کیا میں ایک شخص ہوں؟

”اگر میں شخص نہیں ہوں تو کیا ہوں؟ “آٹھ سالہ منیر کے ذہن میں ایسے سوالات نے مستقل ڈیرا ڈالا ہوا تھا اور جب وہ سارے دن کی تھکن کے ساتھ بستر پر لیٹتا تو یہ الجھنیں اس کو نیند کی آغوش میں جانے سے روکنے کی کوشش کرتیں۔ لیکن آج اسے اتفاقاً اس سوال کا جواب مل گیا تھا کہ وہ اگر ایک شخص نہیں ہے تو کون ہے۔

Read more

پنجرہ

1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام۔دو دن سے قلقیلیہ میں کرفیو عائد تھا۔ عبدالعزیز نے دوسرے روز شام کو کلثوم اور دونوں بچّوں کے ساتھ کھانا کھایا اور سوچ میں پڑ گیا کہ چڑیا گھر میں اس کے دوسرے بچّے دو دن سے بھوک پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے۔ اس کو ہر صورت میں چڑیا گھر پہنچنا ہے۔ اگلی صبح پو پھوٹنے سے پہلے ہی کلثوم کو بتاے ٔ بغیر وہ گھر سے نکل گیا۔ اس کو پتہ تھا کہ اگر کسی فوجی نے دیکھ لیا تواس کو وہیں گولی مار دی جاے ٔگی۔ لیکن آج وہ چڑیا گھر ضرور جائے ٔ گا پچھلی گلیوں سے چھپتے چھپاتے۔

Read more

جنگل کی ادی واس دیوی کالارتری کیوں نہ بن سکی؟

آج صبح تک میں نیلم تھی اور میں روز جنگل کی دیوی کالارتری سے ہم ادیواسیؤں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے پوجا کرتی تھی۔ پھر میں خود کالارتری بن گئی، درگا کا ساتواں اور پرتشدّد روپ۔ لیکن کیا میں اس دیوی کا منصب نبھا سکتی ہوں؟ مجھے وہ دن کبھی نہیں بھول…

Read more

چترال کی ٹافی

دلشاد کو اپنی ماں اور بھائی بہن بے انتہا یاد آ رہے تھے۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنی ماں سے لپٹ کر خوب روئے اور اتنا روئے کہ یہ دنیا اس کے آنسوؤں میں ہمیشہ کے لئے بہ جائے۔ گیٹ بند ہونے کی آواز نے اس کے انگ انگ کو ہلا…

Read more

پروانہ

پچھلے ہفتے جب شمع کی میت کو مسجد لے جایا گیا تو عقیلہ سے نہ رہا گیا۔ وہ بے اختیار بھاگ کر مسجد پہنچ گئی۔ بال بکھرے ہوئے اور سر سے دوپٹّہ سِرکا ہوا۔ اسے دیکھ کر مسجد کا امام مولوی امین الدّین گھبرا گیا۔ عقیلہ نے بڑھ کر امین الدّین کا گریبان پکڑ لیا۔ ’میری بچّی، میری شمع کے قاتل تم ہو! اگر تم یہ کلینک بننے دیتے تو شمع آج زندہ ہوتی، وہ ٹھیک ہو چکی ہوتی۔ ‘

اب وہی عقیلہ یہ تہیّہ کر رہی تھی کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ ہفتے میں دو بار امین الدّین کو اچھا کھانا بنا کر بھیجے گی۔

Read more

تیل کی قیمت

جراہ جلوس میں پیچھے کی طرف رہنا چاہتا تھا۔ اس کو پتا تھا کہ اس کی ماں دوسری سمت سے آنے والے جلوس میں پیش پیش ہو گی۔ یہ مخالف سمت سے آیا ہو ا جلوس قدرے چھوٹا تھا مگر زیادہ پر جوش تھا۔ جراہ کی آنکھیں بیتابی سے ماں کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ ”وہ تو ان سب لوگوں کی لیڈر ہے کہاں غائب ہو گئی ہے! “ وہ اور انتظار نہ کر سکا۔ اس نے اپنے ٹرک کو اسٹارٹ کیا اور ماں کے گھر کی طرف دوڑ پڑا۔ گھر کیا تھا ایک ویرانہ تھا۔ دروازے کو زور سے کھولتے ہوئے وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوا۔ آج ماں کے چہرے پر کتنا سکون تھا۔ وہ کتنی گہری نیند سو رہی تھی۔

تقریباً دو سال سے جراہ کی ماں جس کا نام میکاک تھا اور جراہ کے درمیان ایک بحث چل رہی تھی۔ لیکن یہ دو باشعور لوگوں کی بحث تھی جس سے ماں اور بیٹے کی محبت میں ذرا سا بھی خم نہیں آیا تھا۔

Read more

آری

سنتوش درختوں کے انسپکٹر کو بہت بے بسی اور غصے سے واپس جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ پتا نہیں اسے اس درخت کو کاٹنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔ ادھر اس کی بیوی بضد تھی کہ یہ ساری رکاوٹیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ درخت ان کے لئے پَوِترہے اور وہ اس کو نہیں کٹوانے دے گی۔ سنتوش کے ذہن میں یہ خیالی تصویر گھوم رہی تھی کہ دہلی میں اس کے بھائی سد ہیر نے پولیس کے ساتھ مل کر اپنے دشمن کو ایک دن کے اندر قتل کروادیا تھا اور یہاں درخت کا کٹوانا اتنا بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا۔

سنتوش کو ٹورونٹو کے اس مکان میں رہتے ہوئے تیس سال گزر چکے تھے۔ اس کے تینوں بچے یہیں بڑے ہوئے۔ ابتدائی، ثانوی اور یونیورسٹی کی تعلیم اسی علاقے میں حاصل کی اور اب وہ شادی کر کے الگ رہ رہے تھے۔ سنتوش بھی اب ریٹائر ہو گیا تھا اور تقریباً سارا وقت گھر ہی میں رہتا تھا۔ اگر سردی زیادہ نہ ہو تو مکان کے اگلے لان میں وقت گزارنا پسند کرتا تھا۔ اگلے لان میں میپل کا بہت بڑا درخت تھا۔ موسم گرما میں یہ درخت پتوں سے بھر جاتا اور اور لان اور مکان کو اپنے سائے میں رکھتا۔ مگر یہ درخت اب کسی بیماری کا شکار تھا اور بہت ہی کم پتّے دیتا تھا۔

Read more

کٹھ پتلی کے بہت روپ ہوتے ہیں

دہلی میں بارش شروع ہوئی تو تھمنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ گرج چمک بھی زوروں پر تھی۔ دفعتاً کٹھ پتلیوں کے فنکار شرجیل کے مکان کے پچھلے حصّے کی دیوار گر گئی اور اس کی نازک نازک کٹھ پتلیاں اس دیوار کے نیچے دب گئیں۔ وہ دیوانوں کی طرح کٹھ پتلیوں کو…

Read more

بدیسی ادب: انگوری شکنجہ

چارلس ڈی گریوز Charles de Gruse جب بھی پیرس میں میز بانی کرتا تو اپنے غیر ملکی مہمانوں سے یہی کہتا ”آپ کو ایک اعلی ریڈ وائن red wineسے لطف اندوز ہونے کے لئے فرانسیسی ہونا ضروری نہیں ہے، لیکن ایک عمدہ وائن کی پہچان کے لئے فرانسیسی ہونا ضروری ہے“ وہ یہ مسکرا کر کہتا تاکہ اس کے مہمان اس کی بات سے ہتک نہ محسوس کریں۔

فرانسیسی سفارتی عملے میں زندگی بھر کام کرنے کے بعد، کاؤنٹ چارلس ڈی گریوز اپنی بیوی کے ساتھ قوے وولٹیر میں ایک خوبصورت مکان میں رہتا تھا۔ وہ ایک قابل ِپسند شخص تھا، پر وضع بھی اور اپنی میزبانی اور دل نوازی کے لئے مشہور تھا۔

Read more

”دانائی کی تلاش میں“ پر ایک غیر دانا تبصرہ

دانائی کیا ہے؟ مفکّر کسے کہتے ہیں؟ دانشور کی کیا خصو صیات ہونی چاہئیں اور کوئی دانشور کیسے بن سکتا ہے؟ کیا کچھ لوگ پیدائشی دانشور ہوتے ہیں؟ اگر چہ یہ بہت سادہ سوالات ہیں لیکن ان کے جوابات اتنے ہی کٹھن اور پیچیدہ ہونگے۔ اور شاید مختلف لوگوں کے یہ جوابات بھی ایک دوسرے کے…

Read more
––>