سیرل کی خبر: انجام شرمناک بھی ہو سکتا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ajmal1\"سیرل کی خبر پر تبصرہ کرنے والا کوئی رہ تو نہیں گیا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو درکار تفصیلات کے ساتھ مطلع کیجئے گا۔ محروم خواتین و حضرات سے دست بدستہ درخواست کی جائے گی کہ وہ بھی حصہ بقدر جثہ ڈال کر ثوابِ دارین سمیٹیں کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں حرج ہی کیا ہے:

اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرمِ خاموشی

ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں

 \’پانی اچ مدھانی\’ کی بجائے کیوں نہ دوٹوک بات کرلی جائے؟ ہم 1916 نہیں، 2016 میں رہ رہے ہیں۔ \’فیڈ\’ کس نے کیا؟ \’سورس\’ کون ہے؟ کھپنے کی ضرورت کیا ہے؟ لیکن یہاں تو ایک خبر پر پوری ریاست ہل کر رہ گئی۔ ریاستی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والا شدید ردِ عمل قطعاً غیر ضروری تھا۔ خبر پر کیے گئے اعتراضات انتہائی سطحی اور بودے ثابت ہوئے۔ مصلحت کا تقاضایہ تھا کہ فوری جذباتی ردعمل سے گریز کیا جاتا۔ 2016 میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ حضور والا! معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے اس قدر ہِل جُل کی ضرورت نہ تھی۔ نہ ہنگامی اجلاس درکار تھے اور نہ ہی افراتفری میں جاری کئے گئے بیانات۔ چپ چپیتے بھی \’مخبر\’ کا کھرا ڈھونڈا جا سکتا تھا۔ جو احتیاط اب وزیراعلیٰ کے قریبی ذرائع کی جانب سے برتی گئی ہے اسی کا مظاہرہ کیا جاتا تو صورتِ حال خراب نہ ہوتی۔ اس خبر پر جب صحافی نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا موقف حاصل کرنے کے لئے ان کے قریبی ذرائع سے رابطہ کیا تو \’ذریعے\’ نے کال کی بجائے وٹس ایپ پر تحریری جواب ارسال کیا اور احتیاطاً \’پریم پتر\’ محفوظ کر لیا کہ بوقت ضرورت کام آوے۔ بہر حال صورت حال واضح کرنا انتہائی آسان ہے۔ لیکن سمجھ سے بالاتر ہے کہ پردہ کیسا؟ لاج کیسی؟ شرم کیسی؟ کنفیوژن کیسی؟ میرے پاس تو جواب نہیں ماسوائے ایک طویل قصے کے۔۔ شاید کہ آپ کچھ سمجھ پائیں۔

کہتے ہیں بھلے وقتوں میں فوجی بھرتی کے لئے دیہات میں کیمپ لگا کرتے تھے جس کی روایت انگریز سرکار نے ڈالی تھی۔ ان کیمپوں کے ذریعے دیہات سے صحت مند نوجوانوں کا انتخاب کیا جاتا۔ کسی گاؤں میں کیمپ لگا تو دو دیرینہ دوستوں کے مابین بھرتی ہونے کے معاملے پر سنجیدہ تبادلہ خیال ہوا۔ قارئین کی سہولت کے لیے اس پنجابی مکالمے کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ایک نے کہا: \’رفیق\’ سنا ہے گاؤں میں کیمپ لگا ہے، بھرتی نہ ہو جائیں؟

رفیق بولا: بھرتی تو ہو جائیں مگر سچ پوچھو تو شرم بہت آتی ہے یار۔۔

کیوں؟ اس میں شرم والی کون سی با ت ہے؟ (پہلا دوست )

رفیق: دیکھو یار! اگر تو ہم بھرتی ہوگئے تو ٹریننگ کرنا پڑے گی یا پھر واپس بھاگ آئیں گے۔

اور اگر واپس بھاگ آئے تو ٹھیک ہے، لیکن اگر ٹریننگ کرنا پڑ گئی تو پھر دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:

یا تو ٹریننگ کے بعد بارڈر پر بھیج دیا جائے گا یا کسی یونٹ میں پوسٹ کر دیا جائے گا۔

اگر یونٹ میں تعینات کر دیا گیا تو ٹھیک، لیکن اگر بارڈر پر بھیجا گیا تو پھر وہاں بھی دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:

یا تو دشمن کے ساتھ امن رہے گا یا پھر کسی بھی وقت جنگ چھڑ جائے گی۔

اور اگر تو بارڈر پر امن رہا تو ٹھیک ہے، بات سمجھ میں آتی ہے۔ البتہ جنگ چھڑ گئی تو پھر دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:

یعنی یا تو ہم انہیں ماریں گے یا پھر وہ ہمیں مار دیں گے۔

اور اگر تو صرف ہم انہیں مارتے رہیں تو ٹھیک ہے، بات سمجھ میں آتی ہے اور فوج میں جانے کا جواز بھی درست ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر تو دشمن نے ہمیں مارا تو پھر دو تشویش ناک صورتیں پیش آسکتی ہیں:

یعنی یا تو ہمارے اپنی فوجی ہماری لاشیں اٹھا لائیں گے یا پھر دشمن ہمارے لاشے لے جائے گا۔

اور اگر تو ہمارے جسد خاکی اپنے فوجی اٹھا لیں تو پھر تو سب ٹھیک ہے۔ لیکن اگر ہمارے جسم دشمن کے ہتھے چڑھ گئے تو پھر مزید دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:

یعنی یا تو دشمن ہمیں دفنا دے گا ورنہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہماری لاشیں جنگل میں پھینک دے۔

اگر تو دفنا دیا جائے یا یوں کہوں کہ جلا بھی دیں تو پھر بھی بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن اگر تو جنگل میں لاشیں پھینک دی گئیں تو دو بھیانک قسم کی صورتیں پیش آسکتی ہیں:

ایک: ہماری لاشیں جنگلی درندے چیر پھاڑ دیں گے۔

دو: یا پرندے ہمارے لاشے نوچ ڈالیں گے۔۔

اور اگر ایسے میں جنگلی درندے ہمیں ہڑپ کر لیں تو ٹھیک ہے، بات سمجھ میں آتی ہے۔ البتہ اگر ہم نوچنے والے پرندوں کے سپرد ہوگئے تو پھر دو مزید تکلیف دہ صورتیں پیش آسکتی ہیں:

ایک: یا تو ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی، مٹی میں مٹی ہو جائیں گے

دو: یا پھر ہڈیاں چننے والے ہماری ہڈیاں اٹھا لے جائیں گے۔

اور اگر تو ہماری ہڈیاں مٹی میں گل گئیں تو بات قابل قبول ہے لیکن اگر ہمارے نوچے گئے اجسام کے باقی ماندہ استخوان، ہڈیاں چننے والے اٹھا لے گئے تو پھر انتہائی ناقابل برداشت دو مزید صورتیں پیش آسکتی ہیں:

پھر یہ ہڈیاں کارخانے لے جائی جائیں گی جہاں ان سے صابن بنے گا۔ صابن یا تو کپڑے دھونے والا بنے گا یا پھر نہانے والا۔

اور اگر تو ان ہڈیوں سے کپڑے دھونے والا صابن ہی بنے تو ٹھیک ہے۔ اور اگر نہانے والا صابن بنا تو پھر دو مشکل صورتیں پیش آسکتی ہیں:

دوست نے انتہائی تشویش میں بے صبری سے پوچھا:

نہانے والا صابن بننے سے آخر کون سی تشویشناک صورت حال جنم لے سکتی ہے ؟

رفیق بولا: اگر تو ہماری ہڈیوں سے صرف نہانےوالا صابن ہی بنا تو اس صابن کا استعمال مرد کریں گے یا خواتین۔

اور اگر تو یہ صابن صرف مردوں کے استعمال میں ہی رہے تو ٹھیک۔۔ بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن اگر یہی صابن خواتین نے استعمال کیا تو قسم خدا کی۔۔۔پھر مجھے بے انتہا شرم آئے گی اور یہ میرے لئے ناقابل برداشت صورت حال ہوگی۔

اب سوچنے کا مقام یہ ہے کہ یہ ناقابل برداشت صورت حال اصل میں درپیش کہاں ہے؟ اور اس کے \’اُپائے\’ کے لئے کہیں صابن بنانے والا کارخانہ بند کرنا لازم تو نہیں ٹھہر گیا؟ لیکن لگتا یہ ہے کہ بچی کچھی ہڈیاں دفنانے کے لیے دو اصحاب کی چُھٹی کرانے کا بندوبست کیا گیا ہے تاکہ اس شرمناک صورت حال سے بچا جا سکے۔ یہ قربانی ہو گئی تو ٹھیک وگرنہ دو صورتیں ہوں گی یا تو صورت حال مزید شرمناک نہیں ہو گی یا پھر مزید شرمناک ہو گی اور اگر مزید شرمناک ہو گی تو پھر کسی بڑے کی بھی چھٹی ہو سکتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 54 posts and counting.See all posts by ajmal-jami

––>