کراچی ڈیفنس اغوا: پولیس نےچائے خانہ کے ویٹر کا بیان ریکارڈ کر لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی ڈیفنس میں لڑکی کے اغواء میں تفتیشی افسران نے چائے خانہ کے ویٹر کا بیان ریکارڈ کرلیا ہے۔ ویٹر نے پولیس کو بتایا کہ لڑکا اور لڑکی گزشتہ چار ماہ سے یہاں آرہے تھے، دو تین گھنٹے بیٹھتے تھے، حارث فتح اور دعا منگی کے درمیان کبھی منفی سرگرمیاں محسوس نہیں ہوئیں۔ ان کے ساتھ اکثرایک خاتون بھی آتی تھیں۔ حارث اور لڑکی دعا منگی یہاں آتے تھے، چائے پیتے، کبھی کھانا کھا کر چلے جاتے تھے، جب بھی آتے دوتین گھنٹے بیٹھتے تھے، ہم نے ان میں کبھی کوئی بری بات نہیں دیکھی۔

ان کا بیک گراؤنڈ اچھے خاندان سے نظر آتا تھا۔ کبھی ہمارے ساتھ بھی بدتمیزی نہیں کی۔ اسی طرح کراچی ڈیفنس میں لڑکی دعا منگی کے اغواء میں تفتیشی ٹیم کو اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

پولیس حکام کو حارث فتح کو لگنے والی گولی کا خول مل گیا۔ پولیس نے گولی کے خول کو قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ آئی جی سندھ پولیس نے بھی کراچی ڈیفنس میں گن پوائنٹ پر اغواء کی گئی لڑکی کو فوری بازیاب کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے واقعے کی تمام تفصیلات طلب کرتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی۔ لڑکی کوڈی ایچ اے بخاری کمرشل ایریا سے اغوا کیا گیا اور دوست حارث کو گردن میں فائر کر کے شدید زخمی کر دیا گیا تھا، لڑکی کے اغواء میں چارسال پرانے ماڈل کی گرے رنگ کی کار استعمال کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق کراچی ڈی ایچ اے بخاری کمرشل ایریا سے گن پوائنٹ پر اغوا کی جانے والی لڑکی کا درخشان تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں اقدام قتل اور اغوا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ درخواست زخمی نوجوان حارث کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ پولیس اور رینجرز نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی ڈیفنس میں اغواء کے واقعے کی تیسری سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔ فوٹیج میں واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کی شناخت بھی ممکن ہوگئی ہے،اغوا ہونے والی لڑکی دعا اور حارث کو گلی سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے، گلی کے کونے پر سکیورٹی گارڈ اور رکشہ ڈرائیور بھی موجود تھے۔ سیکیورٹی گارڈ فائرنگ کی آواز سن کر گلی میں جاتا ہے، اسی دوران ایک کار کو تیزی سے مڑتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح حارث کی فیملی نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے دوست سے ملنے جا رہا تھا، جب اس پر فائرنگ کی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ واقعے میں زخمی حارث اور اغوا ہونے والی لڑکی ہوٹل میں چائے پینے کے بعد اسی علاقے میں گھوم پھر رہے تھے کہ اچانک اغواء کاروں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اغواء کاروں کی فائرنگ سے لڑکا حارث زخمی ہو گیا اور لڑکی کو گن پوائنٹ پر اغواء کر لیا گیا۔

زخمی حارث کو ابتدائی طور پرطبی امداد کیلئے نیشنل میڈیکل سنٹر لے جایا گیا۔ بعدازاں لڑکے کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ واقعے کے بعد سینئر پولیس آفیسر جائے وقوعہ پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے بھی کر رہی ہے، ایک رکشہ ڈرائیور نے واقعے کو آنکھوں سے دیکھنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ تاہم پولیس حکام زخمی لڑکے حارث اور اغوا ہونے والی لڑکی کے والدین اور ان کے دوستوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •