوشا ایک عام عورت تھی اپنے لوگوں میں رچی بسی سی۔ شاعرہ تھی تو الفاظ کے بہاؤ میں بہت کچھ کہہ جاتی۔ وہ لکھتی رہتی، لکھتی رہتی جب تک کہ کوئی آواز، کوئی تیز روشنی کی کرن اسے لا شعور کی دنیا سے شعور کی دنیا میں نہ دھکیل دے۔ پھر وہ حیران ہو جاتی کہ اس نے کتنا سارا لکھ دیا ہے، کئی صفحوں کے سینے چاک کر دیے ہیں۔ پتا نہیں کون کون سے خیالات جو تہہ در

Read more

جامعات: پہرے ہی پہرے

اگر کراچی جاؤں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ جامعہ کراچی کا چکر نہ لگایا جائے۔ لیکن جامعہ کے باہر تو پہرے لگے ہوئے تھے۔ اندر جانے کے لئے کوئی کاغذی جواز ہونا چاہیے یا جامعہ کا کوئی ملازم ساتھ لے جائے جب کہ ہمارے پاس یا ساتھ ایسا کچھ نہیں تھا۔ اسی لئے باہر ہی سے جامعہ کی عمارات، نیم و املی کے درخت اور ان کے آس پاس اڑتی ہوئی دھول کو دور سے سلام کر کے لوٹنا پڑا۔ بہت افسوس کے ساتھ۔ آخر آٹھ سال گزارے ہیں وہاں تعلیم اور تدریس کے سلسلے میں۔ اس دوران جامعہ نے میری ذہنی تربیت اور فکری نشو و نما میں اہم کردار ادا کیا۔ اور یوں میں نے ایک نوجوان مرد سے با شعور انسان ہونے کا سفر طے کیا۔

Read more

تخلیقی اقلیت کے خواب اور مسائل پر تبصرہ

جب کوئی شخص ”تخلیقی اقلیت“ کے یہ دو الفاظ سنتا ہے تو اس کے دماغ میں بہت سے سوالات پیدا ہوسکتے ہیں : تخلیقی صلاحیتں کیا ہیں؟ تخلیقی عمل کیا ہے؟ کیوں کچھ لوگ تخلیقی ہوتے ہیں اور ان کی مشترکہ خصوصیات کیا ہیں؟ کیا وہ اپنے خاندانوں اور معاشروں کی روایات اور اقدار کے ساتھ تنازعات میں نہیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا وہ مسائل کو حل کرنے کے قابل ہیں؟ جب میں نے خالد سہیل کتاب کی

Read more

عشق کے چالیس اصول: ناول پر ایک تاثر

کہانی کے اندر ایک اور کہانی کو بیان کرنا ہر لکھاری کے بس کی بات نہیں، اور یہی نہیں بلکہ ان دونوں کہانیوں کے حسیں امتزاج کی مثال عشق کے چالیس اصول The Forty Rules of Love نامی ناول ہے۔

ترکی نزاد مصنفہ الف شفق کے اس ناول کا مرکزی کردار ایک شادی شدہ امریکی عورت ایلا اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ خوش حال زندگی گزار رہی ہے، لیکن اس کے اندر محبت سے عاری خلا ہے۔ وہ ایک پبلشر کے لئے ناول ’شگفتہ توہین‘ Sweet Blasphemy کو تنقیدی ذہن کے ساتھ پڑھ رہی ہے، تا کہ وہ اسے اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کرے کہ یہ ناول شائع کرنے کے قابل ہے کہ نہیں۔ شگفتہ توہین کتاب شمس تبریزی کے بارے میں ایک ناول ہے، جو ایک خانہ بدوش درویش، عالم اور دانشور ہے اور چند مافوق الفطرت (supernatural) خصوصیات کا حامل ہے۔

Read more

کھلی اور بند آنکھوں کے خواب

عام زبان میں خواب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو انسان سوتے ہوئے دیکھتا ہے اور دوسرے وہ جو کھلی آنکھ سے دیکھتا ہے یعنی ان کو سوچتا ہے۔ اکثر سوچے جانے والے خواب ہی نیند میں دیکھنے والے خوابوں کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور اس کے بر عکس کبھی کبھی بند آنکھوں والے خواب کھلی آنکھوں والے خواب کو جنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔ نفسیات کی تکنیکی زبان میں خواب صرف اسی کو کہتے ہیں جو نیند کی حالت میں آئے۔

بند آنکھوں والے خوابوں پر انسان کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ اسی لئے وہ کبھی اس کو آسمان سے اوپر بلندیوں میں لے جاتے ہیں اور کبھی پست ترین وادیوں میں گرا دیتے ہیں۔ لیکن کھلی آنکھ والے خواب زیادہ تر انسان کی اپنی بلندی، کامیابی یا انا کی پذیرائی کے بارے میں ہوتے ہیں۔

Read more