کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کی بہت عزت ہے؟

عالمی یوم نسواں کے حوالے سے احسن بودلہ صاحب کی دی بلیک ہول کی گفتگو اور کتاب کی رونمائی کی ویڈیو کے کچھ اولین لمحات دیکھنے کا موقع ملا۔ اچھی گفتگو تھی، سب کو سننی چاہیے۔ البتہ کچھ چیزیں ناچیز کے ذہن میں آئیں جن پر یہ تحریر لکھنے کی جسارت کرنی پڑی۔ ‎ڈاکٹر روش ندیم نے احسن صاحب سے پوچھا کہ ایک عام آدمی تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خواتین کو بہت عزت دے رہا ہے بحیثیت ماں

Read more

سائنس کیسے کام کرتی ہے اور ہمارے سوشل میڈیا دانشور

مختصراً سائنس ایسے کام کرتی ہے کہ جب آپ کوئی مشاہدہ کرتے ہیں اور اپنے سابقہ علم کی بنیاد پر کوئی مفروضہ بناتے ہیں تو سائنسی طریقہ کار کے مطابق آپ یہ نہیں کرتے کہ اس مفروضے کے حق میں ثبوت اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیں۔ یہ طریقہ کار بیسویں صدی سے پہلے استعمال ہوتا تھا اور اسے انڈکشن میتھڈ (Induction Method) کہتے تھے لیکن سائنس کی دنیا میں ایک فلسفی کارل پاپر (Karl Popper) آیا جس نے

Read more

مولاجٹ: دی لیجینڈ پاکستانی ”پلپ فکشن“ ہے

مولا جٹ پاکستان کی پلپ فکشن ہے اور بلال لاشاری پاکستان کا کوئنٹن ٹارنٹینو۔ مولا جٹ ڈیفینڈرز خوش ہو جائیں۔ مولا جٹ اوفینڈرز، یہ ایک طنز تھا۔ باقی صوبوں کی عوام اپنی علاقائی غیر مناسبت کے مطابق کنفیوزڈ رہیں کہ وہ کیا رائے دیں۔ بھائی ہر بات پر رائے دینا ضروری نہیں ہوتی۔ فضول کام ہے میری طرح کے فارغ لوگوں کا۔ مگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو کیا ہوا اگر ایک فلم بن گئی جس کو لوگ پسند کر

Read more

کیا عورت کی یہ عزت ہے؟

یہ ایک مغالطے بھری مشہور کہاوت بن چکی ہے اب کہ ہمارے معاشرے میں خاتون کی جتنی عزت ہے کہیں نہیں ہے۔ مثال یہ دی جاتی ہے کہ فلاں گوری دیکھی ہے کیسے اکیلے (فوج اور پولیس کی سکیورٹی میں) پورے پاکستان میں گھومتی رہی ہے؟ آپ لبرل بس جھوٹ بولتے رہو۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ نہ ریپ ہوتے ہیں نہ خواتین کے ساتھ زیادتیاں۔ اگر ہوتا بھی ہے تو ان کا اپنا قصور ہوتا ہے، اکیلے کیوں باہر

Read more

فلسطین، پاکستانی لبرلز اور پاکستانی لیفٹ

پاکستان میں ایک مخلوط ترقی پسند اقلیتی طبقہ پایا جاتا ہے۔ چونکہ کوئی سیاسی امپیکٹ تو ہے نہیں تو واضح طور پر کوئی تخصیص بھی نہیں۔ لیکن فلسطین کے اس حالیہ مسئلے میں لیفٹ کے حضرات باجماعت لبرلز کو نشانہ بنائے بیٹھے ہیں بجائے پاکستانی معاشرے کی منافقت پر کوئی ڈسکورس پیدا کرنے کے۔ یقیناً فلسطین کی حمایت ایک ہائی مورل گراؤنڈ ہے لیکن اس پر قبضہ جمانا اور دوسروں کو دھکے دے کر گرانا بھی کوئی باشعور رویہ نہیں ہے۔

پاکستانی لبرلز میں بھی بہت سے ایسے ہیں جو لیفٹ کی طرف انکلائنڈ ہیں۔ خاص طور پر معاشی پالیسیوں، انسانی حقوق، فلسطین کے معاملے، مزدوروں اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے۔ بلکہ اگر عوامی ورکرز پارٹی جیسی لیفٹ کی ایک معتدل جماعت کا مینیفیسٹو اٹھا کر دیکھ لیں تو اس مینیفیسٹو اور ان لبرلز کے خیالات میں کوئی رتی برابر فرق آپ کو نہیں ملے گا۔ اس کے ساتھ وہ بایاں بازو کو ایک حامی ترقی پسند طبقہ قرار دیتے ہیں۔

Read more

مادری زبان اور معاشرتی ارتقا

اگرچہ مادری زبان کو زندہ رکھنا ضروری ہے لیکن ضروری نہیں کہ زبان ہی شناخت کو طے کرے۔ شناخت کو طے کرنے میں زبان کے ساتھ ساتھ اور بہت سارے عوامل ہیں جیسا کہ ہجرت کرنے والے بڑے بڑے قبیلوں کی مثالیں دیکھ لیں۔ ضرورت کے تحت وہ نئی جگہ کی زبان کے ساتھ اپنی زبان کو منطبق کر لیتے ہیں۔ لیکن رسوم و رواج، رہن سہن، معاشرتی اصول، لباس، مذہب وغیرہ وہی رہتے ہیں۔ جیسے ہزارہ ڈویژن یا پنجاب

Read more

کیا سزائے موت ریپ کیسز کا حل ہے؟ پچھلے کالم پر اعتراضات کا جواب

کچھ لوگوں کے میرے پچھلے کالم پر کافی اعتراض سامنے آئے۔ اگر ان کے یہ مضمون سمجھنے میں کسی ذاتی، نفسیاتی، نظریاتی یا جسمانی معذوری دخل انداز ہو رہی ہے یا میری بلاغت اور لکھتے میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو آسانی کے لیے تھوڑی وضاحت پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ اس کے بعد ٹھنڈے دل و دماغ سے ذہن کو اس کے ڈیفالٹ مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ تو عرض یہ ہے کہ یہ بات صرف میں نہیں کہہ رہا بلکہ جرائم، نفسیات اور قانون پر تحقیق کرنے والے ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ متشدد سزائیں یعنی جن میں جسمانی ایذا یا جان کو خطرہ پہنچایا جائے کارگر نہیں ہوتیں۔

اس کا ثبوت آپ لوگوں کے سامنے ہے کہ زینب کے قاتل کہ پھانسی کے فوراً بعد ایک ماہ میں پے در پے چھ بچیوں کے ریپ اور قتل ہوئے جو کہ ابھی تک اسی تواتر سے جاری ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ تین چار روز قبل ایک بچی کو ریپ کر کے نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے ان کو جلا کر کوڑے دان میں پھینک دیا گیا۔ اگر پھانسی یا سزائے موت ڈیٹرنٹ ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔

Read more

کیا سزائے موت ریپ کیسز کا حل ہے؟

سزائے موت کسی بھی چیز کا حل نہیں ہے چہ جائیکہ ریپ کی۔ یہ بات سماجی مسائل اور جرائم پر کام کرنے والے ماہرین متعدد بار ثابت کر چکے ہیں۔ اس کی ایک مثال زینب کے قاتل کی پھانسی کی ہے۔ اس کی پھانسی کے اگلے ہی ماہ چھ بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ اگر پھانسی حل ہوتی تو اگلے ماہ ہی اتنے زیادہ کیسز سامنے نہ آتے۔ تشدد کا حل کبھی بھی تشدد نہیں ہوتا۔ کوئی کہہ رہا پھانسی پر چڑھاؤ کوئی کہہ رہا ہے گردن اتار دو چوک میں۔ پہلے جو قوانین ہیں ان پر عمل درآمد ہو نہیں رہا اور تشدد کے مقابلے میں نئے متشدد اور فرسودہ طریقوں کی فرمائشیں آ رہی ہیں۔ اگر ایسا نہیں کرنا چاہیے تو پھر کیا کیا جائے؟

Read more

نصابی کتب اور اکیسویں صدی کے ہلاکو خان

سولہویں صدی میں سلطنت عثمانیہ نے پرنٹنگ پریس (چھاپے خانوں ) پر پابندی لگا دی۔ تین سو سال بعد وہ فتوی واپس ہوا لیکن اس عرصے میں سلطنت عثمانیہ کے زیر تسلط موجود آدھی دنیا اور پوری مسلم دنیا باقی دنیا سے تین سو سال پیچھے رہ گئی۔ پہلے فتوی کے ایک ڈیڑھ سو سال بعد ایک اور فتوی آیا جس میں شیخ الاسلام نے صرف مذہبی کتب شائع کرنے کی اجازت دی۔ ابھی ایک اچھے خاصے سکول نے والدین

Read more

کیا طلبہ یونینز کا قیام تشدد کو فروغ دے گا؟

عدنان خان کاکڑ صاحب نے ایک فیس بک ڈسکشن میں سٹوڈنٹ یونینز کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ کی نشاندہی فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے اندر تو یونین ہونی چاہیے لیکن جب سیاسی جماعتوں کی ملک گیر یا ”شہر گیر“ تنظیم بن جائے تو وہ ادارے پر اپنا ہولڈ بنانے کے لیے دوسرے اداروں یا سابق سٹوڈنٹس سے بدمعاشی اور قتل و غارت کے لئے غنڈے بلاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسے ہوتا ہے۔ اور

Read more

ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہماری حواس باختگی

بریکنگ بیڈ ٹی وی سیریز کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا۔ اس میں ایک کردار ایک شاطر وکیل سال گڈ مین کا ہے۔ اسی کی زندگی پر ایک اور ٹی وی سیریز بنایا گیا جس کا نام بیٹر کال سال ہے۔ سال کا بڑا بھائی چَک بھی ایک بہت مشہور وکیل ہوتا ہے۔ لیکن اسے الیکٹروفوبیا ہوتا ہے۔ یعنی بجلی، شعاؤں اور ان سے چلنے والی ہر چیز سے خوف۔ اگر وہ کسی ٹرانسفارمر کے نیچے کھڑا ہو جائے تو وہ حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ سانس پھول جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور پسینے میں نہا جاتاہے۔

اسی لیے وہ اپنے گھر سے بجلی کٹوا دیتا ہے۔ موبائل یا کسی قسم کا فون استعمال نہیں کرتا۔ موم بتیوں اور لالٹینوں کی روشنی میں کتابیں پڑھتا ہے۔ سر پر ایلومینیم فوائل کی دھاتی ٹوپی اور کمبل پہنے رکھتا ہے۔ حتی کہ علاج کے لیے ہسپتال تک نہیں جاتا۔ اس کا ماننا ہوتا ہے کہ اسے کوئی نفسیاتی بیماری، فوبیا یا پیرونیا نہیں ہے بلکہ یہ ایک اصلی بیماری ہے جس کا ڈاکٹروں کو بھی ابھی تک علم نہیں۔ اس نے اس بیماری کا نام بھی رکھا ہوتا ہے ؛ الیکٹرومیگنیٹک ہائپرسنسٹیویٹی سنڈروم۔

Read more

کیا حقوقِ نسواں کی بات کرنا لبرل مردوں کی سازش ہے؟

بیٹیاں ہم سب کی سانجھی ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ انہیں ایسی دنیا ورثے میں دی جائے جہاں وہ اپنی صلاحیت کے بل پر انسانی ترقی کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکیں۔ جہاں  انہیں اپنے جسم پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ خدارا عورت کو ایک عام انسان سمجھ کر بھی کچھ سوچیں۔

Read more