کیا طلبہ یونینز کا قیام تشدد کو فروغ دے گا؟

عدنان خان کاکڑ صاحب نے ایک فیس بک ڈسکشن میں سٹوڈنٹ یونینز کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ کی نشاندہی فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے اندر تو یونین ہونی چاہیے لیکن جب سیاسی جماعتوں کی ملک گیر یا ”شہر گیر“ تنظیم بن جائے تو وہ ادارے پر اپنا ہولڈ بنانے کے لیے…

Read more

ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہماری حواس باختگی

بریکنگ بیڈ ٹی وی سیریز کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا۔ اس میں ایک کردار ایک شاطر وکیل سال گڈ مین کا ہے۔ اسی کی زندگی پر ایک اور ٹی وی سیریز بنایا گیا جس کا نام بیٹر کال سال ہے۔ سال کا بڑا بھائی چَک بھی ایک بہت مشہور وکیل ہوتا ہے۔ لیکن اسے الیکٹروفوبیا ہوتا ہے۔ یعنی بجلی، شعاؤں اور ان سے چلنے والی ہر چیز سے خوف۔ اگر وہ کسی ٹرانسفارمر کے نیچے کھڑا ہو جائے تو وہ حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ سانس پھول جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور پسینے میں نہا جاتاہے۔

اسی لیے وہ اپنے گھر سے بجلی کٹوا دیتا ہے۔ موبائل یا کسی قسم کا فون استعمال نہیں کرتا۔ موم بتیوں اور لالٹینوں کی روشنی میں کتابیں پڑھتا ہے۔ سر پر ایلومینیم فوائل کی دھاتی ٹوپی اور کمبل پہنے رکھتا ہے۔ حتی کہ علاج کے لیے ہسپتال تک نہیں جاتا۔ اس کا ماننا ہوتا ہے کہ اسے کوئی نفسیاتی بیماری، فوبیا یا پیرونیا نہیں ہے بلکہ یہ ایک اصلی بیماری ہے جس کا ڈاکٹروں کو بھی ابھی تک علم نہیں۔ اس نے اس بیماری کا نام بھی رکھا ہوتا ہے ؛ الیکٹرومیگنیٹک ہائپرسنسٹیویٹی سنڈروم۔

Read more

کیا حقوقِ نسواں کی بات کرنا لبرل مردوں کی سازش ہے؟

بیٹیاں ہم سب کی سانجھی ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ انہیں ایسی دنیا ورثے میں دی جائے جہاں وہ اپنی صلاحیت کے بل پر انسانی ترقی کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکیں۔ جہاں  انہیں اپنے جسم پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ خدارا عورت کو ایک عام انسان سمجھ کر بھی کچھ سوچیں۔

Read more