جب کمپنیاں شیطان بنیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں ولیم ڈالریمپل کا ایک مضمون نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا، آپ ایک کتاب کے مصنف ہیں جس کا عنوان ہے

”The Anarchy: The East India Company، Corporate Violence and the Pillage of an Empire“

وہ اپنے مضمون میں حالیہ تاریخ میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں ہونے والی ملکی معاملات میں مداخلتوں اور ان کے ہاتھوں افراد اور اقوام کے فکر و عمل و زندگی پر اثر انداز ہونے اور انہیں نقصان پہنچانے کا تذکرہ کر کے ایک بڑا مشکل سوال پوچھتے ہیں کہ کس طرح ہم ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی قوت اور اس میں مضمر خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور کس طرح ایک قومی حکومت خود کو اور اپنے شہریوں کو ان کارپوریشنوں کی پہنچ سے بچ سکتی ہے؟ مگر بیچاری کمپنیوں نے آخر انسانی تاریخ میں ایسا کیا ہی کیا ہے کہ ان پر شک کیا جائے کہ ملکوں اور اقوام کو غلام بنانا چاہتی ہیں، لوٹنا چاہتی ہیں؟

زیادہ دور نہیں محض 2007۔ 2009 بینکاری نظام کے ڈھے جانے نے ہی واضح کر دیا تھا کہ کارپوریشنیں جس طرح ملکوں کو دولت مند بنا سکتی ہیں اور ان کے مستقبل کو سنوار سکتی ہیں بالکل اسی طرح وہ ان کی معیشتوں کا بھٹہ بھی ایک پل میں بٹھا سکتی ہیں۔ اس بحران کو ختم کرنے کے لئے امریکا کے فیڈرل ریزرو بینک نے 77.7 کھرب ڈالر کا بیل آؤٹ دیا، اس بحران میں آئس لینڈ کے تمام نجی بینک (جن کی کل تعداد تین تھی) اس ملک کو بالکل دیوالیے کے دہانے پر لے آئے۔

کمزور ریاستوں میں کارپوریشنوں کی قوت اور اثر بہت خوفناک صورت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ ان کے پاس دولت اور طاقت ہے اور ان کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں، بعض ملک اپنے طاقت اور دولت میں ملٹی نیشنل کمپنیوں سے چھوٹے ہوتے ہیں۔

بڑی بڑی کارپوریشنوں کے اثر سے ملکوں کی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی ہیں، مثلاً اینگلو پرشیا آئل کمپنی اتنی قوی تھی کہ اس نے 1953ء میں ایران میں فوجی بغاوت کرا دی جس کے نتیجے میں مصدق کی حکومت اور بعد میں جان گئی۔ اسی طرح 1954ء میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی نے گوئٹے مالا میں CIA کی مدد سے فوجی بغاوت کرائی، یہ کمپنی گوئٹے مالا کی 42 فیصد زمین کی مالک تھی۔

انٹرنیشنل ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف کارپوریشن نے چلی کے سلوادور آلندے کی حکومت گرانے کے لئے 70 ء کی دہائی میں لابنگ کی، 11 ستمبر 1973 ء کو چلی میں جنرل آگسٹو پنوشے کی سربراہی میں فوج اقتدار پر قابض ہو گئی اور جمہوری سربراہ اور اس کی جماعت کو بڑی بہیمیت اور ظلم سے تہ تیغ کیا گیا جب کہ حالیہ تاریخ میں Exxon Mobil نے امریکا میں لابنگ کی کہ وہ عراق اور شام میں اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے۔

اس تمہید کے بعد ولیم ڈالریمپل ان کارپوریشنوں کی تاریخ اور ان کی ابتداء پر گفتگو کرتے ہیں اور برصغیر پاک و ہند کے پرانے زخم کو چھیڑ دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس بھیانک کلچر کی ابتداء 400 سال قبل ایسٹ اینڈیا کمپنی کے قیام سے ہوئی، یہ کمپنی 22 ستمبر 1599 ء میں لندن میں قائم ہوئی اور اس کے منشور میں شامل تھا کہ یہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جنگیں لڑنے سے دریغ نہ کرے گی اور 1601 ء میں اپنے پہلے سفر سے ہی اس کارپوریٹ دہشت گردی کی ابتداء کر دی، اس کی نظر اس عظیم مغلیہ سلطنت پر تھی جس کے پاس موجودہ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور آدھا انگلستان تھا۔

کمپنی نے اپنی فوج قوت سے ہند کے سب سے دولت مند صوبے بنگالہ کے کچھ حصوں پر قبضہ جما لیا اور اس طرح جنوبی ہند میں بھی اپنے پنجے گاڑنے لگی۔ مرکزی مغلیہ قوت 1707 میں اورنگ زیب کے انتقال کے بعد کمزور پڑنے لگی اور 1757 ء میں پلاسی کی جنگ کے بعد سارا بنگالہ ہی کمپنی کے زیر فرمان تھا، اگست 1765 ء میں کمپنی نے شمالی ہند بھی عملاً مغلوں سے چھین لیا، شہنشاہ ہند شاہ عالم نے الہٰ آباد میں شکست کے بعد کمپنی سے معاہدہ کیا کہ اب ہند میں ٹیکس کمپنی بہادر جمع کرے گی، اس نے اپنے محصولات کے افسران کو مجبوراً برخاست کیا اور اب انگریز تاجروں نے ان کی جگہ لے لی۔ یعنی محصولات جمع کرنے کے محکمہ کی نجکاری نے کمپنی بہادر کو مکمل اقتدار دے دیا، اس کی حفاظت کے لئے اس کی اپنی فوج تھی، اب اسے کوئی کیسے روک سکتا تھا؟

اس کے چند ہی ماہ بعد محض 250 کلرک، مقامی طور پر بنی 20,000 سپاہیوں پر مبنی فوج کی مدد سے مغلیہ ریاست کے سب سے امیر صوبہ جات کے حاکم بن بیٹھے، یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی ایک بڑی سامراجی قوت بن کر ابھر رہی تھی، بنگلا سے لوٹی دولت سے کمپنی بہادر نے مشرقی چین میں افیون کا کاروبار شروع کیا اور پھر اپنے کاروبار کو مستقل کرنے کے لئے چین سے دو افیمی جنگیں (Opium Wars) لڑیں اور ہانگ کانگ کی بندرگاہ پر قابض ہو گئی تا کہ وہ افیون میں اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکے۔

پھر کمپنی نے چینی چائے کو امریکا پہنچانا شروع کیا، کمپنی بہادر کا تصور ایسا بن چکا تھا کہ اس کے قدم امریکا پر پڑتے ہی وہاں کے سفید فام باشندوں میں بھی خوف کی لہر دوڑ گئی کہ کہیں کمپنی ان پر بھی مسلط نہ ہو جائے۔ امریکی انقلاب کے قلمکار John Dickisson نے بڑی تشویش کے ساتھ لکھا کہ

”The soldiers of the Company having plundered Indian are now casting their eyes on America as a new theater whereon to exercise their talents of repine، oppression and cruelty“

کمپنی کی آمد کے خوف نے امریکا کی جنگ آزادی کو بڑی تیزی سے جنم دیا، کمپنی اپنے ایک ڈائریکٹر کے بقول سلطنت کے اندر سلطنت بن گئی تھی، اس کے پاس اختیار تھا مشرق میں جہاں چاہے جنگ کرے یا جو بھی کرے۔

اس نے اس مقام پر ایک بڑی وسیع و عریض انتظامیہ قائم کر لی تھی، یہ کمپنی ”بہادر“ دنیا کو لوٹ رہی تھی مگر برطانیہ میں بے حد ترقی کرا رہی تھی اور سارے برطانیہ کی ایک چوتھائی تجارت اسی کے ہاتھ میں تھی، جتنا خرچہ یہ برطانیہ میں کر رہی تھی، وہ برطانوی حکومت کے چوتھائی اخراجات کے برابر تھا، کمپنی کی افواج اب اتنی بڑھ چکی تھیں کہ دنیا کے کسی ملک (بشمول برطانیہ) کی فوج اس کے برابر نہ تھی اور اب کمپنی کی قوت ساری دنیا کو گھیر رہی تھی۔

کمپنی کے وکلاء، اس کے لابنگ کرنے والے اور اس کے حصص کے چند مالکان برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان بھی تھے اور وہ وہاں پر ایسی قانون سازی کر رہے تھے کہ جس سے کمپنی کو فائدہ ہو، کمپنی بہادر نے ہی 1693 ء میں کارپوریٹ لابنگ کو ایجاد کیا اور پھر کمپنی نے اپنے حصص کی مدد سے ارکان پارلیمنٹ کو خریدنا شروع کر دیا، اس بات پر حکومت حرکت میں آئی اور تحقیقات ہوئیں، یہ دنیا کا پہلا کارپوریٹ لابنگ کا اسکینڈل تھا، اس کے نتیجے میں کمپنی رشوت ستانی کی مجرم پائی گئی اور اس کے گورنر کو قید کی سزا ہوئی۔

مگر کمپنی کی قوت اور ترقی کا زور 1770 ء میں ٹوٹنے لگا جب اس کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث بنگالہ کے صوبے میں قحط پڑ گیا، یہ کبھی ہند کا امیرترین صوبہ تھا مگر اب تباہ و برباد ہو چکا تھا، نتیجتاً کمپنی بہادر کی بھی آمدن کو بڑا جھٹکا لگا، کمپنی اس دور کے 15 لاکھ پاؤنڈ کی مقروض ہو گئی اور 10 لاکھ پاؤنڈ وہ ٹیکس کی مد میں تاج برطانیہ کو نہ دے سکی، کمپنی کے نقصان سے سارے یورپ میں 30 بینک دیوالیہ ہو گئے۔ جولائی 1772 ء میں کمپنی کے ڈائریکٹرز نے Bank of England سے 4 لاکھ پاؤنڈ قرضے کی درخواست کی اور اگلے ہی ماہ انہوں نے دس لاکھ پاؤنڈ قرضے کی درخواست کر دی۔ اگلے سال کی سرکاری رپورٹ میں مرقوم تھا کہ

”Company ’s financial prodowns could potentially drag the government down into an unfathomable abyss۔ This cursed company would at last like a viper، be the destruction of the country which fostered it at its bosom“

مگر کمپنی اتنی جلد گرنے والی نہ تھی، اگلے سال کمپنی کو تاریخ کا پہلا Bailout ملا اور برطانوی حکومت نے اسے دیوالیہ ہونے سے بچا لیا، مگر کمپنی پر یہ شق واضح کر دی کہ وہ جب چاہے کمپنی کو قومیا سکتی ہے اور 1857 ء میں ہوا بھی یہی کہ جب کمپنی کے ہاتھوں سے ہند نکلنے لگا اور بڑی مشکلوں سے اس نے جنگ آزادی کو کچلا تو برطانوی حکومت نے اسے قومیا لیا اور کمپنی کے بجائئے خالص برطانوی راج ہند میں شروع ہو گیا۔

گو کہ آج کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس اپنی فوجیں نہیں ہوتیں مگر ان کے ملکوں کی قوت ان کی بقا کی ضمانت ہوتی ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مغربی سامراجیت اور کارپوریٹ سرمایہ داری ایک ساتھ ہی شروع ہوئے تھے، ان بلاؤں کے پنجوں میں آج تک دنیا پھنسی ہے۔

کمپنی بہادر کا گورنر جنرل وارن ہسٹنگز جب اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے برطانیہ میں تنقید کا نشانہ بنا تو Baron Thurlow نے کہا تھا۔

”Corporations have neither bodies to be punished، nor souls to be condemned، they therefore do as they like“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •