آ بیل مجھے مار: حکومتی فرمائش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"masoom-rizvi\"

یہ محاورہ سنتے ہی نجانے ذہن کیوں ن لیگ کی طرف چلا جاتا ہے۔ صحافی دوست بخوبی جانتے ہیں کہ بعض اوقات تردید ہی اصل خبر ہوتی ہے۔ اب آپ ہی سوچیے ڈان اخبار میں چھپنے والی اسٹوری صرف ایک اسٹوری ہی تھی مگر سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈال کر اسے عالمی خبربنانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ کور کمانڈرز کانفرنس اعلامیے نے تحقیقات کا رخ بھی متعین کر دیا ہے۔ سارے منظرنامے میں خبر فیڈ کرنے اور اس کی تصدیق والے نام اب بھی پردہ راز میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے خبر کی متعدد مبہم اور متضاد تردیدوں نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا وہ کہتے ہیں ناں۔۔۔

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
کیسا پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

ملا نصیر الدین سے پڑوسی کی صراحی ٹوٹ گئی۔ پڑوسی نے عدالت میں مقدمہ کر دیا۔ ملا نصیر الدین نے قاضی کو دلائل دیتے ہوئے کہا، جناب اعلی پہلی بات تو یہ کہ جب میں نے ہمسائے کی صراحی واپس کی تو سالم تھی، دوسری بات یہ ہے کہ جب لی تب ہی ٹوٹی ہوئی تھی۔ تیسری اور آخری بات یہ کہ میں نے ہمسائے سے کوئی صراحی ادھار لی ہی نہیں۔۔۔ ڈان کی خبر کیا چھپی حکومت کی جانب سے تردیدوں کی لائن لگ گئی، وزیر اعلیٰ پنجاب کی تردید، وزارت خارجہ کی تردید اور پھر وزیر اعظم ہائوس کی تردید۔ حسب روایت تمام مبہم و متضاد، دوسری جانب صورت احوال یہ ہے، کہ اخبار اور رپورٹر، دونوں خبر پر قائم ہیں۔ کیوں کہ خبر کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ تصدیقی ذریعہ بھی موجود ہے۔ سیدھی سی بات ہے اب تک اجلاس کے شرکا ہی نہیں، بلکہ تمام اعلیٰ سول و عسکری حکام ان گم نام ناموں سے واقف ہوں گے۔ باقی رہے ہم جیسے بے خبر صحافی اور باخبر عوام الناس تو افواہوں کی زد پر آنے والوں ناموں سے کون واقف نہیں۔ بس صرف حکومت ہے جو کچھ نہیں جانتی۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔

وزیر داخلہ نے سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔ مزید یہ بھی فرمایا، کہ دو سے تین مزید نام بھی شامل تفتیش ہیں، مگر اس وضاحت سے گریز فرمایا کہ ان افراد میں کوئی وزیر یا سیاست دان شامل ہے، کہ نہیں۔ دوسرے روز صحافی تنظیموں کی درخواست پر شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے، ای سی ایل سے نام نکالنے کا اعلان بھی کر دیا۔ حضور جان کی امان پاوں تو یہ عرض کروں، کہ اصول پسندی اور انصاف قابل تعریف، مگر نجانے یہ دونوں صفات پرویز مشرف اور شرجیل میمن کے ضمن میں کہاں چھپ جاتی ہیں۔

حکومت کیا سوچ رہی ہے، اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ مگر اس دوران کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ بھی سامنے آ گیا، جس میں جھوٹی اور من گھڑت خبر فیڈ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اگر مذکورہ اخبار اور صحافی کا یہ دعویٰ درست ہے کہ خبر کی سورس موجود ہے، اور تصدیق بھی کی گئی تو یقینی طور پر یہ قومی سلامتی کے حوالے سے سنگین بات ہے۔ صحافت کو اداروں کے تقدس کا لیکچر دینے کے بجائے ان دو ناموں کو سامنے لایا جائے۔ یہ اہم نکتہ بھی جاننا ضروری ہے کہ کیا یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا یا پھر کسی نادان دوست کی وفاداری۔ اگر اس معاملے کی شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں تو تمام شکوک و شبہات کا رخ یقینی طور پر ن لیگ کی جانب ہو گا۔ گزشتہ کالم میں تذکرہ کر چکا ہوں مگر مجبوری ہے دوبارہ ذکر کرنا پڑ رہا ہے، سیینیٹر مشاہد اللہ کا آئی ایس ائی کے سربراہ کے بارے میں بی بی سی کو انٹرویو سے کچھ بگڑا نہ بگڑا مگر مشاہد اللہ وزارت سے محروم ہو گئے۔ انہیں دوبارہ وزیر بنانے کی کوشش بھی اب تک صرف خواہش ہی ہے۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مشاہد اللہ نے متنازع انٹرویو کو ذاتی فعل قرار دیا تھا۔

یہ ضروری نہیں کہ حکومت کو ہر بار تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ دیکھنا پڑے گا اصل تنازع ہے کیا؟ مبینہ خبر کے مطابق اجلاس میں قومی اثاثے قرار دی جانے والی جماعتہ الدعوہ/لشکر طیبہ اور جیش محمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی بنا پر، اب دنیا پاکستان کا موقف سننے پر تیار نہیں۔ اس کے علاوہ سول قیادت کی جانب سے عسکری حکام پر تنقید کی گئی۔ ظاہری طور پر اس خبر کے یہی دو اہم ترین پہلو ہیں۔ یہ مسائل موجود ہیں اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ گزشتہ دنوں ان دونوں موضوعات پر متعدد سیاست دانوں نے اظہار خیال کیا ہے۔ محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمان، فرحت اللہ بابر اور رانا افضل بھی دوٹوک موقف پیش کر چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات پارلیمنٹ اور بڑے اجلاسوں میں زیر بحث نہیں آئیں گے، تو کیا ٹی وی پروگراموں کا موضوع بنیں گے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پارلیمان اور کابینہ آئینی طور پر بالاتر ہے، تو ساری صورت احوال میں سمجھ یہ نہیں آ رہا کہ اصل اعتراض کیا ہے۔

حکومت کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں یہ تو پتا نہیں، مگر کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے میں \’خبر فیڈ کرنے\’ کے الفاظ قابل غور ہیں۔ اس نکتے پر حکومت کی وضاحت سامنے آنا باقی ہے، مگر پھر بھی ایک لمحے کو فرض کر لیں کہ حکومت اس خبر کا نوٹس نہیں لیتی، تو شاید یہ معاملہ دب جاتا۔ وزیر داخلہ نے مذکورہ خبر کو بنیاد پر چار بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی اسٹوریوں کا حوالہ تو دیا، مگر یہ بھول گئے کہ سیرل الیمڈا پر بیرون ملک جانے پر پابندی کی خبر صرف بھارت تک محدود نہ رہی، بلکہ امریکا، برطانیہ سمیت عالمی میڈیا کا حصہ بنی۔ کس خبر نے ملک کا نام زیادہ بدنام کیا، یہ فیصلہ آپ خود کر لیں۔ دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے لغو الزامات بھی لگائے گئے۔ کیا رویہ درست ہے کہ ہر ناپسندیدہ بات کو قومی سلامتی کے مخالف قرار دیا جائے؟ سچ سے نظریں چھپانے کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، اب بھی اگر یہ روش نہ بدلی تو انجام بھی سامنے نظر آ رہا ہے۔ پاکستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہے اور اب قریب ترین حلیف چین بھی اس صورت احوال سے زیادہ مطمئن نہیں۔ جب کہ صورت احوال یہ ہے کہ بھارت سفارتی، معاشی اور سرحدی محاذوں پر ہمیں گھیرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ براہ کرم قوم پر رحم کریں، سیاسی بساط سے باہر نکل کر بھی کچھ سوچیں۔ ملکی سلامتی سے متعلق مسائل پر سیاست کرنا بھی سنگین غداری ہی تصور کیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے، کہ قریبی عزیزوں اور احباب کے علاوہ فیصلوں میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ اب میاں صاحب سیاست میں نئے تو ہیں نہیں، ماشااللہ تین بار ملک کا وزیر اعظم بننے کا اعزاز صرف انہی کے پاس ہے۔ 1976ء سے سیاسی میدان میں، 1980ء میں گورنر پنجاب جنرل ریٹائرڈ غلام جیلانی کی سرپرستی میں، پہلے وزیر خزانہ اور پھر وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔ 90ء سے 93ء اور 97ء سے 99ء تک دو بار وزیر اعظم رہے۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد پھر وزیر اعظم منتخب ہوئے، اور یہی ان کا طویل ترین دور حکومت ہے۔ وزیر اور مشیر بھی بیش تر پرانے ہیں۔ کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم نادان دوستوں کو ہی پہچان لیں۔ بہرحال گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقات ہوتی ہیں، یا پھر اس کا حشر بھی پاناما لِیکس جیسا ہو گا۔ مگر شاید۔۔۔ اس بار سچ چھپانا اتنا آسان نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •