کیا طلبہ یونینز کا قیام تشدد کو فروغ دے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ صاحب نے ایک فیس بک ڈسکشن میں سٹوڈنٹ یونینز کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ کی نشاندہی فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے اندر تو یونین ہونی چاہیے لیکن جب سیاسی جماعتوں کی ملک گیر یا ”شہر گیر“ تنظیم بن جائے تو وہ ادارے پر اپنا ہولڈ بنانے کے لیے دوسرے اداروں یا سابق سٹوڈنٹس سے بدمعاشی اور قتل و غارت کے لئے غنڈے بلاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسے ہوتا ہے۔ اور اسی خوف کے باعث اکثریت طلبہ یونینز کی مخالفت پر کمر بستہ ہے۔ لیکن اس اکثریت میں سے ایک خاص طبقہ اس تشدد کی دلیل کا انتہائی شدت سے دفاع کرتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یونین سازی کا تشدد سے کوئی واسطہ ہے بھی یا نہیں اور یہ چھوٹا؟ سا طبقہ یونین سازی پر پابندی کا دفاع کیوں کر کرتا ہے۔

تشدد کا فروغ بنیادی طور پر ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ چونکہ طلبہ تنظیمیں اسی معاشرے کا حصہ ہیں تو وہ تشدد کا عنصر ہمیں یہاں بھی کسی حد تک نظر آتا ہے۔ اس کا یونین سازی سے کوئی تعلق نہیں۔ یونینز ملک کے ہر ادارے میں موجود ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین نے ایک دوسرے کو مارا پیٹا؟ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ طلباء جذباتی ہوتے ہیں اور قدرتی طور پر تشدد کی جانب مائل ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک مغالطہ ہے۔

دنیا کی بڑی جامعات جن میں آکسفورڈ اور ہارورڈ شامل ہیں سب میں طلبہ یونینز موجود ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سنا کہ وہاں ایسا کوئی پرتشدد واقعہ ہوا؟ ہمارے اکثر پڑوسی ممالک میں بھی طلبہ یونینز موجود ہیں۔ کیا ہمارا نوجوان 40 سال سے طلبہ یونینز پر پابندی کے باوجود زیادہ متشدد ہے؟ فرض کیا یہ درست ہے تو پھر آپ اس کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے سلیبس اور تربیت کو درست کریں۔

تشدد کو روکنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ اس کے لیے حکومت قانون سازی کر سکتی ہے اور طلبہ تنظیموں سے حلف نامے بھی لے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے یونینز سے پابندی ہٹاتے ہوئے صوبائی حکومتوں سے تشدد کے حوالے سے قانون سازی کی گارنٹی مانگی تھی جو وہ ابھی تک دینے میں ناکام ہیں۔ جس کے باعث کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہاں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ضمن میں کون نا اہلی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

سیاسی تنظیمیں کسی اور لالچ میں بھی یہ مسائل حل نہیں کرنا چاہتی۔ سیاسی تنظیموں کے طلباء ونگ ابھی بھی موجود ہیں اور پابندی کے باوجود نہ صرف فنکشنل ہیں بلکہ بدنظمی کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ کے پی میں سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پی ایس ایف، پنجاب میں جماعت اسلامی اور ہزارہ میں ایم ایس ایف مسلسل ایکٹو ہیں۔ ان کی موجودگی کوئی نہیں تسلیم کرتا لیکن ان کے باقاعدہ ہر سال صدر اور ناظم منتخب کیے جاتے ہیں۔

یہ لوگ طلباء کے فائدے والے کاموں سے زیادہ نئے سٹوڈنٹس اور جوڑوں کو ہراساں کرنے سے لے کر میوزک فیسٹیولز کی مخالفت، مار دھاڑ اور ہر طرح کے بدنظمی کے کام کرتے ہیں۔ میرے کالج کے دور میں ہم نے جماعت اسلامی، پی ایس ایف ایم ایس ایف سب کو کام کرتے دیکھا بلکہ ان کے ساتھ وابستہ بھی رہے۔ یونیورسٹی دور میں میں پختون سٹونڈنس فیڈریشن کا باقاعدہ رکن تھا اور میرے پاس ان کا کارڈ بھی تھا۔ یہ 2005۔ 2006 کی بات ہے۔

لیکن اس سے پہلے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ تنظیمیں ہیں اور ان کا استعمال سیاسی شخصیات کرتی ہیں۔ یونین اور چیز ہے۔ یونین میں سب جماعتوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ ایک عام شخص یہ فرق نہیں سمجھ رہا اور اس کی اس لاعلمی کا فائدہ وہ طبقہ اٹھا رہا ہے جو طلبہ اتحاد سے خوفزدہ ہے۔

جب یونینز ہوں گی تو تنظیمیں بھی رجسٹرڈ ہوں گی اور رجسٹرڈ تنظیموں سے ہی لوگ الیکشن بھی لڑیں گے جب کہ عام طلبہ ووٹ ڈالیں گے۔ ایک طریقہ کار وضع ہوگا اور اس متشددانہ کلچر کا سدباب خود بخود ممکن ہو جائے گا۔ جو موجودہ صورتحال میں ناممکن ہے کیونکہ فی الوقت یہ سب اپنی من مانی اور زیر زمین کارروائیوں میں مشغول ہیں۔ بدمعاشی اور غنڈہ گردی ابھی بھی جاری ہے۔ مشال خان کے واقعہ میں آئی ایس ایف، پی ایس ایف اور جماعت اسلامی کے غنڈے اکٹھے پیش پیش تھے۔ پشاور یونیورسٹی میں پی ایس ایف موجود ہے۔ میوزک بجانے پر ایک طالبعلم کا قتل سٹوڈنٹ تنظیم کے کارکنوں نے ہی کیا تھا۔ جمیعت کی پنجاب یونیورسٹی میں آئے دن کی غنڈہ گردی ایک کھلا راز ہے۔

یونینز کی اجازت دینے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ نمائندگی کی غرض سے عام طالبعلموں کے آگے مجبور ہو جائیں گے اور ان کے اوپر دھونس دھاندلی نہیں جما سکیں گے۔ دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ تمام تنظیمیں برابری کی بنیاد پر مسابقت اور ریکروٹمنٹس کریں گی اور ایک تنظیم کو اجارہ داری نہیں حاصل ہو گی۔ تیسرا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ تنظیموں کا ریکارڈ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہو گا۔ چوتھا فائدہ یہ ہو گا کہ صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی تنظیمیں بھی آگے آئیں گی اور ایک آدھ مذہبی یا قومیت پرست جماعت کا تسلط قائم نہیں رہے گا۔

اگر آپ غنڈہ گردی سے خائف ہیں تو غنڈہ گردی ابھی بھی چل رہی ہے۔ جب کہ امن و امان کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوتی ہے طلباء پر نہیں۔ اس کے باوجود میرا خیال ہے کہ بیان کردہ امکانات کی روشنی میں نہ صرف تشدد کم ہوگا بلکہ یونینز میں سب تنطیموں کی نمائندگی کے باعث آپ طلباء کو زیادہ بہتر طور پر تشدد سے دور رکھ سکیں گے۔ جو تنظیم یا اس کے ارکان تشدد میں ملوث ہوں ان کے خلاف حلف ناموں اور ان کے اپنے منشور کے تحت اور سربراہان اور یونینز کی مدد سے تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جب سب اداروں میں دوسری تنظیمیں بھی ہوں گی اور یونینز سب کی نمائندگی اور اختیار ہو گا تو میرا نہیں خیال کہ ایک تنظیم سارے شہر سے اپنے غنڈے اکٹھے کر سکے گی۔ کیونکہ ایک تو دوسری تنظیمیں بھی ایسا کر سکتی ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ ہر ایک کی کوئی نہ کوئی سیاسی یا تنظیمی وابستگی ہو گی جو کہ اب نہیں ہے کیونکہ ہر شہر میں صرف ایک تنظیم کی اجارہ داری ہے جو کہ سیاسی روایت میں یا قومیت اور لسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اسی وجہ سے دوسری تنظیموں کو بھی سر اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔

اور غیر وابستگی کی وجہ سے طلباء کو کبھی ایک تنظیم ہانک رہی ہوتی ہے کبھی دوسری۔ مجھے یاد ہے کالج میں ہم عراق پر حملے کے خلاف احتجاج میں جماعت اسلامی کے احتجاج کا بھی حصہ بن جاتے تھے اور ایم ایس ایف والے بھی ہمیں اپنے احتجاج میں لے جاتے تھے۔ ایم ایس ایف کا صدر بھی دوست تھا اور جمیعت کا ناظم تو ہوتا ہی سب کا بڑا بھائی تھا اور نظریاتی طور پر ہم سب کورے تھے کہ اپنی مرضی سے کوئی ایک سائیڈ پکڑتے۔ مسلمانوں پر بنتی تو اسلام کے نام پر جمیعت ہانک کے لے جاتی۔ پاکستان پر بنتی تو ایم ایس ایف لے جاتی۔ ہم خوش ہوتے کلاسوں سے جان چھوٹتی۔ جبکہ طلباء حقوق کی کم ہی بات ہوتی تھی۔

جہاں تک ان تنظیموں کے متشددانہ رویوں کا تعلق ہے تو ان تنظیموں کو اختیار بھی وہی طبقہ یا وہی مقتدرہ دیتی ہے اور چشم پوشی بھی وہی کرتے ہیں۔ ہمیں کوئی ڈر نہیں ہوتا تھا اگر ہم کسی بس ڈرائیور کو بھی پیٹ دیں یا اگر احتجاج میں کسی بنک کے شیشے توڑ ڈالیں۔ کیونکہ صدر یا ناظم صاحب نے گارنٹی دی ہوتی تھی کہ دو گھنٹے سے زیادہ نہیں رہو گے تھانے۔ پولیس بھی کچھ نہیں کہتی تھی۔ اب اسی مقتدرہ کو ڈر ہے کہ اگر یہ سب ایک منظم طریقے سے ہونے لگ جائے تو یہ لوگ طلباء کو استعمال نہیں کر سکیں گے اور طلباء ان کے مفاد کہ خاطر شور مچانے کے بجائے اپنے اصل مسائل پر احتجاج کرنا شروع ہو جائیں گے۔ دونوں صورتوں میں ان کو نقصان ہو گا۔ اسی لیے وہ اپنے ہی پیدا کردہ تشدد کے ہتھیار کو بطور مخالفانہ دلیل استعمال کر کے طلباء اور معاشرے کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہم گلہ کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں قیادت کا فقدان ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 36 فی صد حصہ تیس سال سے کم عمر لوگوں پر مبنی ہے جس میں سے 19 فیصد 18 سے 30 سال کی عمر کے لوگ ہیں اور انہی لوگوں نے کل کو اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ جب طلباء کو اختیار ملے گا تو احساس ذمہ داری بھی اجاگر ہوگا۔ افلاطون کا کہنا تھا کہ انسان ایک سیاسی جانور ہے۔ آپ انسان کو سیاست سے جدا نہیں کر سکتے۔ جہاں ہمارے معاشرے میں سیاست کے خلاف موجود منفی رویے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے وہاں یہ محسوس کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل پر اعتماد کرنا سیکھنا ہو گا۔

ان کو سیاست سے خائف کرنے کے بجائے سیاست سیکھنے کے مواقع دینے ہوں گے چاہے وہ سیاست میں آئیں یا نہ آئیں۔ ایک ڈاکٹر اور انجنیر کو بھی سیاسی شعور ہونا چاہیے جو کہ وہ درسگاہقن سے ہی سیکھ سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف اعتماد ہے بلکہ ان کو اس گھن چکر سے نکالنے کا ذریعہ اور ان پر ایک احسان بھی ہو گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ملک کو مستقبل کے لیے ایک پڑھی لکھی اور باشعور سیاسی قیادت بھی نصیب ہوگی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر عاکف خان

مصنف فزیکل سائینز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ تدریس اور ریسرچ سے وابستہ ہونے کے ساتھ بلاگر، کالم نویس اور انسانی حقوق کےایکٹیوسٹ ہیں۔ ٹویٹر پر @akifzeb کے نام سے فالو کیے جا سکتے ہیں۔

akif-khan has 3 posts and counting.See all posts by akif-khan