پاکستان میں دو صیہونی ایجنٹ دریافت ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے بہت سے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب کسی کو بغیر کسی ثبوت کے برا بھلا کہنا ہو تو اسے انگریزوں کا وفادار یا امریکہ کا پٹھو یا صیہونی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جس کسی نے کسی محنت کے بغیر ایک سنسنی خیز انکشاف کا سہرا اپنے سر سجانا ہو وہ اس نسخے کو ضرور آزماتا ہے۔ بالعموم لوگ ایسے الزام کا ثبوت نہیں مانگتے۔ اگر کوئی ثبوت مانگنے کی جسارت کرے یا اس کی تردید کرے تو کوئی مسئلہ نہیں، اسے بھی کسی کا ایجنٹ قرار دے دو۔ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی آئے چوکھا۔

چند روز پہلے ویب سائٹ ”مکالمہ“ پر آصف جیلانی صاحب کا ایک مضمون ”پاکستان کے صیہونی“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس میں پاکستان کے سابق وزیر ِ اعظم فیروز خان نون صاحب اور پاکستان کے پہلے وزیر ِ خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے متعلق بہت سے سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ اور پڑھنے والوں کو یقین دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ دونوں اسرائیل اور صیہونیت کے حامی تھے۔ اس مضمون میں بغیر کسی ثبوت یا حوالے کے اتنے انکشافات کیے گئے ہیں کہ ایک کالم میں ان پر تبصرہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن پہلے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کالم نگارجن موضوعات پر تبصرہ کر رہے ہیں، کیا اُن کے بارے میں انہوں نے بنیادی معلومات حاصل کرنے کا تکلف بھی کیا ہے کہ نہیں۔ کیونکہ اگر کسی شخص کو کسی موضوع کے بارے میں بنیادی معلومات بھی حاصل نہیں تو وہ اس موضوع پر کوئی نیا انکشاف کیا کرے گا؟

آصف جیلانی صاحب اپنے کالم میں تحریر کرتے ہیں

” بلا شبہ سر ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ میں فلسطین اور عرب کاذ کی جس پر زور انداز سے وکالت کی تھی اس پر انہوں نے عرب ممالک میں مقبولیت حاصل کر لی تھی اور اسی بنیاد پر برطانوی راج نے انہیں ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کا جج مقرر کیا تھا۔ “

حقیقت یہ ہے کہ قائد ِ اعظم نے پاکستان بننے کے بعد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو اقوام متحدہ کے اُ س اجلاس میں پاکستان کا نمائندہ بنا کر بھجوایا تھا، جس اجلاس میں فلسطین کا مسئلہ پیش ہو رہا تھا۔ اور اس اجلاس میں انہوں نے عربوں کا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا تھا اور اسرائیل کے قیام کی مخالفت میں تقاریر کی تھیں۔ اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کے جج آزادی سے کئی سال قبل بنے تھے اور آزادی سے قبل وہ اس عہدہ سے استعفیٰ دے چکے تھے۔ جب چوہدری صاحب نے اقوام ِ متحدہ میں عربوں کا موقف پیش کیا تھا اس سے قبل ہندوستان میں برطانوی راج ختم ہو چکا تھا۔ یہ بات خلاف ِ عقل ہے کہ اس کے بعد اور اس کے نتیجہ میں چوہدری صاحب کو برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کا جج مقرر کر دیا تھا۔

یہ عجیب انکشاف کیا کم تھا کہ آصف جیلانی سے نے ایک اور انکشاف ان الفاظ میں کیا

” 29 نومبر 1947 کو فلسطین کی تقسیم کے بارے میں اقوام متحدہ میں قرارداد کی منظوری کے بعد سر ظفر اللہ نے دمشق میں وائزمین سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے فلسطین کی تقسیم کی شدید مخالفت کی تھی لیکن اب ان کی رائے بدل گئی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ فلسطین کی تقسیم ہی فلسطین کے مسئلے کا مناسب حل ہے دوسرے لفظوں میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کے قیام کے حامی ہیں۔“ [وائز مین اسرائیل کے پہلے صدر تھے ]

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آصف جیلانی صاحب کو اس بارے میں بنیادی حقائق کا علم نہیں ہے۔ وہ لکھ رہے ہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پاکستان کے وزیر ِ خارجہ کی حیثیث سے اقوام ِ متحدہ میں اسرائیل بننے کی مخالفت کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اقوام ِ متحدہ میں اسرائیل کے قیام اور فلسطین کی تقسیم کے مخالفت کی تھی، اس وقت وہ پاکستان کے وزیر ِ خارجہ ہی نہیں تھے۔ اس وقت وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے کی حیثیث سے شرکت کر رہے تھے۔ یہ بحث نومبر 1947 کے آخر میں ختم ہو گئی تھی اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب 25 دسمبر 1947 کو پاکستان کے پہلے وزیر ِ خارجہ مقرر ہوئے تھے۔

ذرا ٹھہریں ابھی یہ بوالعجبی ختم نہیں ہوئی۔ مکرم آصف جیلانی صاحب کو شاید یہ علم ہو کہ دمشق شام کا شہر ہے بلکہ دارالحکومت ہے۔ جب اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیل کے قیام کی قرارداد منظور کر لی تو اس کے فوراً بعد شام اور دوسرے ممالک نے جنگ کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ اور 1948 میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے فوری بعد ان عرب ممالک نے اسرائیل پر حملہ بھی کر دیا تھا۔ ویزمین دہائیوں سے صیہونی لیڈر تھے اور اسرائیل کے پہلے صدر بھی بنے۔

اقوام ِ متحدہ کی قرارداد کے بعد ان کے لئے ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ دمشق جا کر کسی سے مذاکرات کریں۔ یہ تو اسی طرح جیسے کوئی گپ مارے کہ 1965 کی جنگ کے دوران صدر ایوب دہلی میں اور وزیر ِاعظم شاستری پاکستان کے کسی شہر میں مذاکرات کر رہے تھے۔ ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی تو ویز مین صاحب کی سوانح حیات Chaim Weizmann A Biography by Several Hands انٹر نیٹ پر موجود ہے۔ اس کا پیش لفظ بھی اسرائیل کے پہلے وزیر ِ اعظم بن گورین نے لکھا تھا۔

اس کو دیکھ کر معلوم کیا جا سکتا ہے ویز مین اقوام ِ متحدہ کی قرارداد کے بعد دمشق نہیں گئے تھے اور نہ ہی یہ ان کے لئے ممکن تھا۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح حیات ”تحدیث ِ نعمت“ میں لکھا ہے کہ اقوام ِ متحدہ کی قرارداد کے بعد شام کے وفد کے سربراہ فورس خوری صاحب نے ان سے درخواست کی تھی کہ پاکستان واپس جاتے ہوئے وہ دمشق دو دن ٹھہر جائیں اور کچھ تفصیلات شام اور دیگر عرب ممالک کے نمائندوں کو بتادیں۔ چنانچہ جب چوہدری صاحب دمشق پہنچے تو شام سربراہ شکری القوتلی صاحب نے آزاد عرب ممالک کے سیکٹریان خارجہ کا اجلاس دمشق میں طلب کیا ہوا تھا۔ اور اس اجلاس میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ان عرب نمائندوں کو کچھ تفاصیل سے آگاہ کیا تھا۔

اس کے بعد آصف جیلانی صاحب یہ انکشاف کرتے ہیں :

”لیاقت علی خان کے بعد سر ظفر اللہ کی کوششوں سے پاکستان 1954 میں مغربی فوجی معاہدوں میں شامل ہوا تھا۔ “

مغربی طاقتوں کا یہ فوجی معاہدہ سیٹو کے نام سے معروف ہے۔ پڑھنے والوں کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ جب تک چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پاکستان کے وزیر ِ خارجہ رہے پاکستان نہ اس تنظیم کا ممبر بنا اور نہ اس کا ممبر بننے پر کسی رضامندی کا اظہار کیا۔ اس معاہدے کے خدو خال طے کرنے کے لئے 1954 میں منیلا میں ایک کانفرنس بلائی گئی تھی۔ اس سے قبل چوہدری ظفر اللہ خان صاحب استعفیٰ دے چکے تھے لیکن وزیر ِ اعظم نے یہ اصرار کیا تھا کہ وہ اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔ چوہدری صاحب نے اس نوٹ پر دستخط کیے گئے تھے کہ یہ معاہدہ حکومت ِ پاکستان کو بھجوایا جائے گا تاکہ وہ اپنے آئین کے مطابق اس بارے میں فیصلہ کرے۔ پاکستان نے اس معاہدے میں شامل ہونے کا اعلان 19 جنوری 1955 کو کیا تھا اور اس سے قبل چوہدری ظفر اللہ خان وزارت ِ خارجہ کا قلمدان چھوڑ چکے تھے۔

(SEATO The Failure of an Alliance Strategy by Leszek Buszynski p 32، 33 )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •